آسمان فقاہت و روایت Ú©Û’ درخشندہ ستارہ میدانِ علم حدیث Ú©Û’ شہسواروں Ú©Û’ پیش رو عالم اسلام کی انتہائی معروف شخصیت ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی ملقب بہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ والرضوان Ù†Û’ سال ۳۰۵ئھ میں شہر مقدس قم میں اس وقت اپنے وجود کا قدم رکھا جب حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف Ú©Û’ تیسرے نائب حسین بن روح کی نیابت کا آغاز ہو رہا تھا۔

ان Ú©Û’ والد گرامی شیخ صدوق علی بن حسین بن بابویہ قمی بزرگ ترین فقہائے اسلام میں شمار ہوتے تھے۔ جنہوں Ù†Û’ امام حسن عسکری اورامام زمانہ علیہما السلام Ú©Û’ زمانہ کو درک کیا تھا۔ آپ دونوں اماموں Ú©Û’ نزدیک نہایت محترم تھے۔ امام حسن عسکری Ù†Û’ علی بن بابویہ کو جو خط لکھا تھا اس میں انہیں شیخ معتمد، میرے فقیہ جیسے کلمات سے خطاب کیا تھا۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ Ú©Û’ والد گرامی قم میں پیدا ہوئے اور وہیں زندگی بسر کی اور اسی شہر مقدس قم میں اپنی بابرکت عمر کی آخری سانس لی۔ بابرکت عمر اس لئے لکھا کہ انہوں Ù†Û’ اپنی زندگی Ú©Û’ مختلف نشیب و فراز میں تقریباًدو سو کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔

امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا

شیخ صدوق Ú©Û’ پدر بزرگوار علی بن بابویہ کی عمر Ú©Û’ پچاس سال گذرے تھے اور اب تک صاحب فرزند نہیں ہوئے تھے، وہ بہت چاہتے تھے خداوند عالم انہیں ایک نیک فرزند عنایت کرے۔ ایک دن امام Ú©Û’ نائب خاص جناب حسین بن روح Ú©Û’ توسط سے امام زمانہ کو خط لکھا کہ ان کیلئے ایک نیک فرزند Ú©Û’ لئے دعا کریں۔ امام عصر Ù†Û’ دعا فرمائی اور ابن بابویہ کو لکھا: ہم Ù†Û’ خدا وند عالم سے تمہارے لئے دو نیک بیٹوں Ú©Û’ لئے دعا کی ہے۔ امام کی دعا Ú©Û’ بعد علی بن بابویہ صاحب فرزند ہوئے جنکا محمد نام رکھا جو بعد میں نہایت بزرگ عالم اور نام آور اور گرانقدر فقیہ Ú©Û’ نام سے مشہور ہوئے اور وہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ تھے۔

زمانہٴ طفولیت

شیخ صدوق علیہ الرحمہ Ù†Û’ اپنا بچپنا اور جوانی کا آغاز اپنے والد گرامی علی بن بابویہ قمی Ú©Û’ دامن علم و فضیلت اور تقویٰ و پرہیزگاری Ú©Û’ سایہ میں تمام کیا۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ Ù†Û’ اپنے والد ہی Ú©Û’ محضر مبارک میں علوم و معارف Ú©Û’ ہمراہ عملی و اخلاقی تربیت بھی حاصل کی وہ عظیم باپ جو شہرت، فقاہت اور علم کی عظیم بلندیوں پر فائز تھا اس Ú©Û’ پاس اپنی زندگی نیز بچوں Ú©Û’ آذوقہ Ú©Û’ لئے صرف بازار قم میں ایک چھوٹی سی دوکان تھی اور نہایت زہد و قناعت Ú©Û’ عالم میں زندگی بسر کی۔ شیخ صدوق Ù†Û’ اپنے والد گرامی کی پربرکت زندگی Ú©Û’ بیس اور کچھ سال درک کئے۔ Û²Û² یا Û²Û³ سال کی عمر میں بے وفا زمانے Ù†Û’ باپ کا محبت و شفقت سے بھرا دامن بیٹے Ú©Û’ ہاتھ سے چھین لیا۔

