تاریخ نگاری میں خیانتكاری كی روش اور طریقہ كے چند نمونے گذشتہ مقالوں میں ذكر كئے گئے ہیں اور اب اس شیطانی طریقہٴ كار كا ایك دوسرا نمونہ آپكی خدمت میں پیش كر رہا ہوں۔

ائمہ معصومین علیہم السلام كے اصحاب بھی عام لوگوں كی طرح تھے لیكن ان میں اور اس زمانے كے بقیہ لوگوں میں یہ بنیادی فرق رہا كہ یہ لوگ پیغمبر اسلامﷺ كے اوصیاء كی ولایت قبول كرنے كی وجہ سے قرآن و عترت (یعنی محمد و آل محمد علیہم السلام) كی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور خود كو الٰہی تعلیم و تربیت سے آراستہ كرتے تھے۔ ہاں یہ عام لوگ ائمہ علیہم السلام كے زیر تربیت دینداری اور سعادت كی راہ و رسم كو سیكھنے اور خود كو امام كی خدمت میں قرار دیتے اور امام بھی موقع و محل كے لحاظ سے انہیں انكی خطاؤں كی جانب متوجہ كرتے اور انكی تربیت فرماتے تھے لہٰذا اس سلسلے میں تاریخ نے كچھ روایتیں نقل كی ہیں اور اس تعلیم و تربیت كا فائدہ یہ ہوا كہ كچھ ایسے افراد تربیت پائے جو پوری تاریخ میں شیعوں كے لئے فخر و مباہات كا ذریعہ اور مومنین كے لئے نمونہٴ عمل بنے ہوئے ہیں۔

كچھ ایسی روایتیں جو امامكی تعلیم و تربیت پر مشتمل تھیں لیكن افسوس كہ ان میں سے بعض تاریخ كے نادان بلكہ مفاد پرست اور خود غرض افراد كے ہاتھوں تحریف ہو چكی ہیں یہ لوگ اس كوشش میں تھے كہ ایسی روایتوں كو نقل كر كے اس صحابی كی شخصیت كو مجروح كریں جسكی خود امام نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اور اس میں سے بہت ساری ایسی روایتوں كو جو امام نے اس صحابی كی تعظیم و تكریم میں فرمائی تھی نادیدہ شمار كیا۔

اس عبارت پر خوب توجہ كریں

چونكہ اہل بیت علیہم السلام مسلمانوں كے درمیان محبوب و محترم تھے لہٰذا دشمنان دین نے بھی اور موقعہ شناس نیز سود پرستوں نے یہ كوشش (سعی لا حاصل) كی كہ خود كو ان كی طرف منسوب كر كے اپنے مقصد تك پہونچ جائیں اور اپنے لئے لوگوں كے درمیان مقام و منزلت حاصل كریں یہاں تك كہ ائمہ علیہم السلام نے اس بات كی بھی تصریح فرما دی كہ ہمارے بہت سے طرفدار رضای الٰہی كے خواہاں نہیں ہیں بلكہ وہ لوگ اپنے احترام اور دنیوی فائدے كے طلبگار ہیں…… مثلاً یہی اَحْوَل ایك متعصب آدمی تھا…… یہ ایسی باتیں نقل كرتا تھا كہ حضرت امام صادق اس سے راضی نہیں تھے آخركار اُسے بہ عنوان متعصب معرفی كیا……

لہٰذا اس مقالہ میں یہ كوشش كی گئی كہ ‘‘نعمان اَحْوَل’’ جو مومن طاق كے نام سے معروف اور ائمہ كے بزرگ ترین اصحاب میں تھے انكی شخصیت كو مجروح كریں اور مقالہ نویس نے اس تخریب كاری كو امام كی باتوں كو وسیلہ و ذریعہ بنا كر انكی بعض رفتار و گفتار كو مخدوش كرنے كے لئے ایڑی چوٹی كا زور لگایا ہے۔

اس تخریب كاری كا اصل مقصد یہ ہے كہ: وہ تمام روایات جو اس صحابی كے توسط ہمارے ہاتھوں میں پہونچی اور جو شیعوں كے مخالفین اور انكے دشمنوں كی رسوائی كا سبب بنی ہیں انہیں خدشہ دار بنائیں اور اس طرح سے مكتب اہل بیت علیہم السلام كے مخالفین اپنی شكست كو ناكار آمد جلوہ دیں۔

لیكن اہل سنت كے برخلاف، شیعہ كسی بھی صحابی كی عصمت كے قائل نہیں ہیں بلكہ انكے بارے میں یہ كہتے ہیں كہ یہ لوگ ائمہ كی خدمت میں تربیت پائے ہیں لیكن كبھی كبھی یہ لوگ بھی خطا و غلطی كے مرتكب ہو جاتے ہیں كہ اس وقت امام ایك دلسوز مربّی كی حیثیت سے انہیں خطاؤں كی جانب متوجہ كر كے انكی اصلاح فرماتے تھے۔ اور یہ مسئلہ انكی سچائی اور امام كی نقل حدیث۔ ان دونوں میں كوئی رابطہ نہیں ہے اور اس طرح كا مسئلہ تو تاریخ میں ہمیشہ اور ہر انسان كے ساتھ پیش آتا تھا۔ لیكن تعجب ہے كہ جب یہ مسائل ائمہ معصومین علیہم السلام كے صحابہ (شیعوں) میں نظر آتے ہیں تو اہل بیت علیہم السلام كے مخالفوں كی جانب سے یہ (بیچارہ) صحابی ‘‘فرصت طلب’’ و ‘‘متعصب’’ اور ‘‘سود پرست’’ جیسے ناموں سے یاد كیا جاتا ہے۔ لیكن پیغمبر اسلامﷺ كے صحابہ كے لئے اس طرح كی تعبیرات (القابات) دكھائی نہیں دیتی بلكہ اس كے برخلاف صحابہ كی عدالت (بعض سنّی علماء كے بقول، عصمت صحابہ) كا مسئلہ سامنے آتا ہے……

