بارہویں امام حضرت حجة عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصیتوں میں سے جس خصوصیت کی اہل بیت علیہم السلام کی روایتوں میں تایکد کی گئی ہے وہ ہے غیبت امام عصر۔

غیبتن کا معنی

۱۔         امام زمانہ عام طور سے لوگوں کی طرح معاشرے میں زندگی بسر نہیں کر رہے ہیں وہ لوگوں کی پہونچ سے باہر ہیں اسی لئے دوسرے انسانوں کی طرح لوگ جب چاہیں انہیں نہیں دیکھ سکتے ہیں اس امر میں دوست دشمن اپنے بیگانے سب برابر ہیں یعنی جب چاہیں ملاقات کریں، ایسا نہیں ہے۔

۲۔         مگر امام مہدی اسی معاشرے اور جامعہ انسانی میں موجود ہیں، مگر خدا وند عالم کی قدرت سے جب چاہتے ہیں لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں اور لوگوں کی نگاہیں انہیں نہیں دیکھ پاتی ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے قرآن کریم کی رو سے اسی دنیا میں اور ہمارے درمیان دوسری مخلوقات جیسے فرشتے، روحیں پائی جاتی ہیں مگر دکھائی نہیں دیتی ہیں۔

۳۔         امام زمانہ لوگوں Ú©Û’ درمیان اور اسی معاشرمیں زندگی بسر کر رہے ہیں اور جیسا کہ روایتوں میں ہے کہ معاشرے میں رہنے والے لوگ آنحضرت کو دیکھتے بھی ہیں مگر پہچانتے نہیں ہیں۔

تبصرہ :

جو چیز بدیہی اور روایتوں کی بنیاد پر ضروری ہے وہ یہ کہ غیبت کا پہلا معنی کلی یا عموی طور سے قابل قبول نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ ولی خدا اور ہادیٴ برحق ہین۔ اور خواہان حق Ú©Û’ لئے راہنمائی کرنے والے ہیں لہٰذا ضرورتوں اور مصلحتوں Ú©Û’ تقاضوں Ú©Û’ منتظر معاشرے میں وہ اثر انداز ہوں۔ اس لئے کہ وہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی Ú©Û’ لئے خدا کی جانب سے مامور ہوئے ہیں۔

لہٰذا ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایتوں سے جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ امام Ú©Û’ لئے غیبت کا دوسرے اور تیسرے معنی کو درست اور صحیح قرار دیا جا سکتا ہے یعنی معاشرے میں ہیں بھی اور نہیں بھی ہیں جو ان کی راہ پر چلتے ہوئے ان سے ملاقات کا مشتاق ہوتا ہے اس لئے ہیں اور جو دشمن اور ظالم ہیں ان Ú©Û’ لئے نہیں ہیں۔

خداوند عالم قرآن میں فرمایا ہے:

وَ جَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ سَدًْا وَْ مِنْ خَلْفِہِمْ سَدًَْا فَاَغْشَیْنَاہُمْ فَہُمْ لاَ یُبْصِرُوْنَ۔

(اور ہم Ù†Û’ ان Ú©Û’ سامنے اور پشت سے ایک دیوار Ú©Ú¾Ú’ÛŒ کر دی ہے اور ہم Ù†Û’ ان کی نگاہوں پر ایک پردہ ڈال دیا ہے تاکہ وہ دیکھ نہ سکیں۔(اے پیغمبر!) جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ Ú©Û’ درمیان اور ان لوگوں Ú©Û’ درمیان پردہ قرار دیتے ہیں جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

فلسفہٴ غیبت

حدیث اور تاریخ Ú©Û’ منابع سے جو چیز حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پروردگار عالم کی سنت طول تاریخ میں ہمیشہ اور ہر قوم و ملت Ú©Û’ درمیان جاری و ساری ہی ہے اور اسے معاشرے کسی نہ کسی انداز سے فارج میں وجود بخشا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانیت اور بشریت Ú©Û’ سچے معلم، مربی اور ہدایت کرنے والوں کو عام نظروں سے پوشیدہ رکھتا ہے، اور اس قانون سے امت مسلمہ بھی الگ اور استثناء نہیں رہی ہے۔اور آخری حجت خدا حضرت امام زمانہ کی غیبت کی شکل میں اس امت کو سامنا کرنا پڒا ہے۔ اور غیبت کا راز کچھ اس طرح ہے۔

