امیر المومنین علی بن ابی طالب کے حرم مطہر میں یعنی قبر مبارک کے قریب اتنی کرامتیں ظاہر ہوئی ہیں کہ انکا یہاں لکھا جانا تو دور کی بات ہے انہیں شمار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے مستقل بلکہ کئی جلدوں پر مشتمل کتاب تیار ہو جائے گی۔ یہاں صرف چند نمونے پیش کئے جا رہے ہیں:

(۱) کمال الدین قمی کے بارے میں آپ کی کرامت:

ارشاد القلوب کمالالدین بن غیاث قمی سے نقل ہے

مولا کے حرم مطہر میں وارد ہوا۔ دعا، زیارت اور توسل کے بعد کھڑا ہو گیا۔ ضریح مقدس کی ایک کیل میری قبا میں الجھی جس سے قبا پھٹ گئی۔ میں نے امیر المومنین کو خطاب کیا، ”مولا اسکا عوض آپ ہی سے چاہوں گا کسی اور سے نہیں…“

میرے قریب ہی ایک غیر شیعہ مذہب کا زائر کھڑا ہوا تھا۔ اس نے از روئے استہزاء کہا: ہاں اس کے بدلے تمہیں ایک قبا اور ایک عبا ملے گی!!

زیارت سے فارغ ہو کر حلہ شہر پہونچا۔ کمال الدین بن قشم ناصری بغداد میں کسی کے لئے عبا و قبا لے جانے کے لئے تیار کیا تھا۔ انکا خادم آیا اور کہا: کمالالدین قمی کو طلب کیا جارہا ہے۔ میں گیا اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر حجرے میں لے گئے اور ایک قبا ایک عبا اڑھا دیا، میں باہر آیا اور ابن قشم کے پاس جا کر سلام کر کے ہاتھوں کا بوسہ دینا چاہتا تھا، مگر انہوں نے میری طرف کچھ اس انداز سے دیکھا جس سے ان کی ناراضگی پوری آشکار تھی۔ خادم کی طرف مخاطب ہو کر کہا: میں نے فلاں کو طلب کیا تھا! خادم نے کہا: حضور! یہاں موجود سارے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ نے جسے طلب کیا تھا اسی کو بلایا ہے اور وہ یہی کمال الدین قمی ہیں۔ میں نے کہا: اے امیر! آپ نے اس لباس کو عطا نہیں کیا ہے بلکہ امیر المومنین نے مجھے عنایت فرمایا ہے۔

انہوں نے اصل واقعہ دریافت کیا۔ اور جب سارا واقعہ نقل کر دیا تو سجدہ میں گر پڑے اور کہا: خداوند عالم کا شکر جس نے میرے ہاتھوں خلعت پہونچایا ہے۔ (۱۔       ارشاد القلوب، ج ۲، ص ۳۴۳؛ بحار، ج ۴۲، ص ۳۱۴)

(۲) تکریت کا نابینا

شیخ حسین بن عبد الکریم غروی سے نقل ہے:تکریت شہر کا ایک نابینا امیر المومنین کے حرم مطہر میں داخل ہوا، عالم ضعیفی میں اس کی آنکھ باہر نکل کر چہرے پرل لٹک رہی تھی۔ کافی دعائیں مانگیں، کثرت سے توسل کیا اور امیر المومنین کی بارگاہ میں آکر سخت لہجے میں خطاب کیا کرتا تھا۔ کبھی کبھی تو دل میں خیال آتا کہ اسے منع کروں مگر پھر ارداہ ترک کر دیتا تھا۔ ایک مدت تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن بڑے شور و غل کی آواز سنائی دی۔ لوگ فریاد کر رہے تھے۔ میں نے دل میں سوچا شاید بغداد سے علویوں کے لئے گیہوں آیا ہے۔ یا پھر حرم میں کسی کا قتل ہو گیا ہے۔ باہرنکلا تاکہ دیکھوں آخر کیا بات ہے۔ تب لوگوں نے بتایا کہ: ایک نابینا تھا جسے شفا ملی ہے جس کی وجہ سے یہ شور ہو رہا ہے۔ میں نے دل میں سوچا اے کاش وہی نابینا ہو! جب حرم کے آستانہ میں پہونچا تو دیکھا وہی نابینا ہے جس کی آنکھیں بالکل صحیح سالم ہیں اس پر خدا کا شکر ادا کیا۔

