قدیم مورخین Ù†Û’ جن روایتوں کو امیر المومنین کی شہادت Ú©Û’ بارے میں نقل کیا ہے اور شیعہ و سنی دونوں Ù†Û’ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ علی خوارج کی سازش سے شہید کئے گئے ہیں۔

ان روایتوں کو تھوڒے سے اختلاف Ú©Û’ ساتھ تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی، ارشاد مفید، طبقات ابن سعد جیسی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے اور بلاذری و واقدی Ù†Û’ بھی انہیں نقل کیا ہے۔ ان تمام روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جنگ نہروان کا خونی طوفان تھما تو خوارج Ú©Û’ کچھ لوگ آپس میں جمع ہوئے اور مرنے والوں پر گریہ کرنا شروع کر دیا۔ روتے جاتے اور مرنے والوں کی عبادت و طاعت اور ان کی پارسائی کا ذکر بھی کرتے جاتے۔ پھر کہتے تھے یہ سارا فتنہ تین لوگوں کی وجہ سے ہورہا ہے: (Û±) علی، (Û²) عمرو عاص (Û³) معاویہ۔ اور جب تک یہ تین افراد زندہ ہیں مسلمانوں Ú©Û’ امور کی اصلاح نہیں ہو سکتی ہے۔ اس گروہ میں سے تین لوگوں Ù†Û’ تینوں کو قتل کرنے کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر Ù„Û’ لی۔

(Û±)        عبد الرحمن بن ملجم Ù†Û’ حضرت علی کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔

(Û²)        برک بن عبد اللہ Ù†Û’ معاویہ کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی اور

(Û³)        عمرو بن بکر تمیمی Ù†Û’ عمرو بن عاص کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔

کہنے Ù„Ú¯Û’: اور اس کام کو پایہٴ تکمیل تک پہونچانے Ú©Û’ لئے ماہ رمضان کا انتخاب کیا جائے اس لئے کہ یہ لوگ ماہ رمضان میں مسجد میں آتے ہیں اور اس Ú©Û’ لئے Û±Û±/ یا Û±Û³/ یا Û±Û·/ ویں شب یا جیسا کہ شیعوں Ú©Û’ نزدیک مشہور ہے شب Û±Û¹/ ویں ماہ رمضان کو معین کیا۔ ان شبوں کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ ان راتوں میں مسجد میں آنے Ú©Û’ لئے یہ لوگ ناگزیر تھے، بہر حال جس Ù†Û’ عمرو عاص کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی تھی اس Ù†Û’ عمرو Ú©Û’ بجائے اسے قتل کر دیا جو اس دن عمرو عاص کی جگہ نماز پڒھانے آیا تھا۔ اور جو معاویہ کو مارنے آیا تھا اس کی تلوار معاویہ Ú©Û’ ران پر پڒی، زخمی ہوا مگر دوا و علاج سے اپنے کو جانبر کر لیا۔ مگر ابن ملجم Ù†Û’ اپنی بری نیت پر عملی جامہ پہنا دیا…!!!؟؟

مگر کیا داستانِ قتل صحیح ہے؟

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی امیر المومین کی شہادت سے متعلق جو داستان بیان کی گئی ہے وہ واقعی صحیح ہے؟

جواب یہ ہے کہ یہ داستان درست نہیں ہے اور آغاز ہی سے اس داستان Ú©Û’ جعلی ہونے کی نشانیاں واضح و آشکار رہی ہیں۔

ماہر داستان نویس Ù†Û’ اپنے خیال میں لکھا کہ ماہ رمضان میں یہ تینوں مسجد میں آتے ہیں اور شب Û±Û¹/ ویں میں انکا آنا یقینی ہے۔

امیر المومنین علی کو شب انیسویں میں ابن ملجم Ú©Û’ ذریعہ ضربت لگی ہے اس میں کوئی تردید نہیں پائی جاتی ہے۔ مگر وہ شخص جو عمرو عاص کو قتل کرنے گیا تھا اس Ù†Û’ بجائے عمرو عاص Ú©Û’ اش شخص کو کیوں قتل کیا جس کا نام خارجہ تھا؟ کیا عمرو عاص کوئی ایسا انسان تھا جو قاتل Ú©Û’ لئے غیر معروف تھا یا وہ اسے پہچان نہ سکا؟ آخر اس رات عمرو عاص مسجد کیوں نہیں گیا؟ کسی Ù†Û’ اسے قاتل کی سازش سے آگاہ کر دیا تھا؟

اس سلسلہ میں جو بات واقعی اور صحیح طور سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ اس سازش کا پہلے اچھی طرح جائزہ لینا چاہئے۔ اس لئے کہ اسکا جال کوفہ اور دمشق تک پھیلا ہوا ہے۔ جیسا کہ لکھا گیا ہے کہ معاویہ کو معلوم تھا کہ جب تک علی زندہ ہیں اس وقت تک خلافت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اشعث بن قیس بھی جیسا کہ معلوم ہے کہ امیر المومنین علی سے قلبی طور سے راضی نہیں تھا۔ ابن ابی الدنیا متوفی ۲۸۱ئھ Ù†Û’ اپنی کتاب مقتل امام امیر المومنین علی بن ابی طالب میں اپنے اسناد Ú©Û’ ساتھ عبد الغفار بن قاسم انصاری سے نقل کیا ہے: (اور یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ کتاب طبری اور یعقوبی سے بھی قدیم ہے):