Û±Û” وجود امام کی حفاظت Ú©Û’ لئے:

اہل بیت علیہم السلام Ú©Û’ چاہنے والے ہمیشہ اپنے امام ہی Ú©Û’ فرمودات و ارشادات پر عمل کرتے رہے ہیں، اس لئے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام ہی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ú©Û’ سچے جانشین اور دین Ú©Û’ وارث ہیں مگر جب بھی شیعہ اپنے کسی امام Ú©Û’ پاس Ø¢ کر آپ Ú©Û’ وجود سے فیض اٹھانے کی کوشش کرتا تو یہ بات دشمنوں خصوصاً حاکم وقت Ú©Û’ لئے نہایت گراں گذرتی، ان Ú©Û’ لئے حسد و کینہ کی Ø¢Ú¯ بھڒک اٹھتی تھی اور اپنی ساری طاقت اس نور ہدایت کو خاموش کر دینے میں صرف کر دیتے تھے۔ اس وجہ سے ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت علیہم السلام کی ان روایتوں میں دیکھتے ہیں جو امام زمانہ Ú©Û’ سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔ جن میں اس بات کی تصریح پائی جاتی ہے کہ آپ کی طولانی غیبت جو پروردگار عالم Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… سے ہے اس کی حکمت یہ ہے کہ تاکہ اس سے آپ Ú©Û’ بابرکت اور پُر نور زندگی و حیات کی حفاظت ہو سکے جن Ú©Û’ ذریعہ سے عالم بشریت کو نجات اور بشارت ملنے والی ہے۔ اس لئے کہ تاریخ بنی عباس و بنی امیہ Ú©Û’ ظالم و جابر بادشاہوں Ú©Û’ مظالم سے بھری Ù¾Ú’ÛŒ ہے جنہوں Ù†Û’ اسلامی مملکتوں پر قابض ہو کر اور خود کو اسلام کا ذمہ دار ظاہر کر Ú©Û’ اس عالمی نجات دہندہ اور عالم بشریت کی اصلاح کرنے والے کو راستہ سے ہٹانے Ú©Û’ لئے اپنی تمام قوتوں اور شاہی عافتوں کو صرف کر دیا ہے۔ خصوصاً قرآنی آیتوں اور روایتوں Ú©Û’ مطابق جب انہیں اس حقیقت کا علم ہو گیا کہ وہ وارث پیغمبر، انسانیت کا نجات دہندہ، ظالم و جابر بادشاہوں کی حکومتوں کو سرزہ براندام کرنے والا ، ان Ú©Û’ اونچے اونچے محلوں کو ویران کرنے والا اور تمام ظالموں کا قلع قمع کرنے والا یہی ہے تو اس امام کی تلاش و جستجو میں ساری طاقتیں جھوک دی گئی۔ مگر قدرت Ù†Û’ اپنا انتظام کیا تاکہ سلسلہٴ امامت کی آخری کڒی، ذریت نبوت کا مصداق بارز عالم بشریت کا نجات دینے والے کی واقعہ طور سے جان کی حفاطت ہو سکے، بارہویں امام کی غیبت Ú©Û’ امر اور اس Ú©Û’ اسباب Ú©Û’ سلسلہ میں بہت سارے مسائل پائے جاتے ہیں، ایک تو یہی امر جو ظاہر طور سے اور احساس کر لینے والا اقدام جو دشمنوں کی طرف سے انجام دیا گیا۔ جس کی وجہ سے حکمت خدا کا تقاضہ ہوا کہ آخری حجت کو غیبت میں رکھا جائے اور Ø­Ú©Ù… الٰہی اور خدائی حکمت و قدرت اس بات کا متقاضی ہوئی کہ بارہویں امام کو لوگوں کی نظروں سی پوشیدہ رکھا جائے۔

