کی پر افتخار زندگی پر ایک نظر

تحریر: سید محمد حسین یثربی

مقدمہ

ہر مکتب فکر اپنی نظریات کی نشر و اشاعت Ú©Û’ لئے مختلف وسائل استعمال کرتا ہے۔ ان میں سب سے بہتر اور موثر وسیلہ انسانی طاقت ہے۔ وہ لوگ جو اپنا پیغام ہر ایک تک پہونچانا چاہتے ہیں۔ آسمانی مذاہب بھی اپنا پیغام زندگی ہر ایک تک پہونچانا چاہتے ہیں۔

دین مقدس اسلام انسانیت کا ابدی منشور ہے۔ اس مقدس دین میں ایسے افراد نظر آتے ہیں جنہوں Ù†Û’ اس دین کی نشر و اشاعت میں معمولی یا بہت ہی زیادہ حصہ لیا ہے۔ ان لوگوں Ù†Û’ اپنی تاب و توانائی Ú©Û’ اعتبار سے اس خورشید الٰہی کی شعاعوں کو دوسروں تک پہونچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ وہ اپنی قربانیوں اور محنتوں Ú©Û’ لحاظ سے مسلمانوں پر بہت زیادہ حق رکھتے ہیں اور اسلام میں ان کی بڒی قدر و منزلت ہے۔

ان میں وہ ذات جس Ù†Û’ اپنی زندگی کا سارا سرمایہ جو کچھ بھی اس Ú©Û’ پاس تھا سب کا سب اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ وہ ام المومنین حضرت خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی ذات اقدس ہے۔ اس مختصر مضمون میں حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی پر افتخار زندگی پر ایک نظر کرتے ہیں۔ اور خدا کی بارگاہ میں اس مقدس خاتون Ú©Û’ توسط سے ان Ú©Û’ فرزند Ú©Û’ ظہور کی دعا کرتے ہیں۔

خاندان

جناب خدیجہ بنت خویلد حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مادرگرامی کا خاندان بڒا شریف اور اصیل خاندان ہے۔ قریش کا بڒا نامی گرامی خاندان۔ یہ خاندان اپنے علم و معرفت کی بنا پر مشہور ہے۔

(الروض الأنف، ج ۱، ص ۲۱۳)

اسدبن عبد العزی ان Ú©Û’ مورث اعلیٰ ہیں۔ ‘حلف الفضول’ Ú©Û’ شرکاء میں ہیں۔ اور ‘حلف الفضول’ Ú©Û’ ایک شریک خود حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ ہیں۔

(سیرہ ابن ہشام، ج ۱، ص Û±Û´Û±)

جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کو اپنے والد سے میراث میں بہت بڒا سرمایہ ملا تھا۔ آپ اس سرمایہ سے تجارت کرتی تھیں اور اس تجارت میں لوگوں سے مدد لیتی تھیں۔ آپ کا مال تجارت Û¸Û° ہزار اونٹوں سے زیادہ تھا یہ مال تجارت حبشہ، مصر اور دوسرے مناطق میں پھیلا ہوا تھا۔

(بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۲۲)

اس قدر عظیم تجارتی مجموعہ کو چلانا جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی عظیم تدبیری صلاحیتوں کا پتہ دیتا ہے۔ اس تجارت Ú©Û’ لئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ (جن کو لوگ “محمد ِامین” Ú©Û’ نام سے یاد کرتے تھے) کا انتخاب آپ کی نہایت دور رس مدبرانہ صلاحیتوں کا ترجمان ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم Ù†Û’ Û²Ûµ سال کی عمر میں تجارت Ú©Û’ لئے شام کا سفر کیا۔

(ام المومنین خدیجة الطاہرة، ص Û±Ûµ)

یہیں سے آپ کا دل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معرفت سے منور ہوا۔

