پروردگار عالم کا سب سے بڒا کرم اور اس کا لطف ہے کہ اس Ù†Û’ ہمیں انسانی وجود سے آراستہ کیا۔اس Ú©Û’ بعد سب سے بڒی نعمت یہ عطا فرمائی کہ اپنے اس دین کا پیروکار بنایا جس کو اس Ù†Û’ اپنے لئے پسند کیا یعنی دین مقدس اسلام اس Ú©Û’ بعد یہ اسی کی جانب سے توفیق اور عنایت تھی کہ ہمیں اہلبیت علیہم السلام کی ولایت و محبت جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند فرمایا۔

اب جو بندہ پروردگارِ عالم Ú©Û’ کریمانہ الطاف اور اس کی مہربانیوں کی قدر کرتا ہے وہ خوش نصیب کہلاتا ہے بارگاہ قدرت میں اسی کا اقبال بلند ہوتا ہے اور جو منكرِ نعمت ہائےالٰہی ہیں سركش ہیں وہ بدنصیب ایسے ہیں كہ دنیا اور آخرت میں ذلت اور عذاب ÙƒÛ’ علاوہ اور كچھ نہیں ملے گا۔

خدا وند عالم Ù†Û’ اتنی عظیم نعمتوں Ú©Û’ عطا کرنے Ú©Û’ بعد خود انسان کو نجات اور کامیابی سے ہمکنار ہونے Ú©Û’ لئے اور خطرات سے محفوظ رہنے Ú©Û’ لئے انبیاء و اوصیاء علیہم السلام کی اطاعت و فرماں برداری کی تاکید فرمائی ورنہ جس طرح ہمارے ہدایت یافتہ ہونے میں اسکا کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہمارے گمراہ ہونے سے بھی اسکا کچھ نہیں بگڒے گا۔تو یہ اسکے لطف و کرم کا دریائے بیکراں ہی تو ہے جس میں ہم صبح وشام غوطہ لگاتے رہتے ہیں، چونکہ خدا وند عالم اپنے علم و حکمت سے جانتا تھا کہ انسان بڒا سرکش ہے اس میں ظلم وتجاوز کی بڒی بڒی طغیانیاں پائی جاتی ہیں لہٰذا ہدایت ÙƒÛ’ چراغ اس ÙƒÛ’ لئے روشن كر دئے، پروردگار Ù†Û’ ایك جانب تو اس كو عقل خیرو شعور عطا فرمایا۔ انصاف كرنے كی صلاحیت دی اور دوسری جانب اپنی طرف سے ہادی بھیجے جو گمراہی كی وحشت كو دور كر ÙƒÛ’ اسے شریعت الٰہی  كی سكون آفرین راہوں پر گامزن كر دے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے كہ:

يَا أَيُْهَا الَْذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَْهِ وَلِلرَْسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ Û- وَاعْلَمُوا أَنَْ اللَْهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَْهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ[1]؎

اے ایماندارو جب تم کو (ہمارا) رسول (محمد) ایسے کام Ú©Û’ لئے بلائے جو تمہاری روحانی زندگی کا باعث ہو توتم خدا Ú©Û’ رسول کا Ø­Ú©Ù… دل سے قبول کر لو اور جان لو کہ خدا وہ قادر مطلق ہے کہ آدمی اور اس Ú©Û’ دل (ارادے) Ú©Û’ درمیان اس طرح آجاتا ہے اور یہ بھی (سمجھ لو) کہ تم سب Ú©Û’ سب اس Ú©Û’ سامنے حاضر کئے جاوٴگے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَْهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۖ وَمَنْ يَعْصِ اللَْهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَْ ضَلَالًا مُبِينًا[2]؎

اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے اور نہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس Ú©Û’ رسول کسی کام کا Ø­Ú©Ù… دیں تو ان کو اپنے اس کام (Ú©Û’ کرنے نہ کرنے) کا اختیار ہو اور یاد رہے کہ) جس شخص Ù†Û’ خدا اور اس Ú©Û’ رسول کی نافرمانی کی وہ یقینا کھلم کھلا گمراہی میں مبتلا ہو چکا۔

وَمَا آتَاكُمُ الرَْسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَْقُوا اللَْهَ Û- إِنَْ اللَْهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ[3]؎