۲۔نعمت کی قدر شناسی

امام مہدی کی غیبت کا دوسرا راز یہ ہے کہ اس سے بقیہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی اس زندگی و حیات کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے جس میں انسانی معاشرے Ú©Û’ مختلف موقعوں پر ظاہر رہنے اور ظاہر ہو کر ہدایت فرمائے۔ اس لئے کہ راحت و آسائش کی قدر وہی جانتا ہے جو کسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے۔ اسی لئے ظہور Ú©Û’ وقت اس نعمت Ú©Û’ حاصل ہونے کی تشبیہ اس آفتاب سے دی گئی ہے جو غروب ہونے Ú©Û’ بعد پھر طلوع کرتا ہے۔ اور اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آفتاب ہدایت نظروں سے اس لئے غائب ہو گیا کہ لوگوں Ù†Û’ زمانہ Ú©Û’ معصوم امام اوران کی ولایت و محبت کی قدر نہیں کی اور ان کی بے پناہ علم و حکمت اور معارف سے کنارہ کشی کر Ú©Û’ ایسے لوگوں کی طرف رجوع کرنے Ù„Ú¯Û’ جو گمراہی و تباہی Ú©Û’ سوا کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے جس سے امام کی ظہور و حضور کی یہ نعمت سلب کر لی گئی اور جب تک سچے دل سے انسان اسے نہیں چاہے گا واپس نہیں مل سکتی ہے۔

Û³Û” لوگوں کا امتحان

امتحان و آزمائش امام زمانہ کی غیبت کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے اور خدا کی یہ ایک سنت بھی ہے۔ پروردگار عالم اپنے بندوں کو مختلف آزمائشوں Ú©Û’ ساتھ امتحان میں گرفتار کرتا ہے۔ اس لحاظ سے جو لوگ خدا، اس Ú©Û’ رسول اور ہر ان چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ù†Û’ امام مہدی Ú©Û’ لئے بیان فرمایا ہے تو یہ عظیم غیبت چاہے جتنی طولانی ہوتی جائے لوگوں Ú©Û’ ایمان و ثبات قدم میں ذرہ برابر لغزش پیدا نہیں کر سکتا ہے۔

Û´Û” زمانہٴ غیبت میں نفسیاتی اور اخلاقی تبدیلیاں

منجملہ امام کی غیبت Ú©Û’ اسرار و رموزمیں سے ایک راز ہے کہ زمانہٴ غیبت میں دنیا کی قومیں اس عظیم مصلح اور عالم بشریت Ú©Û’ نجات دہندہ Ú©Û’ ظہور Ú©Û’ لئے علمی و اخلاقی اور عملی طور سے آمادہ ہو جائیں، اس لئے کہ امام کا ظہور دیگر انبیاء یا دوسری خداوند عالم کی حجتوں Ú©Û’ مانند نہیں ہوگا جہاں عام حالات Ú©Û’ اعتبار سے اسباب و علل پر تکیہ ہوتا تھا، کیونکہ امام آنے Ú©Û’ بعد حقائق و واقعیات کی بنیاد پر کائنات کی ہدایت و رہنمائی فرمائیں Ú¯Û’ØŒ ان Ú©Û’ دورِ حکومت میں تقیہ نہ ہوگا۔ امر بالمعروف اور نہی از منکر Ú©Û’ بارے میں سختی ہوگی، عمال، اور حکومت میں صاحبان منصب حاکموں، گورنروں سے سخت اور شدید مواخذہ کیا جائگا، ان Ú©Û’ امور سے متعلق ان سے باز پُرس ۹ہوگی، اور اس طرح سے امور کو انجام دینے Ú©Û’ لئے انسان کو علوم و معارف اور فکر و اخلاق میں صاحب کمال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اسلامی تعلیمات Ú©Û’ عام ہونے میں قرآن کی عالمی حکومت Ú©Û’ قیام Ú©Û’ لئے میدان فراہم ہو سکے۔

ÛµÛ” مومن و کافر کی پہچان ہو جائے

غیبت کاایک راز یہ ہے کہ زندگی کی مشکلات اور دشواریوں اور پریشانیوں میں لوگوں کا امتحان ہو جائے تاکہ ہر ایک Ú©Û’ لئے اپنے صبر و تحمل کا اندازہ ہو جائے کہ وہ کس درجہ دین کی راہ میں اور اپنے آئین و مذہب میں ثبات قدم اور استقامت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ تاکہ اس امتحان Ú©Û’ ذریعہ نیک اور بد الگ ہو سکیں، کافر مومن سے، منافق مسلمان سے، فاسق عادل سے، خراج اچھے سے جدا ہو سکیں۔ مومن کا ایمان محکم ہو جائے، Ø´Ú© و تردید ختم ہو جائے اور خدا کی حجت فلق پر تمام ہو جائے۔