شادی

تجارتی سفر Ù†Û’ حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ú©Û’ دل کو آنحضرت کی معرفت سے اور زیادہ منور کر دیا۔ آپ مکہ کی سب سے زیادہ دولت مند خاتون تھیں۔ بڒے بڒے سرمایہ دار آپ سے شادی کی تمنا رکھتے تھے۔ لیکن آپ Ù†Û’ کسی ایک پر توجہ نہ دی آپ Ù†Û’ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ کو اپنا شریک حیات منتخب کیا اور ان کو اپنا سرتاج قرار دیا۔ گرچہ ہم عصر خواتین Ù†Û’ اس کا خوب مذاق اڒایا۔ ایک یتیم Ú©Û’ ساتھ دولت مند ترین خاتون Ù†Û’ شادی کر لی۔

ایک یتیم اور دنیاوی دولت سے خالی ہاتھ شخص کو اپنی زندگی Ú©Û’ لئے منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی نظر آپ Ú©Û’ دنیاوی سرمایہ پر نہ تھی بلکہ اس معنوی، روحانی اور اخلاقی سرمایہ پر تھی جس میں کائنات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ سے زیادہ کوئی اور مالدار نہ تھا۔ شادی Ú©Û’ مراسم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ مربی سرپرست اور چچا حضرت ابو طالب کی سرپرستی میں ہوئی۔ آپ Ù†Û’ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی جانب سے صیغہ عقد جاری کیا جبکہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی جانب سے ان Ú©Û’ ابن عم جناب ورقہ بن نوفل Ù†Û’ صیغہ جاری کیا۔ جناب ورقہ ان Ú©Û’ زمانہ Ú©Û’ دانشوروں میں شمار کئے جاتے تھے اور بتوں کی عبادت سے دور رہتے تھے۔ اس طرح دو موحدین Ù†Û’ اس شادی کی بنیاد رکھی جس Ù†Û’ دنیا کو اسلام جیسا توحیدی مذہب عطا فرمایا۔

(بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۶۵)

جب شادی Ú©Û’ مراسم مکمل ہو گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی آپ اٹھے ہی تھے کہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ù†Û’ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

ِالٰي بَیْتِکَ فَبَیْتِيْ بَیْتُکَ وَ اَنَا جَارَیْتُکَ

حضرت اب اپنے گھر کی طرف تشریف Ù„Û’ چلیں میرا گھر آپ کا گھر ہے اور میں آپ کی کنیز ہوں۔

(سفینة البحار، ج ۱۶، ص ۲۷۹)

جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا خلوص سے بھرا یہ جملہ ان کی معرفت کامل اور ان Ú©Û’ نفس کی بلندی کی ترجمانی کرتا ہے۔ اپنا سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی نظر دنیاوی مال و دولت پر نہیں ہے بلکہ ان کی کمالات پر ہے جن پر سب کچھ قربان کر دینا آسان ہے۔ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا ایک کامیاب تاجرہ تھیں۔ انہوں Ù†Û’ دنیا کی فانی دولت دے کر آخرت کی ابدی سرداری خرید لی۔

محققین کا نظریہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ سے جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی پہلی شادی تھی۔

اس شادی Ú©Û’ Û±Ûµ/ سال بعد تاریخ انسانیت کا عظیم ترین واقعہ رونما ہوا۔ خدا کی تجلی اعظم سے دنیا مطلع انوار ہوئی۔ ایک سورج چمکا جس Ù†Û’ قیامت تک دنیا کو روشن کر دیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کا واقعہ ہے۔ یہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی معرفت تھی کہ انہوں Ù†Û’ سب سے پہلے آنحضرت Ú©Û’ پیغام پر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔

حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں:

وَ لَمْ یَجْمَعْ بَیْتَ وَاحِدٍ یَوْمَئِذٍ فِيْ الْاِسْلاَمِ غَیْرَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَْي اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہ وَ خَدِیْجَةَ وَ اَنَا ثَالِثُہُمَا۔

اس زمانہ میں دین اسلام صرف ایک گھر میں تھا جس میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ، جناب خدیجہ اور میں تیسرا ہوتا تھا۔

