كچھ دنوں قبل ایك مقالہ نظروں سے گذرا كہ اسكے لكھنے والے نے ائمہ معصومین علیہم السلام كی بعض روایات و فرمایشات كو عنوان بنایا اور تاریخ كے بعض واقعات سے كج فہمی كی بنیادپر غلط نتیجہ اخذ كیا ہے۔

چنانچہ اس طرح كی غلط نتیجہ گیری كا جواب یوں دیا جا سكتا ہے كہ پیغمبر اكرمﷺ اور انكے حقیقی جانشین كے مخالفین اور دشمن چونكہ حضور سروركائنات اور ائمہ معصومین علیہم السلام كے كلمات و روایات جو قطعی و مسلم طور پر تاریخ میں موجود ہیں ان سے صحیح طریقہ سے استفادہ نہیں كر سكتے تھےلہٰذا اپنے خاطر خواہ مقصد تك نہ پہونچنے كی صورت میں یہ كیا۔

1۔    رسول خداﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام كی شخصیت كو مخدوش كیا تاكہ مجہول الحال حكام اور ان عظیم ہستیوں كے درمیان دوستی اور ہماہنگی كا رنگ پیدا كیا جا سكے اور یہ طریقہ پوری تاریخ میں اہل بیت علیہم السلام كے مخالفوں كے درمیان رائج تھا۔

لیكن جب یہ تاریخ ائمہ معصومین علیہم السلام كی شخصیت كو مجروح و مخدوش كرنے میں ناكام رہی تو ان لوگوں نے انكی باتوں اور روایات كو بےثمر و كم اثر كرنے كی خاطر ایك دوسرا طریقہ اپنایا اور چونكہ یہ طریقہ انكی مكاری كی بنیاد پر تھا لہٰذا اسكو طویل عمر ملی اور ابھی تك بڑی ہی شدت كے ساتھ اسكی پیروی ہو رہی ہے۔

2۔    ائمہ معصومین علیہم السلام كی شخصیت كو اس لئے مخدوش كیا تاكہ اس طرح سے بزعم خود روایات كی صحت كو مورد بحث و تردید قرار دیں (خصوصًا وہ روایتیں جو مكتب اہل بیت علیہم السلام كی حقّانیت  پر ہیں) دوسرے الفاظ میں یوں كہتے ہیں كہ: امام علیہ السلام كے اصحاب انكی مرضی كے برخلاف جھوٹھے مطالب ائمہ سے منسوب كر دیتے تھے اور یہ جھوٹی  روایتیں آہستہ آہستہ رائج ہو گئی ہیں اور اب تشیّع كی شكل اختیار كر گئی ہیں!

لیكن اور ہزار بار لیكن، صحیح اور حقیقی تاریخ نے انكی اس خواہش اور آرزو كو قبول نہیں كیا اور ائمہ معصومین علیہم السلام كے باوفا ساتھیوں اور اصحاب كو اس طرح كی تہمت سے تاریخ نے مبرّہ ركھا۔ لہٰذا اس گروہ كیلئے اس كے علاوہ اور كوئی چارہ نہیں تھا كہ وہ حقیقت دین اسلام كے آگے سر جھكائیں اور یاتو…

ہاں۔ انكی بعض كتابوں اور مقالوں میں جو ملتا ہے اس سے یہی نتیجہ نكلتا ہے كہ یہ لوگ اپنی پرانی روش اور طریقہ كار سے شكست كھانے كے بعد انہوں نے ایك نیا طریقہ اپنایا جسكو واقعاً ‘تاریخ میں خیانت’ كے علاوہ اور كچھ نہیں كہا جا سكتا۔

لہٰذا اس مقالہ میں ہم اس شیطانی طریقہٴ كار ‘تاریخ میں خیانت’كے عنوان پر بہت ہی اختصار كے ساتھ اسكا جائزہ لیں گے اور اس روش كی دوقدیم و جدید شاخوں پر گفتگو كریں گے اور اسكے چند نمونے ذكر كریں گے اور وہ روایتیں جو مقالہٴ ‘مظلومیت ائمہ’میں نقل ہوئی ہیں انہیں خصوصی طور پر آپكی خدمت میں پیش كریں گے، انشاء اللہ۔

قدیمی شكل و صورت میں ‘تاریخ نگاری میں خیانت’ كا جو شیطانی شیوہ تھا وہ برسوں سے اہل بیت علیہم السلام كے مخالفین اور دشمنوں كے درمیان رائج ہے۔

شیعوں كا اپنے مخالفین اور دشمنوں كے ساتھ مناظرہ و بحث و گفتگو كرنے كا ایك طریقہ یہ ہے كہ وہ پہلے تو مخالفین (اہل سنت) كی معتبر كتابوں اور منابع میں نقل شدہ روایات سے استفادہ كرتے ہیں یعنی دین اسلام كی حقانیت كو انہیں كی روایات و احادیث سے جو انكے سلسلۃ السند كے اعتبار سے خود انہیں كی كتابوں میں موجود ہیں،اثبات كرتے ہیں۔ چنانچہ اب وہ لوگ اس فكر و سوچ میں پڑ گئے كہ خود اپنی معتبر كتابوں اور اصلی منابع و مدارك میں تحریف كریں اور مختلف طریقوں سے حذف حدیث اور وہ روایات جو پیغمبر اسلام ﷺ اور بعض صحابہ سے نقل ہوئی ہیں انكی كاٹ چھانٹ میں مشغول ہو گئے تاكہ اس ذریعہ سے كتمان حقائق اور شیعوں كےلئے احتجاج كے راستے كو مسدود (بند) كر دیں۔

