شیعہ و سنی دونوں کی فقہی و حدیثی کتابوں میں ماہ مبارک رمضان میں بے شمار مستحبی نمازوں کا ذکر ہوا ہے بعض نماز کی تعداد تو ہزار رکعت سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

نماز تراویح بھی ان نمازوں میں سے ہے جسے اہل سنت مستحب جانتے ہیں اور ماہ مبارک رمضان کی ہر شب میں تقریباً بیس (Û²Û°/) رکعت جماعت سے ادا کرتے ہیں۔

اس بات میں کوئی Ø´Ú© نہیں ہے کہ نماز بہترین عبادت ہے اور شریعت مقدس میں مستحبی نمازوں کی کوئی خاص حد معین نہیں ہوئی ہے… مگر سوال یہ ہے کہ واجب نمازوں یا جن نمازوں کو جماعت سے ادا کرنے کی شرع مقدس Ù†Û’ اجازت دی ہے ان Ú©Û’ علاوہ کیا مستحبی نمازوں مثلاً نافلہ کو جماعت سے ادا کر سکتے ہیں؟!

اس سلسلہ میں شیعہ و سنی Ú©Û’ درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ اختلاف نماز تراویح میں بھی موجود ہے۔

کلمہٴ تراویح

تراویح “ترویحہ” کا جمع ہے جسکا اصل معنی بیٹھنے Ú©Û’ ہوتا ہے بعد میں اسے رمضان کی چار رکعت مستحبی نماز Ú©Û’ بعد استراحت اور آرام کی غرض سے بیٹھنے پر حمل کرنے Ù„Ú¯Û’Û” اس Ú©Û’ بعد ہر چاررکعت مستحبی نماز کو (ہی) تراویح کہنے Ù„Ú¯Û’ØŒ البتہ مجموعی طور سے مستحبی نماز کو بھی جو بیس رکعت ہے تراویح کہتے ہیں۔۱#

کحلانی لکھتے ہیں: اس نماز کی تراویح کی وجہ تسمیہ شاید وہ روایت ہے جسے بیہقی Ù†Û’ عایشہ سے نقل کیا ہے۔

عایشہ کہتی ہیں: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ (و آلہ) و سلم ہر چار رکعت Ú©Û’ بعد استراحت فرماتے تھے۔ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جاتی ہے تو نماز تراویح میں امام کا بیٹھنا اصل مستند Ú©Û’ عنوان سے مانی جائے گی۔۲#

مگر روایت میں وہی اشکال وارد ہوتا ہے جس کی طرف خود بیہقی Ù†Û’ اشارہ کیا ہے کہ حدیث کا راوی صرف مغیرہ بن دیاب ہے جو قابل اعتماد نہیں ہے۔۳#

شیعہ و سنی حدیثوں میں ماہ رمضان کی نمازیں

حدیثوں، روایتوں اور سنتوں کی کتابوں میں ماہ رمضان کی نافلوں Ú©Û’ سلسلہ میں پیغمبر اکرمﷺ اور ائمہ (معصومین٪)سے بہت سی روایتیں ان نمازوں Ú©Û’ جواز یعنی مشروعیت، تعداد رکعات، اور ان Ú©Û’ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ طریقہ Ú©Û’ بارے میں وارد ہوئی ہیں اور مجموعی طور سے ان سے نمازوں Ú©Û’ جواز پر اجماع اور اتفاق آراء کا استفادہ ہوتا ہے۔

اختلاف اس بات میں ہے کہ کیا ان مستحب اور نافلہ نمازوں کو جماعت سے ادا کر سکتے ہیں یا فرادیٰ پڒھنا چاہئے؟ اس موضوع Ú©Û’ سلسلہ میں تفصیل سے گفتگو و تحقیق ہوگی۔

اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل سنت کی کتابوں میں سے ان چیزوں کو نقل کروں گا جنہیں بخاری Ù†Û’ ذکر کیا ہے اور شیعہ کتابوں سے ان روایتوں کو ذکر کروں گا جنہیں شیخ طوسی Ù†Û’ اپنی کتاب “تہذیب” میں نقل کیا ہے۔ البتہ حوالہ جات میں روایت Ú©Û’ دیگر مصادر کی طرف اشارہ کروں گا جنمیں موضوع سے متعلق حدیثیں پائی جاتی ہیں۔

(الف) اہل سنت کی روایتیں:

(Û±)          یحییٰ بن بکیر Ù†Û’ عقیل اور ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ ام سلمہ Ù†Û’ مجھے ابو ہریرہ Ú©Û’ حوالہ سے خبر دیا کہ آنحضرت (ï·º) Ù†Û’ ماہ رمضان Ú©Û’ بارے میں فرمایا ہے:

جو شخص ایمان و اخلاص Ú©Û’ ساتھ نماز Ú©Û’ لئے کھڒا ہوگا، خداوند عالم اس Ú©Û’ گذشتہ گناہوں کو معاف کر دیگا۔۴#

(Û²)          دوسرے طریقہ سے بھی ابو ہریرہ سے نقل ہے کہ پیغمبر اکرم ï·º Ù†Û’ فرمایا:

جو ایمان و اخلاص Ú©Û’ ساتھ رمضان میں نماز قائم کریگا خداوند عالم اس Ú©Û’ گذشتہ گناہوں کو بخش دیگا۔

ابن شہاب کہتے ہیں: پیغمبر اسلام (ï·º) کی آنکھیں بند ہو گئیں اور ابو بکر Ú©Û’ زمانہ تک اور عمر کی خلافت Ú©Û’ ابتدائی دور تک امور اسی طریقہ سے Ø·Û’ ہوتے رہے۔۵#

شوکانی کہتے ہیں: نووی سے نقل ہے رمضان میں نمازوں کا قیام نماز تراویح سے متحقق تو ہوتا ہے مگر نمازوں کا قیام صرف تراویح میں منحصر نہیں ہے۔ اور کرمانی Ú©Û’ کلام کو حقیقت و واقعیت سے دور مانا ہے جنہوں Ù†Û’ کہا ہے کہ رمضان میں نمازوں کا قیام صرف تراویح سے ہو سکتا ہے۔۶#

(Û³)          بخاری Ú©Û’ مطابق عائشہ سے روایت ہے کہ “بیشک رسول اللہ (ï·º) نماز قائم کرتے تھے اور وہ رمضان میں… Û·#

(Û´)          یحییٰ بن بکیر Ù†Û’ عقیل سے انہوں Ù†Û’ ابن شہاب سے انہوں Ù†Û’ عروہ سے روایت کیا ہے کہ عائشہ Ù†Û’ مجھے بتایا کہ رسول اللہ (ï·º) نیمہٴ شب میں مسجد تشریف Ù„Û’ گئے اور کچھ لوگوں Ù†Û’ آنحضرت Ú©Û’ ساتھ نماز ادا کی۔ یہ خبر لوگوں Ú©Û’ درمیان منتشر ہو گئی۔ جس کی وجہ سے جم غفیر ہو گیا اور سب Ù†Û’ آنحضرت Ú©Û’ ساتھ نماز ادا کی۔ جب صبح ہوئی تو رات کی نماز کا لوگوں Ú©Û’ درمیان چرچا ہونے لگا۔ اور ایک سے دوسرے تک خبر عام ہو گئی۔ شبٍ سوم بھی لوگوں Ù†Û’ آنحضرت Ú©Û’ ساتھ نماز ادا کی۔ مگر جب چوتھی شب آئی تو مسجد میں جماعت Ú©Û’ لئے جگہ نہ بچی یہاں تک نماز صبح کی ادائیگی Ú©Û’ لئے لوگ مسجد میں جمع ہو گئے۔ آنحضرت Ù†Û’ نماز صبح Ú©Û’ بعد شہادتین Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ بعد فرمایا: مجھے جگہ کی تنگی کا خوف نہیں ہے لیکن میں ڈر رہا ہوں کہ یہ نماز تم پر واجب ہو جائے۔ اور اس کو بجا لانے سے تم قاصر ہو جاؤ۔ پیغمبر (ï·º)Ù†Û’ وفات پائی اور یہ امر اسی طرح چلتا رہا۔۸#

شوکانی کہتے ہیں:نووی Ù†Û’ کہا ہے۔ اس روایت سے تو یہی استفادہ ہوتا ہے کہ نافلہ کو جماعت سے ادا کر سکتے ہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ نافلہ کو فرادیٰ پڒھنا چاہئے۔ سوائے مخصوص نافلوں Ú©Û’ جیسے عید کی نماز، گہن کی نماز، نماز استسقاء اور تراویح اکثر فقہا Ú©Û’ نظریہ Ú©Û’ مطابق۔۹#

یہ نظریہ چند وجہوں سے باطل ہے:

الف:         مذکورہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ آنحضرت Ù†Û’ جو نماز ادا کی تھی وہ نماز تراویح تھی اور نہ ہی روایت میں اس بات کی صراحت ہے کہ وہ نماز رمضان میں قائم کی گئی تھی۔ لہٰذا تراویح Ú©Û’ جواز پر کسی بھی صورت میں وہ دلیل نہیں ہو سکتی ہے۔