شیخ صدوق کی خوش استعداد شخصیت

شیخ صدوق علیہ الرحمہ کا عظیم، برجستہ اور علمی خاندان اور انکا اپنے نامی گرامی والد علام Ú©Û’ سایہ میں تربیت پانا ایک طرف تو دوسری طرف خود شیخ صدوق کی ذاتی استعداد حیرت انگیر حافظہ اور عقل وہوش کا جواب نہ تھا جس کی بنا پر Ú©Ù… مدت میں انسانی کمالات Ú©Û’ بلند و بالا قلعوں کو قتح کر لیا اور بیس سال سے Ú©Ù… عمر میں بھی ہزاروں حدیثوں اور روایتوں کو ان Ú©Û’ راویوں Ú©Û’ ساتھ حفظ کر لیا تھا، شیخ صدوق Ú©Û’ استاد محمد بن علی الاسود آپ Ú©Û’ علم و دانش سے نہایت اشتیاق اور حافظہ Ú©Û’ بارے میں فرماتے تھے، شیخ صدوق Ú©Û’ علم و دانش سے شوق و رغبت کو دیکھ کر تعجب نہیں ہوتاہے اس لئے کہ وہ امام زمانہ کی دعا Ú©Û’ وسیلہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

خود شیخ صدوق Ù†Û’ لوگوں سے بارہا عرض کیا: میں امام زمانہ کی دعا سے پیدا ہوا ہوں۔

شیخ صدوق Ú©Û’ اساتذہ

آپ کی کامیابی Ú©Û’ اسباب میں سے ایک سبب کی طرف سے اس طرح پردہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ آپ کو بہت سے اساتذہ سے ملنے کا موقعہ ملا اور ان Ú©Û’ خرمن سے استفادہ کیا۔ آپ Ù†Û’ پہلے اپنے والد علام Ú©Û’ محضر مبارک سے علم حاصل کیا اس Ú©Û’ علاوہ بزرگ اساتذہ Ú©Û’ درسی محفلوں میں بھی حاضر ہوتے تھے۔ کسی عالم Ù†Û’ ذکر کیا ہے: شیخ صدوق Ú©Û’ اساتذہ کی تعداد دو سو سے بھی زیادہ ہے اور وہ بزرگ اساتذہ جن Ú©Û’ در سے استفادہ کیا ہے ان میں سے ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی صاحب کتاب گرانقدر اصول کافی کا نام بیان کیا جا سکتا ہے۔

شیخ صدوق اور شیخ کلینی

ثقة الاسلام شیخ کلینی صاحب اصول کافی Ú©Û’ بعد شیخ صدوق ہی اپنے زمانہ Ú©Û’ عظیم محدث شمار ہوتے تھے۔ آپ نقل حدیث اور مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ بہت سی کتابیں آپ Ù†Û’ تالیف فرمائی ہیں۔ آپ Ù†Û’ شیخ کلینی Ú©Û’ محضر علم سے سالوں استفادہ کیا ہے۔ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث و روایات کی جمع آوری اور سماعت میں مشغول رہتے تھے۔ شیخ صدوق اپنے استاد شیخ کلینی کی طرح صرف نقل حدیث، روایتوں کی جمع آوری اور اس Ú©Û’ تجزیہ میں محدود نہیں تھے بلکہ روایتوں کی جمع آوری Ú©Û’ علاوہ علم کلام Ú©Û’ مباحث اور باب فقہ میں بھی ممتاز اور برجستہ تھے۔