ہاں جو تم کو رسول دیدیں وہ Ù„Û’ لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہواور خدا سے ڈرتے رہو بے Ø´Ú© خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

مگر اس Ú©Û’ باوجود تاریخ،سیرت،حدیث اور تفسیر سے بالکل واضح و روشن ہے کہ اللہ اور اس Ú©Û’ رسولﷺ Ù†Û’ لوگوں کو جن چیزوں کی طرف بلایا اور جن چیزوں کی طرف دعوت دی ،مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے موجود تھے جنہوں Ù†Û’ اللہ اور اس Ú©Û’ رسول Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… کی مخالفت کی اور جس کی اطاعت کی دعوت دی اس کا صریحی انکار کر دیا۔

مسلمانوں Ù†Û’ اللہ اور اس Ú©Û’ رسول کی بتائی ہوئی جن چیزوں کا انکار کیا ان میں سے ایک آنحضرت ï·º کی رحلت Ú©Û’ بعد نصِ غدیر کا انکار بھی شامل ہے۔اس سے مسلمانوں Ù†Û’ روگردانی اختیار کیا یا کلی طور سے اسے فراموش کر دیا۔حالانکہ یہ وہ حقیقت ہے جسکا انکار اسی طرح محال ہے جس طرح نصف النہار میں آفتاب کا انکار کرنا محال ہے۔اگر کوئی آسمان میں چمکتے سورج کا انکار کرتا ہے تو سورج کا کوئی نقصان نہیں کر تا ہاں نقصان اپنا کرتا ہے کہ لوگوں کی نظروں میں اپنی عزت کھو دیتا ہے، مگر کیا کہنا اس ہٹ دھرمی Ú©Û’ باوجود آفتاب اسے بھی اپنی شعاعوں سے استفادہ کرنے کا موقع دیتا ہے۔اسی طرح مسلمانوں Ù†Û’ نص غدیر سے انکار کر Ú©Û’ نقصان اپنا کیا حضرت علی بن ابی طالب  کا کوئی نقصان نہیں کیا مگراس Ú©Û’ باوجود آفتاب امامت کا فیض ہر ایک تک پہونچتا رہاہے۔

مسلمانوں Ù†Û’ آنحضرت ï·º کی حدیث غدیر، یعنی امت کی رہبری و امامت Ú©Û’ لئے خود پیغمبر اسلام ï·º Ù†Û’ معصوم امام کو جانشین مقرر فرمایا تھا اس کا انکار کر Ú©Û’ انسانیت کا کتنا عظیم نقصان کیا ہے جسکا جبران ہرگز ہرگز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

خود علمائے اہلسنت Ù†Û’ نص غدیر Ú©Û’ نقصانات اور برے نتائج نیز اس Ú©Û’ نہایت ہولناک اثرات کی کھل کر وضاحت کی ہے ذیل میں ہم اہلسنت Ú©Û’ چند علماء واہل دانش Ú©Û’ اعترافات پیش کر رہے ہیں ملاحظہ ہو۔

Û±Û” خلافت کا بادشاہت میں بدلنا:

ڈاکڒ احمد محمود صبحی کہتے ہیں:نظام بیعت اور سیاست و اصول Ú©Û’ بارے میں اہلسنت Ú©Û’ طرز فکر Ú©Û’ سبب بڒے برے اثرات ظاہر ہوئے ہیں ابتداء Ú©Û’ تینوں خلفاء میں ہر ایک اپنے انداز سے ایک دوسرے کی روش Ú©Û’ بر خلاف Ø­Ú©Ù… صادر کرتا رہا، تو اس صورت حال سے اسلام کی صحیح تصویر کی عکاسی کیوں کر ہو سکتی ہے جس پر تمام مسلمان اتفاق نظر رکھتے ہوں۔[4]؎

دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:معاویہ Ù†Û’ اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ نامزد کر Ú©Û’ خلافت کو موروثی بنا دیا جس سے اسلامی نظام میں ایک ایسی بدعت کی بنیاد رکھ دی جس کی ایک نئی تقلید شروع ہو گئی پھر کیا تھا سلف کی سنت پائمال ہونے لگی خلافت فارس و بزنطی کی بادشاہت سے ٹکر لینے لگی اور خلافت کو بادشاہت کا نام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں رہ گیا غرضیکہ بقول جاحظ خلافت قیصرو کسریٰ کی شہنشاہی میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔[5]؎