ب:           اہل سنت Ú©Û’ فقہاء اس روایت سے نافلہ کی جماعت Ú©Û’ جواز میں تامْل کرتے ہیں اس لئے مخصوص موارد جیسے عید اور استسقاء Ú©Û’ علاوہ فرادیٰ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کو ترجیح دیا ہے۔ جیسا کہ عنقریب شوکانی کی عبارت ذکر ہوگی۔

ج:            روایت کی سند قابل بحث ہے اس لئے کہ یحییٰ بن بکیر جو یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر ہے بعض علماء Ù†Û’ اسے ضعیف قرار دیا ہے جیسے نسائی کہتے ہیں: “وہ ضعیف ہÛ'” اور دوسری جگہ لکھتے ہیں “وہ ثقہ نہیں ہÛ'”Û”

ابن حاتم کہتے ہیں:اس کی حدیث کتابوں میں پائی جاتی ہے مگر اس سے استدلال نہیں کر سکتے ہیں۔۱۰#

ہ:             اسماعیل کہتے ہیں: عایشہ سے پوچھا گیا آنحضرت (ï·º)کی نماز ماہ رمضان میں کس طرح ہوتی تھی؟ جواب دیا: صرف ماہ رمضان میں گیارہ رکعت کا اضافہ فرماتے تھے۔ چار رکعت جس حسن و خوبی اور طویل انداز میں پڒھتے تھے اس Ú©Û’ بارے میں دریافت نہ کرو، اس Ú©Û’ بعد چار رکعت اس حسن و خوبی اور طویل صورت میں پڒھتے تھے کہ نہ پوچھو اس Ú©Û’ بعد تین رکعت اور پڒھتے تھے، میں Ù†Û’ دریافت کیا: یا رسول اللہ (ï·º) کیا نماز وتر سے پہلے سوتے ہیں؟ فرمایا: اے عایشہ!میری آنکھیں تو سوتی ہیں مگر دل بیدار رہتا ہے۔۱۱#

خَشِیْتُ اَنْ تَفْرَضَ (میں ڈرتا ہوں کہ کہیں واجب نہ ہو جائے) کی تفسیر

گذشتہ روایت میں ایک قابل ذکر نکتہ پایا جاتاہے وہ یہ کہ (میں ڈرتا ہوں کہ واجب ہو جائے) کیسے ممکن ہے کہ کسی مستحب عمل کی پابندی واجب کا سبب بن جائے؟! اور علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ Ú©Û’ بقول کسی نیک عمل کی پابندی اور مستحب فعل Ú©Û’ لئے جمع ہونا اس Ú©Û’ واجب ہونے کا ہرگز سبب نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لئے کہ خداوند عالم افعال Ú©Û’ مصالح و مفاسد سے غافل نہیں ہے کہ اسے تو پتہ نہ Ú†Ù„Û’ اور لوگوں کا اجماع اسے کشف کر Ù„Û’! اگر پیغمبر اکرم (ï·º) لوگوں Ú©Û’ عمل سے شب میں نماز نافلہ Ú©Û’ واجب ہوجانے سے خوف زدہ تھے تو پھر کیوں Ø­Ú©Ù… دیا کہ اپنے اپنے گھروں میں پڒھا کریں؟آخر اسے واجب ہو جانے Ú©Û’ خوف سے منع کیوں نہیں کیا؟!گذشتہ روایت میں مذکورہ علت سے مناسب جملہ یہ ہو سکتا تھا کہ “میں ڈرتا ہوں کہ نافلہ نماز کی جماعت تم پر واجب ہو جائے۔ نہ کہ نافلہٴ شب واجب ہو جائے۔ جیسا کہ اہل سنت کی بعض روایتوں میں آیا ہے۔ جب کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بعض نوافل جیسے نماز عید، گہن، استسقاء، نماز میت کی جماعت مستحب ہے۔ یعنی جماعت سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ اس بناء پر اگر مذکورہ روایت صحیح ہو تو اسے اس بات پر حمل کر سکتے ہیں کہ جس چیز کا خداوند عالم Ù†Û’ Ø­Ú©Ù… نہیں دیا ہے۔ اس میں زحمت و تکلیف کو شامل نہیں کرنا چاہئے۔ مثلاً نماز شب کو واجب نہیں شمار کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ دین میں بدعت شمار ہوگی۔ تو اس سے واضح ہو گیا کہ مذکورہ روایت اس بات پر واضح طور سے دلالت کرتی ہے کہ اہل سنت کا عمل (نافلہ کو جماعت سے پڒھنا) نا پسندیدہ عمل ہے بلکہ موجب عقاب بھی ہو سکتا ہے اور جب ایسا ہے اور وحی کا سلسلہ بھی منقطع ہو چکا ہے تو اگر کوئی اپنی طرف سے واجب کر Ù„Û’ تو یہ ارتکاب جائز نہیں ہو سکتا ہے۔۱۲#

(ب) شیعی روایتیں

۱۔            شیخ طوسی Ù†Û’ اپنے سلسلہٴ اسناد Ú©Û’ ساتھ مسعدہ بن صدقہ سے امام صادق کی روایت کو اس طرح نقل کیا ہے: آنحضرت (ï·º) کی روش ماہ مبارک رمضان میں یہ تھی کہ اول ماہ سے بیس تاریخ تک نافلہ نمازوں میں اضافہ کرتے ہوئے بیس رکعت مزید بجا لاتے تھے۔ جن میں آٹھ رکعت مغرب Ú©Û’ بعد اور بارہ رکعت عشاء Ú©Û’ بعد پڒھتے تھے۔ اور آخری دس راتوں میں تیس رکعت بجا لاتے تھے۔ جن میں سے بارہ رکعت مغرب Ú©Û’ بعد اور اٹھارہ رکعت عشاء Ú©Û’ بعد پڒھتے تھے۔ اس Ú©Û’ علاوہ دعا و تہجد کا شایان شان اہتمام فرماتے تھے۔ اور Û²Û± ویں ، Û²Û³ ویں شب میں سو (Û±Û°Û°) سو (Û±Û°Û°) رکعت انجام دیتے تھے۔ اور شب بیداری میں مشغول رہتے تھے۔۱۳#

۲۔            نیز شیخ طوسی Ù†Û’ امام صادق کی روایت کو مفضل سے اس طرح نقل فرمایا ہے:

یُصَلِْیْ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ زِیَادَةَ اَلْفِ رَکْعَةٍ

ماہ رمضان میں ایک ہزا رکعت سے زیادہ نماز Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جاتی ہے۔۱۴#

مفضل کہتے ہیں: اتنی نمازوں Ú©Û’ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ پر کون قدرت و طاقت رکھتا ہے؟

امام فرماتے ہیں:

اے مفضل ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کر رہے ہو کیا ماہ رمضان میں ایک ہزار رکعت سے زیادہ نماز نہیں Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جا سکتی ہے؟ کیا یہ طریقہ ممکن نہیں ہے کہ ہر شب میں بیس رکعت، شب Û±Û¹/ویں میں سو (Û±Û°Û°)رکعت اور شب Û²Û±/ ویں میں سو (Û±Û°Û°) رکعت اور شب Û²Û³/ ویں میں سو (Û±Û°Û°) رکعت اور آخر کی آٹھ راتوں میں تیس رکعت جو نو سو بیس (Û¹Û²Û°) رکعت ہو جاتی ہے…Û±Ûµ#

اس Ú©Û’ علاوہ دوسری روایتیں بھی ائمہ معصومین٪ سے وارد ہوئی ہیں جو سبھی اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ ماہ مبارک رمضان میں بیس تاریخ تک ہر شب میں بیس رکعت نماز Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جائے اور آخر کی دس راتوں میں تیس رکعت جیسا کہ تفصیل سے بیان کر Ú†Ú©Û’ ہیں۔

ماہ رمضان کی نافلہ Ú©Û’ بارے میں فقہاء کی رائے

اگر کوئی ہمارے فقہاء کی کتابوں کا مطالعہ کریگا تو اسے علم ہو جائیگا کہ ماہ رمضان کی نافلہ نمازوں Ú©Û’ عنوان سے پورا پوراباب پایا جاتا ہے جس میں نماز کی مشروعیت یعنی جواز اور دلیلوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ وہ اس حقیقت تک پہونچ جائیگا کہ نمازوں Ú©Û’ جواز پر جس طرح اہل سنت حضرات اتفاق نظر رکھتے ہیں اسی طرح ما رمضان کی نافلہ نمازوں Ú©Û’ جواز پر شیعہ فقہاء کا بھی اجماع ہے اور غیر قابل انکار امور میں سے تسلیم کیا ہے۔ اب اگر کوئی اس سے ہٹکر شیعوں کی طرف نسبت دیتا ہے تو وہ یقینا شیعہ عقائد اور اصول سے بالکل بے بہرہ ہے اور ان کی کتابوں سے اور ان Ú©Û’ دلائل و نظریات سے آشنائی نہیں رکھتا ہے۔۱۶#