میرے والد محترم نے اس واقعہ میں ایک فقرہ کا اضافہ کیا ہے وہ یہ کہ وہ نابینا جب امام کو مخاطب کرتا تھا تو اس طرح گویا ہوتا جیسے کسی سامنے بیٹھے ہوئے انسان سے بات کر رہا ہو۔ اس کے سخت لہجے میں سے ایک یہ تھا کہ یہ کیسی بات ہے کہ میں آپ کے حضورمیں آؤں اور چلا جاؤں، اور جو آپ کا دوست نہیں ہے وہ شفایاب ہو جائے۔ (۱۔          فرحة القری، ۱۴۴؛ بحار الانوار، ج ۴۲، ص ۳۱۷، ح ۴)

(۳) ایک مرد مسیحی

علی بن یحییٰ بن حسین طحاّل مقدادی اپنے والد اور وہ اپنے جد سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص بہترین شکل اور پاک لباس میں میرے سامنے حاضر ہوا اور دو دینار دینے کے بعدکہا: اسے لے لیجئے اور مجھے حرم کے اندر جانے کی اجازت دے دیجئے اور دروازہ کو قفل کر دیجئے تاکہ تنہا رہ کر خدا کی عبادت انجام دوں۔ انہوں نے دو دینا لے لئے اور اسے اندر داخل کر کے قفل کر دیا، اور خود جا کر سو گئے خواب میں امیر المومنین کی زیارت ہوئی۔ امام نے فرمایا:

اٹھو اسے میرے حرم سے باہر کرو، وہ مسیحی ہے۔

علی بن طحاّل اٹھے اور ایک رسّی سے ا س کی گردن باندھ کر کہا۔ فوراً اٹھواور باہر جاؤ۔ تم مسیحی مذہب رکھتے ہو۔ تم مجھے دو دینار سے دھوکہ دے رہے ہو؟

اس نے کہا: میں مسیحی نہیں ہوں۔

کہا: نہیں تم مسیحی ہو۔ اس لئے کہ امیر المومنین نے خواب میں آ کر مجھے خبر دی ہے اور فرمایا : اسے میرے حرم سے باہرکرو۔

اس نے کہا: ذرا اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔ میں گواہی دیتا ہوں اللہ سبحانہ تعالیٰ ایک ہے۔ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اس کے فرستادہ ہیں اور امیر المومنین خدا کے خلیفہ ہیں۔ خدا کی قسم میں جب شام سے چلا تھا تو مجھے کوئی نہیں جانتا تھا اور عراق میں بھی مجھے کوئی نہیں پہچانتا تھا۔

اس کے بعد اس کی زندگی ایمان و اسلام کے دستور کے مطابق بہترین زندگی بسر ہوئی۔ (۲۔         ارشاد القلوب، ص ۴۳۷؛ فرحة انوی، ص ۱۴۶)

(۴) امیر المومنین کے حرم مقدس کی سو سالہ خدمات

۵۰۱ئھ کی بات ہے۔ جب نجف اشرف میں مہنگائی اپنے عروج پر تھی۔ حتی روٹیاں بھی عام لوگوں کی پہونچ سے باہرہو چکی تھیں۔ چالیس دن یوں ہی گذر گئے۔ لوگ تنگدستی اور مفلسی کی وجہ سے دیہاتوں کا رخ کر رہے تھے، اب تک باقی رہ جانے والوں میں صرف امیر المومنین کے حرم مطہر کے متولی ابو البقا بن سویقہ تھے جو ایک سو دس (۱۱۰) سال کے ضعیف اور ناتوان جسم۔ نیز تمام تر شدتوں کے باوجود امام کے مرقد مطہرکا جوار چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ آخرکار ان کی بیوی اور لڑکیوں نے کہا: شدت گرسنگی برداشت نہیں ہوتی ہے۔ تم بھی لوگوں کے مانند جاؤ شاید کوئی راہ ہل نظر آئے جس سے ہم زندگی گذار سکیں۔ ابو البقاء نے بھی جانے کا ارادہ کر لیا۔مولا کے حرم مطہر میں آئے زیارت، نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت کے بالائے سر بیٹھ کر عرض کی: اے آقا! سو سال سے میں آپ کی خدمت کر رہا ہوں۔ اور اس درمیان آپ سے کبھی بھی جدا نہیں ہوا۔ مہنگائی اور شدت گرسنگی نے میرا اور بچوں کا برا حال کر دیا ہے۔ مگر پھر بھی آپ سے جدا ہوتے ہوئے بڑا شاق لگ رہا ہے۔ یہ جدائی دشوار ہے مگر آپ سے خدا حافظی کر رہا ہوں اور میرے اور آپ کے درمیان یہ جدائی ہو رہی ہے۔“