لطف كی بات تو یہ ہے كہ اس شیطانی روش كے معلّمین اور اساتذہ كے درمیان بعض مشہور موٴرخ كا نام بھی ملتا ہے۔

تاریخ نگاری میں خیانت كا ایك نمونہ ملاحظہ فرمائیں:

محمد بن جریر طبری متوفٰی 310؁ھ ق اپنی تاریخ میں تاریخی واقعہ ‘‘دعوت ذو العشیرہ’’ جو اس آیت وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ[1]كے نازل ہونے كے بعد پیغمبر اسلامﷺ كی جانب سے جس دعوت كا اہتمام ہوا بڑے ہی آب و تاب اور پوری تفصیل كے ساتھ لكھا ہے جس كا لب لباب یہ ہے:

آیت كے نازل ہونے كے بعد رسول اللہﷺنے اپنے قرابتداروں كو بلایا اور كھانا كھا لینے كے بعد فرمایا:

قوم كا رہبر كبھی جھوٹ نہیں بولتا میں تمہاری طرف اللہ كی جانب سے رسول ہوں اور یاد ركھو كہ كوئی بھی شخص اپنے قرابتداروں كے لئے اس سے بہتر جو میں تمہارے لئے لایا ہوں نہیں لایا۔ میں تمہارے لئے دنیا و آخرت كا خیر (نیكی) لایا ہوں۔ تم میں سے كون ہے جو میری دعوت پر لبیك كہتے ہوئے میری نصرت و حمایت كا وعدہ كرے؟ تاكہ وہ اس الٰہی اقدام اور زمانہٴ جاہلیت كے رسم و رواج كو ختم كرنے كی خاطر كھڑا ہو؟اور وہ میرا بھائی و وصی اور جانشین ہو؟ ’’ تو اس پورے مجمع میں صرف علی بن ابی طالب (علیہ السلام) نے فرمایا: اے رسول خدا! میں آپكی حمایت كے لئے آمادہ ہوں۔’’ اور پیغمبر كا یہ سوال تین مرتبہ تكرار ہوا تو ہر مرتبہ جواب دینے والے صرف علی بن ابی طالب (علیہ السلام) ہی تھے۔ اس وقت پیغمبر اكرمﷺ نے فرمایا:

اِنَّ هٰذَا اَخِیْ وَ وَصِیِّیْ وَ خَلِیْفَتِیْ عَلَیْكُمْ فَاسْمَعُوْا لَهٗ وَ اَطِیْعُوْہُ

یعنی یہ جوان (علی بن ابیطالب علیہ السلام) میرے بھائی، وصی اور جانشین ہیں تمہارے درمیان لہٰذا انكی باتوں كو غور سے سنو اور انكی اطاعت كرو۔[2]

یہ خلاصہٴ مطلب تھا جسكو طبری نے اپنی تاریخ میں بڑی ہی تفصیل سے لكھا ہے۔

لیكن یہی مشہور و معروف مؤرخ اور مفسّر قرآن، اپنی تفسیر میں جب اس آیہٴ كریمہ ‘‘وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ’’ تك پہونچتا ہے تو جو كچھ اپنی تاریخ میں لكھا ہے اسكو بعینہ اُسی متن و سند كے ساتھ ذكر كرتا ہے۔

لیكن جب اس جملہ تك آتا ہے جہاں رسول اللہﷺ نے حضرت علی علیہ السلام كی نسبتوں كا اعلان كیا ہے كہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:

(عَلِیٌ اَنْ یَّكُوْنَ اَخِیْ وَ وَصِیِّیْ وَ خَلِیْفَتِیْ ) تو اپنے تاریخ طبری كے جملے كو بدل (حذف كر )كے لكھتا ہے: (علی اَنْ یَّكُوْنَ اَخِیْ كَذَا وَ كذَا)[3] یعنی علی میرے بھائی ہیں اور ایسے اور ویسے ہیں!!!

كیا لفظ (وصیّ و خلیفتی) كا حذف كر دینا اور اسكی جگہ لفظ (كذا و كذا) كا استعمال كرنا تاریخی امانت میں خیانت سے سوا اور كچھ ہو سكتا ہے؟

مزے كی بات تو یہاں ہے كہ مشہور مؤرخ ابن كثیر شامی متوفٰی 732؁ھ ق اپنی تاریخ[4]  جسكی بنیاد و اساس تاریخ طبری پر ركھی ہے اور اسی طرح اپنی تفسیر (جلد 3، ص 351) میں جب تاریخ كے اس واقعہ تك پہونچتا ہے تو تاریخ طبری كو نظر انداز كرتے ہوئے اس روایت كو نقل كرنے سے گریز كرتا ہے اور اس واقعہ كو تفسیر طبری كے مطابق نقل كرتا ہے!!

مكمل تاریخ كے ہوتے ہوئے ناقص تاریخ كا نقل كرنا یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس سے بعض مؤرخین كی خیانت اجاگر ہوتی ہے۔



[1]    سورہ شعراء آیت 214

[2]     تاریخ طبری، ج 3، ص 63-62، تاریخ كامل ابن اثیر، ج 2، ص 41-40، مسند احمد ابن حنبل، ج 1، ص 111

[3]     تفسیر طبری، ج 19، ص 74

[4]     البدایة و النهایه جلد 3، ص 40