“میں Ù†Û’ بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ اس رات ابن ملجم اشعث Ú©Û’ پاس تھا اور جب سحر کا وقت ہو گیا تواس سے کہا صبح آشکار ہو گئی ہے۔”

اگر ان تینوں Ù†Û’ آپس میں اس طرح کا پروگرام بنایا تھا تو پھر ابن ملجم اشعث Ú©Û’ ساتھ اس رات مسجد میں کیا کر رہا تھا، کیوں وہاں باتیں ہو رہی تھیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ جو شخص خفیہ طور سے علی کو قتل کرنا چاہتا ہے وہ اپنے راز کو دوسرے (وہ بھی اشعث جیسے) شخص سے بیان کرے؟!! بلاذری Ù†Û’ انساب الاشراف میں نقل کیا ہے:

کہتے ہیں: ابن ملجم اس رات اشعث بن قیس Ú©Û’ ساتھ تھا اور وہ اس سے رازدارانہ انداز میں باتیں کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اشعث Ù†Û’ کہا: اٹھ کہ صبح نمودار ہو گئی ہے۔ (جلدی کر کہیں لوگ صبح کی روشنی میں تجھے پہچان نہ لیں)Û” حجر بن عدی Ù†Û’ جب اس کی بات سنی تو عرض کیا: ‘اے ایک آنکھ کا نابینا انھیں قتل کردیا۔‘

(انساب الاشراف، ص ۴۹۳)

اور لوگوں Ù†Û’ یہ بھی نقل کیا : جب ابن ملجم Ù†Û’ صبح میں علی Ú©Û’ فرق اقدس پر ضرب لگا دی تو اشعث Ù†Û’ اپنے بیٹے کو علی Ú©Û’ گھر بھیجا اور کہا دیکھو انکا کیا حال ہے؟ اس Ù†Û’ Ø¢ کر بیان کیا: ان کی آنکھیں دھنس چکی ہیں۔ تب اشعث Ù†Û’ کہا: خدا کی قسم یہ آنکھیں بتا رہی ہیں کہ ان Ú©Û’ دماغ تک آسیب پہونچ چکا ہے۔

(مقتل الامام امیر المومنین، ص ۳۷؛ طبقات ابن سعد، ج ۳، ص Û³Û·)

میں مؤرخ معاصر اباضی شیخ سلیمان یوسف بن داؤد کی طرح سے نہیں کہنا چاہتا کہ خوارج علی Ú©Û’ دوست تھے۔ اور وہ قتل میں شریک نہیں تھے۔ اس لئے کہ قبیلہٴ بنی مراد جس سے ابن معجم کی نسبت پائی جاتی ہے وہ خوارج کی فہرست میں آتے ہی نہیں ہیں۔ اور ابن ملجم اور ان دونوں کی داستان کارخانہٴ معاویہ Ú©Û’ قصہ پردازان کی طرف سے ساختہ و پرداختہ ہے تاکہ لوگوں سے حقیقت کو چھپا یا جا سکے… مگر ایک بات بہر حال مسلم ہے کہ اگر کوئی یہ بات کہے کہ علی کی شہادت کی سازش وہ نہیں ہے جو لوگوں کی زبان پر مشہد ہے تو میں اس کی بات کو حقیقت سے دور نہیں مانتا ہوں… اور یہ بات پھر عرض کر رہا ہوں کہ یہ احتمال اپنی جگہ باقی ہے کہ اگر اس سازش Ú©Û’ تار بغور نظر ڈالیں Ú¯Û’ تو اسکا ایک گوشہ کوفہ میں اشعث بن قیس کی طرف نظر آیگا اور دوسرا گوشہ دمشق میں معاویہ پر تمام ہوگا… اس لئے کہ یہ بات گذر چکی ہے کہ اشعث علی سے خوش نہیں تھا کیوں کہ علی Ù†Û’ اسے حکومت سے بے دخل کر دیا تھا اور منبر سے اسے منافق اور کافر کا بیٹا کہہ کر بھی تعارف کرا Ú†Ú©Û’ تھے۔

علامہ شہرستانی Ù†Û’ لکھا ہے: علی سے بغاوت کرنے والوں میں اشعث سب سے زیادہ سخت اور دین سے منحرف ہونے والوں میں سب سے Ø¢Ú¯Û’ تھا۔

(الملل و النحل، ج ۱، ص ۱۷۰؛ علی از زبان علی یا زندگانی امیر المومنین ص ۱۵۷، ڈاکٹر سید جعفر شہیدی، نقل از خبرگزاری شبستان)