اس مقام پر علامہ عاملی کا کلام قابل نقل معلوم ہوتا ہے: علامہ عاملی فرماتے ہیں: ہمارے فقہاء امامیہ Ú©Û’ نزدیک ماہ رمضان کی نافلہ کا استحباب مشہور ہے۔ جیسا کہ کتاب “مختلف”، “مقتصر”، “غایة المرام”، “الروض”، “مجمع البرہان”، “کفایة”، “مفاتیح” وغیرہ میں ذکر ہوا ہے۔ بلکہ اس مسئلہ میں اجماع بھی کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ فوائد الشرایع، مجمع البرہان اور ریاض میں آیا ہے اور کوئی بھی اسکا منکر نہیں ہے۔ جناب شیخ صدوق Ù†Û’ بھی اس Ú©Û’ جواز کو تسلیم اور اس کی موافقت کی ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں تمام فقہاء کا اتفاق نظر ہے، جیسا کہ “مصابیح الظلام” میں آیا ہے اور اکثر فقہاء کا یہی عقیدہ ہے۔ اسی طرح معتبر میں ذکر ہوا ہے اور روایتوں میں بھی مشہور ہے جیسا کہ شرایع، نافع، ذکریٰ اور روضہ میں ہے۔ مختلف میں آیا ہے کہ اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں موجود ہیں۔ کتاب “البیان” میں بھی موجود ہے کہ ماہ رمضان کی نافلہ کا جواز ثابت ہے۔ اب اگر کوئی اسکا انکار کرتا ہے تو وہ متواتر سے قریب پہونچ جانے والی روایتوں اور فقہاء و اصحاب Ú©Û’ عمل کی مخالفت کرتا ہے۔ کتاب ذکریٰ میں آیا ہے کہ ان نمازوں Ú©Û’ جواز میں مشروعیت پر فتوے اور فراوان روایتیں دلالت کرتی ہیں لہٰذا مخالف Ú©Û’ نادر قول کی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔

معتبر میں آیا ہے: مسلمانوں کا عمل عام طور سے نوافل Ú©Û’ استحباب Ú©Û’ اثر کا اہل علم قائل ہیں۔ بلکہ چند لوگوں Ú©Û’ علاوہ اس امر پر اجماع بھی ہے۔

“سرائر” میں ہے: ہزار رکعت مستحب ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور سوائے ابو جعفر ابن بابویہ Ú©Û’ کوئی اس قول کا مخالف نہیں ہے مگر متقدیم اور متاخرین Ú©Û’ علماء Ú©Û’ درمیان پائے جانے والے اجماع میں ان کی مخالفت کا کوئی اثر نہیں پڒتا ہے۔۱۷#

ناچیز کہتا ہے:کتاب الفقیہ میں صدوق علیہ الرحمہ کا قول ماہ رمضان میں نافلہ Ú©Û’ استحباب کی نفی پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ ظاہر کلام سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ وہ استحباب کی تاکید سے انکار کرتے ہیں اس لئے کہ وہ تصریح کرتے ہیں کہ: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جو چیز روایت اور اخبار میں ہے اس پر عمل کیا جائے۔۱۸#

اس Ú©Û’ علاوہ امالی شیخ صدوق میں آیا ہے: اگر کوئی ماہ رمضان کی ہر شب میں نافلہ نمازوں کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا ہے تو ہر شب بیس رکعت نماز Ù¾Ú’Ú¾Û’ جن میں سے آٹھ رکعت مغرب و عشاء Ú©Û’ درمیان اور بارہ رکعت عشاء Ú©Û’ بعد اسی طرح رمضان کی بیس تاریخ تک پڒھتا رہے اس Ú©Û’ بعد آخر کی دس راتوں میں تیس رکعت ہر شب بجا لائے۔۱۹#

نافلہ رمضان کی رکعتوں کی تعداد:

اہل سنت حضرا ت Ú©Û’ درمیان ان نافلوں کی تعداد Ú©Û’ بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے اس سلسہ میں کوئی صریحی نص نہیں ہے۔ جمہور Ú©Û’ نزدیک بیس رکعت مشہور ہے۔ بعض لوگوں Ù†Û’ Û³Û¶ رکعت بتایا ہے۔ بعض Ù†Û’ Û²Û³ رکعت کہا ہے۔ بعض Û±Û¶ رکعت Ú©Û’ قائل ہیں، کچھ Û±Û³ رکعت Ú©Û’ قائل ہیں، بعض Û²Û´ رکعت، بعض Û³Û´ رکعت اور کچھ Ù†Û’ Û´Û± رکعت بھی شمار کیا ہے۔

لیکن ہم شیعہ علماء Ú©Û’ درمیان اختلاف روایت Ú©Û’ مدنظر ماہ رمضان کی بیس تاریخ تک ہر شب میں بیس رکعت۔ اس Ú©Û’ بعد آخر کی دس راتوں میں تیس رکعت۔ البتہ شبہای قدر (جو شب Û±Û¹/، شب Û²Û±/ اور شب Û²Û³/ ہے) میں سو سو رکعت Ú©Û’ علاوہ جو مجموعی طور سے ایک ہزار رکعت ہوجاتی ہے۔

علمائے اہل سنت Ú©Û’ کلام کا خلاصہ:

ابن قدامہ کہتے ہیں: اس سلسلہ میں ابو عبد اللہ رحمة اللہ علیہ کا نظریہ بیس رکعت ہے اور اسی قول کو نووی اور ابو حنیفہ اور شافعی Ù†Û’ اختیار کیا ہے۔ مگر مالک Ù†Û’ Û³Û¶ رکعت بتایا ہے اور خیال کیا ہے کہ قدیم زمانہ سے یہی چلا آرہا ہے۔ انہوں Ù†Û’ اہل مدینہ Ú©Û’ عمل کو سند بنایا ہے۔۲۰#

صاحب مقالہ کہتے ہیں:

۱۔            اہل سنت حضرات کی دلیل بیس رکعت پر صرف ابی بن کعب کا عمل ہے کہ عمر بن خطاب Ù†Û’ لوگوں کو اس Ú©Û’ ساتھ نماز Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ لئے تاکید اور ترغیب دلایا ہے اور اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرتﷺ سے رکعت کی تعداد Ú©Û’ بارے میں ان Ú©Û’ پاس کوئی صریحی روایت نہیں پائی جاتی ہے۔ بلکہ بعض روایتوں Ú©Û’ ظاہری معنی سے توپتہ چلتا ہے کہ رمضان اور غیر رمضان Ú©Û’ نافلوں میں کوئی فرق نہیں ہے یعنی رمضان میں نافلوں Ú©Û’ اضافہ کی بات ہی نہیں پائی جاتی ہے۔ یعنی گیارہ رکعت نافلہ نماز شب اور بس۔ ان لوگوں Ù†Û’ بیس رکعت کو ثابت کرنے Ú©Û’ لئے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے حضرت علی کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ آپ Ù†Û’ ماہ رمضان میں بیس رکعت نماز قائم کرنے Ú©Û’ لئے ایک شخص کو معین فرمایا تھا۔۲۱#

۲۔            محمد بن نصر مروزی Ù†Û’ ابن قدامہ Ú©Û’ اس دعوئے کو رد کیا ہے جس میں کہا ہے کہ بیس رکعت پر صحابہ کا اجماع ہے۔ وہ کہتے ہیں: پیغمبر اکرمﷺ سے تواتر کی حد تک روایت پہونچی ہے کہ ماہ رمضان میں گیارہ رکعت میں کسی نافلہ کا اضافہ نہیں فرمایا ہے تو پھر صحابہ کون ہوتے ہیں اور کیسے رسول اللہﷺ کی سیرت Ú©Û’ خلاف اجماع قائم کر لیا؟ لہٰذا بہتر یہی ہے ہمارے عمل کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا قول و فعل ہونا چاہئے۔۲۲#

۳۔            قسطلانی کہتے ہیں: جو معروف ہے اور اکثریت اس پر عمل کر رہی ہے۔ وہ بیس رکعت ہے جو دس سلام اور پانچ ترویح (استراحت) Ú©Û’ ساتھ ہوتی ہے۔ اس بناء پر ہر ترویح چار رکعت دو سلام Ú©Û’ ساتھ ہوتی ہے سوائے وتر Ú©Û’ کہ وہ تین رکعت ہوتی ہے۔ اور عائشہ Ú©Û’ کلام میں جو نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ï·º) Ù†Û’ رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعت میں کچھ اضافہ نہیں کیا ہے اصحاب Ù†Û’ اسے وتر پر حمل کیا ہے۔

۴۔            سرخسی کہتے ہیں: میری نظر میں وتر Ú©Û’ علاوہ بیس رکعت ہے اور مالک کہتے ہی: Û³Û¶ رکعت سنت ہے۔۲۳#

