حضرت علی ابن ابی طالب Ú©Û’ فضائل، کمالات اور درجات Ú©Û’ بارے میں گفتگو کرنا ابتداء میں آسان محسوس ہوتا ہے۔ مگر در اصل یہ ایک ایسے سمندر میں غوطہ لگانا ہے جس کی گہرائی، چوڒائی اور لمبائی سب لا محدود ہے اس بنا پر حضرت علی بن ابی طالب Ú©Û’ فضائل بیان کرنا سخت دشوار کام ہے۔ ابتداء میں سہل محسوس ہوتا ہے مگر قدم قدم پر ایسے مقامات پیش آتے ہیں کہ عقل انسانی حیران رہ جاتی ہے۔

خلیل ابن احمد سے جس وقت حضرت علی بن ابی طالب Ú©Û’ فضائل و مناقب Ú©Û’ بارے میں دریافت کیا گیا تو نہایت اہم جواب دیا…… میں اس Ú©Û’ فضائل کیا بیان کروں جس Ú©Û’ فضائل ان Ú©Û’ دشمنوں Ù†Û’ عدوات میں چھپائے اور دوستوں Ù†Û’ جان Ú©Û’ خوف سے بیان نہیں کئے اس Ú©Û’ باوجود مشرق و مغرب اس Ú©Û’ فضائل سے چھلک رہے ہیں۔۱#

اس وقت جو کچھ آپ Ú©Û’ سامنے بیان ہو رہا ہے یہ فضائل Ú©Û’ سمندر کی ایک ہلکی سی ہوا ہے یہ تمام فضائل ہم اہل سنت کی کتابوں سے نقل کر رہے ہیں کیونکہ تعریف وہی ہے جو دوسروں کی زبان سے نقل ہو۔

علی کو صرف خدا اور رسول پہچانتے ہیں

یہ عظیم شخصیت کون ہے جس کی معرفت میں کائنات حیران ہے۔ کچھ لوگ ان کو خدا سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی عبادت اور بندگی میں Ø´Ú© کرتے ہیں۔جب حضرت علی کو مسجد کوفہ میں شہید کیا گیا تو کہنے لگÛ'”کیا علی نماز پڒھتے تھے؟” صرف علی کو پیدا کرنے والا خدا اور ان Ú©Û’ نور کا دوسرا جزء حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ پہچانتے تھے۔

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ حضرت علی بن ابی طالب سے فرمایا:

یَا عَلِيُْ مَا عَرَْفَ اللهَ حَقَْ مَعْرِفَتِہ غَیْرِيْ وَ غَیْرُکَ وَ مَا عَرَْفَکَ حَقَْ مَعْرِفَتِکَ غَیْرُ اللهِ وَ غِیْرِیْ

اے علی خدا کو نہیں پہجانا مگر میں Ù†Û’ اور تم Ù†Û’ اور تم کو کسی Ù†Û’ نہیں پہچانا مگر خدا Ù†Û’ اور میں Ù†Û’Û”Û²#

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

یَا عَلِیُْ لاَ یَعْرِفُ اللهَ تَعَالٰي اِلاَْ اَنَا وَ اَنْتَ وَ لاَ یَعْرِفُنِيْ اِلاَْ اللهَ وَ اَنْتَ وَ لاَ یَعْرِفُکَ اِلاَْ اللهُ وَ اَنَا

اے علی خدا کو نہیں پہچانا مگر میں Ù†Û’ اور تم Ù†Û’ اور Ù…Ú†Ú¾ کو نہیں پہچانا مگر خدا Ù†Û’ اور تم Ù†Û’Û” اور تم کو نہیں پہچانا مگر خدا Ù†Û’ اور میں Ù†Û’Û”Û³#

بے پناہ فضائل

حضرت علی بن ابی طالب کی صحیح معرفت رکھنے والے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

علی Ú©Û’ فضائل بے شمار ہیں۔

جناب ابن عباس کا بیان ہے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

لَوْ اَنَْ الْفَیَْاضَ اَقْلاَمٌ۴# وَ الْبَحْرُ مِدَادٌ وَ الْجِنُْ حُسَْابٌ وَ الْاِنْسُ کُتَْابٌ مَا اَحْصُوْا فَضَائِلَ عَلِيَْ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ

اگر تمام درخت اور باغات قلم ہو جائیں، تمام سمندر سیاہی ہو جائیں، تمام جنات حساب کرنے والے ہو جائیں، تمام انسان Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ والے ہو جائیں تب بھی علی بن ابی طالب Ú©Û’ فضائل کا شمار نہیں کر سکتے ہیں۔۵#

ایک دوسری جگہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اِنَْ اللهَ تَعَالٰي جَعَلَ لِاَخِیْ عَلِيٍْ فَضَائِلَ لاَ تُحْصٰي کَثْرَةٌ فَمَنْ ذَکَرَ فَضِیْلَةً مِنْ فَضَائِلِہ مُقَرَْابِہَا غَفَرَ اللهُ لَہ مَا تَقَدَْمَ مِنْ ذَنْبِہ وَ مَا تَأَخَْرَ۔

