جیسا كہ اس سے پہلے والی قسط میں آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا كہ بعض موٴرخین اور ارباب تاریخ نے صدر اسلام كے واقعات نقل كرنے میں امانت داری سے كام نہیں لیا اور تاریخی حقائق میں كاٹ چھانٹ كی ہے جس كا ایك نمونہ تاریخ طبری سے آپكی خدمت میں پیش كیا اور اب اس كا دوسرا نمونہ پیش خدمت ہے۔

البتہ اس نمونے میں تاریخ نگار نے جو بات لكھی ہےوہ قابل غور ہے لیكن ناشر نے بھی كتمان حقائق اور واقعات كی تحریف میں خیانت كا مظاہرہ كیا ہے چنانچہ ناشر نے كتاب كے نئے ایڈیشن میں تحریف شدہ مطالب كو لوگوں كے سامنے پیش كیا۔

یعقوبی اپنی تاریخ میں آخری آیت جو حضرت سروركائناتﷺ پر نازل ہوئی اور اسكی وضاحت كے سلسلے میں یوں لكھتے ہیں:

اِنَّ آخِرَ مَا نُزِّلَ عَلَيْهِ: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَ رَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلاَمَ دِيْنًا وَ هِيَ الرِّوَايَةُ الصَّحِيْحَةُ الثَّابِتَةُ الصَّرِيْحَةُ وَ كَانَ نُزُوْلُـهَا يَوْمَ النَّصُّ عَلِيٌّ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيُّ بْنَ اَبِيْ طَالِبٍ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ بِغَدِيْرِ خُمٍّ…[1]

يہ روایت، مسلم و صحیح اور صریحی روایت ہے اور یہ آیت اس روز نازل ہوئی جس دن غدیر خم میں علی بن ابیطالب  كو امیر المومنین معین كیا گیا۔

لیكن نئے ایڈیشن میں متن روایت میں تحریف ہو گئی جو اس طرح ہے:

وَكَانَ نُزُوْلَهَا يَوْمُ النَّفَرِ عَلِيٌّ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيَّ بْنَ اَبِيْطَالِبٍ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ  بَعْدَ تَرَحُّمْ…[2]

یہ آيت امیر الموٴمنین علی ابن ابیطالب سے (نعوذ باللہ) نفرت كے روز اُن پر ترحم كے بعد نازل ہوئی!!! یہ خائن محض (بغدیر خم) كی عبارت كو بدلنے كے چكّر میں لفظوں كی الٹ پھیر اور لفظ (بغدیر) كو توڑ مروڑ كر پیش كرنے كی خاطر (بغدیر خم) كی جگہ پر (بعد ترحم) جیسی عبارت كو پیدا كیا اور لفظ (نص) كو جو بہر حال امیر المومنین كے سلسلے میں ہے اور رسول خداﷺ نے اس طرح واضح اور روشن انداز میں مسئلہ ولایت كو امیر المؤمنین كے سلسلے میں بیان فرمایا كہ تاریخ نے اس كو لفظ نص[3] سے یاد كیا لیكن اس خیانتكار نے اسكو لفظ ‘‘النفر’’[4] میں تبدیل كر دیاہے!

تاریخ اور حقائق تاریخ كے ساتھ كھلواڑ كے اس طرح كے نمونے بہت ہیں لیكن ہم صرف دو نمونوں پر اكتفاء كر رہے ہیں۔

جب یہ ذلیل روش اور طریقہ، خیانتكاروں كو مقصد تك نہ پہونچا سكا تو انكی بعض كتابوں میں دوسرا طریقہ نگاہوں سے گذرا۔

اس روش كی بنیاد پر یہ لوگ مكتب اہل بیت كے پیروكار (شیعوں) كی كتابوں میں دخل اندازی كر كے ائمہ معصومین علیہم السلام كے مقام و منزلت كو گھٹانے اور كم كرنے كی ناكام كوششیں كرنے لگے۔

مثلاً بعض ان روایتوں كو جو امامنے بعض شرائط اور خاص موقعیت كے لحاظ سے اپنے مخاطب سے فرمایا اُسے اس طرح نقل كرتے ہیں كہ تاریخ كا پڑھنے والا پہلی ہی فرصت میں سوئے تفاہم كا شكار ہوجائے۔

