اعتراض

نہج البلاغہ کے بہت سے خطبوں اور مختصر کلمات میں موت کی سختیاں اور قبر کی تاریکی اور موت کے بعد قیامت کی مشکلات کو بیان کیا گیا ہے اور فطری طور پر اس طرح کے مسائل کا بیان انسان کے چین اور سکون اور لوگوں میں بے چینی کا سبب ہوتا ہے اس لئے اس طرح کی باتوں کا علی علیہ السلام سے مربوط بہت بعید ہے۔[1]؎

جواب

(۱)     اگر موت کی یاد، قبر، قیامت وغیرہ کا بیان معاشرہ کے لئے مفید نہ ہوتا اور لوگوں کے چین اور سکون کو چھننے اور معاشرہ میں بے ؤینی کا سبب ہوتا تو کیوں قرآن کریم اور پیغمبر کی حدیثوں میں اس قدر تاکید پائی جاتی ہے۔ من جملہ:

اَیۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا یُدْرِكۡكُّمُ الْمَوْتُ

جہاں بھی رہوگے موت تمہیں دبوچ لے گی۔ [2]؎

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ  الْمَوْتِ

ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ [3]؎

كُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا  فَانٍ

روی زمین پر ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ [4]؎

كُلُّ  شَیۡءٍ ہَالِكٌ  اِلَّا وَجْہَہٗ

اللہ کے علاوہ ہر چیز ہلاک ہوجائے گی۔ [5]؎

اور بہت سی شیعہ اور سنی کتابوں میں پیغمبر اکرمؐ کی حدیثیں اسی مضامین میں نقل ہوئی ہیں من جملہ (تحف العقول) میں پیغمبر اکرم کی ایک حدیث اس مضمون کی نقل ہوئی ہے۔

مَا لِي أَرَى حُبَّ الدُّنْيَا قَدْ غَلَبَ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ حَتَّى كَأَنَّ الْمَوْتَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا عَلَى غَيْرِهِمْ كُتِب…‏[6]؎

(لوگوں کو کیا ہوا ہے) کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اکثر لوگوں پر دنیا کی محبت غالب آگئی ہے، گویا موت اس دنیا میں کسی اور کو آنے والی ہی، گویا حق کی رعایت ان کے علاوہ کسی اور واجب ہے بلکہ اس سے بڑھ کر شاید یہ لوگ جو مرنے کی خبر سنتے ہیں وہ ان مسافروں کے لئے ہیں جو عنقریب واپس آنے والے ہیں؟……

(2)    موت کی یاد، قبر اور قیامت کا ذکر انسان کی زندگی میں چونکہ مثبت اثر رکھتا ہے اس لئے دین مبین اسلام کی تعلیمات میں اس قدر تاکید کی گئی ہے کیونکہ انسان اگر ہمیشہ موت کو یاد کرتا رہے اور موت کو گلے لگانے کے لئے مکمل آمادگی رکھتا ہو تو مندرجہ ذیل نتیجے حاصل ہونگے:

          (۱) شرافت مند زندگی گذارے گا۔ (۲) شیطان کے سامنے پوری شجاعت اور دلیری سے کھڑا ہوگا۔ (۳) کریم انسان اور صدقہ و خیرات کرنے والا انسان ہوگا۔ (۴) مال و منال دنیا کا حریص نہ ہوگا (۵) دنیا کی مشکلات کے سامنے صبر کرنے والا اور بردبار ہوگا (۶) غم اور خوشی دونوں حالتوں میں شکر گزار ہوگا (۷) محکم اور مضبوط ارادہ کا مالک ہوگا۔ (۸) عزت سے زندگی گذارے گا اور ذلت اور کسی کا احسان قبول نہیں کرے گا۔ (۹) مصمم ارادہ سے اپنے کام کرے گا اور کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کرے گا۔ (۱۰) دنیاوی میں جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔ گویا اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنے والا ہو۔) اور آخرت کے کاموں کو سنجیدگی سے لے گا اور آج کے کام کو کل پرسوں نہیں کرے گا) گویا کل ہی انتقال کرجائے گا اور اس کام کے ثواب محروم ہوجائے گا۔)

اور چونکہ پیغمبر کے واقعی صحابہ ہمیشہ موت کو یاد کرتے تھے، اور دنیاوی لذتوں کو نظر انداز کرتے تھے اور عزت کے ساتھ زندگی بسر کی، اور ان میں سے اکثر نے جام شہادت نوش کیا، اور اسلام کی کامیابی اور پھیلانے میں اہم رول ادا کیا۔