شیخ صدوق Ú©Û’ شاگرد

آپ Ù†Û’ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا تھا کہ پیشوایان دین یعنی محمد و آل محمد علیہم السلام Ú©Û’ ارشادات و فرمودات کی بہترین حفاظت صرف اسی صورث میں ہو سکتی ہے کہ انہیں مکتب اہل بیت علیہم السلام Ú©Û’ دلسوز اور اس سے ہمدردی رکھنے والوں Ú©Û’ سینوں میں منتقل کر دیا جائے، اس لئے کہ زمانہ سے یہ بات بعید از قیام نہ تھی کہ روایتوں اور حدیثوں میں تصرف و تعرض Ú©Û’ ذریعہ انہیں تحریف یا نابود کر دیا جائے گا۔ اس لئے آپ Ù†Û’ طالب علموں اور شاگردوں کی تعلیم و تربیت گرانقدر خدمات شروع کر دی اور اس طرح آپ Ù†Û’ دینی و مذہبی میراث کی پاسبانی و نگہداری کا بیڒا اٹھا لیا، آپ Ú©Û’ عظیم اور بلند پایہ شاگردوں میں سے محمد بن نعمان معروف بہ شیخ مفید کا نام نامی بیان کیا جا سکتا ہے۔ جنکی خدمات عالم اسلام میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ ان Ú©Û’ آثار اور خدمات کا جائزہ لینے Ú©Û’ بعد ان Ú©Û’ تبحر علمی اور وسعت مطالعہ و معلومات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

شیخ صدوق Ú©Û’ آثار

آپ Ù†Û’ نہایت گرانقدر اور انتہائی مفید کتابیں تالیف فرمائی ہیں اس سلسلہ میں شیخ طوسی فرماتے ہیں: آپ Ù†Û’ تین سو کتابیں تالیف فرمائی ہیں۔ آپ کی کتابیں انتہائی مستحکم، مفید اور مختلف موضوعات پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو اپنے آپ میں خود دلیل ہے کہ وہ کس درجہ اسلامی علوم پر مہارت اور قدرت رکھتے تھے۔ آپ کی بعض تالیفات:

(Û±)          من لا یحضرہ الفقیہ (احکام فقہ میں شیعی روایتوں کی بنیاد پر کتب اربعہ کی دوسری کتاب ہے)

(Û²)          علل الشرایع (فلسفہٴ احکام اور تشریع احکام کی علت Ú©Û’ بارے میں)

(Û³)          کمال الدین و تمام النعمة (امام زمانہ Ú©Û’ وجود، ان کی طولانی غیبت کو عقلی و نقلی دلیلوں سے ثابت کرنے Ú©Û’ بارے میں ہے)

(۴)          الخصال

(Ûµ)          الامالی

(۶)          عیون اخبار الرضا، وغیرہ

علمی ابتکارات و ایجادات

عالم اسلام کی بزرگ شخصیتیں اور فقہائے نامدار شیخ صدوق کو زیادہ تر رئیس المحدثین Ú©Û’ لقب سے یاد کرتے ہیں اس لئے کہ آپ Ù†Û’ احادیث کی شناخت اور ان Ú©Û’ منابع کی نگہداری و جمع آوری میں انتہائی زحمتیں برداشت کی ہیں۔ آپ Ù†Û’ مختلف موضوعات کی مناسبت سے حدیثوں کو ان Ú©Û’ خانوں میں قرار دیا اور ہر موضوع کیلئے مستقل اور جداگانہ باب رکھا۔اس کی مثالیں خود کتاب من لا یحضرہ الفقیہ یا عیون اخبار الرضا یا آپ کی دیگر کتابوں میں دیکھنے کو مل جائیں گی جن میں موضوعات کی خصوصیات کا لحاظ کیا گیا ہے۔