پھر لکھتے ہیں:ظالم خلفاء Ú©Û’ عہد میں اسلام Ú©Û’ نام پر جو جو کارنامے طاقت و قدرت کا سہارا لیکر انجام دیئے گئے ان تمام چیزوں سے دین مقدس اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے اور دین خدا ان سے بالکل بری اور بیزار ہے قیامت تک اسکا گناہ انھیں لوگوں Ú©Û’ نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا جو اس طرح کی حکومت Ú©Û’ ذمہ دار تھے۔[6]؎

Û²Û” ظلم و استبداد Ù†Û’ خلافت میں بھی جگہ بنالی:

جاحظ،اہلسنت Ú©Û’ عظیم علماء میں شمار ہوتے ہیں باوجود یکہ عثمان Ú©Û’ طرفدار اور حمایتی ہیں مگر معاویہ Ú©Û’ طرز حکومت پر شدید اعتراض کیا ہے لکھتے ہیں:

………معاویہ Ù†Û’ اپنی حکومت میں جبر و استبداد کو خوب روا رکھا اور مھاجرین و انصار کی جماعت نیز بقیہ اعضائے شوریٰ پر خوب مظالم ڈھائے حتی جس سال کو سال جماعت قرار دیا اس سال بھی مسلمان حاکم شام Ú©Û’ ظلم و بر بریت سے محفوظ نہیں رہے در حقیقت وہ سال جماعت نہیں تھا بلکہ ظلم و ستم، انتشار و اختلاف اور قہر و غلبہ کا سال تھا جس میں امامت خلافت قیصر و کسریٰ کی بادشاہت اور تخت و تاج میں منتقل ہوگئی۔[7]؎

تبصرہ

یہ نقیبان اسلام،یہ مصنفین و مؤلفین، یہ قلم ÙƒÛ’ شہسوار كون ہیں جن ÙƒÛ’ سامنے عثمان كی خلافتی كارگذاریاں مروان بن حكم پر آپ كی مہربانی۔ بیت المال میں اصراف كو نہیں جانتے تھے پھر بھی حمایت پر آمادگی جانتے ہوئے۔ خشت اول گرنہد معمار كج تاثریامی رودیوار كج اسی خلافت كی ایك مضبوط شاخ ہی تو تھی معاویہ كی بادشاہت۔ اے كاش نص غدیر پر پردہ پوشی ÙƒÛ’ بجائے اسكے زہریلے اثرات سے باخبر ہوتے تو دنیا اسلام كو تباہی كا یہ منظر نہ دیكھتی۔

Û³Û” حضرت علی ÙƒÛ’ حق میں تمام فرمان رسولﷺ كو پس پشت ڈالنا

حضرت علی كے بارے میں رسول اللہﷺ Ù†Û’ فضائل و مناقب میں جو كچھ فرمایا تھا ان سب سے قطع نظر كر لیا۔ رسول اللہﷺ كی اہلبیت علیہم  السلام سے تمام نیك برتاؤ كی تاكیدوں سے مسلمانوں Ù†Û’ منھ پھیر لیا بلكہ اہلبیت علیہم السلام کا ناحق خون بہایا گیا اور امامت جیسے الٰہی منصب پر یزید جیسے فاسق و فاجر کو بیٹھا دیا گیا اس سلسلہ میں ابن قتیبہ لکھتے ہیں:جہمیْہ اور مشبہہ Ù†Û’ حضرت علی کرم اللہ وجہ کی تنقیص شان میں غلو سے کام لیا ان Ú©Û’ حق کا انکار کر Ú©Û’ گمراہی اور ضلالت اختیار کیا انھوں Ù†Û’ اپنے ظلم کا جواز پیش کئے بغیر ظلم و ستم اور ناحق طریقہ سے ان کا خون بہایا………اپنی جہالت کی بنیاد پر انھیں امامت Ú©Û’ پاکیزہ منصب سے ہٹا کر فتنہ و فساد برپا کرنے والوں کا امام قرار دیا لوگوں میں اختلافات کی وجہ سے ان کی خلافت و امامت کو تسلیم نہیں کیابلکہ مقابلہ میں بزید بن معاویہ کو (اپنے خیال میں)اجماع امت Ú©Û’ سبب خلافت کا حقدار سمجھتے ہیں۔[8]؎