اور جب سے مسلمانوں نے موت کو فراموش کردیا ہے اور دنیاوی لذتوں اور دنیا کے پیچھے دوڑنے لگے اور ملکوں کو فتح کرنے میں مشغول ہوگئے اور حقیقی اسلام کو بھلادیا اور لہو و لعب میں پڑ گئے، دھیرے دھیرے وہ عزت و وقار اور اقتدار جو رسول اللہ ؐ کے زمانے میں حاصل ہوا تھا ہاتھ سے نکل گیا اور جو آواز پر لرزنے لگتے تھے اور ظالم اور جابر لوگ ان پر مسلط ہوگئے۔

گذشتہ باتوں سے ہم اس نتیجہ پر پہونچتے ہیں کہ ہمیشہ موت کو یاد کرنا خود سازی اور اللہ کی خوشنودی سے غفلت گمراہی کا اور شیطان کی خوشنودی کا سبب ہے اور یہی باتیں نہج البلاغۃ کی خصوصیت اور امتیاز ہے اور اسی وجہ ۔ جیسا کہ گذر گیا ۔ ابن ابی الحدید معتزلی ’الہکم التکاثر‘ کے خطبہ کی شرح میں کہتا ہے ’’اسکی قسم جس کے نام کی قسم قومیں کھأتی ہیں نہ میں نے اس خطبہ کو پچاس سال پہلے سے اب تک ہزار بار سے زیادہ پڑھا ہے اور ہر مرتبہ مجھ پر ایک نیا اثر ڈالتا ہے۔‘‘ [7]؎

اس لئے یہ اعتراض احمقانہ ہے۔

اعتراض

معاشرہ کی اجتماعی حالت کو سمجھنا، اور حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنا اور حاکم کی اصلیت پر تنقید کرنا، اس زمانے میں رائج نہیں تھا بلکہ یہ چیزیں بعد کے زمانے مین رائج ہوئی ہیں جبکہ نہج البلاغہ کے خطبوں میں، حکمرانوں، وزیروں اور گورنروں اور قاضیوں اور علماء پر طرح طرح کی تنقید کی گئی ہیں، اور حکومت کرنے کے طریقہ، اور گورنروں کی رفتار اور گفتار اور بیت المال کی غیر عادلانہ تقسیم اور قاضیوں کے جاہلانہ فیصلے پر اعتراض کیا گیا ہے اور اسی دلیل سے یہ ممکن نہیں ہے کہ نہج البلاغۃ علی ابن ابی طالب کا کلام ہے۔ [8]؎

جواب: اگرچہ نہج البلاغۃ پر ہونے والے تمام اعتراضات بیہودہ اور غلط ہیں بلکہ یہ اعتراض تمام اعتراضات سے زیادہ ؟؟ ہے۔ کیونکہ کیسے ممکن ہے کہ ہم آنکھیں بلند کرکے کہہ دیں: چونکہ اس عنوان سے ؟؟؟؟ بہت لوگوں آشنا ہوئے ہیں پس اللہ کے ولی اور رسول اللہ کے علم کے دروازہ کو بھی اس سے لا علم ہونا چاہتے جبکہ عام انسان زندگی کے لحاظ سے ’’بچپن سے پیغمبر کے ساتھ ہمیشہ رہتے تھے اور عظیم اور قیمتی تجربات نوجوان اور جوانی میں پیغمبر اکرم ﷺسے حاصل کیا تھا۔ اور خواہ حقیقت کے لحاظ سے وہ اللہ کی حجت اور ولی خدا ہیں اور جیسا کہ ہم تاریخ میں مشاہدہ کرتے ہیں پیغمبر کی رحلت کے بعد اہم حادثات پیش آئے اور فقیہ صحابہ کے درمیان الٰہی حکم کے سلسلے میں شدید اختلاف پیدا ہونے اور ہر ایک دوسرے کا انکار کرتا تھا اور کتنے خون ناحق بہائے گئے اور لوگوں کے کتنے مال اور اسباب لوٹے گئے۔

اور لوگوں کے کتنے حقوق پامال کئے گئے۔ کیا یہ تمام چیزیں کافی نہیں ہیں کہ مولا حاکم کے شرائط اور حکومتی کارندوں کی کمیوں پر تنقید کریں اور لوگوں کے حقوق کا دفاع کریں؟ اور خائن گورنروں اور فاسق ججوں اور دین فروش علماء کے بارے میں جب بھی موقع ملتا اور پیغمبر کا حکم جو جان کی حفاظت پر مبنی تھا اس کا لحاظ کرتے ہوئے امام کو جب بھی مناسب موقع ملتا تھا ان چیزوں کے تعلق مناسب رویہ اپناتے تھے؟

