لغت میں لعنت Ú©Û’ معنی ہیں دور کر دینا۔ الگ کر دینا۔

لَعْنَہ لَعْنًا: طَرَدُہ وَ اَبْعَدَہ عَنِ الْخَیْرِ

لعنت کرنا: اس کو اپنے سے دور کر دیا اس کو خیر سے دور کر دیا۔

(مفردات، ص ۴۲۲، مجمع البحرین، ج Û±-۲، ص Û´Û°Û´)

اصطلاح میں لعنت Ú©Û’ معنی ہیں کسی کو خدا کی رحمت سے دور ہونے کی بد دعا کرنا۔ لعنت درود و سلام Ú©Û’ برخلاف ہے۔ سلام یعنی کسی Ú©Û’ لئے اللہ کی رحمت کی دعا کرنا۔ صلوات اور لعنت تولیٰ اور تبریٰ Ú©Û’ اظہار کا ذریعہ ہے۔ جو ایک دوسرے Ú©Û’ ساتھ ساتھ ہیں۔

طریحی Ù†Û’ کہا ہے: لعنت یعنی کسی کو غصہ سے دور کرنا۔ ملعون: وہ جو آخرت میں خدا Ú©Û’ عذاب میں گرفتا رہوگا اور دنیا میں اللہ کی رحمت اور اس کی توفیق سے محروم رہے گا۔

اَللَْعْنُ: اَلطَْرْدُ وَ الْاَبْعَادُ عَلٰي سَبِیْلِ الْسَْخَطِ وَ ذٰلِکَ مِنَ اللهِ تَعَالٰي فِيْ الْآخِرَةِ عُقُوْبَةٌ، وَ فَيْ الدُْنْیَا اِنْقِطَاعُ مِنْ قُبُوْلِ رَحْمَتِہ وَ تَوْفِیْقِہ۔

(مآخذ سابق)

لعنت کی بحث ان مباحث میں ہے جو فریقین Ú©Û’ درمیان کچھ مشترک اور بعض مختلف نقاط کی حامل ہے۔ اصل لعنت کا تو کوئی بھی انکار نہیں کرتا ہے کیونکہ اس کا ذکر قرآن کریم کی آیتوں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی معتبر و مستند حدیثوں میں موجود ہے۔ لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کچھ لوگ ان ملعونین پر لعنت بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں یا روکتے ہیں جن پر خدا و رسول Ù†Û’ لعنت کی ہے اور ان لوگوں سے دوستی کا اظہار کرتے ہیں جو خدا و رسول Ú©Û’ دشمن ہیں۔ یہ شخصیت پرستی میں اختلاف کا سبب ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں لعنت کا جائزہ لیتے ہیں۔

قرآن اور لعنت

قرآنی آیتوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ابلیس پر لعنت

وَْ اِنَْ عَلَیْکَ اللَْعْنَةَ اِلٰي یَوْمِ الدِْیْنِ

یقینا تجھ پر قیامت Ú©Û’ دن تک لعنت ہے۔

(سورہ حجر، آیت ۳۵)

وَْ اِنَْ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْٔ اِلٰی یَوْمِ الدِْیْنِ

اور یقینا قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے۔

(سورہ ص، آیت ۷۸)

خدا Ù†Û’ اس پر لعنت کی (اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا) اس پر شیطان Ù†Û’ کہا میں تیرے بندوں میں اپنا ایک مخصوص حصہ ضرور لوں گا۔

Û²Û” کافروں پر لعنت

الف: عمومی لعنت

اِنَْ اللهَ لَعَنَ الْکَافِرِیْنَ وَ اَعَدَْ لَہُمْ سَعِیْرًا۔

یقینا خداوند عالم Ù†Û’ کافروں پر لعنت کی ہے۔ (ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے) اوران Ú©Û’ لئے جلا دینے والا عذاب مہیا کیا ہے۔

(سورہ احزاب، آیت ۶۴)

اِنَْ الَْذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَْارٌ اُولَآئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَةٌ اللهِ وَالْمَلَآئَکَةِ وَالنَْاسِ اَجْمَعِیْنَ۔

وہ لوگ جنہوں Ù†Û’ کفر اختیار کیا اور کفر کی حالت میں مر گئے ان پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

(سورہ بقرہ، آیت ۱۶۱)

وَعَدَ اللهُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَْارَ نَارَ جَہَنَْمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا، ہِیَ حَسْبُہُمْ، وَ لَعَنَہُمُ اللهُ، وَلَہُمْ عَذَابٌ مُْقِیْمٌ۔

خداوند عالم Ù†Û’ منافق مردوں، منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی Ø¢Ú¯ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنگے۔ یہ ان Ú©Û’ لئے کافی ہے اور خدا Ù†Û’ ان پر لعنت کی ہے اور ان Ú©Û’ لئے ابدی عذاب ہے۔

(سورہ توبہ، آیت ۶۸)

ب۔ جو لوگ ایمان لانے Ú©Û’ بعد کافر ہو گئے

کَیْفَ یَہْدِی اللهُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِہِمْ وَ شَہِدُوْآ اَنَْ الرَْسُوْلَ حَقٌْ وَْ جَآئَہُمُ الْبَیِْنَاتُ، وَاللهُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَْالِمِیْنَ۔ اُولٰٔئِکَ جَزَآوٴُہُمْ اَنَْ عَلَیْہِمْ لَعْنَةَ اللهِ وَالْمَلَآئِکَةِ وَالنَْاسِ اَجْمَعِیْنَ۔

خدا ان لوگوں کی کیونکر ہدایت کرے گا جو ایمان لانے Ú©Û’ بعد کافر ہو گئے۔ انہوں Ù†Û’ رسول کی حقانیت کی گواہی دی تھی اور ان Ú©Û’ پاس روشن دلیلیں آئیں تھیں اور خدا ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔ ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

(سورہ آل عمران، آیات Û¸Û¶-Û¸Û·)

ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان کو خدا، ملائکہ اور تمام لوگ اپنے سے دور کر دیں اور عذاب کی دعا کریں۔

ج۔قوم عاد Ú©Û’ کافر

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ ہٰذِہِ الدُْنْیَا لَعْنَةً وَْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، اَلَآ اِنَْ عَادًا کَفَرُوْا رَبَْہُمْ، اَلاَ بُعْدًا لِْعَادٍ قَوْمِ ہُوْدٍ۔

ان Ú©Û’ لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ لعنت ہے کیونکہ عاد اپنے رب سے کفر کیاہاں قوم ہود Ú©Û’ عاد رحمت الٰہی سے دور ہیں۔

(سورہ ہود، آیت ۶۰)

د۔ قوم فرعون Ú©Û’ کافر

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ ہٰذِہ لَعْنَةً وَْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، بِئْسَ الرِْفْدُ الْمَرْفُوْدُ۔

ان Ú©Û’ لئے دنیا و آخرت دونوں جگہ لعنت ہے اور بڒا برا برتاو کیا جائیگا۔

(سورہ ہود، آیت ۹۹)

وَ اَتْبَعْنَاہُمْ فِیْ ہَاذِہِ الدُْنْیَا لَعْنَةً، وَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ہُمْ مِْنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۔

اور ہم Ù†Û’ دنیا میں بھی لعنت ان Ú©Û’ ساتھ ساتھ قرار دی ہے اور قیامت میں ان کی شکلیں نہایت بدترین ہوں گی۔

(سورہ قصص، آیت ۴۲)

Ú¾Û” بنی اسرائیل Ú©Û’ کافر

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ، بَلْ لَْعَنَہُمُ اللهُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیْلاً مَْا یُوٴْمِنُوْنَ۔ وَ لَمَْا جَآءَ ہُمْ کِتَابٌ مِْنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِْقٌ لِْمَا مَعَہُمْ، وَ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَْذِیْنَ کَفَرُوْا، فَلَمَْا جَآءَ ہُمْ مَْا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہ، فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔

اور کہتے ہیں ہمارے تو دل پر پردہ پڒا ہوا ہے۔ (اس لئے ہم کچھ سمجھتے نہیں ہیں) بلکہ خدا Ù†Û’ ان Ú©Û’ کفر کی بنا پر ان پر لعنت کی ہے۔ان میں بہت Ú©Ù… لوگ ایمان لائینگے۔ اور جب ان Ú©Û’ پاس خدا کی طرف سے کتاب آئی جو ان Ú©Û’ پاس موجود چیزوں کی تصدیق کرتی تھی۔ (ان کی علامتوں Ú©Û’ مطابق تھی) اس سے پہلے یہ لوگ انہیں باتوں Ú©Û’ ذریعہ کافروں پر فتح حاصل کرتے تھے۔ لیکن جب ان Ú©Û’ پاس وہ چیز آئی جس کو وہ اچھی طرف پہچانتے تھے تو اس کا انکار کرنے Ù„Ú¯Û’ کافر ہو گئے تو خدا کی لعنت ہے کافروں پر۔

(سورہ بقرہ، آیات ۸۸-۸۹)

فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِْیْثَاقَہُمْ لَعَنَْاہُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قَاسِیَةً، یُحَرِْفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَْوَاضِعِہ، وَ نَسُوْا حَظًْا مِْمَْا ذُکِْرُوْا بِہ، وَلاَ تَزَالُ تَطَْلِعُ عَلٰيخَآئِنَةٍ مِْنْہُمْ اِلاَْ قَلِیْلاً مِْنْہُمْ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ، اِنَْ اللهَ یُحِبُْ الْمُحْسِنِیْنَ۔

ان Ú©Û’ عہد و پیمان توڒنے کی بنا پر ہم Ù†Û’ ان پر لعنت کی ہے اور ان Ú©Û’ دلوں کو سخت بنا دیا ہے۔ یہ لوگ خدا Ú©Û’ کلام میں تحریف کرتے تھے اس کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتے تھے اور جو چیزیں ان کو یاد دلائی گئی تھیں ان کو بھلا بیٹھے۔ آپ ہمیشہ ان کی خیانتوں سے آگاہ ہوتے رہینگے صرف کچھ ہی لوگ اس طرح نہیں ہیں آپ ان کو معاف کر دیجئے۔ خداوند عالم احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(سورہ مائدہ،آیت Û±Û³)

قُلْ ہَلْ اُنَبِْئُکُمْ بِشَرٍ مِْنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللهِ، مَنْ لَْعَنَہُ اللهُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَ جَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَْاغُوْتَ، اُولٰٔئِکَ شَرٌْمَْکَانًا وَْ اَضَلُْ عَنْ سَوَآءِ السَْبِیْلِ۔

آپ فرما دیجئے کیا میں تمہیں ان لوگوں Ú©Û’ بارے میں نہ بتاؤں جو خدا Ú©Û’ نزدیک بہت زیادہ برے ہیں وہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا Ù†Û’ لعنت کی ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان میں بندر اور سور اور طاغوت کی عبادت کرنے والے قرار دیتے ہیں یہ ان لوگوں میں ہیں جن کا ٹھکانہ بہت خراب ہے اور یہ سیدھے راستے سے گمراہ ہو گئے ہیں۔

(سورہ مائدہ، آیت Û¶Û°)

لُعِنَ الَْذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٔ اِسْرَآئِیْلَ عَلٰيلِسَانِ دَاودَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ، ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَْ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔

جناب داؤد اور عیسیٰ بن مریم Ù†Û’ بنی اسرائیل Ú©Û’ کافروں پر لعنت کی ہے اور یہ ان کی گناہوں اور سرکشی کی بنا پر۔

(سورہ مائدہ، آیت Û·Û¸)

الْمَرْفُوْدُ۔

ان Ú©Û’ لئے دنیا و آخرت دونوں جگہ لعنت ہے اور بڒا برا برتاو کیا جائیگا۔

(سورہ ہود، آیت ۹۹)

ہُمْ مِْنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۔

اور ہم Ù†Û’ دنیا میں بھی لعنت ان Ú©Û’ ساتھ ساتھ قرار دی ہے اور قیامت میں ان کی شکلیں نہایت بدترین ہوں گی۔

(سورہ قصص، آیت ۴۲)

ÙˆÛ” اہل کتاب Ú©Û’ کافر

وَ لَمَْا جَآءَ ہُمْ کِتَابٌ مِْنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِْقٌ لِْمَا مَعَہُمْ، وَ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَْذِیْنَ کَفَرُوْا، فَلَمَْا جَآءَ ہُمْ مَْا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہ، فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ۔

اور جب ان Ú©Û’ پاس اللہ کی وہ کتاب آئی جو ان Ú©Û’ پاس موجودہ چیزوں کی تائید و تصدیق کرتی تھی اور اس سے پہلے جن باتوں Ú©Û’ ذریعہ وہ کافروں پر برتری اور فتح حاصل کرتے تھے۔ جب یہ شناخت شدہ چیزیں ان Ú©Û’ پاس آئیں تو اس کا انکار کرنے Ù„Ú¯Û’ تو پھر کافروں پر خدا کی لعنت ہے۔

(سورہ بقرہ، آیت ۸۹)

مِنَ الَْذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِْفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَْوَاضِعِہ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَْرَاعِنَا لَیًْا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِی الدِْیْنِ، وَلَوْ اَنَْہُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَکَانَ خَیْرًا لَْہُمْ وَ اَقْوَمَ، وَ لٰکِنْ لَْعَنَہُمُ اللهُ بِکُفْرِہِمْ فَلاَ یُوٴْمِنُوْنَ اِلاَْ قَلِیْلاً۔ یَآاَیُْہَا الَْذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتَابَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَْلْنَا مُصَدِْقًا لِْمَا مَعَکُمْ مِْنْ قَبْلِ اَنْ نَْطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَْہَا عَلَآی اَدْبَارِہَآ اَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَْآ اَصْحَابَ السَْبْتِ، وَکَانَ اَمْرُ اللهِ مَفْعُوْلاً۔

بعض یہودی (اللہ Ú©Û’) کلمات کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم Ù†Û’ سنا اور نافرمانی کی۔ سنی ان سنی کر دو۔ وہ طعنہ Ú©Û’ طور پر “راعنا” کہتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس طرح کہتے کہ ہم Ù†Û’ سنا اور اطاعت کی۔ آپ بھی سنئے اور ہماری طرف توجہ فرمایئے۔ تو یہ ان Ú©Û’ لئے بہتر اور پائیدار تھا۔ لیکن خدا Ù†Û’ ان Ú©Û’ کفر کی بنا پر ان پر لعنت کی ان میں سے بہت Ú©Ù… لوگ ایمان لائینگے…… اے وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے۔ جو ہم Ù†Û’ نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ ان باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس موجود ہیں۔ قبل اس Ú©Û’ کہ ہم تمہاری صورتیں سیاں کر دیں اور پھر اس کو الٹا کر دیں اور ہم اس طرح تم پر لعنت کریں جس طرح اصحاب سبت پر لعنت کی تھی اور خدا کا یہ کام ہوجانے والا ہے۔

(سورہ نساء، آیات ۴۶-۴۷)

وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللهِ مَغْلُوْلَةٌ، غُلَْتْ اَیْدِیْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا، بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتَانِ، یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآءُ، وَلَیَزِیْدَنَْ کَثِیْرًا مِْنْہُمْ مَْآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَْبِْکَ طُغْیَانًا وَْ کُفْرًا، وَاَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغَضَآءَ اِلٰي یَوْمِ الْقِیَامَةِ، کُلَْمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِْلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللهُ، وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا، وَاللهُ لاَ یُحِبُْ الْمُفْسِدِیْنَ۔

اور یہودی کہتے ہیں کہ اللہ Ú©Û’ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں خود ان Ú©Û’ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان Ú©Û’ اس کہنے کی بنا پر ان پر لعنت ہے بلکہ خدا Ú©Û’ دونوں ہاتھ Ú©Ú¾Ù„Û’ ہوئے ہیں وہ جیسا چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جو کچھ ان کی طرف آپ Ú©Û’ پروردگار Ù†Û’ نازل کیا اس سے ان Ú©Û’ کفر اور سرکشی میں اضافہ ہوا۔ ہم Ù†Û’ ان Ú©Û’ درمیان عداوت و بغض ڈال دیا ہے۔ اور یہ قیامت تک رہے گا۔ ان لوگوں Ù†Û’ جب بھی جنگ کی Ø¢Ú¯ روشن کی اللہ Ù†Û’ اس کو خاموش کر دیایہ لوگ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

