مقدمہ

یہ بات اپنی جگہ پر بالکل درست اور مسلم ہے کہ ماجرائے سقیفہ کے بعد پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے کچھ بزرگ مرتبہ اصحاب نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کے حق خلافت غصب کرنے والوں کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور وہ ناجائز حکومت جسکی بنیاد اسلام و قرآن کے اصول و قوانین سے ہٹ کر غیروں نے طاقت و قوت کے ذریعہ قائم کی تھی اس کی تائید تو دور کی بات تھی بلکہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے فرمودات کی روشنی میں اسکا اصل حقدار امیر المومنین علی بن ابی طالب ہی کو جانتے تھے۔

(الغدیر)

انہیں بزرگ مرتبہ صحابیوں میں سے ایک حضرت سلمان فارسی ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات طیبہ میں ان کے ارشادات کی ہمیشہ پیروی کرتے رہے اور امیر المومنین کے ایک خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ اور حضرت ختمی مرتبت کی رحلت کے بعد بھی امیر المومنین کے جاں نثاروں اور اطاعت گذاروں میں شمار کئے جاتے تھے۔ وہ اس قدر دل و جان سے احترام کرتے تھے کہ کبھی بھی اپنی خواہش کو اپنے مولا کی خواہش و ارادہ پر مقدم نہیں کیا۔ جناب سلمان کی جاں نثاری و فداکاری کا بس اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب لوگ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کرنے کے لئے دروازہ پر اکھٹا ہوئے اور امیر المومنین کو بیعت کی خاطر گرفتار کرنے کے لئے گھر میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی حضرت سلمان علی بن ابی طالب کے ہمراہ تھے اور اپنے مولا کے حکم سے صبر اور خاموشی کے ذریعہ اپنی ثابت قدمی کا ثبوت دے رہے تھے۔

تو جناب سلمان کی انہیں فداکاریوں اور حضرت سے انتہائی محبت کو دیکھتے ہوئے نیز اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں سے ان کی دشمنی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ:

پھر حضرت سلمان نے عمر بن خطاب کے دورِ حکومت میں جبکہ آپ اسے غاصب حکومت سمجھتے تھے سرزمین مدائن کی گورنری کیوں قبول فرمائی اور وہاں کے امور کی اصلاح میں کیوں قدم آگے بڑھایا؟ کیا حضرت سلمان کے اس اقدام کو غاصب حکومت کی تائید نہیں سمجھا جائیگا؟ اور کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ حضرت سلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کے دیگر اصحاب سے بھی محبت کرتے تھے اور ان سے راضی تھے؟

اس سوال کے متعدد جواب، میں جو سب اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ حضرت سلمان اپنی آخر عمر تک امیر المومین یعنی اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کے دشمن رہے اور دشمنوں کے لئے کسی صورت میں اس حق کے قائل نہ تھے۔ مگراس سوال کے جواب کو واضح کرنے کے لئے چند باتوں کا تجزیہ ضرور کروں گا:

(۱) حضرت سلمان کا ایمان اور علی سے محبت:

جناب سلمان کی سابقہ زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو شخص اپنے مولا و آقا کے کسی حکم کی مخالفت نہ کرتا ہو جو ایک قدم بھی اپنے مولا کی خواہش کے خلاف نہ اٹھاتا ہو۔ جو اس قدر محبت کرنے والا اور اطاعت گذار ہو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے مولا کے حکم کا انتظار نہ کیا ہو۔ یقینا امیر المومنین کے حکم اور ان کے دستور سے گورنری قبول فرمائی ہے۔ یہ ناقابل تصور ہے کہ حضرت سلمان اس بارے میں امیر المومنین پر سبقت لے جائیں یہ بات تو بالکل روشن ہے کہ جس طرح وہ اپنی زندگی کے تمام مرحلوں میں اپنا آقا و مولا امیر المومنین علی بن ابی طالب کو مانتے اور جانتے تھے اسی طرح گورنری کے مرحلہ میں بھی آپ ہی کو مولا تسلیم کرتے تھے، لہٰذا، مدائن کی گورنری یقینا علی کی اجازت سے قبول کی تھی۔ اس میں ان کی خواہش یا کسی دشمن اہل بیت کی خوشنودی کو ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ اور پھر ائمہ معصومین علیہم السلام کی نگاہمیں حضرت سلمان کی عظمت و منزلت اور خود امیر المومنین کی متعدد تائیدیں جو مدائن کی گورنری قبول کرنے کے بعد حاصل ہوئی ہیں (جیسے امیر المومنین کے دست مبارک سے تجہیز و تکفین کے مراسم) یہ سب بہترین اور مستحکم دلیل ہے۔