شیعہ کی معتبر چار کتابیں

اسلام سے آشنائی نیز حقائق قرآنی کی شناخت کیلئے سنتِ پیغمبر اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایتوں اور حدیثوں کی شناخت ضروری و ناگزیر ہے اس لئے کہ دوسری طرف دروغ گو و حدیث ساز اور صحیح و جعلی حدیثوں کو آپس میں ملا دینے سے امتیاز ختم کر دینے والوں کا گروہ بھی پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر آدمی اس مشکل سے نجات پیدا نہیں کر سکتا ہے اور ہر ایک کیلئے دقیق شناخت ممکن نہیں ہے۔ اس لئے تین بزرگ شیعہ محدث اور فقیہ Ù†Û’ روایت کی چار اہم ترین کتابوں میں حدیثوں کو جمع کرنے کی زحمتیں برداشت کیں۔ یہ کتابیں (کتب اربعہ) Ú©Û’ نام سے مشہور ہیں جن Ú©Û’ Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ والوں کو “محمدون ثلاث” (تین محمد) کہتے ہیں اس لئے کہ تینوں بزرگوں Ú©Û’ نام محمد اور ان کی کنیت ابو جعفر رہی ہے۔

(Û±)          اصول کافی: تالیف ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی اس میں Û±Û¶Û±Û¹Û¹ حدیثیں ہیں۔

(Û²)          من لا یحضرہ الفقیہ: تالیف ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی ملقب بہ شیخ صدوق اس میں ÛµÛ¹Û¶Û³ حدیثیں ہیں۔

(Û³)          تہذیب: تالیف ابو جعفر محمد بن الحسن معروف بہ شیخ طوسی اس میں Û±Û³ÛµÛ¹Û° حدیثیں ہیں۔

(Û´)          استبصار: یہ بھی شیخ طوسی کی تالیف ہے جس میں ÛµÛµÛ±Û± حدیثیں ہیں۔

عصر حدیث

شیخ صدوق علیہ الرحمہ Ú©Û’ دور کو دور حدیث اور عصر حدیث کا نام دینا چاہئے اس لئے کہ یہ وہ دور ہے جو شیخ کلینی کی علمی کاوشوں اورخدمتوں سے آغاز ہوتا ہے اور شیخ صدوق کی جہد مسلسل نیز ہمہ جہت محنتوں و زحمتوں پر استوار رہتا ہے۔ شیخ کلینی Ù†Û’ اپنی جدید علمی جد و جہد سے مکتب اہل بیت علیہم السلام Ú©Û’ لئے حدیث نگاری کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر شیخ صدوق جیسے بزرگ مرتبہ علماء، Ù†Û’ اس پر حدیثوں Ú©Û’ نشر و ضبط کی مستحکم اور مضبوط عمارت تعمیر کی۔ شیخ کلینی Ù†Û’ جس راہ پر قدم رکھا تھا شیخ صدوق Ù†Û’ اس راہ پر قدم Ú©Û’ تسلسل کو برقرار رکھنے Ú©Û’ لئے بے شمار علمی سفر انجام دیئے ہیں اور اس Ú©Û’ لئے انتہائی کوششیں صرف کی ہیں۔

روایت و گفتار میں آپ کی صداقت

علم رجال میں حدیث Ú©Û’ راویوں کی شناخت کا مسئلہ نہایت اہم ہوتا ہے جس کی وجہ سے محدثین کی حدیثوں کو قبول کیا جاتا ہے۔ علمائے علم رجال کی تصریح ہی کی بنا پر راویوں کی صداقت و اطمینان Ú©Û’ بارے میں علم حاصل ہوتا ہے۔ علمائے دین شیخ صدوق کی شخصیت پر اس درجہ اعتماد کرتے ہیں کہ ان Ú©Û’ بارے میں یہ تعبیر مشہور ہے کہ یہ کہنا کہ ‘شیخ صدوق قابل اطمینان ہیں’ ان کی توہین Ú©Û’ مترادف ہے۔ شیخ صدوق کو صدوق اسی لئے کہا ہے کیوں کہ ائمہ معصومین علیہم السلام خصوصاً امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے نقل حدیث میں راہ صداقت سے خارج نہیں ہوئے نیز فہم و ادراک میں راہ خطا اختیار نہیں کیا ہے۔ شیخ صدوق کی صداقت کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فقہی و روائی کتابوں میں شیخ صدوق اور ان Ú©Û’ والد بزرگوار علی بن بابویہ کو صدوقین کہا جاتا ہے مگر جب بھی شخ صدوق کی تعبیر استعمال ہوتی ہے اس سے صرف بیٹے یعنی محمد بن علی بن بابویہ کو مراد لیتے ہیں باپ کو شامل نہیں کرتے ہیں۔