(سورہ مائدہ، آیت Û¶Û´)

Û³Û” مشرکین پر لعنت

وَْ یُعَذِْبَ الْمُنَافِقِیْنَ وَ الْمُنَافِقَاتِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ وَ الْمُشْرِکَاتِ الظَْآنِْیْنَ بِاللهِ ظَنَْ السَْوْءِ، عَلَیْہِمْ دَآئِرَةُ السَْوْءِ، وَ غَضِبَ اللهُ عَلَیْہِمْ وَ لَعَنَہُمْ وَ اَعَدَْ لَہُمْ جَہَنَْمَ، وَ سَآئَتْ مَصِیْرًا۔

خداوند عالم منافق مردوں، منافق عورتوں پر، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں پر اور ان لوگوں پر جو خدا Ú©Û’ بارے میں برا خیال رکھتے ہیں ان پر عذاب نازل کرے گا اور ان کو برے چکر میں گرفتار کرے گا ان لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان پر اس کی لعنت ہے اور ان Ú©Û’ لئے جہنم آمادہ کیا ہے کتنا برا انجام ہے۔

(سورہ فتح، آیت ۶)

Û´Û” اہل کتاب Ú©Û’ مختلف گروہ پر لعنت

الف۔ اصحاب السبت

قُلْ ہَلْ اُنَبِْئُکُمْ بِشَرٍ مِْنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللهِ، مَنْ لَْعَنَہُ اللهُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَ جَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَْاغُوْتَ، اُولٰٔئِکَ شَرٌْمَْکَانًا وَْ اَضَلُْ عَنْ سَوَآءِ السَْبِیْلِ۔

آپ فرما دیجئے کیا میں تمہیں ان لوگوں Ú©Û’ بارے میں نہ بتاؤں جو خدا Ú©Û’ نزدیک بہت زیادہ برے ہیں وہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا Ù†Û’ لعنت کی ہے اور ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان میں بندر اور سور اور طاغوت کی عبادت کرنے والے قرار دیتے ہیں یہ ان لوگوں میں ہیں جن کا ٹھکانہ بہت خراب ہے اور یہ سیدھے راستے سے گمراہ ہو گئے ہیں۔

(سورہ مائدہ، آیت Û¶Û°)

ب۔ وہ لوگ جو اس بات Ú©Û’ قائل ہیں کہ خدا Ú©Û’ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں

وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللهِ مَغْلُوْلَةٌ، غُلَْتْ اَیْدِیْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا، بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتَانِ، یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآءُ، وَلَیَزِیْدَنَْ کَثِیْرًا مِْنْہُمْ مَْآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَْبِْکَ طُغْیَانًا وَْ کُفْرًا، وَاَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغَضَآءَ اِلٰي یَوْمِ الْقِیَامَةِ، کُلَْمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِْلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللهُ، وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا، وَاللهُ لاَ یُحِبُْ الْمُفْسِدِیْنَ۔

اور یہودی کہتے ہیں کہ اللہ Ú©Û’ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں خود ان Ú©Û’ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان Ú©Û’ اس کہنے کی بنا پر ان پر لعنت ہے بلکہ خدا Ú©Û’ دونوں ہاتھ Ú©Ú¾Ù„Û’ ہوئے ہیں وہ جیسا چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جو کچھ ان کی طرف آپ Ú©Û’ پروردگار Ù†Û’ نازل کیا اس سے ان Ú©Û’ کفر اور سرکشی میں اضافہ ہوا۔ ہم Ù†Û’ ان Ú©Û’ درمیان عداوت و بغض ڈال دیا ہے۔ اور یہ قیامت تک رہے گا۔ ان لوگوں Ù†Û’ جب بھی جنگ کی Ø¢Ú¯ روشن کی اللہ Ù†Û’ اس کو خاموش کر دیایہ لوگ زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

(سورہ مائدہ، آیت Û¶Û´)

ÛµÛ” منافقین پر لعنت

وَعَدَ اللهُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَْارَ نَارَ جَہَنَْمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا، ہِیَ حَسْبُہُمْ، وَ لَعَنَہُمُ اللهُ، وَلَہُمْ عَذَابٌ مُْقِیْمٌ۔

اور خداوند عالم Ù†Û’ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی Ø¢Ú¯ کا وعدہ کیا ہے یہ لوگ ہمیشہ اس میں رہینگے یہ ان Ú©Û’ لئے کافی ہے۔ خدا Ù†Û’ ان لوگوں پر لعنت کی ہے اوران Ú©Û’ لئے باقی رہنے والا عذاب مقرر کیا ہے۔

(سورہ توبہ، آیت ۶۸)

وَْ یُعَذِْبَ الْمُنَافِقِیْنَ وَ الْمُنَافِقَاتِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ وَ الْمُشْرِکَاتِ الظَْآنِْیْنَ بِاللهِ ظَنَْ السَْوْءِ، عَلَیْہِمْ دَآئِرَةُ السَْوْءِ، وَ غَضِبَ اللهُ عَلَیْہِمْ وَ لَعَنَہُمْ وَ اَعَدَْ لَہُمْ جَہَنَْمَ، وَ سَآئَتْ مَصِیْرًا۔

اور خداوند عالم منافق مردوں، منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں اور ان لوگوں پر جو خدا Ú©Û’ بارے میں میرا خیال رکھتے ہیں عذاب نازل کرے گا۔ ان کو میرے چکر میں گرفتار کرے گا۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان Ú©Û’ لئے جہنم تیار کر رکھا ہے ان کا انجام بہت برا ہے۔

(سورہ فتح، آیت ۶)

لَئِنْ لَْمْ یَنْتَہِ الْمُنَافِقُوْنَ وَ الَْذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَْرَضٌ وَْ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَْکَ بِہِمْ ثُمَْ لاَ یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْہَآ اِلاَْ قَلِیْلاً۔ مَْلْعُوْنِیْنَ، اَیْنَمَا ثُقِفُوْآ اُخِذُوْا وَ قُتِْلُوْا تَقْتِیْلاً۔

اگر منافقین، اور جن Ú©Û’ دلوں میں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں اپنے کام سے باز نہ آئے ہم آپ کو ان پر مسلط کر دینگے پھر یہ بہت زیادہ دن تک آپ Ú©Û’ ساتھ نہ رہ سکیں Ú¯Û’ یہ جہاں بھی جائیں وہاں ان پر لعنت ہے اور ان کو Ù¹Ú©Ú’Û’ Ù¹Ú©Ú’Û’ کر دیا جائیگا۔

(سورہ احزاب، آیات ۶۰-۶۱)

شجرہ ملعونہ

وَ اِذْ قُلْنَا لَکَ اِنَْ رَبَْکَ اَحَاطَ بِالنَْاسِ، وََمَا جَعَلْنَا الرُْءْ یَا الَْتِیْٔ اَرَیْنَاکَ اِلاَْ فِتْنَةً لِْلنَْاسِ وَالشَْجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ، وَ نُخَوِْفُہُمْ، فَمَا یَزِیْدُہُمْ اِلاَْ طُغْیَانًا کَبِیْرًا۔

اور جب ہم Ù†Û’ Ø¢ Ù¾ سے یہ کہا کہ آپ کا پروردگار لوگوں پر محیط ہے اور ہم Ù†Û’ آپ کو جو خواب دکھایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش Ú©Û’ لئے ہے۔ اور قرآن میں لعنت Ú©Û’ جس درخت کا ذکر کیاہے ہم ان کو (عافیت کا) خوف دلاتے ہیں مگر ان کی بڒی سرکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔

(سورہ اسراء، آیت ۶۰)