اس لحاظ سے اس اعتراض میں بھی کوئی دم نہیں ہے

اعتراض

 چونکہ نہج البلاغۃ کے ایک خطبے اور مختصر کلمات کی نسبت دوسروں کی طرف بھی نسبت دی گئی ہے من جملہ (حکمت ۲۸۹)

كَانَ لِي فِيمَا مَضَى أَخٌ فِي اللَّهِ وَ كَانَ يُعْظِمُهُ فِي عَيْنِي صِغَرُ الدُّنْيَا فِي عَيْنِهِ…[9]؎

ابن مقنع سے بھی نقل ہوا ہے۔ عبداللہ ابن مقنع مشہور ادیب، اصادق ایرانی سے اور مجوسی تھا اور عیسی ابن علی (خلیفہ منصور عباسی کا چچا) کے ذریعہ اسلام لایا اور (روزہ بد) نام کو بدل کر عبداللہ رکھ لیا۔ اور ابن ابی العوجاء مشہور کافر کا دوست تھا اور عربی میں چند کتابیں تالیف کیا ہے من جملہ:

الدوہ الیتیمہ فی طاعۃ الملوک والادب الصغیر والادب الکبیر

اور اپنی کتاب میں (حکمت ۲۸۹) کان لی فیما مضی اخ

کو بھی علیہ السلام کی طرف نسبت دیئے بغیر ذکر کیا ہے۔

کلیۃ اور دعنہ کتاب کو عربی میں ترجمہ کیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خود یہ کتاب تالیف کیا ہے۔ ۱۴۳ ہجرہ میں بصرہ شہر میں منصور (عباسی خلیفہ) کے حکم سے سفیان بن معاویہ بن المہلب کے ذریعہ سے بصرہ کا گورنر کا قتل ہوا۔

اور اسی طرح خطبہ (۲۰۳) :

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الدُّنْيَا دَارُ مَجَاز……[10]؎

اعتراض

سوہان ابن وائل نے بھی روایت کیا ہے۔ سوہان ابن وائل معاویہ کے زمانے میں ایک مشہور خطیب تھا اور دمشق میں رہتا تھا۔

اس لحاظ سے یہ نہیں لگتا کہ تمام خطبے امام علی ﷣ کا کلام ہو۔ خاص طور سے ان میں سے بہت سے خطبے ادب کی مشہور کتابوں میں نہیں پائے جاتے ہیں۔ [11]؎

جواب: اول: یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ سید رضی رحمہ اللہ بغیر معتبر سند کے اس کلام کی نسبت علی علیہ السلام کی طرف دیں۔

دوسرے: بعض متولفین نے بھی ان خطبوں کو ابن المقنع سے منسوب نہیں کیا ہے بلکہ ابن قتیبہ (عیون اخبار ج ۲ ص ۳۵۵) میں اپنی سند سے تھوڑے الفاظ میں فرق کے ساتھ امام حسن ﷣ سے نقل کیا ہے اور اسیابن شعبہ جرانی (تحف العقول ۲۳۴) میں تھوڑے فرق کے ساتھ امام حسن ﷣ سے منسوب قرار دیا ہے، خطیب بغدادی نے بھی (تاریخ بغداد ج ۱۲ ص ۳۱۵) میں اپنی سند اور خطبہ کو حسن ﷣ سے نقل کیا ہے۔

لیکن زمخشری (ربیع الابرار ج ۱ باب الخیر والصلاح) میں اسی خطبہ کو امام علی ﷣ سے روایت کیا ہے۔

کسی بھی صورت میں چاہے یہ کلام امام حسن ﷣ کا ہو یا ان کے پدر بزرگوار کا ہو۔ پاکیزہ سرچشمہ سے لیا گیا ہے، اور ابن المقنع میں اس طرح کی گفتگو کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

یہ بات مخفی نہ رہے کہ: ابن میثم بحرانی نہج البلاغۃ کی شرح میں ج ۵ ص ۳۸۹ میں کہا ہے کہ اس کلام کو ابن المقنع نے امام حسن ﷣ سے نقل کیا ہے۔