(نہج البلاغہ، خطبہ قاصعہ)

اس Ú©Û’ علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ اس زمانہ میں بس یہی تین افراد مسلمان تھے۔

جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ù†Û’ اپنا سارا سرمایہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ اور عرض کیا:

جَمِیْعَ مَا اَمْلَکْ بَیْنَ یَدَیْکَ وَ فِيْ حُکْمِکَ، اِصْرِفْ کَیْفَ تَشَآءَ فِيْ سَبِیْلِ اَعْلاَءِ کَلِمَةِ اللهِ وَ نَشْرِ دِیْنِہ۔

جو کچھ میرے پاس ہے سب آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ کلمة اللہ کی سربلندی اور اس Ú©Û’ دین کی نشرو اشاعت میں جس طرح چاہیں استعمال کریں۔

(ام المومنین خدیجة الطاہرة، ص Û³Û²)

یہ قول و عمل کی ہماہنگی خدا کی راہ میں خود کو اور اپنے سارے سرمایہ کو پیش کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا اور اس کا دین آپ کی نظروں میں کس قدر اہم تھا یہ مخلصانہ قربانیوں کا صلہ ہے کہ خدا Ù†Û’ جبرئیل Ú©Û’ ذریعہ آپ کو سلام بھیجا ہے۔ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی خدمتوں کو مختصراً اس طرح بیان کیا جا سکتاہے۔

Û±Û” مالی حمایت

جیسا کہ بیان کیا جا چکا آپ Ù†Û’ اپنا پورا سرمایہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں اس طرح پیش کر دیا گویا در اصل یہ انہیں کا سرمایہ ہے۔ اوراس Ú©Û’ مقاصد میں آپنے ذرا بھی کسی طرح کی کوئی توقع نہیں رکھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ فیصلہ میں کبھی بھی ذرہ برابر مداخلت نہیں کی بلکہ ہر ہر قدم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی تائید کرتی رہیں۔ تاریخ کوئی ایک واقعہ بیان نہیں کر سکتی ہے جب جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ù†Û’ اپنے مال کا تذکرہ کیا ہو یا کوئی احسان جتایا ہو۔

Û²Û” روحانی حمایت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ جب دین مقدس اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہونچایا تو ہر طرف سے مخالفت کی آندھیاں چلنے لگیں۔ مشرکین کی طرف سے روحانی (مجنون، ساحر،…) اور جسمانی (قطع تعلقات، اقتصادی بائیکاٹ، پتھر کانٹے…) کا لا متناہی سلسلہ تھا اس وقت حضرت خدیجةالکبریٰ سلام اللہ علیہا آپ کو سکون قلب فراہم کرتی تھیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ حوصلہ جوان رہتے تھے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کو کھر میں سکون فراہم نہ ہوتا اور خدا نخواستہ یہاں بھی مخالفتوں کا سامنا کرنا ہوتا تو تبلیغ کا کام کافی دشوار ہو جاتا۔ اس طرح جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی صرف جسمانی زندگی میں شریک نہ تھیں بلکہ آپ کی روحانی، معنوی اور اخلاقی زندگی میں بھی شریک تھیں اور تبلیغ رسالت میں شانہ بشانہ تھیں۔

Û³Û” مشورتی حمایت

مختلف واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے۔ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ مشوروں میں شریک رہتی تھیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ فکر اور عقیدہ کی کس قدر بلند منزل پر فائز تھیں:

کَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَْي اللهُ عَلَیْہِ وَ آلِہ وَ سَلَْمَ یَسْکُنُ اِلَیْہَا وَ یُشَاوِرُہَا فِيْ الْمُہِمِْ مِنْ اُمُوْرِہ۔

جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سکون ملتا تھا اور اپنے اہم امور میں آپ ان سے مشورہ کرتے تھے۔

(بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۱۰)

کوئی شخص اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام کی تبلیغ میں جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی دولت Ù†Û’ نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالکی فقہ Ú©Û’ مشہور عالم جناب محمد بن علوی Ù†Û’ یہ جملہ کہا ہے:

مَا قَامَ الْاِسْلاَمُ اِلاَْ بِسَیْفِ عَلِیٍْ وَ اَمْوَالِ خَدِیْجَةَ

اسلام تو بس علی کی تلوار (شجاعت) اور خدیجہ Ú©Û’ مال سے پھیلا ہے۔

(مناقب خدیجة الکبری، مقدمہ، ص Û³)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

مَا نَفَعَنِيْ مَالُ قَطٌْ مِثْلُ مَا نَفَعَنِيْ مَالُ خَدِیْجَةِ

مجھے کسی مل سے اتنا زیادہ فائدہ نہیں ہوا جتنا خدیجہ Ú©Û’ مال سے ہوا۔

(امالی شیخ طوسی، ص Û´Û¶Û¸)

نہایت اہم بات یہ ہے کہ عظیم ترین دولت رہنے Ú©Û’ بعد بھی زرہ برابر احسان نہیں جتایا۔

تحفہ خداوندی

خداوند عالم Ù†Û’ دنیا میں جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کو عظیم ترین تحفہ عطا فرمایا اور وہ عظیم تحفہ حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت ہے۔ خدا Ù†Û’ اس کا خاص اہتمام کیا۔ اس تحفہ کو عطا کرنے Ú©Û’ لئے خداوند عالم Ù†Û’ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو معراج پر بلایا اور جنت Ú©Û’ سب سے خوشبودار پھل کی صورت میں عنایت فرمایا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ یہ امانت الٰہی صدف عصمت خدیجہ سلام اللہ علیہا Ú©Û’ حوالہ کر دی اور خدا Ù†Û’ اس کا اہتمام اس طرح فرمایا۔

جب ولادت کا وقت قریب آیا آپ Ù†Û’ قریش کی عورتوں کو مدد Ú©Û’ لئے بلایا انہوں Ù†Û’ یہ کہہ کر آنے سے انکار کر دیا آپنے شادی Ú©Û’ سلسلے میں ہماری بات نہیں مانی اور ایک یتیم سے شادی کر لی لہٰذا اس وقت ہم آپ کی مدد کو نہیں Ø¢ سکتے۔ اس وقت چار عورتیں جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ú©Û’ کمرہ میں داخل ہوئیں اور انہوں Ù†Û’ اس طرح اپنا تعارف کرایا۔

میں سارہ ہوں حضرت ابراہیم کی زوجہ۔

میں آسیہ ہوں فرعون کی زوجہ۔

میں مریم ہوں جناب عیسیٰ کی والدہ اور

میں کلثوم ہوں جناب موسیٰ کی بہن۔

خداوند عالم Ù†Û’ ہمیں آپ کی مدد Ú©Û’ لئے بھیجا ہے اور ہم آپ Ú©Û’ لئے ایک بیٹی کی بشارت Ù„Û’ کر آئیں ہیں خداوند عالم Ù†Û’ اس کی نسل میں اور اس Ú©Û’ فرزندوں میں بڒی برکت قرار دی ہے۔

(امالی صدوق، ص Û´Û·Û°)

اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ خداوند عالم Ú©Û’ نزدیک جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی کیا قدر و منزلت ہے۔ جب دنیا کی گناہگار عورتوں Ù†Û’ مدد کرنے سے انکار کر دیا توخداوند عالم Ù†Û’ جنت سے پاک و پاکیزہ عورتوں کو مدد Ú©Û’ لئے بھیجا اور اس حقیقت کا عملی مظاہرہ ہو گیا:

اِنْ تَنْصُرُوْا اللهَ یَنْصُرْکُمْ۔

اگر تم اللہ کی مدد کروگے خدا تمہاری مدد کرے گا۔

(سورہ محمد، آیت Û·)