(بحار الانوار، ج ۲۲، ص ۳۶۸)

(۲) منصب حکومت کو قبول کرنا حکومت کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے:

یہ بات بھی مسلم ہے کہ اگر کسی حکومت کے عہدہ یا منصب کو قبول کیا ہے تو اسے اس حکومت کی تائید نہیں کہتے ہیں۔ اس پر بہترین دلیل اور شاہد قرآن کریم میں نبی خدا حضرت یوسف کا واقعہ ہے جس میں حضرت یوسف نے اپنے زمانہ کے بادشاہ سے خزانہٴ مصر کا حاکم بننے کی درخواست کی تھی:

قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَائِنِ الْاَرْضِ

(سورہ یوسف)

کہ مجھے خزانوں کا (امین) قرار دے دے۔ جبکہ حضرت یوسف نبی خدا تھے جو کسی بھی صورت سے بادشاہ مصر اور آئین کفر کی تائید نہیں کر سکتے تھے۔ بظاہر بادشاہ سے حکومت کے منصب کو طلب کر رہے تھے۔

اس طرح حضرت یوسف ایک مشرک شخص کی حکومت میں صاحب منصب شمار ہوتے ہیں، جبکہ ایک نبی خدا ہیں اور یقین ہے کہ وہ خداوند عالم کی جانب سے اس کام کیلئے مامور ہوئے ہیں۔ لہٰذا اگر ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس منصب کو قبول کرنا گویا مشرک حکومت کی تائید کرنا کہلائیگا تو پھر یہ بھی کہنا پڑیگا کہ (معاذ اللہ) خداوند عالم نے ایک ظالم اور مشرک حکومت کی تائید کیا ہے۔ اور ظلم کیا ہے۔ جبکہ خداوند عالم کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتا ہے یہ بات قرآن کی بے شمار آیتوں کے خلاف بھی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اس بات کو تسلیم کریں کہ خداوند عالم نے باوجودیکہ بادشاہ مصر کی حکومت کی تائید نہیں کیا ہے مگر حضرت یوسف کو ظالم حکومت میں صاحب منصب بنا کر مامور ضرور کیا ہے اس اعتبار سے کسی بھی حکومت میں منصب یا مقام کو قبول کرنا اس حکومت کی تائید کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتی ہے۔ اس مقام پر تاریخ کا ایک اور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم کے زمانہ میں ہارون رشید کے وزیر اعظم علی بن یقطین تھے۔ جو امام کے وفادار ساتھیوں میں جانے جاتے تھے۔ عباسی حکومت میں حکومت کے اہم ترین منصب پر فائز تھے مگر اس کے باوجود امام کے مخلص، وفادار شیعوں میں سے تھے جو کسی بھی صورت میں امام کے فرمودات کی اطاعت و پیروی میں کوتاہی نہیں کرتے تھے۔ جو امام حکم دیتے تھے اسے انجام دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ شیعوں کے مددگار اور ان کی پناہگاہ تھے۔ یہاں تک کہ جب علی بن یقطین نے اپنے منصب سے استعفیٰ دیا تو امام نے انہیں منع فرمایا۔ علی بن یقطین نے اپنے خط میں اس طرح امام کو مخاطب کیا تھا:

”…مولا اب بادشاہ کے امور سے میرا حوصلہ پست ہو چکا ہے۔ خدا مجھے آپ کا جاں نثار قرار دے، اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو میں الگ ہو جاؤں۔

امام نے جواب لکھا:

میں الگ ہونے کی اجازت نہیں دوں گا۔ خدا سے پرہیز کرو اور ڈرو۔

(قرب الاسناد، ص ۱۲۶)

(۳) مومنین کو پریشانیوں سے نجات دینا:

مومنین کو مشکلات سے نجات دینا اور ان کی حاجتوں کو برطرف کرنا ایسا وظیفہ ہے جسے پروردگار عالم نے تمام مومنین پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے مومن بھائی کی مشکلات کو دور کرنے میں حتی الامکان کوشش کریں۔ امام صادق سے روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