اس طرح كی روش میں قاری كو ایٍسے شبہ میں ڈال دیتے ہیں كہ یا تو امام نے (نعوذ باللہ) غلط بات فرمائی ہے یا راوی نے جھوٹی بات كو امام سے منسوب كیا ہے اور یا تو شیعہ مذہب ایك باطل مذہب ہے اور پہلی اور دوسری حالت سے بھی (امام كے مقام و منزلت كو كم كرنے یا راوی كا جھوٹا ہونا) مذہب تشیع كے باطل ہونے كا نتیجہ نكالتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یوں كہا جائے كہ اس طرح كے خائن افراد نے جب اپنے ہاتھوں كو حقائق سے خالی دیكھا تو شعیوں كی كتابوں میں سیندھ لگائی تاكہ واقعات كی تحریف كے ساتھ ساتھ ایسا شبہ پیدا كریں جس سے صاحبان ایمان كا ایمان كمزور ہو جائے۔

لہٰذا اس طرح كی خیانتكاری كے چند نمونے پیش خدمت ہیں:

پہلی حدیث

عقل و خرد سے عادی افراد كے توسط سے كچھ عبارتیں اس ضابطہٴ تحریر میں آئی ہیں جس میں حدیث كا كچھ حصہ كسی خاص آدمی كے سلسلے میں بیان ہوا تھا لیكن اُسے حذف كركے وہ خصوصیات جس كو امام نے اُسی شخص كے لئے بیان فرمایا تھا اسكو تمام مؤمنین سے عمومیت دے دی ہے!

اس حدیث كی ابتدائی و اتنہاء میں حضرت امام جعفر صادق نے مغیرہ ابن سعید اور ابو الخطاب چونكہ وہ لوگ امام كی طرف خدائی كی نسبت دے رہے تھے اور جھوٹی باتیں لوگوں كے درمیان پھیلا رہے تھے لہٰذا امام نے ان پر لعنت كی۔ (قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللهِ یَوْمًا لِاَصْحَابِهٖ لَعَنَ اللهِ الْمُغِیْرَةَ بْنِ سَعِیْدٍ…) اور وہ تمام چیزیں جو یہ لوگ امام سے منسوب كرتے تھے، آپ بیزاری كا اظہار كرتے اور فرماتے تھے كہ مغیرہ ابن سعید وہ ہے جو میرے پدر بزرگوار اور امام محمد باقر كی طرف جھوٹی نسبتیں دیتا تھا اور حدیث كے آخر میں فرماتے ہیں:

خدا كی قسم! وہ لوگ اگر ہمارے ذریعہ آزمائیش كئے جاتے اور اگر ہم انہیں حكم دیتے (كہ وہ ہمیں بندگی سے خارج كركے ہماری طرف خدائی كی نسبت دیں) تو واجب تھا وہ قبول نہ كرتے۔ پس یہ لوگ كیسے ہیں جبكہ ہمیں دیكھ رہے ہیں كہ ہم خدا سے ڈر رہے ہیں؟ لہٰذا خدا سے چاہتا ہوں كہ وہ ان سے دشمنی كرنے اور نفرت و بیزاری كے سلسلے میں ہماری مدد كرے۔ (اسكے بعد حضرت نے اپنے اصحاب كی طرف رخ كیا اور فرمایا:)

میں تم سب كو گواہ بناتا ہوں كہ میں رسول خداﷺ كا فرزند ہوں اور اگر اسكی (خدا) اطاعت كرتا ہوں تو وہ اپنی رحمتوں كا رخ ہماری طرف موڑ دیتا ہے اور اگر نافرمانی كرونگا تو مجھے شدید عذاب میں مبتلا كریگا۔

یہ روایت انہیں دونوں (اور انكے جیسے افراد) كے بارے میں ہے نہ كہ تمام شیعوں كے بارے میں! یہاں پر لازم ہے كہ ہم ائمہ معصومین علیہم السلام كی روایات پر نظر ڈالیں تاكہ مغیرہ ابن سعید اور ابو الخطاب كی شخصیت سے زیادہ آشنا ہو سكیں اور اسكے بعد آپكی توجہ كو آخری نتیجہ گیری كی طرف جلب كریں۔