ابھی چونكہ ایك عظیم المرتبت صحابی جیسے ابو جعفر مومن طاق (نعمان اَحْوَل) كا ذكر ہوا ہے یہ ایسا عظیم صحابی ہے كہ حق كے دفاع كے سلسلے میں (حنفیوں كے بزرگ) ابو حنیفہ جیسے افراد كے مقابلہ میں ایسی دلچسپ اور دندان شكن حكایتیں تاریخ نے نقل كیا ہے۔ لہٰذا انكے سلسلے میں جو تاریخی حقائق و روایات حضرت امام صادقسے نقل ہوئی ہیں اور ہم تك پہونچی ہیں ہم انہیں نقل كر رہے ہیں:

1۔    علامہ حلی نقل حدیث كے سلسلے میں مومن طاق كے موثق اور مورد اعتماد ہونے كے بارے میں لكھتے ہیں:

ثِقَةٌ وَ كَانَ يُلَقَّبُ بِالْاَحْوَل، وَ الْمُخَالِفُوْنَ يُلَقِّبُوْنَهٗ بِشَيْطَانِ الطَّاقِ كَانَ كَثِيْرُ الْعِلْمِ حُسْنُ الْخَاطِرِ.[1]

(مومن طاق) مورد اعتماد اور احول كے نام سے معروف ہیں لیكن دشمن انہیں شیطان طاق كالقب دیتے ہیں ان كا علم بہت زیادہ اور حافظہ بڑا قوی ہے۔

ملاحظہ فرما رہے ہیں كہ دشمن كس طرح قرآنی حكم كے برخلاف ایك مسلمان اور مؤمن كو ‘‘شیطان’’ كا لقب دے رہے ہیں اور اپنے اس عمل سے خود كو شیطان كا پیروكار ثابت كر رہے ہیں۔

2۔    عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ اِنَّهٗ قَالَ اَرْبَعَةَ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَيَّ اَحْيَاءً وَ اَمْوَاتًا بُرِيْدُ الْعِجْلِيْ وَ زُرَارَةَ وَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ وَ الْاَحْوَلِ.[2]

حضرت امام صادق فرماتے ہیں: مردہ و زندہ تمام لوگوں میں میں چار لوگوں كو زیادہ چاہتا ہوں: برید عجلی و زرارۃ و محمد ابن مسلم اور (مومن طاق) احول۔

جی ہاں! دشمنوں كو خوب پتہ تھا كہ ائمہ معصومین علیہم السلام كے پیروكاروں اور چاہنے والوں میں سے كس كی شخصیت پر حملہ كریں، اس لئے كہ بڑا مشہور مقولہ ہے كہ ‘‘جھوٹ جتنا ہی بڑا ہوگا اس كا یقین اتنا ہی آسان ہوگا! لہٰذا دشمنوں نے ائمہ كے اصحاب میں سے انہیں اپنی خیانت كے تیر كا نشانہ بنایا جو بہت زیادہ ائمہ كے مورد اعتماد تھے۔

3۔    جب حضرت امام صادق نے مومن طاق، نعمان احول كے بعض مناظرات سنے تو اس وقت اُن سے فرمایا:

اَخَذْتَهٗ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ فَمَا تَرَكْتَ لَهٗ مَخْرَجًا[3]

تم نے تو اسكو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس كے لئے فرار كا كوئی راستہ ہی باقی نہیں ركھا۔

اس طرح كی باتیں اور حضرت امام صادق كے اس محبوب صحابی كے گھٹنے ٹكا دینے والے مناظر سے مكتب اہل بیت علیہم السلام كی تاریخی كتابوں میں بے شمار ہیں لیكن اس مقالہ میں صرف انہیں چند نكتوں كے بیان پر اكتفاء كرتا ہوں۔

ملاحظہ فرمائیں كہ كس طرح تاریخ كی اس خیانتكاری نے امام كے نیك اور بہترین صحابی كے چہرے كو مسخ كرنے كی ناكام كوشش كی ہے اور دیكھیں كہ كس طرح سے امام كے اس باوفا صحابی، ابو جعفر مومن طاق كو، متعصب، بے انصاف، فرصت طلب، سود پرست اور دشمن دین جیسے القاب سے تاریخ یاد كر رہی ہے۔

اس بحث كا سلسلہ آگے جاری رہے گا۔

آیندہ كی اگلی گفتگو مقالہ نمبر 4 میں۔



[1]     رجال العلامۃ الحلی، ص 138

[2]     رجال الكشی، ص 240

[3]     رجال الكشی، ص 186