۵۔            العینی Ù†Û’ بھی اس مسئلہ میں شدید اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (اختصار Ú©Û’ مد نظر اسے نقل نہیں کر رہے ہیں۔)Û²Û´#

۶۔            موصلی حنفی کہتے ہیں: ماہ رمضان کی ہر شب میں سزاوار یہ ہے کہ نماز عشاء Ú©Û’ بعد امام جماعت پانچ ترویح لوگوں Ú©Û’ لئے قائم کرے، ہر ترویح چار رکعت دو سلام Ú©Û’ ساتھ، اور ہر ترویح Ú©Û’ بعد آرام اور استراحت Ú©Û’ لئے تھوڒی دیر بیٹھے۔ اور پانچویں ترویح Ú©Û’ بعد نماز وتر کو بجا لائے۔ ابی بن کعب Ù†Û’ ایسا ہی کیا ہے اور اہل مکہ و مدینہ کی روش بھی یہی رہی ہے۔۲۵#

۷۔            بغوی کہتے ہیں: جملہ سنتوں میں سے ماہ رمضان میں دس سلام Ú©Û’ ساتھ بیس رکعت کی نماز تراویح بھی شمار ہوتی ہے۔۲۶#

۸۔            ماوردی Ù†Û’ بھی بیس رکعت کو پانچ تراویح Ú©Û’ ساتھ اختیار کیا ہے۔۲۷#

۹۔            الجزیری Ù†Û’ بھی نماز وتر Ú©Û’ علاوہ بیس رکعت کا انتخاب کیا ہے۔۲۸#

اب تک کی تمام باتوں سے اس حقیقت کا خلاصہ ہو جاتا ہے کہ اہل سنت Ú©Û’ نزدیک بیس رکعت اجماعی ہے جیسا کہ ابن قدامہ اور دوسروں Ù†Û’ اسکا دعویٰ بھی کیا ہے اور اکثریت یعنی جمہور کی رائے بھی یہی ہے جیسا کہ عسقلانی اس Ú©Û’ مدعی ہیں اور اس Ú©Û’ علاوہ ابو عبد اللہ، نووی، ابو حنیفہ، شافعی اور حنبلی سبھی اس رائے سے متفق ہیں جیسا کہ ترمذی Ù†Û’ اکثر اہل علم سے نقل کیا ہے اور اسی بات کو حضرت علی اور عمر سے بھی نقل کیا ہے بلکہ دیگر صحابہ اور تابعین سے بھی انہیں مطالب کو نقل کیا گیا ہے جیسے اعمش اور ابن ابی ملیکا، حارث ہمدانی اور اہل کوفہ، وغیرہ…

فقہائے امامیہ کی رائے

فرقہٴ حقہٴ امامیہ Ú©Û’ نزدیک ماہ رمضان میں ایک ہزار رکعت نماز مشہور ہے جو اول رمضان سے بیس رمضان تک ہر شب میں بیس رکعت اور آخر کی دس راتوں میں ہر شب تیس رکعت Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جاتی ہے۔ اس تفصیل Ú©Û’ ساتھ جو فقہی کتابوں میں درج ہے اس مقام پر مذہب امامیہ Ú©Û’ چند اساطین سید مرتضیٰ، شیخ طوسی، حلبی، حلی، نراقی، عاملی اور طباطبائی Ú©Û’ کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔

۱۔            سید مرتضی کہتے ہیں: ماہ رمضان میں مذہب امامیہ Ú©Û’ نزدیک نوافل کی ترتیب اس طرح ہے کہ ہر شب میں بیس رکعت Ù¾Ú’Ú¾Û’Û” جن میں سے آٹھ رکعت نماز مغرب Ú©Û’ بعد اور بارہ رکعت نماز عشاء Ú©Û’ بعد اور شب Û±Û¹/ ویں میں سو رکعت اور شب بیسویں میں وہی بیس رکعت، اور شب Û²Û±/ ویں میں سو رکعت، اور شب Û²Û²/ ویں میں تیس رکعت۔ ان میں سے آٹھ رکعت مغرب Ú©Û’ بعد اور بقیہ (یعنی Û²Û²/ رکعت) نماز عشاء Ú©Û’ بعد Ù¾Ú’Ú¾Û’Û”Û²Û¹#

۲۔            شیخ طوسیفرماتے ہیں: دیگر میہنوں Ú©Û’ نافلوں Ú©Û’ علاوہ ماہ رمضان المبارک میں ایک ہزار رکعت اضافہ کرتے ہوئے بجا لائے، اول کی بیس راتوں میں بیس رکعت، آٹھ رکعت مغرب و عشاء کی نماز Ú©Û’ درمیان اور بارہ رکعت نماز عشاء Ú©Û’ بعد اور آخر کی دس راتوں میں ہر شب تیس رکعت بجا لائے اور شب قدر کی تینوں راتوں میں سو سو رکعت بجا لائے۔۳۰#

۳۔            ابو اصلاح حلبی Ù†Û’ بھی اسی ترتیب کو بیان کیا ہے۔۳۱#

۴۔            ابو الحسن حلبی Ù†Û’ فرمایا: نوافل یومیہ Ú©Û’ علاوہ ماہ رمضان میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لائے اور وہ اس طرح کہ شب اول سے پندرہ ویں شب تک بیس رکعت انجام دے اور اس Ú©Û’ بعد بیس رکعت میں اضافہ کر دے۔۳۲#

۵۔            علامہ حلی Ù†Û’ بھی رمضان میں ایک ہزار رکعت نماز نافلہ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا Ø­Ú©Ù… دیا ہے کہ ہر شب بیس رکعت یہ بیس راتوں تک اس Ú©Û’ بعد تیس رکعت اضافہ کرے۔۳۳#

۶۔            فاضل نراقی Ù†Û’ ایک ہزار رکعت کو اجماعی تسلیم کیا ہے مگر اس کی ترتیب دو طرح سے بیان فرمایا ہے:

الف:         ہر شب میں بیس رکعت، آٹھ رکعت مغرب Ú©Û’ بعد اور بارہ رکعت عشاء Ú©Û’ بعد یا اس Ú©Û’ برعکس (بارہ رکعت مغرب Ú©Û’ بعد اور آٹھ رکعت عشا Ú©Û’ بعد) اور آخری دس راتوں میں دس رکعت بڒھا کر بجا لائے اور ہر شب قدرمیں سو رکعت کا اضافہ کرے۔

ب:           پہلی جیسی ترتیب مگر ہر شب قدر میں صرف سو سو رکعت Ú©Û’ بجا لانے پر اکتفا کرے۔۳۴#

۷۔            سید عاملی فرماتے ہیں: ہر شب میں بیس رکعت اور یہ اجماعی ہے۔ جیسا کہ کتب انتصار ، خلاف، کشف اللثام اور منتہی میں ذکر ہوا ہے۔۳۵#

۸۔            سید طباطبائی فرماتے ہیں: روایتوں Ú©Û’ اختلاف کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر نوافل میں ایک ہزار رکعت Ú©Û’ اضافہ Ú©Û’ مستحب ہونے پر فقہاء کا اجماع واقع ہوا ہے۔ آپ Ù†Û’ شیخ صدوق Ú©Û’ کلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: ماہ رمضان میں دوسرے مہینوں Ú©Û’ نافلوں سے ہٹ کر نافلہ نمازوں کا اضافہ نہیں ہے۔ اس قول کو شاذ بتایاہے۔۳۶#

اور آپ Ù†Û’ رمضان کی نافلوں کی ترتیب کو سابقہ ترتیب Ú©Û’ مانند نقل کیا ہے۔۳۷#

اس Ú©Û’ پہلے یہ بات گذر چکی ہے کہ شیخ صدوق کا کلام نافلہ نمازوں کی عدم مشروعیت یعنی عدم جواز پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ استجاب کی تاکید کی نفی کرتا ہے۔ اور صراحت Ú©Û’ ساتھ ذکر کیا ہے کہ جو چیز روایتوں میں وارد ہوئی ہے اس پر عمل ثابت ہے۔۳۸#

تراویح Ú©Û’ بارے میں مخالف اقوال

اہل سنت Ú©Û’ جمہور علماء جو بیس رکعت تراویح کی سنت Ú©Û’ قائل ہیں ان Ú©Û’ مقابلہ میں بعض لوگوں Ù†Û’ مخالف نظریہ بھی پیس کیا ہے یعنی اسکا انکار کیا ہے:

۱۔            کحلانی “سبل السلام” Ú©Û’ موٴلف Ù†Û’ اسکا انکار کیا ہے اور فرمایا ہے: بیس رکعت Ú©Û’ بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں وارد ہوئی ہے اگر صحیح روایت کی بات کی جائے تو وہ صرف گیارہ رکعت ہے اور جو عمل انجام دیا جا رہا ہے ہے (یعنی بیس رکعت) وہ بدعت ہے۔ شوکانی Ù†Û’ بھی نیل الاوطار میں کحلانی کی پیروی کرتے ہوئی بدعت قرار دیا ہے۔ مگر اس Ú©Û’ باوجود کحلانی Ù†Û’ نافلہ کو جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا انکار نہیں کیا ہے اور اس Ú©Û’ لئے خود عمر Ú©Û’ عمل کو سند قرار دیا کہ جب انہوں Ù†Û’ لوگوں کو الگ الگ اور منتشر نماز پڒھتے دیکھا تو جماعت قائم کرنے کا Ø­Ú©Ù… دیا۔ اس Ú©Û’ بعد اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جسے اہل سنت آنحضرت (ï·º) سے نقل کرتے ہیں: تم لوگ میری سنت اور میرے بعد میرے خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا۔ اس Ú©Û’ بعد کہتے ہیں: خلفاء کی سنت سے مراد دشمنان اسلام Ú©Û’ مقابلہ میں آنحضرت کی روش اور وہ طور طریقہ جنہیں شعائر دین کی تقویت اور اس Ú©Û’ جیسے امور کو انجام دیا کرتے تھے۔ اور یہ حدیث ہر خلیفہ راشدہ کو شامل کرتی ہے۔ فقط شیخین (ابو بکر و عمر) سے مخصوص نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ شریعت کا قاعدہ ہے کہ کوئی بھی خلیفہ راشد سیرت پیغمبر (ï·º) Ú©Û’ خلاف روش ایجاد کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ خود عمر جو نافلہ نماز کو جماعت سے رمضان میں ادا کرنے کا Ø­Ú©Ù… اولی دینے والے ہیں اسے بدعت کہا ہے۔ سنت نہیں کہا ہے۔ علاوہ ازایں مختلف موارد میں صحابہ Ù†Û’ شیخین سے اس امر میں اختلاف کیا ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ وہ لوگ مذکورہ روایت کو تراویح کی سنت پر دلیل نہیں مانتے تھے۔ Û³Û¹#

۲۔            شوکانی کا خیال یہ ہے کہ اس قسم کی روایتوں سے ماہ رمضان میں جماعت Ú©Û’ ساتھ یا فرادیٰ نافلہ Ú©Û’ لئے Ø­Ú©Ù… جواز استفادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں تراویح یا معین عدد یا مخصوص سنت کی قرأت میں منحصرت کر دینے پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے۔۴۰#

۳۔            علامہ مجلسی  فرماتے ہیں:اہل سنت کی روایتوں سے پتہ چلتا ہے آنحضرت تراویح Ú©Û’ عنوان سے بیس رکعت ادا نہیں فرماتے تھے بلکہ تیرہ رکعت بجا لاتے تھے، اور ان کی روایتیں کسی بھی طرح سے بیس رکعت Ú©Û’ استحباب پر دلالت نہیں کرتی ہیں۔ چہ جائیکہ انہیں جماعت Ú©Û’ ساتھ ادا کرنے پر دلالت کریں۔ اگر چہ بہترین عبادت ہے، یہ Ú©Ù… ہو یا زیادہ مگراس Ú©Û’ لئے خاص طور کو مخصوص وقت میں اور مخصوص طریقہ سے مستحب قرار دینا یقینا بدعت اور گمراہی ہے اس لئے کہ اہل سنت جس سنت کو روایت کرتے ہیں وہ تاکید کی صورت میں ہے اور وہ شعائر دین Ú©Û’ عنوان سے تراویح کو بپا کرتے ہیں۔۴۱#

نماز تراویح کی جماعت اور خلیفہٴ دوم کی بدعت

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ماہ رمضان میں نافلہ نماز Ú©Û’ لئے جماعت کو جس Ù†Û’ سب سے پہلے سنت قرار دیا ہے وہ عمر بن خطاب ہے جبکہ اسکا پیغمبر اکرم (ï·º) Ú©Û’ زمانہ میں یا خلافت ابو بکر میں کوئی وجود نہ تھا مگر عمر Ù†Û’ اپنے ذوق اور استحسان کی بنیاد پر اس بارے میں رائے دی اور لوگوں کو اس کی طرف رغبت دلائی ہے۔ اور خود بھی اعتراف کیا ہے کہ یہ بدعت ہے مگر اچھی بدعت۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اس جماعت Ú©Û’ پابند نہیں تھے بلکہ گھر میں فرادیٰ پڒھتے تھے۔ اس بات کا انکشاف خود اہل سنت Ú©Û’ بزرگ علماء Ù†Û’ کیا ہے جیسے قسطلانی، ابن قدامة قلقشندی وغیرہ ان Ú©Û’ کلام کو عنقریب ذکر کریں Ú¯Û’Û”

بخاری کی روایت

ابن شہاب Ù†Û’ عروہ بن زبیر سے انہوں Ù†Û’ عبد الرحمن بن عبد القاری سے نقل کیا ہے کہ: ماہ رمضان کی راتوں میں سے ایک رات ہم عمر بن خطاب Ú©Û’ ہمراہ مسجد گئے۔ لوگ الگ الگ اپنی اپنی نمازوں میں مصروف تھے، اور بعض اپنے قبیلہ والوں Ú©Û’ ساتھ مشغول نماز ہیں۔عمر بن خطاب Ù†Û’ جب دیکھا تو کہا: اگر ان لوگوں کو ایک امام جماعت Ú©Û’ ساتھ جمع کر دوں تو بہتر ہوگا، اس Ú©Û’ بعد ابی بن کعب کو ان کی امامت Ú©Û’ لئے معین کر دیا۔ دوسری رات پھر ہم دونوں مسجد گئے دیکھا تو لوگ جماعت Ú©Û’ ساتھ نماز Ù¾Ú’Ú¾ رہے تھے، تو اس پر عمر Ù†Û’ کہا: نعم البدعة ہذہ۔ یہ کتنی اچھی بدعت ہے! البتہ اگر یہ لوگ خواب سے بیدار ہونے Ú©Û’ بعد نماز پڒھتے ہیں تو وہ اول شب میں بجا لانے Ú©Û’ نسبت بہتر ہوگی۔۴۲#

علمائے اہل سنت کیا کہتے ہیں؟

۱۔            قسطلانی کہتے ہیں: عمر Ù†Û’ اس نماز کو بدعت کا نام دیا ہے۔ اس لئے کہ پیغمبر اکرم (ï·º) Ù†Û’ اسے جماعت Ú©Û’ ساتھ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا دستور نہیں فرمایا تھا۔ اسی طرح ابو بکر Ú©Û’ زمانہ میں بھی اول شب میں نہیں Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جاتی تھی۔ ہر شب ادا نہیں کی جاتی تھی اسی طرح زمانہٴ پیغمبر میں Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جانے والی نماز کی رکعت کی تعداد بھی اس مقدار میں نہیں تھی۔۴۳#

۲۔            ابن قدامہ کہتے ہیں: تراویح کو عمر کی طرف نسبت دی ہے اس لئے کہ لوگوں کو ابی بن کعب Ú©Û’ ساتھ جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا مامور کیا تھا اور اس Ù†Û’ ایسا ہی کیا۔۴۴#

۳۔            العینی کہتے ہیں: عمر Ù†Û’ اسکا نام بدعت قرار دیا، اس لئے کہ رسول اللہﷺ Ù†Û’ اسے سنت قرار نہیں دیا تھا۔ بلکہ ابو بکر Ú©Û’ عہد میں بھی عمل نہیں کیا جاتا تھا۔ اس Ú©Û’ بعد کہتے ہیں: بدعت کی دو قسم ہے: اگر اسلام و شریعت Ú©Û’ رو سے پسندیدہ عمل Ú©Û’ عنوان سے ہو تو اچھی بدعت کہی جائے گی۔ اور اگر شریعت کی نظر میں نا پسند ہو تو ناپسند بدعت کہی جائے گی۔۴۵# صاحب مقالہ فرماتے ہیں: عنقریب بیان کروں گا کہ ایک سے زیادہ بدعت نہیں پائی جاتی ہے اور وہ گمراہ اور حرام Ú©Û’ سواء کچھ نہیں ہے۔

۴۔            قلقشندی کہتے ہیں: عمر Ú©Û’ منجملہ نئے امور میں سے ایک یہ ہے کہ نماز تراویح کو پہلی مرتبہ ماہ رمضان میں سنت قرار دیا اور لوگوں کو ایک امام جماعت Ú©Û’ ساتھ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا Ø­Ú©Ù… دیا اور یہ چودھویں ہجری میں انجام دیا ہے۔۴۶#

الباصی، سیوطی، سکتواری اور دوسروں Ù†Û’ بھی لکھا ہے کہ: سب سے پہلے جس Ù†Û’ تراویح کو سنت قرار دیا ہے وہ عمر بن خطاب ہے اور ان لوگوں Ù†Û’ اس بات کی بھی تصریح کر دی ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں مستحب نماز کو جماعت سے قائم کرنے کا Ø­Ú©Ù… دینا عمر کی بدعتوں میں سے ایک بدعت ہے۔۴۷#

