وضاحت

صحیح بخاری صحاح ستہ میں سے ایک اہم کتاب شمار کی جاتی ہے، اہل سنت قرآن Ú©Û’ بعد ان چھ کتابوں Ú©Û’ برابر کسی بھی کتاب کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور ان کتابوں میں جتنے مطالب پیش کئے گئے ہیں انہیں سب صحیح مانتے ہیں۔

بخاری Ù†Û’ اپنی کتاب صحیح میں داستان سقیفہ کو عمر Ú©Û’ حوالہ سے اس طرح بیان کیا ہے:

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی وفات Ú©Û’ بعد چند خبروں میں سے جو ایک خبر ہم تک پہونچی وہ یہ تھی کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصارجمع ہوئے ہیں۔ میں Ù†Û’ ابو بکر سے کہا چلو ہم لوگ بھی چلتے ہیں تاکہ ہم بھی اپنے انصاری بھائیوں Ú©Û’ ساتھ مل جائیں۔ابو بکر Ù†Û’ میری بات مان لی اور ہم دونوں سقیفہ پہونچ گئے۔ علی() اور زبیر اور ان Ú©Û’ ساتھی ہم لوگوں Ú©Û’ ساتھ نہیں تھے، جب سقیفہ پہونچے تو دیکھا گروہ انصار Ù†Û’ ایک شخص کو کسی چیز میں لپٹے ہوئے اپنے ساتھ لائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے یہ سعد بن عبادہ ہیں جنہیں بہت شدید بخار ہے ہم دونوں ان Ú©Û’ نزدیک بیٹھ گئے۔ انصار میں سے ایک شخص مقرر Ú©Û’ عنوان سے کھڒا ہوااور حمد خدا اور ثنائے پروردگار Ú©Û’ بعد کہا: ہم لوگ خداوند عالم Ú©Û’ دوست اور اس Ú©Û’ چاہنے والے ہیں اور اسلام Ú©Û’ سپاہی اور اس کی طاقت ہیں، مگر تم اے گروہ مہاجرین تم لوگوں کی تعداد بہت Ú©Ù… ہے اور…

میں (عمر) Ù†Û’ سوچا کہ اسکا جواب دوں مگر ابو بکر Ù†Û’ میری آستین کھینچ کر خاموش کر دیا اور خود اٹھ کر بولنے Ù„Ú¯Û’: اور خدا گواہ ہے انہوں Ù†Û’ وہی سب کچھ کہا جو میں کہنا چاہتا تھا، بلکہ اس سے بہتر تھا۔

انہوں Ù†Û’ کہا: اے گروہ انصار! تم Ù†Û’ جن خوبیوں اور جن خصوصیتوں کا تذکرہ کیا ہے بیشک اس Ú©Û’ اصل ہو اور تم ہی اس Ú©Û’ حاصل کرنے والے ہو، مگر خلافت اور حکومت یہ صرف قبیلہٴ قریش کا حق ہے، اس لئے کہ وہ لوگ شرافت، حسب و نسب Ú©Û’ اعتبار سے مشہور ہیں اور عرب Ú©Û’ تمام قبیلوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ اور میں تم لوگوں کی خیر خواہی اور بھلائی Ú©Û’ لئے کر رہا ہوں کہ میں دو لوگوں کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ ان میں سے جسے چاہوں خلافت Ú©Û’ لئے انتخاب کر Ú©Û’ بیعت کر لو۔یہ کہا اور ابو بکر Ù†Û’ میرا اور ابو عبیدہ کا ہاتھ Ù¾Ú©Ú’ Ú©Û’ ان لوگوں Ú©Û’ سامنے پیش کر دیا، اور صرف یہ آخر کا جملہ ذرا مجھے پسند نہیں آیا، اتنے میں ایک دوسرا انصاری اپنی جگہ سے اٹھا اور اس طرح بولا:

اَنَا جَذِیْلُہَا الْمَحْکُ وَ عَذِیْقُہَا الْمُوْجَبُ۔

میں تمہارے درمیان گروہ انصار اس Ù„Ú©Ú’ÛŒ Ú©Û’ مانند ہوں جس سے اونٹوں کو ہکایا جاتا ہے

اور اس درخت کی طرح ہوں جس Ú©Û’ سایہ میں پناہ لی جاتی ہے۔ جب یہی بات ہے تو اے گروہ مہاجرین تم اپنے لئے ایک حاکم بناؤ اور ہم لوگ اپنے میں سے ایک حاکم کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ کہنا تھا کہ چاروں طرف سے شور ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اور شدید اختلاف رونما ہو گیا۔ میں Ù†Û’ اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا اور ابو بکر سے کہاتم اپنا ہاتھ بڒھاؤ تاکہ تمہاری بیعت کروں، انہوں Ù†Û’ اپنا ہاتھ جیسے ہی بڒھایا میں Ù†Û’ ان Ú©Û’ ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اور ابو بکر کی بیعت Ú©Û’ عمل سے فارغ ہونے Ú©Û’ بعد سعد بن عبادہ Ú©Û’ پاس ہم سب جمع ہو گئے… ان تمام باتوں Ú©Û’ بعد اب اگر کوئی مسلمانوں Ú©Û’ مشورہ اور ان کی رائے Ú©Û’ بغیر کسی شخص کی خلافت Ú©Û’ بیعت کرے۔ تو نہ بیعت کرنے والے کی پیروی کرو نہ بیعت لینے والے کی۔ اس لئے کہ دونوں قتل Ú©Û’ مستحق ہیں۔

صحیح بخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی، Û´/Û±Û±Û¹-Û±Û²Û°

سیرہٴ ابن ہشام، Û´/Û³Û³Û¶-Û³Û³Û¸

کنز العمال: Û³/Û±Û³Û¹Û” حدیث Û²Û³Û²Û¶