(3)    ابن الحدید معتزلی (شرح نہج البلاغۃ ج ۱۹ ص ۱۸۴) میں اس کلام کی نسبت علی ﷣ سے دیا ہے اور کہتا ہے کہ (………لوگوں نے امیر المؤمنین کے اس کلام میں بھائی سے مراد کون ہے؟ اختلاف کیا ہے اور پر متعدد احتمالات کو نقل کرتال ہے، اور یہ خود یوں ہے کہ اس کلام کی نسبت امام ﷣ سے یقینی اور مشہور تھی اور اگرچہ کلام ابن المقنع سے بھی منسوب کیا گیا ہوتا تو ابن الحدید دوسرے اختلاف کے مصداق کی ط۔رح بیان کیا ہوتا۔ اور شاید یہ کلام امام علی ﷣ یا امام حسن ﷣ کے نام سے مشہور ہونے کی بناء پر ابن المقنع نے اپنی کتاب میں نسبت دئے بغیر نقل کیا ہے، پھر اس نے سنت کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن امین ہاتھوں!! گذشتہ لوگوں کی کتاب چھاپنے میں حذف کردیا ہے۔

(4)    چونکہ امیر المؤمنین ﷣ کے کلام لوگوں کے درمیان بہت مشہور تھے، اور خطباء اپنی تقریروں میں انھیں استعمال کرتھے تھے یا کچھ خطبوں کو نقل کرنے میں اکتفا کرتے تھے، ؟؟؟ غفلت یا کسی اور وجہ سے امام علی ﷣ کا نام نہیں لیتے تھے۔

شیخ محمد علی یوز اساتذہ میں سے ایک (ععہد (کالج) الحیاۃ) جزائر میں ؟؟ رباضیہ فرقہ میں سے تھا اپنی کتاب (تاریخ العرب) ج ۳ ص ۵۸۸ ابن اصغیر سے نقل کرتے کہتا ہے ۔ اباضی حکمرانوں نے (رستمی حکومت) میں تما مذہاب اور فرقوں کو مکمل آزادی دے رکھی تھی اور چونکہ وہ لوگ بھی علی ابن ابی طالب سے بہت زیادہ محبت رکھتے تھے اور امام کی بہت زیادہ تعریف کرتے تھے اور امام کی فصاحت و بلاغت سے بہت زیادہ حیرت زدہ تھے اس وہ سے واعظین اور خطباء منبروں سے جمعہ اور جماعت میں منبروں امام کے خطبہ پڑھتے تھے ………)

اس لحاظ سے اگر ابن المقنع نے امام کے بعض خطبوں کو اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے تو وہ بھی اسی وجہ سے تھا کیونکہ وہ بھی امام کی فصاحت اور بلاغت سے حیرت زندہ تھا اور خاص طور سے اس نے اپنی کتاب (الادب الصغیر) کے شروع میں کہتا ہے کہ………

و قد وضعت فی ہٰذا الکتاب من کلام الناس المحفوظ حروفاً فیہا : رباب عون علی عمادۃ القلوب و صقالہا …

یعنی میں نے اس کتاب میں ان خطبوں سے جو لوگوں کو یاد تھے (لوگوں کے نزدیک محفوظ ہے) کچھ کلمات کو لایا ہوں جو دلوں کو زندہ اور پاکیزہ کرنے کا سرمایہ ہے۔[12]؎

استاذ محمد علی کرد کی باتیں بھی ایک دوسری دلیل اس بات پر ہے وہ اپنی کتاب (امراد الہان ج ۱ ص ۵۱۰) پر کہتے ہیں۔

ان ابن المقنع تخرج فی البلاغۃ یخطب علی ابن ابی طالب ۔

ابن مقنع نے بلاغۃ کو علی ابن ابی طالب کے خطبوں سے سیکھا ہے۔

اس لحاظ سے یہ اعتراض (حکمت ۲۸۹) پر بھی بجا نہیں ہے۔



[1]        اترا تشیع فی الادب العربی ص ۶۱

[2]        سورہ نساء،آیت ۷۸

[3]        سورہ انبیاء، آیت ۳۵

[4]        سورہ رحمن آیت ۲۶

[5]        سورہ قصص آیت ۸۸

[6]        تحف العقول ص ۲۶

[7]        شرح نہج البلاغۃ ابن ابی الحدید ج ۱۱ ص ۱۵۳

[8]        اترا تشیع فی الادب العربی ص ۸۶

[9]        نہج البلاغۃ ۵۵، ص ۳۳۲

[10]      نہج البلاغۃ ص ۵۵۵ ۔ ۲۳۲

[11]      ترجمہ علی ابن ابی طالب (تالیف احمد ذکی صفوت ص ۱۲۲

[12]      (مدارک نہج البلاغۃ) میں نقل ۲۶۸؟