یہ کہہ کر روانہ ہو گئے۔ ابو البقاء کے ساتھ دیگر لوگ بھی تھے اور ان کے ہمراہ کرایہ کی ایک سواری بھی تھی، نجف سے دور نکل چکے تھے۔ ایک راستہ پر چل رہے تھے اتنے میں لوگ آپس میں کہنے لگے ابھی تو وقت بہت بچا ہے لہٰذا یہاں کچھ توقف کرتے ہیں۔ سب لوگ نیچے آ گئے۔ ابو البقاء بھی نیچے اتر آئے، آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ نیند آ گئی۔ خواب میں امیر المومنین کی زیارت ہوئی۔ مولا کہہ رہے تھے:

اے ابو البقاء اتنے دن خدمت کرنے کے بعد مجھ سے جدا ہو رہے ہو؟ جہاں تھے وہیں دوبارہ پلٹ جائیے۔

ابو البقاء روتے روتے بیدار ہوئے۔ لوگوں نے دریافت کیا: گریہ کیوں کر رہے ہو؟ انہوں نے اپنا پورا خواب بیان کر دیا اور فوراً پلٹ آئے، گھر پہونچے ہی تھے کہ لڑکیوں نے فریاد کرنا شروع کر دیا، ابو البقاء سارا قصہ نقل کر کے گھر سے باہر آ گئے اور ابو عبد اللہ بن شہریار قمی سے حرم کی چابی لیکر حسب معمول خدمت میں مشغول ہو گئے۔

ابو البقاء کہتے ہیں: تین دن گذر نے کے بعد یعنی تیسرے دن ایک شخص اپنی پشت پر بار رکھے ہوئے آیا۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ مکہ پیدل جاتے ہیں۔ اس نے اپنا بار کھولا اوراس میں سے ایک لباس نکالا اور زیب تن کر کے حرم شریف میں داخل ہو گیا۔ زیارت، نماز سے فارغ ہونے کے بعد مجھے کچھ پیسے دیئے اور کہا: کچھ کھانے کی چیزیں لاؤ تاکہ کھایا جائے۔ابو البقاء بازار جا کر کچھ مقدار میں روٹی، دودھ اور کھجوریں لیکر حاضر ہو گئے۔ آنے والے نے کہا: میرے لئے مرغ اور روٹی لیکر آؤ۔ میں نے بازار سے خرید کر انہیں روٹی اور مرغ دے دیا۔

ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا ابو البقاء نماز ظہر و عصر بجا لا کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ آنے والا شخص بھی ان کے ہمراہ تھا۔ کھانہ حاضر کیا۔ سب نے کھانہ کھایا۔ آنے والے نے ہاتھ دھونے کے بعد ابو البقاء کو مخاطب کیا: اے ابوالبقاء سونے تولنے کے اوزان تو ذرا لیکر آؤ، ابو البقاء ایک صنعت گر سے جسکا ناک زید بن واقصہ تھا ایک سینی جس میں چھوٹے بڑے تمام اوزان رکھے ہوئے تھے۔حتی گیہوں اور چاول کے دانوں کو وزن کرنے والے اوزان بھی۔ آنے والے نے تمام اوزان لیکر ترازو کے ایک پلہ میں رکھا اور سونے سے بھری ایک تھیلی سے سونا نکال نکال کر دوسرے پلہ میں رکھا۔ سارے اوزان کے برابر سونا وزن کر کے حرم مطہر کے متولی کے دامن میں ڈال دیا۔

اور جو بچا اسے رکھ کر بند کر دیا اس کے بعد لباس تبدیل کر لیا۔ متولی نے کہا: اے میرے سردار! ہم انہیں کیا کریں؟ کہا: یہ سب تمہارا ہے۔ پوچھا: آخر کس کی جانب سے؟ کہا: جس نے تمہیں دوبارہ حرم کی خدمت کرنے کا حکم دیا تھا اسی نے دیا ہے اور کہا سونے کے اوزان کے برابر سونا دے دو ۔ اگر تم اس سے زیادہ لائے ہوتے تو اس سے زیادہ دیتا۔

ابو البقاء یہ سن کر بے ہوش ہوگیا۔ آنے والا چلا گیا، پھر کیا تھا ابو البقاء کے دن اچھے ہو گئے، لڑکیوں کی شادی کر دی۔ گھر آباد ہو گیا اور مولا کی کرامت سے ابو البقاء کی خوشی و راحت کا ٹھکانہ نہ رہا۔ (۱۔   فرحة الغری، ص ۱۴۹؛ بحار ج ۴۴، ص ۳۲۱، ح ۸)