ابن سعد، طبری اور ابن اثیر کہتے ہیں: یہ سن Û±Û´ ہجری کی بات ہے مدینہ میں مردوں Ú©Û’ لئے ایک امام قرار دیا او ایک عورتوں Ú©Û’ لئے۔۴۸#

الباصی، ابن التین، ابن عبد البرْ، کحلانی اور زرقانی Ù†Û’ بھی اسی مطلب کو بیان کیا ہے اور کحلانی عمر Ú©Û’ اس کلام Ú©Û’ بارے میں جس میں کہا ہے کہ “یہ اچھی بدعت ہÛ'” کہتے ہیں: اگر کوئی چیز بدعت ہے تو وہ کبھی بھی پسندیدہ اور اچھی نہیں ہو سکتی ہے۔ بلکہ وہ ہمیشہ گمراہی و ضلالت Ú©Û’ معنی ہی میں رہے گی۔۴۹#

تراویح Ú©Û’ بارے میں فریقین Ú©Û’ علماء و فقہاء Ú©Û’ کلام کا یہ ایک مختصر خاکہ تھا، اس موضوع میں جو چیزیں پیش کی گئی ہیں وہی اس Ú©Û’ جواز Ú©Û’ بارے میں بحث و گفتگو کی سبب بنتی ہیں۔

ماہ رمضان میں نافلہ کی جماعت کا Ø­Ú©Ù…

جیسا کہ یہ بات گذر چکی ہے کہ پیغمبر (ï·º) Ú©Û’ زمانہ میں رمضان کی نافلہ Ú©Û’ لئے جماعت کا Ø­Ú©Ù… جواز نہیں آیا تھا۔ اسے خلیفہٴ دوم Ù†Û’ ایجاد کیا ہے، جسکی بناء پر علماء اسلام Ú©Û’ نزدیک شدید اختلاف کا سبب ہوا ہے۔ فرقہٴ حقہٴ امامیہ Ù†Û’ محکم اور مضبوط دلیلوں سے اس Ú©Û’ جواز کو باطل قرار دیا ہے، مگر افسوس اہل سنت Ú©Û’ بعض علماء شیعوں Ú©Û’ موقف کو نہ سمجھ سکے جسکی بناء پر یہ خیال کرنے Ù„Ú¯Û’ کہ مذہب امامیہ اصل نافلہٴ رمضان Ú©Û’ جواز کا انکار کرتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جس چیز کو باطل اور بدعت قرار دیتے ہیں وہ ہے نافلہ کو جماعت سے پڒھنا نہ کہ اصل نافلہ کو بجا لانا وہ شیعوں Ú©Û’ یہاں تو مسلم اور بہتر شکل میں ہے، ہم تو اسی کو بدعت کہتے ہیں جسکا خود خلیفہٴ دوم Ù†Û’ اعتراف کیا ہے کہ یہ بدعت ہے۔

البتہ اہل سنت Ú©Û’ بعض علماء شیعوں Ú©Û’ مانند یا ان سے قریب قریب نظریہ بھی رکھتے ہیں۔ جیسے شافعی وہ اس بات Ú©Û’ قائل ہیں کہ نافلہ کو جماعت سے پڒھنا مکروہ ہے۔ یا دوسروں Ù†Û’ کہا ہے کہ اسے فرادیٰ اور گھر میں پڒھنا بہتر ہے۔ تو اس لحاظ سے تراویح کا مسئلہ خود اہل سنت Ú©Û’ نزدیک اتفاقی نہیں ہے اگر چہ اکثریت اس Ú©Û’ لئے جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کی قائل ہے۔

فقہائے اہل سنت کی رائے:

۱۔            عبد الرزاق Ù†Û’ ابن عمر سے نقل کیا ہے: ماہ رمضان میں نافلہ نماز جماعت سے نہ Ù¾Ú’Ú¾ÛŒ جائے۔۵۰# اور مجاہد سے بھی نقل ہے کہ ایک شخص ابن عمر Ú©Û’ پاس آیا اور کہا: میں رمضان میں جماعت سے (اسے) پڒھتا ہوں۔ تو پوچھا: قرآت سے پڒھتے ہو؟ جواب دیا: ہاں Û” کہا: تو پھر بالکل گدھے Ú©Û’ مانند خاموش Ú©Ú¾Ú’Û’ رہتے ہو؟! دور ہو جاوٴ یہاں سے، اور جاوٴ اپنے گھر میں نماز Ù¾Ú’Ú¾ÙˆÛ”ÛµÛ±#

۲۔            سرخسی Ù†Û’ شافعی سے نقل کیا ہے: کسی بھی نماز کو جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ مالک Ù†Û’ کہا ہے اور وہ اس Ú©Û’ استحباب Ú©Û’ قائل ہیں۔ مگر میری نظر میں مکروہ ہے۔ اس Ú©Û’ بعد سرخسی کہتے ہیں: شافعی Ù†Û’ نافلہ نماز کو واجب سے قیاس کیا ہے۔ جبکہ میری نظر میں نوافل میں اصل مخفی رکھنا اور ریا و رکھاوا سے پرہیز کرنا ہے، واجب میں اس Ú©Û’ برعکس کہ اس میں اعلان اور ظاہر کرنا اصل ہے اور جماعت میں یہی خصوصیت پائی جاتی ہے۔۵۲# اور وہ اپنی کتاب Ú©Û’ دوسری فصل میں لکھتے ہیں کہ طحاوی Ù†Û’ معلی اور ابو یوسف اور مالک سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ اس بات Ú©Û’ قائل ہیں کہ حتی الامکان اسے گھر میں بجا لائے اور شافعی کہتے ہیں: فرادیٰ کی شکل میں تراویح ہے اس لئے کہ یہ ریا اور دکھاوا سے دور ہے مگر عیسیٰ بن اباق اور بکاء بن قتیبہ اور مزفی اور احمد بن علوان اس Ú©Û’ جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کو افضل بتاتے ہیں۔ جو جمہور علماء Ú©Û’ موافق ہے۔

اس Ú©Û’ بعد سرخسی سے ابو ذر کی ایک حدیث سے استفادہ کیا اور لکھا کہ: اہل بدعت Ú©Û’ ایک گروہ Ù†Û’ مسجد میں جماعت سے ادا کرنے Ú©Û’ جواز کا انکار کیا ہے۔ مگر چونکہ یہ اہل سنت کا شعار ہے لہٰذا شعائر اسلامی کا ایک جزء شمار ہوگا۔۵۳#

کلام سرخسی کا ایک جائزہ

نہیں معلوم سرخسی کا اشارہ کس کی طرف ہے اور وہ کسے آنکھ دکھا رہے ہیں، وہ کس کی مذمت کر رہے ہیں! اور اہل بدعت سے مراد انکی کیا ہے؟ جبکہ خود خلیفہ دوم Ù†Û’ کہا ہے: یہ اچھی بدعت ہے! شافعی کراہتِ جماعت Ú©Û’ قائل ہیں اور اسے نوافل میں اصل جانتے ہیں، یا وہ بغوی جیسے لوگوں کی طرف تیر پھینکنا چاہتے ہیں جو فرادیٰ Ú©Û’ افضل ہونے Ú©Û’ قائل ہیں اور اپنی دلیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث کو پیش کیا ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں نماز Ù¾Ú’Ú¾ÙˆÛ” یا پھر انکا نشانہ فرقہٴ حقہٴ امامیہ کی طرف ہے جو نافلہ Ú©Û’ لئے جماعت Ú©Û’ جواز Ú©Û’ قائل نہیں ہیں اس لئے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے؟!

سوال یہ ہے کہ آخر نافلہ نماز کو جماعت سے Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کا اہل سنت کا شعار کیوں ہو گیا؟ جبکہ خود عمر Ù†Û’ اس Ú©Û’ بدعت ہونے کا اعتراف کیا ہے، اور وہ خود اس بات کو ترجیح دیتے تھے کہ اسے تنہا پرھیں (خود جماعت سے نہیں پڒھتے تھے) جو چیز زمانہٴ پیغمبر میں نہ ہو۔ خلافت ابو بکر میں جسکا وجود نہ ہو، خود عمر کی خلافت Ú©Û’ کچھ زمانہ تک نہ ہو وہ شعار اہل سنت کیسے ہوگئی؟؟؟ خود اہل سنت Ú©Û’ بزرگ اور اساطین علماء جیسے مالک، ابو یوسف شافعی اور بعض اس Ú©Û’ پیروکار مکروہ ہونے Ú©Û’ قائل ہیں۔ کیا سرخسی Ú©Û’ خیال میں یہ سارے بزرگ علماء اہل سنت نہیں ہیں جنہوں Ù†Û’ اہل سنت Ú©Û’ شعار (تراویح کی جماعت) کو ترک کیا ہے!ÛµÛ´#