خداوند عالم Ù†Û’ میرے بھائی علی Ú©Û’ لئے بے شمار فضائل قرار دئے ہیں اگر کوئی ان میں سے کسی ایک فضیلت کو اعتقاد و ایمان Ú©Û’ ساتھ بیان کرے خداوند عالم اس Ú©Û’ گذشتہ اور آئندہ گناہوں کو معاف کر دے گا۔

وَ مَنْ کَتَبَ فَضِیْلَةً مِنْ فَضَائِلِہ لَمْ تَزَلَ الْمَلأَئِکَةُ تَسْتَغْفِرُ لَہ مَا بَقٰي لِتِلْکَ الْکِتَابِہ رَسْمٌ، وَ مَنْ اسْتَمَعَ فَضِیْلَةً مِنْ فَضَائِلِہ کَفَْرَ اللهُ لَہُ الذُْنُوْبَ الَْتِيْ اِکْتَسَبَہَا بِالْاِسْتِمَاعِ وَ مَنْ نَظَرَ اِلٰي کِتَابٍ مِنْ فَضَائِلِہ کَفَْرَ اللهُ لَہ الذُْنُوْبَ الَْتِيْ اِکْتَسَبَہَا بِالنَْظَرِ۔

اگر کوئی حضرت علی بن ابی طالب کی کوئی ایک فضیلت Ù„Ú©Ú¾Û’ تو جب تک وہ تحریر باقی رہے گی ملائکہ اس Ú©Û’ لئے استغفار کرتے رہینگے اور اگر کوئی ان کی کوئی ایک فضیلت سنے خدا وند عالم ان گناہوں کو معاف کر دے گا جو اس Ù†Û’ کان سے انجام دی ہیں اور اگر کوئی علی کی کوئی فضیلت Ù¾Ú’Ú¾Û’ تو خداوند عالم ان گناہوں کو معاف کر دے گا جو اس Ù†Û’ آنکھوں سے انجام دی ہوں گی۔۶#

علی مجموعہ کمالات

حضرت علی کی ذات میں نہ صرف دنیا Ú©Û’ تمام اچھے اعلیٰ صفات افراد کی تمام صفتیں پائی جاتی ہیں بلکہ تمام انبیاء و مرسلین یہاں تک کہ اولو العزم انبیاء علیہم السلام Ú©Û’ بھی تمام کمالات آپ کی ذات اقدس میں موجود ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ علاوہ کوئی اور آپ Ú©Û’ برابر نہیں ہے۔

اہل سنت Ú©Û’ مشہور عالم ہیں جن کا نام ہے ‘بیہقی’ انہوں Ù†Û’ اپنی کتاب میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی یہ روایت نقل کی ہے:

مَنْ اَحَبَْ اَنْ یَْنْظُرَ اِلٰي اٰدَمَ فِيْ عِلْمِہ وَ اِلٰي نُوْحٍ فِيْ تَقْوَاہُ وَ اِبْرَاہِیْمَ فِيء حِلْمِہ وَ اِلٰي مُوْسٰي فِيْ عِبَادَتِہ فَلْیَنْظُرْ اِلٰي عَلِيِْ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ عَلَیْہِ الصَْلَوَاةُ وَ السَْلاَمُ۔

جو شخص جناب آدم کو ان Ú©Û’ علم میں دیکھنا چاہتا ہے، جناب نوح کو ان Ú©Û’ تقوی اور پرہیزگاری میں دیکھنا چاہتا ہے، جناب ابراہیم کو ان Ú©Û’ حلم میں، جناب موسیٰ کو ان کی عبادت میں اسے حضرت علی بن ابی طالب علیہ الصلواة و السلام کو دیکھنا چاہئے۔۷#

مناقب Ù†Û’ یہ روایت دو جگہ اس طرف نقل کی ہے:

مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰي اٰدَمَ فِيْ عِلْمِہ وَ اِلٰي نُوْحٍ فِيْ مَہِمِْہ وَ اِلٰي یَحْیٰي بْنِ زَکَرِیَْا فِيْ زُہْدِہ وَ اِلٰي مُوْسٰي بْنِ عِمْرَانَ فِيْ بَطْشِہ، فَلْیَنْظُرْ اِلٰي عَلِيِْ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ۔

جو آدم کا علم نوح کی فہم و فراست، یحییٰ کا زہد، موسیٰ کی ہیبت دیکھنا چاہتا ہے وہ علی بن ابی طالب کو دیکھے۔۸#