(البتہ جہاں ابو الخطاب جیسے افتراء پرداز كی شخصیت پہچانی گئی ہے وہیں چند نقل شدہ روایات میں مغیرہ ابن سعید كی شخصیت پر باقاعدہ توجہ ہوئی ہے)

مغیرہ ان لوگوں میں سے ہے جو امام باقر كی طرف جھوٹی نسبت دیتا تھا اور ہمیشہ ائمہ علیہم السلام نے اس پر لعنت كی ہے۔

اسی لئے وہ یہ بھی كہتا تھا كہ مہر بن عبد اللہ ابن حسن (جو مرچكے تھے) مرے نہیں ہیں اور وہ امام محمد باقر كے بعد امام ہیں۔ چنانچہ كشّی نے اپنی كتاب رجال میں مغیرہ ابن سعید پر لعنت كے سلسلے میں بہت ساری روایتیں نقل كی ہیں۔

لہٰذا اب ان روایتوں پر نظر ڈالتے ہیں جو كتاب میں مذكور ہیں:

پہلی روایت

صحابہ میں سے كسی نےوضوء كے سلسلے میں مغیرہ ابن سعید سے حكم سنا تھا اور اس نے امام صادق سے اسكی صحت كے بارے میں سوال كیا تو اس وقت امام نے فرمایا:

فَقَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهٰذَا فَهٰذَا قَوْلُ الْمُغِيْرَةَ بْنَ سَعِيْدٍ لَعَنَ اللهُ الْمُغِيْرَةَ…[5]

اس طرح انجام مت دو! یہ تو مغیرہ كا قول ہے خدا اس پر لعنت كرے۔

دوسری روایت

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

…فَاِنَّ الْمُغِيْرَةَ ابْنَ سَعِيْدٍ كَذَبَ عَلٰى اَبِيْ وَ اَذَاعَ سِرَّهٗ فَاَذَاقَهُ اللهُ حَرَّ الْحَدِيْدِ وَ اِنَّ اَبَا الْخَطَّابَ كَذَبَ عَلَيَّ وَ اَذَاعَ سِرِّيْ فَاَذَاقَهُ اللهُ حَرَّ الْحَدِيْدِ.[6]

یقیناً مغیرہ ابن سعید نے میرے پدر بزرگوار كی طرف جھوٹی نسبت دی اور انكی سربستہ راز كو فاش كیا پس (اس وقت حضرت نے اس پر بددعا كی) خدا اُسے آتش جہنم كا مزہ چكھائے (اُسے عذاب كرے) اور ابو الخطاب نے مجھ پر جھوٹ كا الزام لگایا اور میرے اسرار كو فاش كیا پس خدا اُسے جہنم كی آگ كا مزہ چكھائے (اس پر عذاب كرے)

تیسری روایت

قَالَ اَبُوْ الْحَسَنَ الرِّضَا: كَانَ الْمُغِيْرَةَ بْنَ سَعِيْدٍ يُكَذِّبُ عَلٰي اَبِيْ جَعْفَرٍ فَاَذَاقَهُ اللهُ حَرَّ الْحَدِيْدَ…[7]

حضرت امام رضا نے فرمایا: مغیرہ ابن سعید میرے جد (امام محمد باقر) كی طرف جھوٹی نسبتیں دیتا تھا پس خداوند عالم نے اُسے آتش جہنم كا مزہ چكھایا۔

مغیرہ ابن سعید اور ابو الخطاب كے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام سے اتنی زیادہ روایتیں نقل ہوئی ہیں كہ اگر سبكو  ذكر كروں تو یہ مقالہ طولانی ہو جائیگا۔

وہ روایتیں جن میں ان دونوں كا نام ہے یہ ہیں:

وہ لوگ اس آیت كے مصداق ہیں:

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِيْنُ. تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ.[8]

حضرت نے فرمایا كہ ابو الخطاب اور مغیرہ ابن سعید ان میں سے ہیں ‘‘وہ عمداً’’ میرے پدر بزرگوار كی طرف جھوٹی نسبت دیتا تھا۔