4Û” دین حق اور سنت پیغمبر ï·º کی تبدیلی:

اس میں Ø´Ú© نہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ کی رحلت Ú©Û’ بعد دین مقدس اسلام میں ایسی ایسی باتیں داخل کر دی گئیں جنکا اسلام سے دور دور کا بھی رشتہ نہیں پایا جاتا اور آج کا مسلمان انھیں دین کا ایک حصہ سمجھ کر انجام دھی میں اپنے سچے ایمان دار ہونے Ú©Û’ ثبوت پیش کرنے میں ایڈی Ú†ÙˆÚ’ÛŒ کا زور لگائے ہوئے ہے۔ان تمام باتوں کو پیش کرنے کا موقعہ نہیں ہے ان سے دلچسپی رکھنے والے حضرات محقق گرانقدر سید شرف الدین موسوی کی کتاب الاجتہاد والنص کی طرف رجوع فرمائیں اس موقع پر صرف اہلسنت Ú©Û’ ایک بزرگ عالم دین مقریزی Ú©Û’ اعتراف کی طرف اشارہ کروں گا اور بس۔

مقریزی لکھتے ہیں:خدا اس Ú©Û’ رسول Ù†Û’ سچ فرمایا تھا کہ رسول اللہ ï·ºÚ©Û’ بعد کچھ ایسے خلفاء آئیں Ú¯Û’ جو ہدایت Ú©Û’ طریقہ اور دین حق Ú©Û’ ذریعہ فیصلہ نہیں کریں گے۔اور سنتوں کو تبدیل کر دیں گے………[9]؎

5Û” نا اہل افراد اسلام Ú©Û’ ذمہ دار بن گئے جس سے مسلمانوں خصوصاً بزرگ صحابہ کرام Ú©Û’ قتل و غارت کا بازار گرم ہو گیا:

اس سلسلہ میں ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں:بزید بن معاویہ Ù†Û’ اسلام میں اپنے نہایت ناپسندیدہ اور برے اثرات مرتب کئے ہیں،اس Ù†Û’ اپنی حکومت و بادشاہت Ú©Û’ ابتدائی دنوں میں (امام)حسین اور ان Ú©Û’ اہلبیت کو قتل کیا۔عبد اللہ بن زبیر کو مسجد الحرام میں قید کر دیا اسلام اور کعبہ کی حرمت کا خیال تک نہ کیااور حکومت Ú©Û’ آخری دنوں میں اہل مدینہ ،قوم Ú©Û’ بزرگ افراد اور عظیم صحابہ کو واقعہ حرہ میں تہہ تیغ کر ڈالا………[10]؎

دوسری کتاب میں کچھ اس طرح وضاحت کی ہے، بنی امیہ Ú©Û’ بادشاہوں Ù†Û’ نماز سے تکبیر کو ساقط کر دیا نماز عید فطر و عید قربان Ú©Û’ خطبہ کو مقدم کر دیا یہاں تک یہ بات تمام روئے زمین میں پھیل گئی(اور ہر جگہ یہ بدعت و گمراہی انجام دی جانے لگی)لہٰذا اب یہ کہنا بالکل درست اور بجا ہے کہ سوائے پیغمبر اکرمﷺ Ú©Û’ عمل Ú©Û’ کسی شخص کا بھی عمل حجت نہیں ہے۔[11]؎

Û¶Û” تفسیر آلوسی میں نقل ہے: ابو الثناء آلوسی  آیت:

وَمَا جَعَلْنَا الرُْؤْيَا الَْتِي أَرَيْنَاكَ إِلَْا فِتْنَةً لِلنَْاسِ وَالشَْجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِْفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَْا طُغْيَانًا كَبِيرًا[12]؎

اور ہم Ù†Û’ جو خواب تم کو دکھلادیا تھا تو بس اسی لوگوں (Ú©Û’ ایمان کی آزماش کا ذریعہ ٹھرایا تھا ا(اسی طرح) وہ درخت جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے اور ہم باوجودیکہ ان لوگوں کو (طرح طرح سے) ڈراتے ہیں مگر ہمارا ڈرانا ان کی سرکشی کو بڒھاتا ہی گیا۔