حسد

عظیم شخصیتوں کو جہاں جسمانی اور روحانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڒتا ہے وہاں لوگوں Ú©Û’ حسد کا بھی شکار ہونا پڒتا ہے۔ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی ازواج میں جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کو نہایت نمایاں اور بلند مقام حاصل ہے۔جس کی بنا پر بعض ازواج ان سے حسد کرتی تھیں اور مختلف طریقے سے اس کا اظہار کیا کرتی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ مناسب انداز میں جواب دیا کرتے تھے۔ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی برتری بیان فرماتے تھے۔ لیکن وہ حسد کی Ø¢Ú¯ ہی کیا جو خاموش ہو جائے۔

عائشہ کا بیان ہے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ جب بھی گھر سے باہر تشریف Ù„Û’ جاتے تھے خدیجہ کو یاد کرتے تھے۔ ان کی تعریف کرتے تھے ان کی اچھائیوں کا ذکر فرماتے تھے۔

ایک دن مجھ سے رہا نہ گیا میں Ù†Û’ کہا: خدیجہ تو بس ایک بوڒھی عورت تھیں۔ خدا Ù†Û’ آپ کو ان سے بہتر عطا کی ہے۔ یہ سنتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ ناراض ہو گئے اور اس قدر ناراض ہوئے کہ Ø¢Ú¯Û’ Ú©Û’ بال Ú©Ú¾Ú’Û’ ہو گئے اور فرمانے Ù„Ú¯Û’:

خدا کی قسم ان سے بہتر خدا Ù†Û’ مجھے عطا نہیں کی ہے وہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگ کافر تھے۔ اس وقت انہوں Ù†Û’ میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے۔ اس وقت انہوں Ù†Û’ دولت دی جب لوگ محروم کر رہے تھے۔ خدا Ù†Û’ مجھے ان سے ایک اولاد عطا فرمائی ہے جب کہ دوسری عورتیں اس سے محروم ہیں۔

(اسد الغابة، ج ۵، ص ۴۳۶)

اس Ú©Û’ بعد عائشہ کا بیان ہے کہ میں Ù†Û’ Ø·Û’ کر لیا (بظاہر) کہ

وَاللهِ لاَ اَذْکُرُہَا بِسُوْءٍ اَبَدًا

خدا کی قسم اب اس Ú©Û’ بعد کبھی برائی سے ان کا تذکرہ نہیں کروں گی۔

(تذکرة الخواص، ص ۳۰۳)

عزت و احترام پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ

جب تک جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا زندہ تھیں انہوں Ù†Û’ ان Ú©Û’ احترام میں دوسری شادی نہیں کی ان Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ بعد بعض مصلحتوں کی بنا پر متعدد شادیاں کیں۔ جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا Ú©Û’ انتقال Ú©Û’ بعد بھی آپ ہمیشہ عزت و احترام سے ان کا ذکر کرتے تھے اوراس قدر احترام کرتے تھے کہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی خاطر ان کی سہیلیوں کا بھی احترام فرماتے تھے۔ آپ جب بھی قربانی کرتے تھے تو ان سہیلیوں کو گوشت بھجواتے تھے۔

اس روایت پر توجہ فرمائیں۔

رُوِیَ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَْبِيُْ (صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیْہِ) اِذَا اَتٰي بِہَدِیَْةٍ قَالَ: اِذْہَبُوْا اِلٰي بَیْتٍ فَلاَنَةٌ فَاِنَْہَا کَانَتْ صَدِیْقَةٌ لِخَدِیْجَةِ اِنَْہَا کَانَتْ تُحِبُْہَا۔

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ فرماتے تھے اس کو فلانہ Ú©Û’ گھر پہونچا دو کیونکہ وہ خدیجہ کی دوست ہے اور خدیجہ اس سے محبت فرماتی تھیں۔

(سفینة البحار، ج ۱، ص ۳۸۰)

یہ بات عرض کر Ú†Ú©Û’ ہیں کہ جناب خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا پر خداوند عالم کی خاص عنایت تھی۔ اس سلسلے میں چند واقعات اختصار سے پیش کرتے ہیں:

(Û±)        جبرئیل امین حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اس طرح عرض کرنے Ù„Ú¯Û’:

یَا مُحَمَْدُ ہٰذِہ خَدِیْجَةَ قَدْ اَتَتْکَ فَاقْرَاہَا مِنْ رَبِْہَا السَْلاُمُ وَ بَشَْرَہَا بِبَیْتٍ فِيْ الْجَنَْةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخْبٌ فِیْہِ وَ لاَ نَصَبٌ۔

اے محمد اس وقت خدیجہ آپ کی خدمت میں تشریف لا رہی ہیں آپ ان کو خدا کا سلام پہونچا دیجئے اور ان کو یہ بشارت دیجئے کہ خداوند عالم ان Ú©Û’ لئے جنت میں ایک گھر بنایا ہے جس میں کسی طرح کا رنج و غم نہیں ہے۔

(تذکرة الخواص، ص ۳۰۲)

(Û²)        حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ Ù†Û’ خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے فرمایا:

یَا خَدِیْجَةُ… اِنَْ اللهَ عَزَْوَجَلَْ لَیُبَاہِيْ بِکِ کِرَامَ الْمَلآَئِکَةِ کُلَْ یَوْمٍ مِرَارًا۔

اے خدیجہ …خداوند عالم آپ Ú©Û’ ذریعہ روزآنہ کئی مرتبہ بزرگ ملائکہ پر فخر و مباہات کرتا ہے۔

(بحار الانوار، ج ۱۶، ص ۷۸)

اس طرح کی متعدد روایتیں حضرت خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی عظمتوں کا پتہ دیتی ہیں۔

سر انجام

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی مسلسل تبلیغ سے مسلمانوں کی تعدادمیں اضافہ ہوتا رہا۔ اور ادہر مسلمانوں پر مشرکین کا ظلم و ستم بڒھتا رہا۔ اور بات یہاں تک پہونچی کہ مسلمانوں کا اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ ہوا اور مسلمان شعب ابو طالب میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ہر روز سختیوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ عام لوگوں سے روابط پر سخت پابندی تھی۔ یہ مسئلہ بعثت Ú©Û’ دسویں سال تک جاری رہا۔ اس زمانہ میں مسلمان جناب خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی دولت اور جناب ابو طالب کی حمایت سے استفادہ کرتے ہوئے زندگی گذارتے رہے۔ یہاں تک کہ سارا مال اس راہ میں خرچ ہو گیا۔

ابھی تک مسلمان شعب ابو طالب سے باہر نہیں Ù†Ú©Ù„Û’ تھے اسلام اور حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کو ‘عظیم مصیبتوں’ کا سامنا کرنا پڒا۔ ایک حضرت ابو طالب کی وفات اور دوسرے حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا انتقال۔ یہ مصیبت اس قدر بڒی تھی کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ اس سال کو “عام الحزن” ‘غم کا سال’ قرار دیا۔

آج چودہ صدیاں گذر گئی ہیں اس مدت میں اسلام کی خدمت کرنے والے بہترین افراد نظر آتے ہیں ایک سے بڒھ کر ایک فداکار جانثار،… مگر حضرت خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام نامی آج بھی اپنی بلندیوں پر Ú†Ù…Ú© رہا ہے اور ہر ایک کو حوصلہ دے رہا ہے۔ حضرت خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی قربانیاں کسی طرح بھی فراموش نہیں کی جا سکتی ہیں۔

وہابیوں Ù†Û’ مکہ میں جنت المعلیٰ میں آپ کا مزار جنت البقیع میں آپ Ú©Û’ معصوم فرزندوں Ú©Û’ مزار کی طرح منہدم کر دیا۔

مگر آپ کی یاد آج بھی ہر درد مند انسان خاص کر احسان شناس مسلمان Ú©Û’ دل میں موجود ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔

اس روز روشن کی امید میں جب آپ Ú©Û’ فرزند حجت حق حضرت حجة بن الحسن العسکری اپنے ظہور پر نور سے ان قبروں پر مزار تعمیر کرینگے۔