جب خود پیغمبر اکرم ï·º اور اصحاب پیغمبر اکرم Ù†Û’ اسے اسلام و سنت کا شعار قرار نہیں دیا، وہ لوگ شعار اسلام و سنت Ú©Û’ عنوان سے نہیں پہچانتے تھے تو کیسے، کس دلیل سے اور کہاں سے شعار سنت ہو گیا؟ تاکہ اسپر عمل کرنے والا دیگر مذاہب سے صاحب امتیاز قرار پائے؟ کیا یہ خود بدعت (گمراہ) کا واضح و آشکار مصداق نہیں ہے؟

اور ان باتوں سے ہٹکر ایک دوسری بات قابل تعجب ہے کہ اس طرح کی بدعتکا واجب نمازوں کی جماعت سے کس طرح قیاس کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ واجب نماز کی جماعت Ú©Û’ جواز میں کسی طرح کا شبہ پایا ہی نہیں جاتا ہے! ہاں، تراویح میں تشریع جماعت کا منشأ ایک انسان کی شخصی رأی اور بغیر دلیل Ú©Û’ اجتہاد اور صرف ایک استحسان کہا جا سکتا ہے اس لئے کہ خلیفہٴ دوم Ù†Û’ اس کی تشریح میں بس اتنا ہی کہا ہے کہ میری نظر میں اگر لوگ اسے کسی امام جماعت Ú©Û’ ساتھ ادا کریں تو بہتر ہوگا۔ اس Ú©Û’ علاوہ کسی دلیل کو سند قرار نہیں دیا ہے۔

موصلی، بغوی، قسطلانی اور دوسرے فقہا ئے عامہ Ù†Û’ بھی اس موضوع Ú©Û’ بارے میں بحث و گفتگو کی ہے اور ان لوگوں Ù†Û’ اپنے الگ الگ اور مختلف آراء و نظریات کا اظہار بھی کیا ہے منجملہ قسطلانی Ù†Û’ بعض فقہاء Ú©Û’ قول کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نافلہ نماز کو گھر میں فرادیٰ کی شکل میں قائم کرنا افضل ہے۔ اس قول Ú©Û’ استناد میں رسول اللہ (ï·º) Ú©Û’ عمل کو پیش کیا ہے کہ آپ گھر میں فرادیٰ کی شکل میں انجام دیتے تھے۔ اور عمر Ú©Û’ اعتراف کو بھی بیان کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ مالک اور ابو یوسف اور بعض شافعی علماء Ù†Û’ بہی اس قول کو اختیار کیا ہے۔ پھر زہری سے نقل کیا ہے کہ انہوں Ù†Û’ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ï·º) کی ہمیشہ یہی سیرت رہی ہے کہ نافلہ کو ہر انسان اپنے گھر ہی میں فرادیٰ Ù¾Ú’Ú¾Û’Û” یہاں تک کہ عمر آئے انہوں Ù†Û’ لوگوں کو ابی بن کعب کی ہمراہی میں اسے جماعت سے ادا کرنے کا فرمان جاری کیا اور اس Ú©Û’ بعد یہی طریقہ چل پڒا۔۵۵#

اسی طرح شوکانی Ù†Û’ مالک ابو یوسف اور بعض شافعی علماء اور دوسروں سے نقل کیا کہ نافلہ نماز کو گھر میں فرادیٰ پڒھنا افضل ہے۔ جس کی دلیل میں رسول اللہ (ï·º) کی حدیث کو نقل کیا ہے کہ

“افضل المرء فی بیتہ الا المکتوبة”

افضل یہ ہے کہ انسان واجب نماز Ú©Û’ علاوہ اپنی نمازوں کو گھر میں ادا کرے۔

اس Ú©Û’ بعد شوکانی لکھتے ہیں: یہ حدیث متفق علیہ ہے، اس Ú©Û’ علاوہ اہل بیت پیغمبر (ï·º) Ù†Û’ بھی فرمایا ہے کہ نافلہ کو جماعت سے پڒھنا بدعت ہے۔۵۶#

فقہائے امامیہ کا فتویٰ

شیعہ مذہب Ú©Û’ تمام فقہاء بلا استثناء نافلہ نماز کو جماعت Ú©Û’ ساتھ ادا کرنے کو بدعت جانتے ہیں۔ جیسے سید مرتضیٰ فرماتے ہیں: جہاں تک تراویح کی بات ہے بغیر کسی تردید Ú©Û’ بدعت ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم ï·º کی روایت میں ہے کہ آپ Ù†Û’ فرمایا:

ایہا الناس ان االصلاة باللیل فی شہر رمضان من النافلة فی جماعة بدعةٌ

اے لوگو! ماہ رمضان میں نافلہٴ شب کی نماز جماعت Ú©Û’ ساتھ پڒھنا بدعت ہے۔۵۷#

اور اس بارے میں ایک روایت بھی پائی جاتی ہے کہ ماہ رمضان کی راتوں میں سے کسی رات مسجد میں عمر وارد ہوئے تو دیکھا کہ نماز جماعت Ú©Û’ لئے مسجد میں لوگوں Ù†Û’ چراغ جلا رکھا ہے۔ پوچھا: آخر معاملہ کیا ہے؟ لوگوں Ù†Û’ جواب دیا: مستحبی نماز Ú©Û’ لئے لوگ جمع ہوئے ہیں۔

عمر Ù†Û’ کہا: بِدْعَةٌ فَنِعْمَةِ الْبِدْعَةِ۔ (یہ تو بدعت ہے مگر اچھی بدعت ہے!)

جیسا کہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے عمر Ù†Û’ خود اس Ú©Û’ بدعت ہونے کا اقرار کیا ہے۔ جبکہ آنحضرتﷺ Ù†Û’ فرمایا ہے:

کُلُْ بِدْعَةٌضَلاَلَةٌ

ہر بدعت گمراہی ہے۔

ایک اور روایت ملتی ہے کہ لوگ مسجد کوفہ میں جمع ہوئے اور امیر المومنین سے درخواست کی کہ کسی کو معین فرما دیجئے تاکہ اس کی اقتداء میں نافلہٴ ماہ رمضان ادا کر سکیں۔ مگر حضرت علی Ù†Û’ ان کی سرزنش کی اور فرمایا:

یہ خلاف سنت ہے۔۵۸#

سید مرتضیٰ Ù†Û’ بھی لکہأ ہے کہ قاضی القضاةکا یہ دعویٰ کہ زمانہٴ پیغمبرﷺ میں ماہ رمضان میں جماعت Ú©Û’ ساتھ نماز نافلہ برگزار ہوتی تھی۔ پھر اس Ú©Û’ بعد آنحضرت Ù†Û’ ترک کر دیا۔ یہ جھوٹ کا پلنڈہ ہے اور کچھ نہیں ہے۔ اس لئے کہ ماہ رمضان کی نافلہ نمازوں کو فرادیٰ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ ہم منکر نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں جماعت Ú©Û’ ساتھ Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی دعویٰ کرے کہ آنحضرتﷺ اپنے زمانہ میں جماعت Ú©Û’ ساتھ ادا فرماتے تھے تو یہ صرف زبانی دعویٰ ہے، زور گوئی ہے اور کچھ نہیں ہے۔ جسے کوئی سننا بھی پسند نہیں کرتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو پھر عمر کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ “انہا بدعة” یہ بدعت ہے۔

اس Ú©Û’ بعد سید مرتضیٰ فرماتے ہیں: میں سمجھتا ہوں ماہ رمضان میں نافلہ نمازوں کو جماعت سے ادا کرنے Ú©Û’ سلسلہ میں مذہب امامیہٴ حقہٴ ہی انکار کا نظریہ رکھتا ہے اور وہ اس میں منفرد ہے۔ جسے ممنوع اور ناپسند کرتا ہے۔ اور اہل سنت Ú©Û’ بہت سے فقہاء بھی اس رائے سے متفق ہیں۔

معلی ابو یوسف سے نقل کرتے ہیں: اگر نافلہٴ ماہ رمضان کو کوئی اپنے گھر میں قائم کرے جس طرح امام پڒھتا ہے تو یہ میری نظر میں بہتر ہے کہ وہ ایسا کرے۔

مالک کہتے ہیں: ربیعہ اور بہت سے ہمارے علماء ایسے تھے جب مسجد میں نافلہ رمضان جماعت سے قائم ہوتی تھی تو وہ مسجد سے Ú†Ù„Û’ جاتے تھے۔ اور جماعت سے ادا نہیں کرتے تھے اور میں بھی یہی کرتا تھا اس لئے کہ پیغمبر اکرمﷺ Ù†Û’ اسے سوائے گھر میں کہیں اور ادا نہیں فرمایا ہے۔

شافعی کہتے ہیں: میری نظر میں نافلہ رمضان کو فرادیٰ ادا کرنا بہتر ہے۔

یہ وہ حقائق ہیں جنہیں طحاوی Ù†Û’ کتاب ‘الاختلاف’ میں نقل کیا ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں مذہب امامیہ Ú©Û’ نظریہ کی حمایت کرنے والے سنی علماء مخالفت کرنے والے علماء سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس میں ہماری دلیل ایک تو خود اجماع ہے اور دوسرے ‘احتیاط’Û” اس لئے کہ جو شخص اپنے گھر میں ادا کرتا ہے وہ تمام علماء Ú©Û’ اجماع Ú©Û’ مطابق نہ بدعت گذار ہے اور نہ گنہگار۔ مگر جو جماعت سے قائم کرتا ہے اس Ú©Û’ بارے میں بدعت و گناہ کا گمان ضرور پایا جاتا ہے۔

