آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات Ú©Û’ بعد خلافت و جانشینی علی کا حق تھا اور آپ Ù†Û’ یہ ثابت کرنے Ú©Û’ لئے کہ خلافت تنہا میرا حق ہے، دوسرے اس سلسلہ میں غاصب ہیں چند اقدام بھی کیا ہے۔ مگر چونکہ آپ Ù†Û’ وفات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم Ú©Û’ بعد اپنے آپ کو تنہا پایا اور لوگوں کو اپنی طرف یعنی آنحضرت کی طرف سے تفویض کردہ خلافت کی اطاعت کیلئے جمع نہ کر سکے، لیکن ہر مناسب اور موقع پر اپنے حق Ú©Û’ غصب کئے جانے اور اپنی ناراضگی کا اعلان ضرور ضرور کیا ہے چاہے لوگوں Ú©Û’ مجمع میں ہو یا اپنے خاص باوفا اور جاں نثار ساتھیوں Ú©Û’ درمیان ہو یا خلفاء Ú©Û’ ساتھ احتجاج Ú©Û’ موقعہ پر ہو۔ ہر مقام پر اس بات کو شدت سے بیان کیا کہ خلافت تنہا میرا حق ہے۔ اس میں غیروں کا ذرہ برابر کوئی حق نہیں بتنا ہے۔ یہ خداوند عالم کی جانب سے معین ہو کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ú©Û’ توسط سے لوگوں تک پہونچا دیا گیا ہے۔ لہٰذا امیر المومنین آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم Ú©Û’ خلیفہ Ú©Û’ انتخاب میں کسی دوسرے اصول یا قانون کو صحیح اور معتبر نہیں جانتے تھے۔

اور اس مطلب کی تائید میں امیر المومنین کا خانہ نشین ہونے کو بہترین نمونہ Ú©Û’ طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ آپ وفات آنحضرت Ú©Û’ بعد خانہ نشین ہو گئے اور ہرگز بیعت نہیں کیا۔ یہاں تک کہ آپ Ú©Û’ گھر کو Ø¢Ú¯ لگا دی۔ پیغمبر کی اکلوتی بیٹی اور علی کی شریک حیات حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو مضروب کیا ان Ú©Û’ فرزند محسن کو اذیت دیکر Ø´Ú©Ù… مادر میں شہید کیا کہ وہ سقط ہو گئے۔ اور اب امیر المومنین کو طاقت Ú©Û’ زور پر زبردستی بیعت Ú©Û’ لئے Ù„Û’ گئے، علی Ù†Û’ اس طرح اپنے حق کا اعلان کیا تاکہ ان لوگوں پر حجت تمام ہو جائے جنہوں Ù†Û’ آنحضرت کی تفویض کردہ یعنی خلافت منصوصہ سے اعراض کیا ہے۔ اس لئے کہ اگر آپ ان کی طاقت آزمائی اور اپنے اس طرح Ú©Û’ احتجاج سے پہلے اپنے ارادہ و اختیار سے دربار میں حاضر ہو جاتے تو حجت تمام نہ ہوتی۔

لہٰذا یہ کسی صورت میں نہیں کہا جا سکتا کہ علی Ù†Û’ احقاق حق یعنی اپنے حق Ú©Û’ حصول Ú©Û’ لئے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔البتہ ایک دوسرے سوال کا جواب بطور خلاصہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ آخر امیر المومنین Ù†Û’ اس وقت اپنے حق کی خاطر طاقت کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ اس کی چند وجہ ہے:

(Û±) امت Ú©Û’ مرتد ہونے کا خطرہ:

امیر المومنین کو اس بات کا خطرہ تھا کہ اگر خلافت کی صریحی نص پر اصرار کریں Ú¯Û’ تو جو لوگ ابھی ابھی مسلمان ہوئے ہیں یعنی امت اسلام سے پلٹ جائے گی۔ اس لئے کہ یہ ایسا وقت تھا جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی رحلت سے منافقین کو طاقت مل گئی تھی اور ان کی شوکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مسلمانوں Ú©Û’ دل اکھڒ Ú†Ú©Û’ تھے دین Ú©Û’ ارکان میں تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت Ú©Û’ بعد مسلمانوں کی حالت اس گوسفند کی طرح تھی جو بارش میں بھیگ کر سردی کی تاریک رات میں جائے پناہ کی تلاش میں ہو اور چاروں طرف سے پھاڒ کھانے والے بھیڒیے انہیں اپنا تر لقمہ سمجھ کر شکار کیلئے بیٹھے ہوں۔ یہاں تک کہ عرب Ú©Û’ بعض قبیلہ مرتد ہو Ú†Ú©Û’ تھے اور کچھ اس ارادہ کی طرف بڒھ رہے تھے۔

(Û²) امت مسلمہ میں اختلاف کا خطرہ

امیر المومنین Ù†Û’ جن اسباب کی بناء پر اس وقت اپنی طاقت اور تلوار کا سہارا نہیں لیا ان میں سے ایک امت اسلامیہ میں اختلافات اور تفرقہ کا خطرہ تھا، امت مسلمہ کی اس وقت کی حالت ایسی تھی جس میں کافروں اور منافقوں کو اپنی دیرینہ سازشوں کو آشکار کرنے کا بہترین موقعہ تھا، یہاں تک کہ انصار و مہاجرین Ú©Û’ درمیان اختلافات پیدا ہو Ú†Ú©Û’ تھے اور ہر ایک کسی نہ کسی بہانہ سے منصب خلافت پر براجمان ہونا چاہتا تھا۔ (یا وہ موقعہ جب ابو سفیان Ù†Û’ امیر المومنین سے اپنی نصرت و حمایت کی درخواست کی تھی مگر آپ Ù†Û’ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تو کب سے اسلام کا حامی و مددگار ہو گیا ہے۔)

(Û³) بقائے اسلام

امیر المومنین ہر صورت میں اسلام کی بقا چاہتے تھے، ایسے نازک وقت میں علی کی دین خدا کی طرف توجہ تھی جس کی بنا پر آپ حصولِ خلافت کو عملی اقدام Ú©Û’ ذریعہ یا طاقت Ú©Û’ استعمال کو وقت کی مصلحت Ú©Û’ خلاف سمجھ رہے تھے۔ امیر المومنین اگر اس وقت اسلحہ لیکر اپنے چند ساتھیوں Ú©Û’ ساتھ قیام کرتے تو رحلت پیغمبر Ú©Û’ فوراًبعد یہ اقدام نظام اسلام کی نابودی کا سبب قرار پاتا، لوگوں میں فتنہ وفساد کی Ø¢Ú¯ میں شدت پیدا ہو جاتی اور اب تک کی ساری قربانی و جاں نثاری رایگاں چلی جاتی اس وجہ سے علی Ù†Û’ بقائے اسلام اور عام مسلمانوں کی فلاح و بہبودی اور مصلحت کو اپنے حق خلافت پر ترجیح دیا اورقیام Ú©Û’ ارادہ کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اور یہ آخری سبب ان تمام اسباب میں اہم ترین مقام رکھتا ہے جن کی بنیاد پر امیر المومنین Ù†Û’ طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس خلافت منصوصہ Ú©Û’ حصول Ú©Û’ لئے تلوار اٹھائی۔