علی اور نبی

صاحب کمالات سے محبت انسان کا فطری تقاضا ہے دل اس شخص سے فطری طور پر محبت کرتا ہے جو صاحب کمالات ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ تمام کائنات اور خالق کائنات Ú©Û’ محبوب ہیں۔ علی() محبوب خدا ہیں، کیونکہ آیت مباہلہ کی روشنی میں علی جان اور نفس پیغمبر ہیں اور ہر شخص اپنی جان اور اپنے نفس کو عزیز رکھتا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ بار بار فرمایا:

مَنْ اَحَبَْ عَلِیًْا فَقَدْ اَحَبَْنِيْ

جس Ù†Û’ علی سے محبت کی اس Ù†Û’ مجھ سے محبت کی۔ Û¹#

اور یہ بھی فرمایا:

مُحِبُْکَ مُحِبِْيْ وَ مُبْغَضُکَ مُبْغِضِيْ

تمہارا دوست میرا دوست ہے اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے۔۱۰#

ایک شخص Ù†Û’ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے دریافت کیا:

یَا رَسُوْلَ اللهِ اَنَْکَ تُحِبُْ عَلِیًْا؟قَالَ: اَوَ مَا عَلِمْتَ اَنَْ عَلِیًْا مِنِْيْ وَ اَنَا مِنْہُ۔

اے اللہ Ú©Û’ رسول کیا آپ علی کو دوست رکھتے ہیں؟ فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔۱۱#

کیا کوئی اپنے آپ کو دوست نہیں رکھے گا۔

مناقب Ù†Û’ اپنی سند سے یہ روایت نقل کی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اِنَْ اللهَ عَزَْ وَ جَلَْ اَمَرَنِيْ بِحُبِْ اَرْبَعَةِ مِنْ اَصْحَابِيْ وَ اَخْبَرَنِيْ اِنَْہ یُحِبُْہُمْ۔ قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ مَنْ ہُمْ؟ فَلٰکِنَْا یُحِبُْ اَنْ یَْکُوْنَ مِنْہُمْ، فَقَالَ: اَلاَ اِنَْ عَلِیًْا مِنْہُمْ ثُمَْ سَکَتَ، ثُمَْ قَالَ: اَلاَ اِنَْ عَلِیًْا مِنْہُمْ ثُمَْ سَکَتَ۔

خداوند عالم Ù†Û’ میرے اصحاب میں چار سے محبت کرنے کا Ø­Ú©Ù… دیا ہے۔ اور مجھ سے فرمایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ ہم Ù†Û’ دریافت کیا وہ لوگ کون ہیں تاکہ ہم بھی ان میں شامل ہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا: علی ان میں شامل ہیں اس Ú©Û’ بعد پیغمبر اسلام خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: علی ان میں شامل ہیں۔ اس Ú©Û’ بعد خاموش ہو گئے۔

عائشہ کا بیان ہے۔ جس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کا آخری وقت تھا۔ انہوں Ù†Û’ فرمایا:

میرے محبوب اور میرے پسندیدہ شخص کو بلاؤ۔

میں ابو بکر Ú©Û’ پاس گئی اور ان کو بلا کر لائی۔جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی نظر ابو بکر پر Ù¾Ú’ÛŒ انہوں Ù†Û’ اپنا منھ پھیر لیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ دوبارہ ارشاد فرمایا:

میرے محبوب اور میرے پسندیدہ شخص کو بلاؤ۔

اس وقت حفصہ عمر کو بلا کر لائیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ ابو بکر کی طرح ان سے بھی منھ موڒ لیا۔ عائشہ Ù†Û’ کہا میں Ù†Û’ کہا: پیغمبر صرف علی کو بلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم وہ علی Ú©Û’ علاوہ کسی اور کو نہیں بلا رہے ہیں۔ لوگ علی کو بلا کر لائے۔ جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی نظر علی پر Ù¾Ú’ÛŒ ان کو اپنے سینہ سے لگایا اور ان Ú©Û’ کان میں ہزار حدیثیں بیان کیں۔ جس میں ہر حدیث سے ہزار حدیثیں واضح ہو گئیں۔۱۳#

جناب ابن عباس Ù†Û’ یہ روایت نقل کی ہے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

عَلِیٌْ مِنِْيْ مِثْلُ رَأْسِيْ مِنْ بَدَنِيْ۔

علی کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو میرے سر کو میرے بدن سے حاصل ہے۔۱۴#

یہ بات بالکل واضح ہے حضرت علی سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی محبت جذبات اور رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد حضرت علی Ú©Û’ فضائل و کمالات ہیں۔ ذیل میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی زبانی چند فضائل نقل کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

علی () کا علم

حضرت علی کا علم دنیا کا حاصل کردہ علم نہیں ہے تاکہ ان کا کوئی بڒا استاد یاہم کلاس افراد ہوں بلکہ ان کا علم علم لدنی ہے خداوند علیم و قدیر کا عطا کردہ ہے۔ اس بنا پر ان کا علم فوقیت رکھتا ہے۔ اہل سنت کی کتابوں میں ان کو ‘اعلم الناس’ سے یاد کیا گیا ہے اب ان حدیثوں پر غور فرمائیں:

۱۔         حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اَعْلَمُ اُمَْتِيْ مِنْ بَعْدِيْ عَلِيُْ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ

میرے بعد میری امت میں علی سب سے زیادہ عالم ہیں۔۱۵#

۲۔         عبد اللہ بن مسعود Ù†Û’ کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

قُسِْمَتْ الْحِکْمَةُ عَلٰي عَشْرَةِ اَجْزَاءِ فَاُعْطِيَ عَلِيٌْ تِسْعَةً وَ النَْاسُ جُزْءً وَاحِدًا۔

حکمت Ú©Û’ دس حصہ کئے گئے ہیں ان میں Û¹ حصہ علی کو دیا اور ایک حصہ تمام لوگوں Ú©ÙˆÛ”Û±Û¶#

اس وقت دنیا میں جو بھی علم و سائنس کی ترقی ہے وہ صرف ایک حصہ کی بنا پر ہے جو لوگوں کو دیا گیا ہے حضرت علی کا علم دنیا Ú©Û’ تمام انسانوں Ú©Û’ علم سے Û¹ گنا زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب Ú©Û’ علم کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی ذات اقدس ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌْ بَابُہَا، فَمَنْ اَرَادَ الْعِلْمَ فَیَأْتِ الْبَابَ۔

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ دروازہ سے آئے۔

۳۔         حضرت علی Ú©Û’ بارے میں عائشہ کا بیان ہے:

ہُوَ اَعْلَمُ النَْاسَ بِالسُْنَْةِ

سنت پیغمبر کا سب سے زیادہ علم علی کو ہے۔

کاش خود عائشہ Ù†Û’ اس پر عمل کیا ہوتا۔ علی کی باتوں پر عمل کیا ہوتا اور جنگ جمل کو وجود میں نہ لاتیں۔

۴۔         جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شادی حضرت علی سے کی تو فرمایا:

زُوَْجْتُکِ خَیْرُ اَہْلِيْ، اَعْلَمُہُمْ عِلْمًا وَ اَفْضَلُہُمْ حِلْمًا وَ اَوَْلُہُمْ سِلْمًا۔

اے فاطمہ میں Ù†Û’ تمہاری شادی اپنے خاندان Ú©Û’ بہترین فرد سے کی ہے جس کا علم سب سے زیادہ ہے جو حلم و صبر میں سب سے افضل اور اسلام میں سب سے اول ہے۔

علی () کی عبادت

حضرت علی بن ابی طالب کی عبادت کائنات میں مشہور ہے۔ جس طرح حضرت علی کا علم نمایاں ہے اسی طرح آپ کی عبادت بھی نمایاں ہے آپ کی نمازیں، مناجاتیں، رات Ú©Û’ سناٹے میں عظمت خدا سے گریہ و آہیں۔ تسبیح و تہلیل کی گواہ راتیں۔ ایسی ہیں کہ خداوند عالم ملائکہ پر فخر و مباہات کر رہا ہے۔

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

ایک دن صبح صبح جبرئیل امین خوشی خوشی بشارت Ù„Û’ کر آئے۔ میں Ù†Û’ دریافت کیا: میرے دوست آئے کیا ہوا کہ تم اس قدر خوش نظر Ø¢ رہے ہو؟ جبرئیل Ù†Û’ کہا: اے محمد میں آج کیونکر خوش نہ ہوں۔ آج خداوند عالم Ù†Û’ آپ کی امت آپ Ú©Û’ بھائی آپ کی امت آپ Ú©Û’ جانشین علی بن ابی طالب کو وہ عزت عطا کی ہے جس سے میں بہت خوش ہوں۔میں Ù†Û’ دریافت کیا: خدا Ù†Û’ میرے بھائی کو ، میری امت Ú©Û’ امام کو کیا عزت عطا فرمائی ہے؟

قَالَ: باَہَی بِعِبَادَتِہِ الْبَارِحَةَ مَلاَئِکَتِہِ وَ حَمَلَةِ عَرْشِہ وَ قَالَ: مَلاَئِکَتِيْ اُنْظُرُوْا اِلٰي حُجَْتِيْ فِيْ اَرْضِيْ عَلٰي عِبَادِيْ بَعْدَ نَبِیِْیْ، فَقَدْ عَفَرَ خَدَْہ فِيْ التُْرَابِ تَوَاضَعًا لِعَظَمَتِيْ، اَشْہَدُکُمْ اَنَْہ اِمَامُ خَلْقِيْ وَ مَوْلَي بَرِیِْتِي۔