شیخ صدوق اور غیبت صغریٰ

شیخ صدوق Ú©Û’ دور میں سیاسی و اجتماعی لحاظ سے جو سب سے اہم حادثہ پیش ہوا جس Ú©Û’ نتیجہ میں آج تک بشریت گرفتار ہے اور وہ ہے امت اسلامی کا اپنے امام سے رابطہ کا ظاہری طور سے منقطع ہو جانا یعنی معصوم رہبر اور امت Ú©Û’ درمیان دوری کا پیدا ہونا ہے۔امام حسن عسکری کی شہادت Ú©Û’ بعد یعنی ۲۶۰ئھ میں امام زمانہ کی غیبت صغریٰ کا آغاز ہو جاتا ہے اور ۳۲۹ئھ تک یہ سلسلہ قائم رہتا ہے۔ اس مدت میں امام اور لوگوں Ú©Û’ درمیان رابطہ Ú©Û’ عنوان سے آپ Ú©Û’ کچھ لوگ خاص نائب گذرے ہیں جنہیں نواب اربعہ کہتے ہیں یہ لوگ امام عصر کی طرف سے منصب پر فائز تھے۔ شیخ صدوق جیسا کہ پہلے بھی گذر چکا ہے کہ امام Ú©Û’ تیسرے نائب حسین بن روح Ú©Û’ ابتدائی دور نیابت یعنی ۳۰۵ئھ میں پیداہوئے، اس لحاظ سے جناب شیخ صدوق Ù†Û’ اپنی بابرکت عمر Ú©Û’ Û²Û³ سال زمانہٴ غیبت صغریٰ میں گذارے یعنی امام Ú©Û’ دو خاص نائب Ú©Û’ نیابتی دور کو درک کیا ہے۔جسے یقینی طور سے جناب شیخ صدوق Ú©Û’ علمی اور معنوی رشد و تکامل میں خود اہم ترین اسباب میں سے شمار کیا جا سکتا ہے اور یہ شیخ صدوق کیلئے علم و عمل Ú©Û’ نورانی قلعوں کی بلندیوں تک پہونچنے کا بہترین زینہ بھی رہا ہے۔

شیخ صدوق علمائے بزرگ کی نگاہ میں

عالم اسلام میں شیخ صدوق کی شخصیت کو بڒے احترام اور تعظیم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تمام بزرگ علماء و فقہاء آپ کی عدالت کی تائید اور آپ Ú©Û’ عظیم اور بلند مقام کو بڒے احترام Ú©Û’ ساتھ بیان کرتے ہیں۔ شیخ طوسی اپنی کتاب “الفہرست” میں لکھتے ہیں: “شیخ صدوق جلیل القدر عالم دین اور حدیثوں Ú©Û’ حافظ تھے، علماء قم میں احادیث Ú©Û’ حفظ کرنے اور کثرت معلومات Ú©Û’ لحاظ سے انکا کوئی ثانی نہیں تھا۔”

سید بن طاؤس فرماتے ہیں: شیخ صدوق کی وہ شخصیت جن Ú©Û’ علم اور عدالت پر سب اتفاق نظر رکھتے ہیں، علامہ مجلسی صدوق کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: “شیخ صدوق کا علماء گذشتہ Ú©Û’ عظیم اور بزرگ علماء میں شمار ہوتا ہے۔”