جو کسی مومن کی مدد کرتا ہے خدا وند عالم اس سے ۷۳ پریشانیوں کو برطرف کرتا ہے ان میں سے ایک دنیا میں اور ۷۲ روز قیامت جب مشکلات میں گھرا ہوگا ۔

اور فرمایا:

وہاں پر انسان اپنے آپ میں مشغول ہوگا۔

(اصول کافی، ج ۳، ص ۳۰۲، باب گشودن گرفتاری مومن)

لہٰذا مومن کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی مدد کرے اور اس طرح پروردگار عالم کی رضا یت کے اسباب فراہم کرے، مومن کی مشکلوں کو برطرف کرنے اور ان کی حاجتوں کو پوری کرنے کا ایک ذریعہ ظالم حکومت میں اثر و رسوخ قائم کرنا تاکہ اس کے ذریعہ مومنین پر ظلم ہونے کو روکا جا سکے اور ان کی مشکلوں کو حل کیا جا سکے۔ حضرت یوسف کی داستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں اثر و رسوخ پیدا کرنا بندگان خدا اور مومنین کے لئے نہایت ثمر بخش رہا ہے اور وہ اس طرح کہ انصاف اور عدل کے تقاضوں سے آپ نے بیت المال کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جس کی وجہ سے بادشاہ کے ظلم سے لوگوں کو بچا لیا۔ قرآن حضرت یوسف کی زبان سے نقل کرتا ہے:

…اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ۔

(سورہ یوسف)

میں تمام زبانوں کا جاننے والا بیت المال کا نگہبان ہوں گا

ہارون رشید کی حکومت میں جناب علی بن یقطین کی صورت حال بھی اسی طرح تھی کہ وہ ہمیشہ شیعوں کے جان و مال کی حفاظت میں کوشاں رہتے تھے، اسی وجہ سے جب اپنے منصب سے استعفیٰ دینے کا رارادہ کیا تو امام کاظم نے تحریر فرمایا:

میں تمہارے لئے جائز نہیں سمجھتا کہ حکومت سے اپنے آپ کو الگ کر لو اس لئے کہ ظالم اور ستمگروں کے دربار میں خداوند عالم کی جانب سے کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے سبب سے اس کے دوستوں سے بلائیں دور ہوتی ہیں اور وہ لوگ خدا کے توسط سے آتش دوزخ سے نجات پاتے ہیں، لہٰذا عذاب خدا سے پرہیز کرو اور اپنے بھائیوں پر نیکی کرو۔

(قرب الاسناد، ص ۱۲۶)

یہ موضوع اس وقت اور اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے جب تاریخ میں عرب و عجم کے درمیان شدید قسم کے امتیازات پائے جارہے تھے کہ عجم کو غایرانہ نگاہ سے دیکھا جا رہاتھا جیسا کہ عمر بن خطاب کے دور حکومت میں یہ بات پائی جا رہی تھی۔ اس طرح کے حالات میں حضرت سلمان کا حکومت میں ایک حصہ کا حاکم بننا یقینا ایک حد تک اس طرح کے امتیازات سے کو کم کرنے کا سبب ہوا اور واقعی طور سے ایرانیوں کو اسلام سے قریب کر نے کا موقعہ ملا۔

اس مقام پر ایک دوسری بات یہ ہے کہ ایران و شام یہ دونوں سرزمین تقریباً ایک ساتھ فتح ہوئی ہے مگر ان دونوں مقامات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ دو متضاد فکر کے ساتھ اسلام پیش کیا گیا ہے۔ اسکی خاص وجہ ہے اس لئے کہ جو اسلام سرزمین شام کی طرف گیا وہ معاویہ بن ابی سفیان کے توسط سے اور جو اسلام ایران کی طرف آیا ہے وہ امیر المومنین کے دو قریبی دوستوں حذیفہ اور سلمان کے توسط سے اگر ان دونوں سرزمین کے رہنے والوں کے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ برتاؤ اور سلوک کا مقایسہ کیا جائے تو امیر المومنین کے فیصلہ کی صحت اور فکر کی گہرائی و گیرائی پر بہترین دلیل بن سکتی ہے۔