کہا: خداوند عالم Ù†Û’ کل رات علی کی عبادت کی بنا پر ملائکہ پر فخر و مباہات کی ہے۔ ملائکہ سے فرمایا: اے میرے ملائکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ بعد امت میں میری حجت اور میرے بندہ علی کو دیکھو میری عظمت و بزرگی Ú©Û’ سامنے کس طرح تواضع و انکساری سے اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہیں۔ میں تم لوگوں کو گواہ قرار دیتا ہوں وہ میری مخلوق Ú©Û’ امام ہیں اور لوگوں Ú©Û’ مولیٰ اور سرپرست ہیں۔۲۰#

حضرت علی کی عبادت Ú©Û’ اتنے زیادہ واقعات ہیں جس Ú©Û’ لئے ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔ نمونہ Ú©Û’ طور پر صرف اس روایت پر غور کریں:

ضرار بن ضمرہ Ù†Û’ معاویہ Ú©Û’ دربار میں حضرت علی Ú©Û’ بارے میں اس طرح بیان کیا، “میں خدا کو گواہ قرار دے کر کہتا ہوں میں Ù†Û’ ان کو (علی) بعض وقت دیکھا جب رات کی تاریکی Ù†Û’ ہرطرف اپنا پردہ ڈال دیا تھا آسمان پر ستارے روشن تھے علی محراب میں Ú©Ú¾Ú’Û’ ہوئے تھے ان کی داڒھی ان Ú©Û’ ہاتھ میں تھی اور اس طرح تڒپ رہے تھے جیسے سانپ کا ڈسا تڒپتا ہے ایک غم زدہ کی طرح آنسو بہا رہے تھے۔ ان کی آواز اس وقت بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔

“آہ آہ زاد راہ Ú©Ù… ہے اور سفر طویل ہے۔ راستہ وحشتناک ہے اور منزل بہت بڒی ہے۔”

یہ سن کر معاویہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اس Ù†Û’ اپنی آستین سے آنسو خشک کئے اور وہاں موجود بقیہ لوگ بھی رو رہے تھے اس وقت معایہ Ù†Û’ کہا: ہاں واقعا ابو الحسن ایسے ہی تھے۔۲۱#

علی کی امامت

حضرت علی کا بے پناہ علم اور ان کی بے مثال عبادت اس بات کا صاف پتہ دیتی ہے کہ امامت اور خلافت ان کا حق ہے۔اس Ú©Û’ علاوہ اہل سنت کی کتابوں میں ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں جو صاف صاف حضرت علی کی امامت و خلافت کو بیان کر رہی ہیں جن میں حدیث ثقلین، حدیث منزلت، حدیث یو Ù… الدار (ذو العشیرہ)، حدیث غدیر متواتر حدیثیں ہیں۔ ان حدیثوں سے بارہا کتابوں میں استدلال کیا گیا ہے۔ اس Ú©Û’ علاوہ اور بھی روایتیں ہیں جن میں نہایت واضح الفاظ میں حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کو بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں چند حدیثوں پر توجہ فرمائیں۔

۱۔         پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ حضرت علی سے فرمایا:

اے علی داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنو تاکہ مقربین میں شمار کئے جاؤ۔

عرض کیا: اے اللہ Ú©Û’ رسول کونسی انگوٹھی پہنوں؟

فرمایا: سرخ عقیق یہ وہ پہاڒ ہے جس Ù†Û’ خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا، میری نبوت کا اقرار کیا۔ وَ لَکَ بِالْوِلاَیَہ اور تمہاری امامت و ولایت کا اقرار کیا ہے۔۲۳#

پہاڒوں تک کو معلوم ہے کہ حضرت علی خلیفہ بلا فصل ہیں۔

۲۔         ابن بریدہ سے روایت نقل ہوئی ہے۔ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

لِکُلِْ نَبِيٍْ وَصِیٌْ وَ وَارِثٌ وَ اِنَْ عَلِیًْا وَصِیِْیْ وَ وَارِثِيْ۔

ہر نبی کا ایک وصی و وارث ہے۔ میرے وصی اور وارث علی ہیں۔۲۴#

۳۔         عبادت Ú©Û’ سلسلے میں جو روایت نقل ہوئی اس میں خدا Ù†Û’ یہ جملہ کہا:

اَشْہَدُکُمْ اَنَْہ اِمَامُ خَلْقِيْ وَ مَوْلٰي بَرِیَْتِيْ

اے ملائکہ میں تم کو گواہ قرار دیتا ہوں علی میری مخلوقات Ú©Û’ امام اور میری پیدا کردہ چیزوں Ú©Û’ ولی اور سرپرست ہیں۔۲۵#

۴۔         عمرو بن میمون Ù†Û’ ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ حضرت علی سے فرمایا:

اَنْتَ وَلِیُْ کُلِْ مُؤْمِنٍ بَعْدِیْ۔

تم میرے بعد تمام مومنین Ú©Û’ ولی ہو۔۲۶#

روایت میں ‘بعدی’ کا لفظ حضرت علی کی خلافت بلا فصل اور امامت و ولایت کو ثابت کر رہا ہے۔ ولی سے محبوب مراد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ تم میرے بعد لوگوں Ú©Û’ محبوب ہو۔ وہ محبوب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی زندگی میں بھی تھے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ حضرت علی کی امامت و خلافت بلافصل Ú©Û’ بیان میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ مختلف انداز سے متعدد مواقع پر حضرت علی کی خلافت و امامت کا اعلان فرمایا کبھی ان کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر Ú©Û’ فرمایا:

یہ علی لوگوں Ú©Û’ رہبر اور مولا ہیں۔

کبھی فرمایا:

عَلِیٌْ مَعَ الْقُرْآنِ، وَ الْقُرْآنُ مَعَ عَلِیٌْ لَنْ یَْفْتَرِقًا

علی قرآن Ú©Û’ ساتھ اور قرآن علی Ú©Û’ ساتھ، یہ ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں Ú¯Û’Û”Û²Û·#

کبھی ان کو حق کا معیار اور محور قرار دیا۔ حدیث متواتر میں یہ جملہ ملتا ہے:

عََلِیٌْ مَعَ الْحَقِْ وَ الْحَقُْ مَعَ عَلِیٌْ وَ لَنْ یَْفْتَرِقَا حَتْٰي یَرِدَا عَلَيَْ الْحَوْضِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ۔

علی حق Ú©Û’ ساتھ اور حق علی Ú©Û’ ساتھ ہے یہ اس وقت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں Ú¯Û’ جب تک قیامت Ú©Û’ دن حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات نہ کریں۔

ایک دوسری روایت مین فرمایا:

سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِيْ فِتْنَةٌ، فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ، فَالْزِمُوْا عَلِیَْ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ، فَاِنَْہ الْفَارُوْقٌ بَیْنَ الْحَقِْ وَ الْبَاطِلِ۔

میرے بعد عنقریب فتنے سر اٹھائینگے اور جب ایسا ہو تو بس علی Ú©Û’ ساتھ ساتھ رہنا کیونکہ بس وہی حق و باطل Ú©Û’ درمیان فرق کرنے والے ہیں یعنی بس یہی حق کا معیار ہیں۔۲۹#

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ یہ بھی فرمایا:

جو علی سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا اور جو مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے دور ہو گیا۔۳۰#

علی اور قرآن

اہل سنت Ú©Û’ علماء اور مفسرین Ù†Û’ اپنی کتابوں اور تفسیروں میں قرآن کریم کی بہت سی آیتیں حضرت علی سے متعلق قرار دی ہیں۔ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی روایتوں کو تائید میں پیش کیا ہے۔ ان میں بعض معتبر علماء Ú©Û’ نام اس طرح ہیں: ابن حجر مکی، خطیب بغدادی، گنجی شافعی، ابن عساکر، شیخ سلیمان قندوزی حنفی۔ جناب اابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ

نَزَلَتْ فِيْ عَلِیٍْ ثَلاَثَ مِأئَةَ آیَہ

تین سو آیتیں حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔۳۱#

جناب ابن عباس Ù†Û’ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے یہ روایت نقل کی ہے:

مَا اَنْزَلَ آیَةٌ فِیْہَا ‘یَا اَیُْہَا الَْذِیْنَ آمَنُوْا’ وَ عَلِيٌْ رَاسُہَا وَ اَمِیْرُہَا

قرآن کریم کی تمام وہ آیتیں جس میں ‘یا ایہا الذین آمنوا’ ہے اس کی فرد اول اور مصداق اول کامل علی ہیں یعنی وہ تمام آیتیں جن میں صاحبان ایمان (الذین آمنوا) کو مخاطب قرار دیا گیا ہے ان میں سب سے پہلے فرد علی ہیں۔

علی کی اطاعت

حضرت علی لوگوں Ú©Û’ امام و رہنما، محبوب پیغمبر، صاحب علم لدنی، عبادت و اطاعت پروردگار میں فرد اعلیٰ، حق اور باطل کا معیار کامل، شریک قرآن مثیل اولیاء الرحمان ہیں۔ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ بعد بس ان کی اطاعت کریں اور جس کا وہ اعلان کریں اس کو اپنا جانشین اور خلیفہ تسلیم کریں۔ حضرت علی کی اطاعت اختیاری سند نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانوں اور خاص کر تمام مسلمانوں پر لازم و ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ حضرت علی کی اطاعت، پیروں Ú©Û’ لئے جو روایتیں بیان فرمائی ہیں وہ غیر معمولی ہیں ذیل میں چند کا تذکرہ کرتے ہیں۔

۱۔         جناب سلمان Ù†Û’ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا Ú©Û’ حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے:

