کبھی کبھی اس طرح کے سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں کیا ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی عزاداری تھی؟ اور ائمہ معصومین علیہم السلام بھی عزاداری کرتے تھے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام باقاعدہ امام حسین کی عزاداری فرماتے تھے اور اس کا اہتمام کرتے تھے۔ اس طرح عزاداری اس دور کی یا بادشاہوں کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ سے ملتا ہے اور آج تک حضرت امام زمانہکی عنایتوں کی بنا پر ہے۔ ذیل میں اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے چند ایک نمونہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

۱۔ بنی ہاشم کی عزاداری

حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے:

عاشور کے واقعہ کے بعد بنی ہاشم کی کسی خاتون نے نہ آنکھوں میں سرمہ لگایا اور نہ بالوں میں خضاب بلکہ بنی ہاشم کے کسی گھر میں کھانا پکنے کا دھواں بھی نہ اٹھا۔ یہاں تک کہ ابن زیاد مارا گیا۔ ہم عاشور کے واقعہ کے بعد مسلسل آنسو بہا رہے ہیں۔

(امام حسن و امام حسین، ص ۱۴۵)

۲۔ امام زین العابدین کی عزاداری

حضرت امام زین العابدین پر واقعہ کربلا کا اتنا زیادہ اثر تھا کہ آپ کی آنکھوں سے ہمیشہ آنسو جاری رہتا تھا۔ آپ ان مصائب کو یاد کر کے روتے رہتے تھے۔ جو حضرت امام حسین پر آپ کے چچا جناب عباس، آپ کے بھائیوں اوررشتہ داروں پر ڈھائے گئے تھے۔ جب بھی پانی آپ کے سامنے پیش کیا جاتا تھا آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے:

میں کس طرح پانی پیوں جبکہ فرزند رسول کو پیاسا ذبح کر دیا گیا۔

(بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۱۴۵)

اور یہ بھی فرماتے رہتے تھے:

میں جب بھی جناب زہراء سلام اللہ علیہا کے فرزندوں کی شہادت یاد کرتا ہوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

(خصال، ج ۱،ص ۱۳۱)

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

میرے جد جناب علی بن الحسین زین العابدین جب بھی حضرت امام حسین کو یاد فرماتے تھے اس قدر روتے تھے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی اور ان کے گریہ سے لوگ بھی رونے لگتے تھے۔

(بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۲۰۷)

۳۔ حضرت امام محمد باقر کی عزاداری

حضرت امام محمد باقر عاشور کے دن حضرت امام حسین کی مجلس عزا برپا کرتے تھے اور مصائب سید الشہداء پر گریہ فرماتے تھے۔ ایک مجلس عزاء میں کمیت نامی شاعر نے امام محمد باقر کی موجودگی میں جب وہ اس شعر پر پہونچا کہ ”قَتِیْلَ بِالطَّفْ…“ امام محمد باقر نے بہت گریہ فرمایا اور فرمایا:

اے کمیت اگر میرے پاس سرمایہ ہوتا تو اس شعر کے بارے میں تمہیں دے دیتا لیکن تمہارا انعام اور تمہاری جزا وہ دعا ہے جو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے حسان بن ثابت کے لئے فرمائی تھی: اے حسان! جب تک تم ہم اہل بیت (علیہم السلام) کا دفاع کرتے رہوگے روح القدس سے تمہاری تائید ہوتی رہے گی۔

(مصباح المتہجد، ص ۷۱۳)

۴۔ حضرت امام جعفر صادق کی عزاداری

حضرت امام موسیٰ کاظم فرماتے ہیں:

جب محرم کا مہینہ آتا تھا پھر میرے والد کے چہرے پر ہنسی نہیں آتی تھی بلکہ آپ کے چہرہ اقدس پر غم کے اثرات نمایاں ہوتے تھے اور رخسار پر آنسو جاری رہتے تھے۔ یہاں تک کہ عاشور کا دن آ جاتا تھا۔ اس دن تو آپ کا غم و رنج بہت ہی زیادہ ہو جاتا تھا اور آپ مسلسل آنسو بہاتے رہتے تھے اور فرماتے تھے: ’آج ہی کے دن میرے جد حضرت امام حسین شہید ہوئے۔‘

(امام حسن و امام حسین، ص ۱۴۳)

۵۔ حضرت امام موسیٰ کاظم کی عزاداری

حضرت امام علی رضا سے روایت ہے:

جب محرم کا مہینہ آتا تھا کوئی میرے والد کو ہنستا ہوا نہیں دیکھتا تھا۔ یہ سلسلہ عاشور کے دن تک جاری رہتا تھا۔ عاشور کے دن تو آپ کا غم نہایت شدید ہو جاتا تھا۔ آپ مسلسل روتے رہتے تھے۔ اور فرماتے تھے: آج ہی کے دن حسین کو قتل کیا گیا۔

(حسین، نفس مطمئنة، ص ۵۶)

۶۔ حضرت امام علی رضا کی عزاداری

حضرت امام علی رضا امام حسین پر اس قدر گریہ فرماتے تھے کہ فرماتے تھے:

امام حسین کے روز مصیبت نے ہماری آنکھوں کو مجروح کر دیا ہے اور ہمارے آنسوؤں کو رواں کر دیا ہے۔

(بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۲۸۴)

جناب دعبل امام علی رضا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت نے امام حسین کی شان میں شعر کہنے اور ان پر آنسو بہانے کے تعلق سے چند باتیں بیان فرمائیں۔ من جملہ یہ کہ

اے دعبل جو شخص میرے جد حسینپر گریہ کرے خداوند عالم اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا۔

اس کے بعد حاضرین اور اہل خانہ کے درمیان ایک پردہ ڈال دیا تاکہ لوگ امام حسین کی مصیبت پر آنسو بہائیں۔

اس کے بعد دعبل سے فرمایا:

امام حسین کے بارے میں ایک مرثیہ پڑھو۔ تم جب تک زندہ ہو ہمارے ناصر و مداح ہو۔ جب تک تم میں طاقت ہے ہماری نصرت میں کوتاہی نہ کرنا۔

دعبل کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے:

اَفاطِمُ لَوْ خَلَتِ الْحُسَیْنُ مُجَدِّلاً                       وَ قَدْ مَاتَ عَطْشَانًا بِشَطِّ فُرَاتٍ

یہ شعر سن کر حضرت امام علی رضا اور ان کے اہل خاندان کے گریہ کی آواز بلند ہوگئی۔

(بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۲۵۷)

۷۔ حضرت امام زمانہ کی عزاداری

روایتوں کے مطابق اس غیبت کے زمانہ میں حضرت امام زمانہ حضرت امام حسین کی مصیبت پر مسلسل گریہ کرتے رہتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

فَلَئِنْ اَخَّرْتِنِيْ الدُّہُوْرُ وَ عَاقَنِيْ عَنْ نُصْرَتِکَ الْمَقْدُوْرُ وَ لَمْ اَکُنْ لِمَنْ حَارَبَکَ مُحَارِبًا وَ لِمَنْ نَصَبَ لَکَ الْعَدَاوَةَ مُنَاصِبًا فَلَاَنْدُبَنَّکَ صَبَاحًا وَ مَسَاءً وَ لَاَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بَدَلَ الدُّمُوْعِ دَمًا حَسْرَةً عَلَیْکَ وَ تَاَسُّفًا وَ تَحَسُّرًا عَلٰي مَا دَہَاکَ۔

اگرچہ میں زمانہ کے لحاظ سے اس وقت حاضر نہ تھا اور آپ کی مدد میرے مقدور میں نہ تھی تاکہ میں آپ کے دشمنوں سے جنگ کرتا اور آپ کی مخالفت کرنے والوں کا مقابلہ کرتا۔ اب اس وقت میں آپ پر صبح و شام آنسو بہا رہا ہوں اور آنسوؤں کے بدلہ خون روؤں گا ان مصیبتوں کو یاد کر کے جو آپ پر ڈھائی گئیں اور ان مظالم پر افسوس کرتے ہوئے جو آپ پر روا رکھے گئے۔

(بحار الانوار، ج ۱۰۱، ص ۳۲۰)

ان باتوں سے یہ اندازہ ہو جائیگا کہ حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام نہ صرف خود امام حسین کی عزاداری کرتے تھے۔ مجالس عزا برپا کرتے تھے۔ شعراء سے امام حسین کی شان میں مرثیہ کہنے کی تاکید کرتے تھے۔ ان کے حق میں دعا کرتے تھے۔ اور ان کو انعام و اکرام دیتے تھے۔

امام زمانہ کی روایت سے روشن ہے یہ عزاداری نہ صرف محرم کے دنوں سے مخصوص ہے بلکہ آپ ہر صبح و شام گریہ کرتے رہتے ہیں اور روزانہ گریہ کرتے ہیں۔