سید مرتضیٰ اس Ú©Û’ بعد اپنی بات اور Ø¢Ú¯Û’ بڒھاتے ہیں: عمر کو خود بھی اعتراف تھا کہ یہ خلاف سنت ہے اور بدعت کا Ø­Ú©Ù… رکھتا ہے اور خود اہل سنت Ú©Û’ علماء روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت Ù†Û’ فرمایا:

کُلُْ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ وَ کُلُْ ضَلَالَةٍ فِیْ النَْارِ۔

ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آتش جہنم میں جگہ پائے گی۔۵۹#

تراویح Ú©Û’ بدعت ہونے Ú©Û’ بارے میں مذہب امامیہ میں بے شمار روایتیں وارد ہوئی ہیں۔ اور اس سلسلہ میں فریقین کی دلیلوں کا مطالعہ کرنے Ú©Û’ لئے شوق رکھنے والے افراد اصل کتابوں کی طرف رجوع کریں تاکہ حق باطل سے پہچانا جا سکے۔

۱۔         بحار الانوار، ج ۱، ص ۳۶۳؛ فتح الباری، ج ۴، ص ۲۹۴؛ ارشاد الساری، ج ۴، ص ۶۹۴؛ شرح الزرقانی، ج ۱، ص ۲۳۷؛ النہایہ، ج ۱، ص ۲۷۴؛ لسان العرب، قاموس و…

۲۔         سبل السلام، ج ۲، ص ۱۱    ۳۔         السنن الکبریٰ، ج ۲، ص Û±Û±

۴۔         بخاری، ج ۱، ص ۳۴۳؛ مسلم، ج ۱، ص ۵۲۳؛ موطأ، ج ۱، ص Û±Û±Û³ و…

۵۔         بخاری، ج ۱، ص Û³Û´Û³

۶۔         نیل الأوطار، ج ۳، ص ۵۰   ۷۔         بخاری، ج ۱، ص Û³Û´Û³

۸۔         بخاری، ج ۱، ص Û³Û´Û³

۹۔         نیل الأوطار، ج ۳، ص ÛµÛ°

۱۰۔       تہذیب الکمال، ج ۲۰، ص Û´Û° و ۱۳۶؛ سیر اعلام النبلاء، ج ۱۰، ص Û¶Û±Û²

۱۱۔       بخاری، ج ۱، ص ۳۴۳       ۱۲۔       بحار ا لانوار، ج ۳۱، ص Û±Û²

۱۳۔       التہذیب، ج ۳، ص ۶۲، Ø­ ۱؛ الاستبصار، ج ۱، ص ۴۶۲، Ø­ ۱۷۹۱؛ وسائل الشیعہ، ج ۸، ص ۲۹، Ø­ Û²

۱۴۔       التہذیب، ج ۳، ص ۶۸، Ø­ ۲۱؛ وسائل الشیعہ، ج ۸، ص ۲۹، باب ۷، Ø­ Û±

۱۵۔       التہذیب، ج ۳، ص ۶۲، Ø­ ۲؛ الاستبصار، ج۱، ص ۴۶۲، Ø­ ۱۷۹۶؛ وسائل، ج ۸، ص ۲۹، باب ۷، Ø­ Û²

۱۶۔       سرخسی کہتے ہیں: ماہ رمضان کی نافلہ اور نماز تراویح Ú©Û’ جواز پر امت کا اجماع ہے اور سوائے رافضیوں (شیعوں) Ú©Û’ کوئی اہل علم و دانش اسکا انکار نہیں کرتا ہے۔ المبسوط، ج ۲، ص Û±Û´ÛµÛ²Û” (سرخسی Ù†Û’ ن ما ز تراویح اور نافلہٴ رمضان کو خلط و ملط کر دیا ہے۔ فقہائے شیعہ اصل نافلہٴ رمضان Ú©Û’ منکر نہیں ہیں بلکہ جس چیز کا انہیں اعتراض ہے وہ ہے نافلہ کو جماعت کی پابندی Ú©Û’ ساتھ پڒھنا جو ناجائز ہے نہ سنت بلکہ بدعت ہے۔ مترجم)

۱۷۔       مفتاح الکرامہ، ج ۳، ص Û²ÛµÛµ

۱۸۔       الحدائق الناظرہ، ج ۱۰، ص ÛµÛ°Û¹

۱۹۔       امالی صدوق، ص ۷۴۷؛ مجلس، ص ۹۳، مفتاح الکرامہ، ج ۳، ص Û²ÛµÛµ

۲۰۔       المغنی، ج ۲، ص Û±Û¶Û¸

۲۱۔       المغنی، ج ۲، ص ۱۶۸؛ السنن الکبریٰ، ج ۲، ص Û¶Û¹Û¹ اور لکھا ہے کہ اس روایت Ú©Û’ اسناد ضعیف ہیں۔

۲۲۔       حاشیہ المغنی، ج ۲، ص Û±Û¶Û¸

۲۳۔       المبسوط، ج ۲، ص Û±Û´Ûµ

۲۴۔       عمدة القاری، ج ۱۱، ص Û±Û²Û· و…

۲۵۔       الاختیار، ج ۱، ص Û¹Ûµ

۲۶۔       التہذیب فی فقہ الشافعی، ج ۲، ص Û³Û¶Û¸

۲۷۔       الحادی الکبیر، ج ۲، ص Û³Û¶Û¸

۲۸۔       عمدة القاری، ج ۱۱، ص Û±Û²Û· و…

۲۹۔       الانتصار، ص ÛµÛµ

۳۰۔       الخلاف، ج ۱، ص ÛµÛ³Û° مسألہ Û´ÛµÛ¹

۳۱۔       الکافی فی الفقہ، ص Û±ÛµÛ¹

۳۲۔       اشارة السبق، ص Û±Û°Ûµ

۳۳۔       قواعد الأحکام

۳۴۔       مستند الشیعہ، ج ۶، ص Û³Û·Û¹

۳۵۔       مفتاح الکرامہ، ج ۳، ص Û²ÛµÛµ

۳۶۔       من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۲، ص Û±Û³Û¹

۳۷۔       ریاض المسائل، ج ۴، ص ۱۹۷؛ جواہر الکلام، ج ۱۲، ص Û±Û¸Û·

۳۸۔       حدائق، ج ۱، ص ÛµÛ°Û¹

۳۹۔       سبل السلام، ج ۲، ص Û±Û±

۴۰۔       نیل الأوطار، ج ۳، ص ÛµÛ³

۴۱۔       بحار الانوار، ج ۲۹، ص Û±Ûµ

۴۲۔       بخاری، ج ۱، ص ۳۴۲؛ عبد الرزاق، ج ۴، ص Û²ÛµÛ¸

۴۳۔       ارشاد الساری، ج ۴، ص Û¶ÛµÛ·

۴۴۔       المغنی، ج ۲،ص Û±Û¶Û¶

۴۵۔       عمدة القاری، ج ۱۱،ص Û±Û²Û¶

۴۶۔       مأثر الانافہ فی معالم الخلافہ، ج ۲، ص Û³Û³Û·

۴۷۔       محاضرات ا لاوائل، ص Û±Û´Û¹ و شرح المواقف

۴۸۔       طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۲۸۱؛ تاریخ طبری، ج ۵، ص ۲۲؛ کامل، ج ۲، ص ۴۱؛ تاریخ عمر بن خطاب ابن جوزی، ص ÛµÛ²

۴۹۔       سبل السلام، ج ۲، ص ۱۰؛ بدایة المجتہد، ج ۱، ص Û²Û±Û° و شرح فرقانی و…

ÛµÛ°-۵۱   المصنف، ج ۵، ص Û²Û¶Û´

۵۲۔       المبسوط، ج۲، ص Û±Û´Û´

۵۳۔       المبسوط، ج ۲،ص Û±Û´Ûµ

۵۴۔       علامہ حلْی فرماتے ہیں: واجب نمازوں میں جماعت مستحب، مستحب نمازوں میں جماعت مستحب نہیں ہے سوائے نماز استسقاء، عیدین Ú©Û’

۵۵۔       ارشاد الساری، ج ۴، ص Û¶ÛµÛ´-Û¶Û¶Û±

۵۶۔       نیل الاوطار، ج ۳، ص ۵۰؛ مستند الامام زید، الہامش Û±Û³Û¹

۵۷۔       من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۲،ص ۱۳۷؛ باب الصلاة فی شہر رمضان

۵۸۔       تلخیص الشافی، ج ۱، ص Û±Û¹Û³

۵۹۔       الانتصار، ج ÛµÛµ