عَلَیْکُمْ بِعَلِيِْ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ فَاِنَْہ مَوْلاَکُمْ فَاحِبُْوْہُ، وض کَبِیْرُکُمْ فَاتَْبِعُوْہُ، وَ عَالِمُکُمْ فَاَکْرَمُوْہُ، وَ قَائِدُکُمْ اِلَي الْجَنَْةِ (فَعَزَْزُوْہُ) وَ اِذَا دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ وَ اِذَا اَمَرَکُمْ فَاَطِیْعُوْہُ، اَحِبُْوْہُ بِحُبِْيْ وَ اَکْرَمُوْہُ بِکَرَامَتِيْ، مَا قُلْتُ لَکُمْ فِيْ عَلِیٍْ اِلاَْ مَا اَمَرَنِيْ بِہ رَبِْيْ جَلَْتْ عَظُمَتَہ۔

تم پر حضرت علی کی اطاعت واجب ہے۔ وہ تمہارے مولیٰ اور حاکم ہیں ان سے محبت کرو یہ تمہارے بزرگ ہیں ان کی پیروی کرو۔ تمہارے عالم ہیں ان کی عزت کرو، تمہیں جنت کی طرف Ù„Û’ جانے والے ہیں ان کی قدر کرو جب وہ تمہیں بلائیں ان کی آواز پر لبیک کہو، جب Ø­Ú©Ù… دیں تو اطاعت کرو۔ میری طرح ان سے بھی محبت کرو، میری طرح ان کی بھی عزت کرو۔ میں Ù†Û’ علی Ú©Û’ بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے یہ سب خداوند بزرگ و برتر Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… سے کیا ہے۔۲۳#

یہ صرف اس قدر واضح ہے کہ کسی تشریح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام صاف صاف فرما رہے ہیں میں جو کچھ بیان کر رہا ہوں یہ میری ذاتی رائے نہیں ہے (گرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی ذاتی رائے بھی واجب الاطاعہ ہے) بلکہ یہ سب خدا کا Ø­Ú©Ù… ہے۔ اگر مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی صرف اس ایک حدیث پر عمل کرتے تو مسلمان آج اس قدر انحراف، انتشار اور اختلاف کا شکار نہ ہوتے۔

۲۔         آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ اپنے معتبر صحابی عمار یاسر سے فرمایا:

یَا عَمَْارُ! اِنَْ رَاَیْتَ عَلِیًْا قَدْ سَلَکَ وَادِیًا وَ سَلَکَ النَْاسَ وَادِیًا غَیْرُہ فَاسْلُکْ مَعَ عَلِیٌْ وَدَعَ النَْاسَ اَنَْہ لَنْ بَدَلَکَ عَلِیٌْ رَدَيَ وَ لَنْ یَخْرُجَکَ مِنَ الْہُدٰی۔

اے عمار! اگر تم دیکھو حضرت علی ایک طرف جا رہے ہیں اور بقیہ لوگ دوسری طرف جا رہے ہیں تو تم علی Ú©Û’ ساتھ ساتھ رہنا اور لوگوں کو Ú†Ú¾ÙˆÚ’ دینا اس لئے کہ حضرت علی تم کو کبھی بھی ہدایت Ú©Û’ راستے سے دور نہیں کرینگے کیونکہ علی غلط راستہ پر نہیں ہیں۔۳۴#

افسوس تو اس بات کا ہے مسلمانوں کی اکثریت Ù†Û’ رسول کا Ø­Ú©Ù… نہیں مانا۔ حضرت علی کو Ú†Ú¾ÙˆÚ’ کر دوسروں Ú©Û’ راستہ پر Ú†Ù„Û’ اور دنیا میں اسلام کی بدنامی کا سبب قرار پائے البتہ تاریخ Ú©Û’ ہر دور میں ایسے خوش قسمت افراد رہے ہیں جو حضرت علی اور ان کی اولاد علیہم السلام Ú©Û’ دامن سے وابستہ رہے اور ان Ú©Û’ راستہ پر چلتے رہے۔

علی کی محبت

اطاعت اور پیروی Ú©Û’ لئے محبت ضروری ہے۔ محبت Ú©Û’ بغیر حقیقی اطاعت ممکن نہیں ہے۔ محبت اطاعت کی سختیوں کو آسان کر دیتی ہے۔ حضرت علیایسے امام و رہنما ہیں جو ہمیشہ سے صاحبان ایمان Ú©Û’ دل میں سب سے زیادہ محبوب رہے ہیں۔ حضرت علی کی محبت میں روایتیں اس قدر زیادہ ہیں اس Ú©Û’ لئے کئی ضخیم کتابیں درکار ہیں۔ اہل سنت Ú©Û’ حوالے سے چند معتبر اور مستند روایتیں نقل کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

۱۔         حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

عُنْوَانُ صَحِیْفَةِ الْمُؤْمِنِ حُبُْ عَلِیِْ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ

مومن Ú©Û’ نامہ اعمال کا عنوان علی بن ابی طالب کی محبت ہے۔ جو شخص میری طرح خدا پسندانہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے اور میری طرح موت کو Ú¯Ù„Û’ لگانا چاہتا ہے اور اس جنت میں جانا چاہتا ہے جس Ú©Û’ درخت میرے پروردگار Ù†Û’ لگائے ہیں اس کو علی کو دوست رکھنا چاہئے اور علی Ú©Û’ دوستوں کو بھی دوست رکھنا چاہئے۔ میرے بعد (یعنی میرے ااور علی Ú©Û’ بعد) ان اماموں کی پیروی کرو جو علی Ú©Û’ فرزند ہیں کیونکہ وہ میری عترت اور ذریت ہیں وہ میرے فرزند ہیں میری طینت سے پیدا کئے گئے ہیں خدا Ù†Û’ ان کو رزق اور علم عطا کیا ہے۔ جو ان کی فضیلت و برتری کا انکار کرے اس Ú©Û’ لئے جہنم ہے۔ اس طرف Ú©Û’ لوگوں سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے اور قیامت میں خدا ان کو میری شفاعت سے محروم رکھے گا۔۳۵#

۲۔         جناب جابر بن عبد اللہ انصاری Ù†Û’ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی یہ روایت نقل کی ہے

جبرئیل امین خدا وند عالم کی طرف سے سبز رنگ Ú©Û’ کاغذ پر سفید رنگ سے تحریر یہ عبارت Ù„Û’ کر آئے:

اَنِْيْ اَفْتَرَضْتُ مُحَبَْةَ عَلِيِْ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ عَلٰي خَلْقِيْ عَامَْةً، فَبَلِْغْہُمْ ذٰلِکَ عَنِْيْ

میں Ù†Û’ اپنی تمام مخلوقات پر علی کی محبت لازم اور ضروری قرار دی ہے میری طرف سے سب کو یہ پیغام پہونچا دو۔۳۶# Û³Û·#

۳۔         ابو برزہ کی روایت ہے: ہم لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

قیامت میں کوئی شخص اس وقت تک ایک قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک ان چار باتوں کا جواب نہ دے:

Û±Û” اپنی عمر کہاں گذاری، Û²Û” اپنا بدن کہاں بوڒھا کیا، Û³Û” اپنا مال کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا، Û´Û” اور ہم اہل بیت کی محبت Ú©Û’ بارے میں دریافت کیا جائیگا۔

اس وقت عمر Ù†Û’ کہا: آپ Ú©Û’ بعد آپ کی محبت کی علامت و نشانی کیا ہے؟

اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ اپنا دست مبارت حضرت علی Ú©Û’ سر اقدس پر رکھا اور ان کو اپنی جانب جھکایا۔ (اپنے سے اور نزدیک کیا Ú¯Ù„Û’ سے لگایا) اور فرمایا:

اِنَْ حُبِْی مِنْ بَعْدِيْ حُبُْ ہٰذَا

میرے بعد میری محبت کی علامت ان سے محبت کرنا ہے۔۳۸#

۴۔         مناقب Ù†Û’ اپنی سند سے حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے یہ روایت نقل کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اے علی اگر کوئی شخص خداوند عالم کی اتنی عبادت کرے جتنے دن جناب نوح Ù†Û’ اپنی قوم میں تبلیغ کی (جناب نوح Ù†Û’ Û¹ÛµÛ° سال طوفان سے پہلے اپنی قوم میں تبلیغ کی) اور کوہ احد Ú©Û’ برابر سونا خدا کی راہ میں خرچ کرے اور اس کی عمر اس قدر طولانی ہو کہ ایک ہزار پیدل حج کرے پھر صفا اور مروہ Ú©Û’ درمیان مظلومیت کی حالت میں قتل کیا جائے لیکن اپنے دل میں تمہاری محبت و ولایت نہ رکھتا ہو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا ہے۔ اور ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔۳۹#

کیا اس طرح کی بے شمار روایتوں Ú©Û’ بعد بھی کوئی حضرت علی بن ابی طالب سے دشمنی کر سکتا ہے اور اپنا دل ان کی محبت سے خالی کر سکتا ہے۔ ہاں صرف وہ لوگ علی کی دشمنی رکھ سکتے ہیں جن Ú©Û’ بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

فَاِنَْہ لاَ یُبْغِضُکَ مِنَ الْعَرَبِ اِلاَْ دَعٰي وَ لاَ مِنَ الْاَنْصَارِ اِلاَْ یَہُوْدِیٌْ وَ لاَ مِنْ سَائِرِ النَْاسِ اِلاَْ شَقِیٌْ

اے علی تم سے عرب میں صرف وہ عداوت رکھے گا جو حلال زاہ نہ ہوگا۔ اور انصار میں صرف وہ دشمنی رکھے گا جو یہودی ہوگا۔ اور بقیہ لوگوں میں صرف وہ عداوت رکھے گا جو بدبخت اور شقی ہوگا۔