شہر رئ کی طرف ہجرت

شیخ صدوق Ù†Û’ ائمہ معصومین علیہم السلام Ú©Û’ آثار اور فرمودات کو جمع کرنے کی غرض سے بہت زیادہ سفر کئے ہیں مگر اس سفری زندگی میں بھی آپ Ù†Û’ بڒے بڒے اساتذہ سے استفادہ علم کیا اور خود بھی تعلیم و تربیت اور بحث و تدریس Ú©Û’ میدان سے اپنے کو دور نہیں کیا یہاں تک کہ آپ Ù†Û’ بعض کتاب کو پیش آنے والے سفروں میں ہی تالیف فرمایا ہے۔ آپ Ú©Û’ متعدد سفروں میں، بخارا، نیشاپور، طوس، اصفہان، اور بغداد جیسے شہروں کا نام لیا جا سکتا ہے۔

شیخ صدوق آخر میں شہر رئ Ú©Û’ حاکم رکن الدولہ دیلمی Ú©Û’ وزیر اعظم صاحب بن عباد اور خود شہر رَی Ú©Û’ لوگوں کی دعوت سے شہر رَیْ کی طرف ہجرت کرتے ہیں جہاں پہونچ کر درس و مباحثہ Ú©Û’ لئے حوزہ کی بنیاد رکھتے ہیں اور فقہ نیز اہل بیت علیہم السلام کی احادیث کی تدریس میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

شیخ صدوق کی وفات

عالم اسلام کی عظیم شخصیت، جس Ù†Û’ مذہب اہل بیت علیہم السلام کی خدمتوں میں عمر وقف کر دی تھی آخر کار اپنی با برکت عمر Ú©Û’ ستر سے زیادہ سال گذارنے Ú©Û’ بعد دعوت حق پر لبیک کہا اور ۳۸۱ئھ میں اس شہر رَی میں حضرت شاہ عبد العظیم Ú©Û’ مرقد مطہر Ú©Û’ نزدیک جم غفیر Ú©Û’ تشیع جنازہ Ú©Û’ بعد سپرد خاک کر دیا جاتا ہے۔

اور آپ کا مرقد مطہر آج بھی شہر ری میں ابن بابویہ Ú©Û’ نام سے مشہور و معروف ہے “جن کی قبر منور ہر عام و خاص Ú©Û’ لئے زیارت گاہ اور محل استجابت دعا Ú©Û’ عنوان سے جانی جاتی ہے۔

نو سو سال بعد شیخ صدوق کی قبر مطہر کی ایک کرامت

۱۲۳۸ئھ فتح علی شاہ قاچار Ú©Û’ عہد حکومت میں جب بارش وغیرہ سے شیخ صدوق کی قبر مطہر خراب ہو گئی تو دوبارہ اس کی تجدید کا پروگرام بنایا گیا اور جب اس Ú©Û’ اطراف کی جگہوں کو کھودتے ہوئے اس سرداب میں پہونچے جہاں آپ کا مدفن تھا ناگہاں کیا دیکھتے ہیں کہ شیخ صدوق کا جسم مبارک بالکل اسی طرح صحیح و سالم تھا گویا ابھی ابھی غسل دیکر لٹایا گیا ہے۔ اور خضاب کا رنگ بھی ان کی انگلیوں میں باقی تھا۔ Û²Û° بزرگ افراد خود اس کرامت Ú©Û’ شاہد ہیں جن میں سے میرزا ابو الحسن جلوہ، حضرت آیة اللہ ملا محمد رستم آبادی، اور حضرت آیة اللہ مرعشی نجفی Ú©Û’ مرحوم والد حاج سید محمود مرعشی کا نام لیا جا سکتا ہے۔بیشک عاشقان ولایت اور جان نثاران امامت کی بہترین جزا یہی ہوتی ہے جہاں شمع ولایت Ú©Û’ پروانہ کیمیائے محبت Ú©Û’ ذریعہ اپنے وجود کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

ان کی روح شاد ہو۔ان کی یاد زندہ ہو اور راستہ آباد ہو۔