امام مہدی Ú©Û’ وجود مبارک کا عقیدہ اور ان Ú©Û’ ظہور کا ذکر کوئی ایسا ذکر یا عقیدہ نہیں ہے جو صرف شیعہ مذہب سے مخصوص ہو بلکہ اہل سنت Ú©Û’ بزرگ علماء اور محدثین Ù†Û’ امام زمانہ سے متعلق ان روایتوں کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جو صحابہ و تابعین Ú©Û’ توسط سے پہونچی ہیں، شیعہ کتابوں Ú©Û’ علاوہ، اسلامی مذاہب کی دیگر کتابیں بھی وہ چاہے حنفی مسلک ہو، شافعی، مالکی یا پھر حنبلی مسلک ہو) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیثیں امام مہدی اور ان Ú©Û’ ظہور سے متعلق بھری Ù¾Ú’ÛŒ ہیں۔

بعض بزرگ مرتبہ محققین کی تحقیق کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اہل سنت Ú©Û’ محدثین Ù†Û’ اپنی کتابوں میں امام مہدی سے متعلق روایتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ú©Û’ Û³Û³ صحابہ سے نقل کیا ہے۔۱#

اہل سنت Ú©Û’ بزرگ اور مشہور علماء میں سے ایک سو چھ (Û±Û°Û¶) عالموں Ù†Û’ امام غائب Ú©Û’ ظہور سے متعلق روایتوں کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔۲#

اور ان میں سے Û³Û² علماء Ù†Û’ امام مہدی سے متعلق مستقل اور جداگانہ کتاب تحریر فرمائی ہے۔۳#

“مسند احمد حنبل” (وفات ۲۴۱ئھ) اور صحیح بخاری (وفات ۲۵۶ئھ) اہل سنت کی مشہور ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں، یہ وہ کتابیں ہیں جو امام مہدی کی ولادت سے پہلے لکھی گئی ہیں، اس میں بھی امام مہدی سے متعلق حدیثوں کو نقل کیا گیا ہے۔۴#

احمد حنبل Ù†Û’ جن حدیثوں کو نقل کیا ہے ان میں سے ایک حدیث ہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ù†Û’ فرمایا:

اگر دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن باقی بچے تو خداوند عالم ضرور اس دن ہمارے خاندان سے ایک شخص کو بھیجے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیگا جس طرح ظلم سے بھری ہوگی۔۵#

امام مہدی سے متعلق ان Ú©Û’ صفات، ان کی نشانیوں Ú©Û’ بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیثیں اہل سنت کی کتابوں اور قدیم ماخذوں میں اس قدر زیادہ پائی جاتی ہیں کہ علم حدیث اور حدیثوں Ú©Û’ بزرگ حفاظ اور دانشمندوں Ù†Û’ امام مہدی سے متعلق حدیثوں کو ‘متواتر’ مانا ہے۔۱#

ایک اجمالی جائزے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اہل سنت Ú©Û’ Û±Û· بڒے اور عظیم دانشمندوں Ù†Û’ امام مہدی سے متعلق حدیثوں کو اپنی کتابوں میں ان Ú©Û’ تواتر کی تصریح کی ہے۔۲#

علامہ شوکانی Ù†Û’ ان روایتوں Ú©Û’ تواتر کو ثابت کرنے Ú©Û’ لئے مخصوص کتاب بھی تالیف فرمائی ہے جسکا نام “التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر و الدجْال و المسیح” رکھا ہے۔۳#

۱۔            صافی لطف اللہ، کتاب نوید امن و امان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ص Û¹Û±-Û¹Û²

۲۔            صافی لطف اللہ، کتاب نوید امن و امان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ص Û¹Û²-Û¹Ûµ

۳۔            صافی لطف اللہ، کتاب نوید امن و امان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ص Û¹Ûµ-Û¹Û¹

۴۔            ر۔ک: صحیح بخار، Ø· ۱، شیخ قاسم شماعی رفاعی کی تحقیق و شرح Ú©Û’ ساتھ، بیروت دار العلم، ۱۴۰۷ئھ، ج ۴، باب Û¹Û´Ûµ (نزول عیسی بن مریم)و ص Û¶Û³Û³ ، مسند احمد حنبل، بیروت دار الفکر (بی تا)، ج ۱، ص ۸۴، ۹۹، ۴۴۸، ج ۳، ص ۲۷، Û³Û· و ر۔ک۔: سنن ابن ماجہ (Û²Û°Û·-۲۷۵ئھ) تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ج ۲، ص Û±Û³Û¶Û¶-۱۳۶۸، کتاب الفتن، باب ۳۴، باب خروج المہدی، Ø­ Û´Û°Û¸Û²-Û´Û°Û¸Û¸

۵۔            مسند احمد حنبل، بیروت، دار الفکر (بی تا)، ج ۱، ص Û¹Û¹

۱۔            تواتر اور متواتر، علم حدیث کی اصطلاح ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسی جماعت کا خبر دینا ہے جنکا جھوٹ پر اتفاق محال ہو، جس Ú©Û’ نتیجہ میں مضمون روایت Ú©Û’ بارے میں علم و یقین پیدا ہو جائے۔ (ر۔ک۔ بہ: مدیر شانہ چی، کاظم، علم الحدیث، قم، دفتر انتشارات اسلامی، وابستہ بہ جامع مورینس حوزہ علمیہ قم، طبع ۳، ۱۳۶۲ئش، ص Û±Û´Û´) اس بناء پر تواتر “کو” ثبوت قطعی، اور حدیث متواتر “کو” ثابت اور قطعی حدیث سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جس روایت Ú©Û’ راوی بہت ہوں اور بہت سی کتابوں میں اسے نقل کیا گیا ہو اور محدثین و مشائخ روایت Ú©Û’ توسط سے سینہ بہ سینہ، نسل بہ نسل اور اسکا پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے صادر ہونا ثابت ہو تو وہ روایت قطعی Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… میں آتی ہے۔ (حکیمی محمد رضا، خورشید مغرب، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۰ئش، ص Û¹Û¹)

۲۔            صافی کتاب نوید امن و امان، ص Û¹Û°-Û¹Û±

۳۔            صافی کتاب نوید امن و امان، ص Û¹Û±