فریقین کی معتبر روایتوں کی روشنی میں شجرہ ملعونہ سے بنی امیہ مراد ہیں۔ ذیل میں شیعہ سنی دونوں روایتیں ذکر کرتے ہیں:

#          ابن جریر طبری Ù†Û’ اپنی تفسیر میں اس آیت Ú©Û’ ذیل میں لکھا ہے: سہل بن سعد کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ بنی فلان (بنی امیہ) کو خواب میں دیکھا کہ وہ بندروں کی طرح ان Ú©Û’ منبر پر کود رہے ہیں۔ یہ خواب دیکھ کر آپ بہت دلتنگ ہوئے پھر کسی Ù†Û’ آخری وقت تک آپ Ú©Û’ لبوں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ اس وقت خداوند عالم Ù†Û’ یہ آیت نازل کی:

وََمَا جَعَلْنَا الرُْءْ یَا الَْتِیْٔ اَرَیْنَاکَ اِلاَْ فِتْنَةً لِْلنَْاسِ…

(تفسیر طبری،ج ۱۵، ص ۱۴۱)

#          قرطبی Ù†Û’ اپنی تفسیر میں اس آیت Ú©Û’ ذیل میں سہل بن سعد سے روایت کی ہے۔ یہ وہی خواب ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ بنی امیہ Ú©Û’ بارے میں دیکھا تھا کہ وہ بندروں کی طرح ان Ú©Û’ منبر پر کود رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ بہت زیادہ غمزدہ ہوئے کہ آخری وقت تک مسکرائے نہیں۔ یہ آیت بنی امیہ کی حکومت Ú©Û’ بارے میں بیان کر رہی ہے جو امت Ú©Û’ لئے بہت بڒا فتنہ اور آزمائش ہوگی۔

(تفسیر قرطبی، ج ۱۰، ص ۲۵۴)

#          یونس بن عبد الرحمن بن الاشل Ù†Û’ حضرت سے اس آیت: وََمَا جَعَلْنَا الرُْءْ یَا الَْتِیْٔ اَرَیْنَاکَ اِلاَْ فِتْنَةً لِْلنَْاسِ Ú©Û’ بارے میں دریافت کیا: حضرت Ù†Û’ فرمایا:

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ خواب میں دیکھا کہ بنی امیہ ان Ú©Û’ منبر پر Ú†Ú’Ú¾ رہے ہیں اور ان میں جو بھی اوپر جاتا ہے وہ خدا تک پہونچنے کا راستہ بند کر دیتا ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو خواب میں عجب تکلیف کا احساس ہوا۔ آپ پریشانی Ú©Û’ عالم میں خواب سے بیدار ہوئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ جن کو خواب میں دیکھا وہ بنی امیہ Ú©Û’ بارہ آدمی تھے۔ اس وقت جبرئیل امین یہ آیت Ù„Û’ کر نازل ہوئے۔

(تفسیر عیاشی، ج ۲، ص ۲۹۸)

#          حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے:

وََمَا جَعَلْنَا الرُْءْ یَا الَْتِیْٔ اَرَیْنَاکَ اِلاَْ فِتْنَةً لِْلنَْاسِ لوگ اس Ú©Û’ بارے میں حیران ہیں۔ قرآن میں جس شجرہ ملعونہ کا ذکر ہے اس سے بنی امیہ مراد ہیں۔

(تفسیر عیاشی، ج ۲، ص ۲۹۸)

Û¶Û” ایک عام لعنت (اسلام اور غیر اسلام کی قید نہیں ہے)

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو اذیت دینے والے

اِنَْ الَْذِیْنَ یُوٴْذُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَہ لَعَنَہُمُ اللهُ فِی الدُْنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَْ لَہُمْ عَذَابًا مُْہِیْنًا۔

وہ لوگ جو خدا اور اس Ú©Û’ رسول کو اذیت دیتے ہیں خدا Ù†Û’ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کی ہے اور ان Ú©Û’ لئے ذلیل کرنے والا عذاب آمادہ کر کھا ہے۔

(سورہ احزاب، آیت ۵۷)

حضرت امیر المومنین کو اذیت دینا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو اذیت دینا ہے

#          ابی یعلی Ù†Û’ سعد سے روایت نقل کی ہے۔ ہم دو آدمیوں Ú©Û’ ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کی شکایت کر رہے تھے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ چہرہ پر غضب Ú©Û’ آثار نمودار ہوئے۔ ہم Ù†Û’ خدا کی بارگاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ غضب سے پناہ مانگی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

تم کو مجھ سے کیا مطلب؟ جس Ù†Û’ علی کو اذیت دی اس Ù†Û’ مجھے اذیت دی۔

(مسند ابی یعلی، ج ۲، ص ۱۰۹؛ الہیثمی، مجمع الزوائد، ابواب مناقب علی بن ابی طالب، الجزء ۹، ص Û±Û²Û¹)

#          حاکم Ù†Û’ مستدرک میں عمرو بن عاش اسلمی سے روایت نقل کی ہے۔میں علی Ú©Û’ ساتھ یمن گیا تھا۔ انہوں Ù†Û’ سفر میں میرے ساتھ ایسا برتاؤ کیا کہ ان کی طرف سے میرے دل میں ایک بات بیٹھ گئی۔ سفر سے واپس آکر مسجد میں علانیہ حضرت علی کی شکایت کی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ تک بات پہونچ گئی۔ جب ہم دوسرے دن صبح مسجد میں گئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اپنے اصحاب Ú©Û’ درمیان تھے ان کی نظر جیسے ہی مجھ پر Ù¾Ú’ÛŒ چہرہ پر غضب Ú©Û’ آثار نمودار ہو گئے جب تک میں بیٹھ نہیں گیا اس وقت تک وہ مجھے غضبناک انداز میں دیکھ رہے تھے۔ اس Ú©Û’ بعد فرمانے Ù„Ú¯Û’:

اے عمرو خدا کی قسم تم Ù†Û’ مجھے اذیت پہونچائی ہے۔

میں Ù†Û’ عرض کیا میں خدا کی بارگاہ میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ کو ناراض کروں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

ہاں جس Ù†Û’ علی کو اذیت پہونچائی اس Ù†Û’ مجھے اذیت پہونچائی ہے۔

حاکم Ù†Û’ اس حدیث Ú©Û’ بارے میں لکھا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ البتہ بخاری اور مسلم Ù†Û’ اس کو ذکر نہیں کیا ہے۔ ذہبی Ù†Û’ بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

(مستدرک الحاکم، کتاب معرفة الصحابة، Ø­ ۴۶۱۹؛ مسند احمد، Û³/۴۸۳؛ دار صادر؛ الہیثمی، مجمع الزوائد، ج۹، ص Û±Û²Û¹)

ابن حبان Ù†Û’ بھی اپنی صحیح میں اس کا ذکر کیا ہے۔

(صحیح ابن حبان، ج ۶، ص ۲۶۷)

ہیشمی Ù†Û’ مجمع الزوائد میں اس حدیث کو ذکر کرنے Ú©Û’ بعد لکھا ہے: احمد اور طبرانی Ù†Û’ اس کو اختصار سے نقل کیا ہے۔بزْاز Ù†Û’ اور زیادہ مختصر کیا ہے۔ احمد Ú©Û’ تمام رجال معتبر ہیں۔

(مجمع الزوائد، ج ۹، ص Û±Û²Û¹)

#          عمرو بن عاس سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ مجھ سے فرمایا:

تم Ù†Û’ یقینا مجھے اذیت پہونچائی ہے۔

میں Ù†Û’ عرض کیا: اے اللہ Ú©Û’ رسول میں آپ کو ہرگز اذیت پہوچانا نہیں چاہتا۔ فرمایا:

جس Ù†Û’ علی کو اذیت پہونچائی اس Ù†Û’ مجھے اذیت پہونچائی۔

(الحاکم فی المستدرک، ج ۳، ص Û±Û²Û²)

حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کو اذیت دینا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو اذیت دینا ہے

اِنَْمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِْنِْيْ یُؤْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا۔

یقینا فاطمہ میرا ٹکڒا ہیں جس سے ان کو اذیت ہوتی ہے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے۔