ان دونوں كی شخصیت ایسی تھی كہ سارے صحابہ انكو پہچانتے تھے اور اس حد تك شیعوں كے درمیان مشہور و معروف تھے كہ جو بات بھی اُن سے سنتے تھے (اگر سچی بھی ہوتی تھی تب بھی) یقین نہیں كرتے تھے لہٰذا امام كی خدمت میں آكر اُسے بیان كرتے تھے اور امام اسكے صحیح یا جھوٹی ہونے كا جواب دیتے تھے۔ (یعنی یا تائید فرماتے تھے یا تكذیب)

ان لوگوں كی افتراء پردازی اور جھوٹ اس حد تك پہونچ گیا تھا كہ لوگ اگر كوئی بات (حدیث) امام سے سنتے یا قرآن كی تفسیر یا دوسرے علوم اگر پیغمبر اسلامﷺ كے علوم كے وارث سے كوئی علمی بات سنتے تو اُسے مغیرہ كے سامنے بیان كرنے سے كتراتے تھے اور اس حدیث كو انكے سامنے نقل كرنے سے اعراض كرتے تھے۔ البتہ اسكی وجہ آپ محسوس كر سكتے ہیں كہ اگر مغیرہ نے اس حدیث كو سن لیا تو اس میں ضرور تبدیلی كریگا۔

نتیجہ

1۔    ایسے جھوٹے افراد ائمہ علیہم السلام كے اصحاب كے درمیان مشہور و معروف تھے۔

2۔    ایسے جھوٹے اشخاص كو ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں كو پہچنوا دیا تھا۔

3۔    اسكے بعد بر خلاف تاریخ نگاری كے خیانتكاروں كا یہ مقصد تھا كہ ائمہ علیہم السلام كے اصحاب میں سے انكی اچھی خاصی تعداد كو ملائیں اور ائمہ كے اقوال میں تحریف و تبدیلی كریں۔ لہٰذا چند افراد معروف ہوئے (نہ زیادہ) جنہوں نے ایك چھوٹی سی جماعت تشكیل دی اور اپنے آپ كو شیعوں اور ائمہ كے اصحاب سے قریب كیا تاكہ لوگوں كے عقائد كو خراب كریں اور افتراء پردازی میں مشغول ہو گئے!

4۔    شیعوں اور ائمہ علیہم السلام كے اصحاب نے یہ سیكھا تھا كہ ہر مشكوك بات جو اُن تك پہونچتی تھی اور اگر امام كی طرف سے بیان ہونےمیں اطمینان نہیں ہوتا تھا تو صبر كرتے تھے اور پہلی فرصت میں امام كی خدمت میں حاضر ہوكر بیان كرتے اور اُسے پركھتے تھے۔ اور اگر امام تك رسائی (دسترسی) نہ ہوتی تو اس كو قرآن اور ان روایات كی كسوٹی پر تولتے تھے۔ جسكے بارے میں انہیں اطمینان تھا كہ اسے امام نے فرمایا ہے اور یہ ایسا طریقہ ہے جو ائمہ علیہم السلام كی تعلیم و تربیت كی بنیاد پر ابھی تك چلا آرہا ہے اور روش ابھی تك یادگار كے طور پر شیعوں كے پاس باقی ہے اور زمانہٴ غیبت میں شیعوں كے محدثین اس پر عمل پیرا ہیں۔

بقیہ گفتگو آیندہ مقالہ نمبر 3 میں ملاحظہ كریں۔



[1]     تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 37 طبع نجف 1358؁ھ

[2]     تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 43 طبع نجف 1379؁ھ

[3]     نص وہ مفہومی معنی كہ جو مخاطب كو بغیر كسی شك و شبہ كے اُسے مقصد كی طرف متوجہ كر دے

[4]     نفرت كے معنی

[5]     تہذیب الاحكام، ج 1، ص 349، باب 14

[6]     مستدرك الوسائل، ج9، ص 91اور ص 121

[7]     رجال الكشی فی المغیرۃ بن سعید ص223

[8]     سورہٴ شعراء، آیت 221-222