(صحیح مسلم، Ø­ ۴۴۸۳؛ سنن ترمذی، ج ۲، ص Û³Û±Û¹)

فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِْيْ یُرْبِیَنِيْ مَا اَرْاَبَہَا وَ یُوْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا۔

فاطمہ میرا ٹکڒا ہے، جس سے وہ ناراض ہوئی میں اس سے ناراض ہوتا ہوں۔

(مسند احمد بن حنبل، ج ۴،ص ۳۲۸؛ حلیة الولیا، ج ۲، ص Û´Û°)

اِنَْمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِْنِْيْ یُؤْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا وَ یَنْصِبَنِيْ مَا اَنْصَبَہَا۔

یقینا فاطمہ میرا ٹکڒا ہے جس سے ان کو اذیت ہوتی ہے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے اور جو چیز ان کو غمزدہ کرتی ہے مجھے بھی غمگین کرتی ہے۔

(مسند احمد بن حنبل، ج ۴، ص ۵؛ مستدرک حاکم نیشابوری، ج ۳، ص ۱۵۹؛ سنن ترمذی، ج ۲، ص Û³Û±Û¹)

جھوٹ بولنے والے

فَمَنْ حَآجَْکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَ اَبْنَآءَ کُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَ کُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ، ثُمَْ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَْعْنَتَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔

جب آپ Ú©Û’ پاس علم Ø¢ گیا اس Ú©Û’ بعد لوگ آپ سے بحث و مباحثہ کریں تو آپ ان سے کہدیجئے ‘ہم اپنے فرزندوں کو بلاتے ہیں تم اپنے فرزندوں کو بلاؤ ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں تم اپنی عورتوں کو بلاؤ ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو بلاؤ پھر ہم آپس میں مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

(سورہ آل عمران، آیت Û¶Û±)

عمداً قتل کرنے والے

وَمَنْ یَْقْتُلْ مُوٴْمِنًا مُْتَعَمِْدًا فَجَزَآوٴُہ جَہَنَْمُ خَالِدًا فِیْہَا وَ غَضِبَ اللهُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہ وَ اَعَدَْلَہ عَذَابًا عَظِیْمًا۔

جو شخص کسی مومن کو عمداً قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہے اور اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس Ú©Û’ لئے خدا Ù†Û’ بڒا عذاب آمادہ کر رکھا ہے۔

(سورہ نساء، آیت ۹۳)

ظلم کرنے والے

یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ الظَْالِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَ لَہُمُ اللَْعْنَةُ وَ لَہُمْ سُؤْءُ الدَْارِ۔

جس دن ظالموں کی معذرت فائدہ مند نہ ہوگی ان پر لعنت ہے اور ان کا ٹھکانہ بہت برا ہے۔

(سورہ غافر، آیت ۵۲)

وَنَادَای اَصْحَابُ الْجَنَْةِ اَصْحَابَ النَْارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا ربُْنَا حَقًْا فَہَلْ وَجَدْتُْمْ مَْا وَعَدَ رَبُْکُمْ حَقًْا قَالُوْا نَعَمْ فَاَذَْنَ مُؤَذِْنٌ بَیْنَہُمْ اَنْ لَْعْنَةُ اللْٰہِ عَلَی الظَْالِمِیْنَ۔

اور اہل جنت جہنم والوں کو آواز دینگے ہم Ù†Û’ اپنے رب کا وعدہ سچ پایا۔ تم سے جو تمہارے رب Ù†Û’ وعدہ کیا تھا اس کو تم Ù†Û’ سچا پایا۔ وہ کہیں Ú¯Û’ ہاں۔ اس وقت ان Ú©Û’ درمیان ایک موذن آواز دے گا۔ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(سورہ اعراف، آیت ۴۴)

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَْنِ افْتَرَای عَلَی اللهِ کَذِبًا، اُولَائِٔکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰيرَبِْہِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہَآوٴُلَآءِ الَْذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰيرَبِْہِمْ، اَلاَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَْالِمِیْنَ۔

اس سے بڒاظالم کون ہے جو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے۔ یہ لوگ اپنے پروردگار Ú©Û’ سامنے پیش کئے جائینگے اس وقت گواہ یہ گواہی دے رہے ہوں Ú¯Û’Û” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں Ù†Û’ اپنے رب کی طرف جھوٹی نسبت دی اور ہاں ظالموں پر خدا کی لعنت ہو۔

(سورہ ہود، آیت ۱۸)

بدکاری کی تہمت لگانے والے

وَالْخَامِسَةُ اَنَْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔

اور (شوہر) پانچویں مرتبہ اس طرح کہے: خدا کی لعنت ہو (اس پر) اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

(سورہ نور،آیت ۷)

اِنَْ الَْذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُوٴْمِنَاتِ لُعِنُوْا فِی الدُْنْیَا وَالْاٰخِرَةِ، وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔

وہ لوگ جو پاک دامن اور (گناہوں سے) بے خبر عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی گئی ہے اور ان Ú©Û’ لئے بہت بڒا عذاب ہے۔

(سورہ نور، آیت ۲۳)

خدا کا عہد توڒنے والے

وَالَْذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللهِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمْرَاللهُ بِۂ اَنْ یُْوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ، اُولٰٔئِکَ لَہُمُ اللَْعْنَةُ وَلَہُمْ سُؤْءُ الدَْارِ۔

جو لوگ مستحکم کرنے Ú©Û’ بعد خدا کا عہد توڒ دیتے ہیں۔ اور ان رشتوں کو توڒ دیتے ہیں جن کو برقرار رکھنے کا Ø­Ú©Ù… خدا Ù†Û’ دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے رہتے ہیں ان Ú©Û’ لئے لعنت ہے اور ان کا ٹھکانہ بہت برا ہے۔

(سورہ رعد، آیت ۲۵)

خدا کی طرف غلط نسبت دینے والے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَْنِ افْتَرَای عَلَی اللهِ کَذِبًا، اُولَائِٔکَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰيرَبِْہِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ہَآوٴُلَآءِ الَْذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰيرَبِْہِمْ، اَلاَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَْالِمِیْنَ۔

اس سے بڒا ظالم کون ہے جو خدا کی طرف جھوٹی نسبت دے یہ لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش کئے جائینگے اور گواہی دینے والے گواہی دینگے کہ ان لوگوں Ù†Û’ خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے۔ ہاں آگاہ ہو جاؤ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

(سورہ ہود، آیت ۱۸)

اللہ کی نشانیوں کو چھپانے والے

اِنَْ الَْذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِْنَاتِ وَالْہُدَای مِنْم بَعْدِ مَا بَیَْنَْاہُ لِلنَْاسِ فِی الْکِتَابِ، اُولٰٔئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللهُ وَ یَلْعَنُہُمُ اللَْاعِنُوْنَ۔

وہ لوگ جو خدا کی نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جبکہ یہ باتیں کتاب میں لوگوں Ú©Û’ لئے بیان کر دی گئی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا لعنت بھیجتا رہتا ہے اور لعنت کرنے والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔

(سورہ بقرہ، آیت ۱۵۹)

وہ لوگ جو یہودیوں کو مومنین سے افضل سمجھتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَْذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِْنَ الْکِتَابِ یُوٴْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَْاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَْذِیْنَ کَفَرُوْا ہَآوٴُلَآءِ اَہْدَای مِنَ الَْذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً۔ اُولٰٔئِکَ الَْذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللهُ، وَمَنْ یَْلْعَنِ اللهُ فَلَنْ تَجِدَ لَہ نَصِیْرًا۔

کیا آپ Ù†Û’ ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا کچھ علم دیا گیا وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لائے ہیں اور کہتے ہیں کافر ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا Ù†Û’ لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو آپ اس کا کوئی مددگار نہ پائینگے۔

(سورہ نساء، آیت ۵۱-۵۲)

فساد پھیلانے والے اور قطع رحم کرنے والے

فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَْیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِ وَ تُقَطِْعُوْآ اَرْحَامَکُمْ۔ اُوْلٰٔئِکَ الَْذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللهُ فَاَصَمَْہُمْ وَ اَعْمَایٔ اَبْصَارَہُمْ۔

کیا تم اس انتظار میں ہو اگر (ان احکام سے) روگردانی کرو تو تم زمین میں فساد پھیلاؤگے اور اپنے رشتہ داروں سے قطع رحم کرو Ú¯Û’Û” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ Ù†Û’ لعنت کی ہے ان کو بہرا اور اندھا کر دیا ہے۔

(سورہ محمد، آیت Û²Û²-Û²Û³)

لعنت اور احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ

Û±Û” کافروں پر لعنت

عایشہ Ù†Û’ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کیا ہے۔ آنحضرت Ù†Û’ فرمایا:

خدا، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کرے۔ جنہوں Ù†Û’ ہمیں ہماری سرزمین سے نکال کر وبا کی سرزمین (شعب) بھیجا۔

(صحیح البخاری، کتاب باب کراہیة النبی ان تعری المدینة، ج ۳، ص Û³Û°)

ترمذی Ù†Û’ اپنی سنن میں ابن عمر سے روایت کی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ احد Ú©Û’ دن فرمایا:

خدایا ابو سفیان پر لعنت کر، اور حارث بن ہشام پر لعنت کر اور صفوان بن امیہ پر لعنت کر۔

(سنن ترمذی، ج ۵، ص Û²Û²Û·)

اس Ú©Û’ بعد لکھا ہے: یہ حدیث صحیح ہے اور غریب ہے۔

مسلم Ù†Û’ خفاف بن ایماء سے روایت کی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ رکوع سے سر اٹھایا اور فرمایا:

غفار۔ خدا اس کو معاف کر دے۔ اسلم خدا اس کی حفاظت کرے عصبہ خدا و رسول کی نافرمانی کی۔ بنی لحیان، رعلا اور ذکوان پر خدا لعنت کرے۔

اس Ú©Û’ بعد آنحضرت سجدہ میں تشریف Ù„Û’ گئے۔

(صحیح مسلم، ج ۱، ص۴۷۰)

Û²Û” منافقین

طبرانی Ù†Û’ نصر بن عاصم لیثی سے انہوں Ù†Û’ اپنے والد سے نقل کیا ہے۔ میں شہر کی مسجد میں گیا۔ اس وقت لوگ آپس میں کہہ رہے تھے ہم خدا اور اس Ú©Û’ رسول Ú©Û’ غضب سے پناہ مانگتے ہیں۔ میں Ù†Û’ دریافت کیا: کیا ہوا؟ لوگوں Ù†Û’ کہا: حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص اپنے Ù„Ú’Ú©Û’ کا ہاتھ Ù¾Ú©Ú’ کر مسجد سے باہر Ù„Û’ گیا۔ اس وقت آنحضرت Ù†Û’ فرمایا:

خدا Ø¢Ú¯Û’ جانے اور پیچھے جانے والے پر لعنت کرے… فلاں Ú©Û’ تعلق سے اس امت پر افسوس Û”

(معجم الکبیر للطبرانی، ج ۱۷، ص ۱۷۶؛ الاحادیث المختارة، ج ۸، ص Û±Û¸Û°)

ہیثمی Ù†Û’ مجمع الزوائد میں نقل کرنے Ú©Û’ بعد لکھا ہے۔ طبرانی Ù†Û’ اس روایت کو نقل کیا اور اس Ú©Û’ تمام راوی معتبر و ثقہ ہیں۔

(مجمع الزائد، ج ۵، ص Û²Û´Û²)

احمد Ù†Û’ اپنی مسند میں عبد اللہ بن زبیر سے یہ روایت نقل کی۔ وہ خانہ کعبہ پر تکیہ دیے یہ روایت بیان کر رہے تھے:

اس کعبہ Ú©Û’ خدا کی قسم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ اس شخص پر اور اس Ú©Û’ صلب سے پیدا ہونے والے بچہ پر لعنت کی۔

اس کتاب Ú©Û’ محقق Ù†Û’ لکھا ہے: یہ روایت معتبر ہے اور اس Ú©Û’ راوی مسلم و بخاری Ú©Û’ راوی ہیں۔

السندی Ù†Û’ کہا: “اس شخص” سے پیغمبر کی مراد “Ø­Ú©Ù…” ہے یہ اور اس Ú©Û’ صلب سے پیدا ہونے والے (یعنی وہ جو اس شخص کا فرزند ہے) اس سے مروان مراد ہے… واللہ اعلم۔

(مسند احمد، ج ۲۶، ص ÛµÛ±)

ہیشمی Ù†Û’ مجمع الزوائد میں اس روایت کو بھی نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس روایت کو احمد، بزار اور طبرانی Ù†Û’ (احمد کی طرح) نقل کیا ہے احمد Ú©Û’ راوی صحیح ہیں۔

(مجمع الزوائد، ج ۵، ص Û²Û´Û±)

بزار Ù†Û’ اپنی مسند میں زبیر Ú©Û’ غلام عبد اللہ البھی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں مسجد میں تھا اور مروان خطبہ دے رہا تھا۔ عبد الرحمن بن ابو بکر Ù†Û’ (طنزیہ) کہا: خدا کی قسم ابو بکر Ù†Û’ اپنے خاندان میں کسی کو خلیفہ قرار نہیں دیا۔ اس پر مروان Ù†Û’ کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جس کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔:

وَ الَْذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْہِ اُفٍْ لَْکُمَا

اور جس Ù†Û’ اپنے والدین سے بد کلامی کی

اس وقت عبد الرحمن Ù†Û’ کہا تم جھوٹ بول رہے ہو لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ تمہارے باپ پر لعنت بھیجی ہے۔

(مسند البزار، ج ۶، ص Û²Û´Û±)

ہیشمی Ù†Û’ مجمع الزوائد میں لکھا ہے: بزار Ù†Û’ یہ روایت نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

(مجمع الزوائد، ج ۵، ص Û²Û´Û±)

حاکم Ù†Û’ اپنی کتاب مستدرک الصحیحین میں عبد اللہ بن زبیر سے یہ روایت نقل کی ہے: یقینا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ Ø­Ú©Ù… اور اس Ú©Û’ فرزند پر لعنت بھیجی ہے۔ اور اس Ú©Û’ بعد کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ البتہ مسلم اور بخاری Ù†Û’ اس کو نقل نہیں کیا ہے۔

(المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص Û´Û¸Û±)

بزاز Ù†Û’ اپنی مسند میں سفینہ سے روایت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف فرما تھے کہ ایک شتر سوار وہاں سے گذرا۔ ایک شخص اس Ú©Û’ Ø¢Ú¯Û’ تھا اور ایک اس Ú©Û’ پیچھے تھا۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

خدا لعنت کرے Ø¢Ú¯Û’ چلنے والے پر سوار پر اور پیچھے چلنے والے پر۔

(مسند البزار، ج ۹، ص Û²Û¸Û¶)

ہیشمی Ù†Û’ مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے Ú©Û’ بعد کتاب بزار Ù†Û’ یہ روایت نقل کی ہے اس Ú©Û’ تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔

(مجمع الزوائد، ج ۱، ص Û±Û±Û³)

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ ابو سفیان کو اونٹ پر سوار دیکھا اس کا بیٹا یزید اونٹ Ú©Û’ Ø¢Ú¯Û’ تھا اور معاویہ پیچھے چل رہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

خدا لعنت کرے Ø¢Ú¯Û’ چلنے والے پر سوار پر اور پیچھے چلنے والے پر۔

(تاریخ الطبری، ج ۱۱، ص ۳۵۷؛ حوادث سنة ۲۸۴؛ تاریخ ابی الفدا، ج ۲، ص ۵۷؛ حوادث سنة ۲۳۸ئھ؛ کتاب صفین لنصر، ص Û²Û´Û· مصر؛ تذکرة الخواص سبط ابن الجوزی، ص Û±Û±Ûµ)

Û³Û” عموی لعنت

حرام خدا کو حلال کرنے والے

ابن حبان Ù†Û’ اپنی صحیح میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے یہ روایت نقل کی ہے:

میں چھ گروہ پر لعنت کرتا ہوں خدا اور مستجاب الدعوات انبیاء Ù†Û’ بھی ان پر لعنت کی ہے… ایک وہ جو خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور وہ بھی میری عترت Ú©Û’ سلسلے میں۔ اور ان لوگوں پر لعنت ہے جو میری سنت کو ترک کرتے ہیں۔

(صحیح ابن حبان، ج ۵، ص ۳۷۳)

مردوں کا عورتوں کی شبیہ ہونا

ابن عباس سے روایت ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کی شکل و صورت اختیار کرتے ہیں اور فرمایاان لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔

(بخاری، ۲، باب اخراج المتشبہین بالنساء من البیوت)

صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ ابن عباس Ù†Û’ کہا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ ان مردوں پر لعنت کرتے تھے جو عورتوں کی شباہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کرتے تھے جو مردوں کی شباہت اختیار کرتے ہیں۔

(البخاری حدیث رقم ÛµÛ¸Û¸Ûµ)

سود کھانے والے

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

خدا سود کھانے والوں، اس کی وکالت کرنے والوں اور اس Ú©Û’ کاغذات Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ والوں اور اس Ú©Û’ گواہوں پر لعنت کرتا ہے۔

(صحیح مسلم، المساقاة، باب لعن آکل الربا و موکلہ، رقم ۱۵۹۸؛ سنن ترمذی، البیوع، باب ما جاء فی آکل الربا، رقم ۱۲۰۶؛ سنن أبو داود، البیوع،باب فی آکل الربا و موکلہ، رقم Û³Û³Û³Û³)

قوم لوط کی طرح عمل کرنے والے

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

خدا اس شخص پر لعنت کرے جو قوم لوط کی طرح کام انجام دے۔

(مسند أحمد، Û±/۳۰۹؛ مستدرک حاکم Û´/۳۵۶؛ صحیح الترغیب Û²Û´Û²Û±)

شراب خریدنے… پر لعنت

حاکم Ù†Û’ مستدرک میں ابن عباس سے روایت نقل کی ہے۔ میں Ù†Û’ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو فرماتے ہوئے سنا:

جبرئیل میرے پاس آئے اور کہنے Ù„Ú¯Û’: اے محمد یقینا خداوند عالم شراب، شراب Ú©Û’ لئے انگور Ù†Ú†ÙˆÚ’Ù†Û’ والے، شراب دینے والے، شراب پینے والے، شراب Ù„Û’ جانے والے، شراب خریدنے والے، شراب بیچنے والے، شراب پلانے والے اور پینے والے پر لعنت کرتا ہے۔

(مستدرک حاکم، کتاب الاشربہ، حدیث رقم Û·Û²Û²Û¹)

اس Ú©Û’ بعد انہوں Ù†Û’ لکھا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

حافظ منذری Ù†Û’ اپنی کتاب ‘الرغیب و الرہیب’ میں لکھا ہے اس حدیث کو ابن عباس Ù†Û’ نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کو احمد Ù†Û’ اپنی سند سے اور ابن حبان Ù†Û’ اس کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اور حاکم Ù†Û’ اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

(صحیح البخاری، کتاب الصید، باب ما یکرہ من المثلة، ص ۸۲۹، ج Û²)

جانوروں کو مثلہ کرنے والوں پر لعنت

بخاری Ù†Û’ ابن عمر Ú©Û’ ذریعہ یہ روایت نقل کی ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو جانوروں کو مثلہ کرتے ہیں۔ (ان کی ناک، کان، وغیرہ کاٹتے ہیں)

(شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید، ۶/۵۲)

لشکر اسامہ میں نہ جانے والوں پر لعنت

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ Ù†Û’ فرمایا:

اسامہ Ú©Û’ لشکر کو آمادہ کرو خدا لعنت کرے ان لوگوں پر جو اس لشکر میں شریک نہ ہوں اور اس سے گریز کریں۔

لعنت میں موضوع اختلاف

وہ بات جو لعنت Ú©Û’ سلسلے میں دو فرقوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔ وہ اہل سنت کا یہ نظریہ ہے بلکہ عقیدہ ہے کہ صحابہ تمام Ú©Û’ تمام عادل ہیں نیک ہیں۔ اس نظریہ کی بنا پر اہل سنت Ú©Û’ علماء صحابہ Ú©Û’ ان اعمال کی توجیہ اور تاویل کرتے ہیں جو قرآن و سنت Ú©Û’ صریحاً خلاف ہیں اور اس طرح توجیہ کرتے ہیں کہ تمام صحابہ کی عدالت محفوظ رہ جائے۔

#          حافظ محدث یوسف بن عبد البر Ù†Û’ اپنی کتاب “الاستیعاب فی معرفة الاصحاب” Ú©Û’ مقدمہ میں لکھا ہے:

ثَبَتَ عَدَالَةُ جَمِیْعِہُمْ

تمام صحابہ کی عدالت ثابت ہے۔

#          ابن اثیر Ù†Û’ اسد الغابہ Ú©Û’ مقدمہ میں اس بات کی اہمیت بیان کرنے Ú©Û’ بعد کہ راویوں کی معرفت و شناخت ضروری ہے لکھا ہے: جو کچھ بیان کیا گیا اس میں صحابہ دوسرے راویوں Ú©Û’ ساتھ شریک ہیں صرف جرح و تعدیل Ú©Û’ علاوہ۔ (کسی کی گناہ و نافرمانی کا ذکر … یا اسکی عدالت کا تذکرہ) کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اور ان پر کسی طرح تنقید جائز نہیں ہے۔

وَ الصَْحَابَةُ یُشَارِکُوْنَ فِيْ ذٰلِکَ اِلاَْ الْجَرْحِ وَ التْعَدِیْلِ فَاِنَْہُمْ کُلُْہُمْ عُدُوْلٌ لاَ یَتَطَرِْقُ اِلَیْہِمُ الْجَرْحِ…

(ابن اثیر، ج ۱، ص ۳)

ابن حجر Ù…Ú©ÛŒ Ù†Û’ لکھا ہے: تمام اہل سنت کا اس بات پر اجماع اور اتفاق ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ تمام صحابہ کو عادل جانے اوران کو پاک و پاکیزہ قرار دے اور اچھائی سے ان کا تذکرہ کرے کیونکہ خداوند عالم Ù†Û’ قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں ان کی تعریف کی ہے۔

اِعْلَمْ اَنَْ الَْذِيْ اَجْمَعُ عَلَیْہِ اَہْلُ السُْنَْةِ وَ الْجَمَاعَةِ اَنَْہ یَجِبُ عَلٰي کُلِْ مُسْلِمٍ تَزْکِیَةٌ جَمِیْعُ الصَْحَابَةِ بِاِثْبَاتِ الْعَدَالَةِ لَہُمْ، وَ الْکَفِْ عَنِ الطَْعَنِ فِیْہِمْ، مَعَ الثَْنَاءِ عَلَیْہِمْ فَقَدْ اَثنٰي اللهَ عَلَیْہِمْ فِيْ کِتَابِہ الْعَزِیْزِ۔

(الصواعق المحرقہ، ص Û±Û¹Û´)

اہل سنت Ú©Û’ نزدیک تمام صحابہ کی عدالت اتفاقی و اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کی بنیاد پر ان Ú©Û’ تمام اعمال، گناہ، ظلم، سرکشی، قتل… ہر ایک کی توجیہ کی جاتی ہے اسی بنا پر ان کی زندگی Ú©Û’ ہر فعل کو اچھائی سے یاد کرنا چاہئے۔ اور ہر طرح کی تنقید سے محفوظ رہنا چاہئے۔ اس بنا پر اہل سنت Ú©Û’ علماء اور محدثین علم رجال و حدیث میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں کہ ‘تمام صحابہ عادل ہیں’ اور ‘عدالت صحابہ’ Ú©Û’ نظریہ کو ہر طرح کی تنقید سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔ اور صحابہ Ú©Û’ بارے میں کسی بھی تنقید کو جائز نہیں جانتے ہیں۔ جب کہ قرآن کریم صاف صاف اعلان کر رہا ہے:

وَ مِمَْنْ حَوْلَکُمْ مِْنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ، وَ مِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَةِ، مَرَدُوْا عَلَی النِْفَاقِ قف لاَ تَعْلَمُہُمْ، نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ۔

(سورہ توبہ، آیت ۱۰۱)

اے میرے پیغمبر جو لوگ آپ Ú©Û’ اردگرد ہیں یہ منافق ہیں خواہ یہ عرب ہوں یا مدینہ والے ہوں یہ وہ لوگ ہیں جو نفاق پر جمے ہوئے ہیں آپ ان کو نہیں جانتے ہم ان کو خوب جانتے ہیں۔

اس طرح قرآن کریم کی یہ آیت:

وَ مِنَ النَْاسِ مَنْ یَْقُوْلُ اٰمَنَْا بِاللهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ہُمْ بِمُوٴْمِنِیْنَ۔ یُخَادِعُوْنَ اللهَ وَ الَْذِیْنَ اٰمَنُوْ، وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلاَْ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ۔ … وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیَاطِیْنِہِمْ، قَالُوْآ اِنَْا مَعَکُمْ، اِنَْمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِئُوْنَ۔

لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور آخرت پر ایمان لائے یہ لوگ مومن نہیں ہیں یہ لوگ خدا اور صاحبان ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں یہ کسی کو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں یہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔ …جب یہ لوگ اپنے شیطانوں سے خفیہ ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ہم تو بس مذاق اڒا رہے ہیں۔

وَ مِنْہُمْ مَْنْ عَاہَدَ اللهَ لَئِنْ اٰتَانَا مِنْ فَضْلِہ لَنَصَْدَْقَنَْ وَ لَنَکُوْنَنَْ مِنَ الصَْالِحِیْنَ۔ فَلَمَْآ اٰتَاہُمْ مِْنْ فَضْلِہ بَخِلُوْا بِہ وَ تَوَلَْوْا وَْ ہُمْ مُْعْرِضُوْنَ۔ فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ اِلٰي یَوْمِ یَلْقَوْنَہ بِمَآ اَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوْہُ وَ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ۔

(سورہ توبہ، آیات ۷۵-۷۷)

اے میرے پیغمبر یہ لوگ ان لوگوں میں ہیں جنہوں Ù†Û’ خدا سے عہد کیا تھا اگر خدا Ù†Û’ ہمیں اپنے فضل و کرم سے کچھ دیا تو ہم ضرور زکات ادا کرینگے اور ہم ضرور بالضرور نیک و صالح ہو جائینگے۔ لیکن جب خدا Ù†Û’ ان کو اپنے فضل سے عطا کیا تو انہوں Ù†Û’ بخل سے کام لیا۔ اور منھ پھیر لیا۔ اس Ú©Û’ نتیجہ میں ڈرانے قیامت تک ان Ú©Û’ دلوں میں نفاق ڈال دیا۔ کیونکہ انہوں Ù†Û’ وعدہ خلافی کی تھی اور (آیات خدا) کو جھٹلایا تھا۔

یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَْا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ

(سورہ فتح، آیت ۱۱)

اے رسول یہ لوگ زبان سے وہ باتیں کرتے ہیں جو ان Ú©Û’ دل میں نہیں ہے۔

کیا تمام صحابہ کی عدالت کا نظریہ مطابق عقل ہے؟

تمام صحابہ کی عدالت کو تسلیم کرنا عقل سلیم Ú©Û’ خلاف ہے۔ اس بات کو کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وہ شخص جس Ù†Û’ جہالت Ú©Û’ زمانہ میں نہایت برے کام انجام دئے ہوں یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ خلاف باقاعدہ جنگ کی ہو وہ صرف دو Ø­Ú©Ù… زبان پر جاری کر Ú©Û’ اور صرف چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ Ú©Û’ ساتھ رہ کر واقعی با ایمان ہو جائے اور پوری طرح تبدیل ہو جائے۔ اور عادل ہو جائے۔ یعنی بس چند دنوں میں تمام گناہوں سے پوری طرح دست بردار ہو جائے اور اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کر Ù†Û’ Ù„Ú¯Û’Û”

ہم یقینا ان لوگوں کی عظمت و بزرگی Ú©Û’ ہرگز منکر نہیں ہیں جنہوں Ù†Û’ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ Ú©Û’ سایہ میں تربیت پائی، ہدایت حاصل کی، روحانی اور انسانی طور پر اپنے کو زندہ کیا۔ اور دل و جان سے واقعاً مسلمان و مومن ہو گئے۔

تمام صحابہ کو ایک نظر سے دیکھنا عقل Ú©Û’ خلاف ہے۔ وہ شخص جو حسن و قبح پر تشخیص دے سکتا ہے اچھے برے کی تمیز رکھتا ہے کہ کچھ لوگ صرف اس بنا پر عادل قرار دے دئے جائیں کہ انہوں Ù†Û’ چند دنوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی زیارت کی ہے اور اس عظیم منزل پر پہونچ جائیں کہ خدا و رسول کی بڒی سے بڒی مخالفت و نافرمانی بھی ان کی عدالت کو مجروح نہ کر سکے گرچہ وہ اپنے اعمال کی روشنی میں خدا و رسول کی لعنت Ú©Û’ مستحق ہی کیوں نہ ہوں۔

تمام صحابہ کی عدالت کو پوری طرح تسلیم کر لینا قرآن و حدیث Ú©Û’ خلاف ہے۔ خدا اور رسول Ú©Û’ واضح Ø­Ú©Ù… پر کسی شخصیت کو ترجیح دینا ہے کیونکہ صحابہ ایسے افراد بھی نظر آتے ہیں جو قرآن و معتبر حدیثوں کی روشنی میں اپنے اعمال کی بنا پر خدا و رسول کی لعنت Ú©Û’ مستحق ہیں خاص کر وہ افراد جن پر خدا و رسول Ù†Û’ لعنت کی ہے۔

شیعہ نظریہ

شیعہ ان اصحاب کو نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی خدا اور رسول Ù†Û’ مدح و ثنا کی ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کی خدا و رسول Ù†Û’ مذمت کی ہے ان پر لعنت کی ہے ظاہرسی بات ہے ان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔ بلکہ خدا و رسول کی پیروی کرتے ہوئے ان کو مستحق لعنت قرار دیتے ہیں۔

شیعہ نظریہ یہ ہے۔ تمام افراد – مرد و عورت – عرب، عجم، صحابی، تابعی – خواہ وہ لوگ جو صدیوں بعد اس دنیا میں آئینگے۔ ان میں سے کوئی ایک خدا Ú©Û’ نازل کردہ احکام اور شریعت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ہر ایک اپنی شرعی ذمہ داری Ú©Û’ تعلق سے جواب دہ ہے۔ جو بھی خدا Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… کی مخالفت کرے گا اس Ú©Û’ احکام کا مذاق اڒائیگا وہ خود کو رحمت خداوندی سے دور کرے گا اور کچھ لوگ تو خود اپنے اعمال کی بنا پر خود کو خدا و رسول ، ملائکہ، مومنین اور تمام لوگوں کی لعنت کا مستحق قرار دیتے ہیں۔

شیعہ انہیں لوگوں کو لعنت کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ جنہیں قرآنی آیتوں Ù†Û’ ملعون قرار دیا ہے۔ خدا و رسول اور معصومین Ù†Û’ ان پر لعنت کی ہے۔ شیعہ ہر ایک کو لعنت کا مستحق نہیں جانتے ہیں۔

تاریخ Ú©Û’ اوراق اس حقیقت Ú©Û’ گواہ ہیں کہ بعض صحابہ Ù†Û’ ایسے کام اور کارنامہ انجام دئے ہیں جن پر قرآن Ù†Û’ لعنت بھیجی ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کی طرف لعنت کا متوجہ ہونا بالکل عقل Ú©Û’ مطابق ہے۔ کمزور اور بے بنیاد توجیہات ان کو لعنت سے محفوظ نہیں رکھ سکتی ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث Ú©Û’ واضح احکام Ú©Û’ مقابل میں تمام عقیدتی تاویلات بے بنیاد ہیں۔