کی تفسیر میں ابن جریر ابن ابی حاتم و ابن مردویہ و بہیقی وغیرہ Ú©Û’ حوالے سے پیغمبر اکرمﷺ Ú©Û’ خواب Ú©Û’ بارے میں روایتوں کو نقل کیا ہے کہ بنی امیہ آنحضرت Ú©Û’ منبر پر بندروں Ú©Û’ مانند Ú†Ú’Ú¾ رہے ہیں جب یہ خواب آنحضرتؐ Ú©Û’ لئےسخت اور گراں گذرا تو خدا وند عالم Ù†Û’ یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہے۔[13]؎

7Û” مقدس خانہ كعبہ اور مدینہٴ منورہ كی بے حرمتی و تاراجی:

ڈاکڒ طٰہٰ حسین مصری کہتے ہیں: خدا وند عالم Ù†Û’ قرآن میں مکہ Ú©Û’ تقدس و حرمت کو بیان کیا اور مدینہ رسول کو بھی عزت و احترام عطا کیا ہے،لیکن بنی امیہ Ù†Û’ مدینہ و مکہ کو مباح قرار دیا تین مرتبہ مدینہ کا تقدس پامال ہوا ہے سب سے پہلے یزید بن معاویہ Ù†Û’ وہاں قتل وغارت کا بازار گرم رکھا عبد الملک بن یزید بن معاویہ Ù†Û’ وہاں قتل و غارت کا بازار گرم رکھا،عبد الملک بن مروان Ù†Û’ بھی حجاج بن یوسف کو مکہ کی تاراجی Ú©Û’ لئے ہر طرح کی اجازت دے دی تھی،اس Ú©Û’ بعد وہاں جو جو مظالم ڈھائے گئے انہیں تاریخ Ú©Û’ صفحات میں ہر Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ والے انسان Ú©Û’ رونگٹے Ú©Ú¾Ú’Û’ ہو جاتے ہیں،یہ سارے مظالم صرف اس لئے ڈھائے جارہے تھے تا کہ اہم اور مقدس بلادِ اسلامی ابوسفیان اور بنی مروان کی اولاد Ú©Û’ لئےتحت تصرف میں آجائیں اور ان Ú©Û’ سامنے سر نہ اٹھائیں ۔یزید بن معاویہ Ú©Û’ Ø­Ú©Ù… سے ابن زیاد Ù†Û’ امام حسین  اور ان Ú©Û’ فرزندوں ان Ú©Û’ بھائیوں کو شہید کیااور رسول اللہ کی بیٹیوں ان کی نواسیوں کو اسیر کیا……بیت المال مسلمین خلفاء کی ذاتی ملکیت ہوگئی پھر جس طرح چاہا خرچ کیااس میں خدا ورسول کی پسند کو کوئی دخل نہ تھا Û”[14]؎

دوسری جگہ لکھتے ہیں :جبرو استبداد، طغیانی و سرکشی کو بنی امیہ کی حکومت میں اصل اور بنیاد کی حیثیت حاصل تھی کائنات Ú©Û’ مشرق و مغرب میں زیاد اور آلِ زیاد اس لئے فتنہ وفساد برپا کرتے تھے تا کہ بنی امیہ Ú©Û’ لئے حکومت مستحکم کر سکیں اسی لئے بنی امیہ Ù†Û’ بھی ہر طرح کی آزادی دے رکھی تھی زیاد اور ابن زیاد Ú©Û’ بعد حجاج وارد عراق ہوا،اور سرزمین عراق کو قتل و غارت اور فتنہ و فساد سے بھر دیا۔[15]؎

ڈاکڒ طہ حسین اپنی کتاب الفتنۃ الکبریٰ میں رقم طراز ہیں:

حضرت علیپیغمبر اکرمﷺ سے سب سے زیادہ قریب تھے،آپ ہی کی آغوش میں تربیت ملی تھی اور ان کی تمام امانتوں Ú©Û’ لئے علیہی جانشین تھے،اور عقد مواخات (پیغمبر اکرمﷺ Ú©Û’ ساتھ عقد اخوت)کی بنیاد پر رسول اللہ Ú©Û’ بھائی تھے پیغمبر اکرمﷺ Ú©Û’ داماد، ذریت رسولﷺ Ú©Û’ پدربزرگوار تھے،حضرت علیپیغمبرﷺ Ú©Û’ علوم ÙƒÛ’ حامل تھے ان Ú©Û’ اہل بیت Ú©Û’ درمیان وہی جانشین تھے اور حدیث پیغمبرﷺ کی نص Ú©Û’ مطابق آنحضرت Ú©Û’ نزدیک علی  کو وہی منزلت حاصل تھی جو حضرت موسی Ú©Û’ نزدیک ھارون کو حاصل تھی ،اگر تمام مسلمان ان حقائق کو تسلیم کر لیتے اور انھیں حقائق کی بنیاد پر حضرت علیکا انتخاب کر لیتے تو ہرگز حق سے دور نہ کہلاتے اور نہ ہی منحرف ہوتے ………یہ تمام حقائق حضرت علیہی ÙƒÛ’ لئے خلافت كا میزان فراہم کررہے تھے، خواہ وہ آنحضرت Ú©Û’ ساتھ قرابت کا مسئلہ ہو، یا اسلام میں سبقت کی حقیقت ہو، یا تمام مسلمانوں میں انکا نمایاں مقام ہو،راہِ خدا میں جہاد ہو یا آپ کی پاکیزہ سیرت و کردار ہو جس میں ذرہ برابر انحراف کی گنجائش نہیں تھی،عدالت و فقاہت ہو یا کتاب و سنت پر استقامت یہ ساری چیزیں آپ Ú©Û’ لئے امامت و خلافت کو موزوں قرار دے رہی تھیں،بنی ہاشم خلافت و امامت Ú©Û’ امور سے زبردستی دور کئے گئے ہیں اور انھیں دور کرنے والے قریش ہی تھے اس لئے کہ وہ لوگ اس بات سے سخت خوفزدہ تھے کہ لوگ بنی ہاشم Ú©Û’ پاس جمع ہو جائیں Ú¯Û’ اور انھیں یہ چیز پسند نہیں تھی کہ ان Ú©Û’ قبیلہ سے نکل کر کسی اور قبیلہ میں خلافت چلی جائے Û”[16]؎

دوسری جگہ لکھتے ہیں:دنیا چاہے جتنا معاویہ کا قصیدہ Ù¾Ú’Ú¾Û’ اور لگوں Ú©Û’ گیت گائے………مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ روشن ہے جسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وہ جنگ احد و خندق میں مشرکوں Ú©Û’ سردار ابوسفیان ہی کا بیٹا ہے وہ اسی ہند کا بیٹا ہے جو حضرت حمزہ Ú©Û’ قتل کا سبب تھی جس Ù†Û’ آپ Ú©Û’ Ø´Ú©Ù… کو چاک کر Ú©Û’ کلیجہ باہر نکالا اور منھ سے چبا Ù†Û’ کی کوشش کی مگر نہ ہوسکا)جو پیغمبر اکرمﷺ Ú©Û’ لئے نہایت تکلیف کا باعث ہوا۔[17]؎

8Û” دورانِ جاہلیت کی بت پرستی کا ظہور:

مشہور مورخ سید امیرعلی ہندی لکھتے ہیں بنی امیہ Ú©Û’ طرز حکومت Ù†Û’ صرف خلافت Ú©Û’ اصول کو متغیر نہیں کیا بلکہ اس سے اسلام کی اساس و بنیاد ہی متزلزل ہوگئی۔[18]؎

دوسری جگہ رقم طراز ہیں: شام میں معاویہ Ú©Û’ برسر اقتدار Ù†Û’ دورانِ جاہلیت کی بت پرستی کو پھر سے راستہ دکھا دیا جس سے اسلام کی ساری تعلیمات محو ہو کر رہ گئیں۔[19]؎

Û¹Û” اسی لئے امر خلافت میں آج تك اختلاف باقی ہے:

ڈاكٹر احمد امین مصری یوم الاسلام میں لکھتے ہیں:پیغمبر اکرمﷺ کی جس بیماری میں وفات ہوئی ہے اس میں آپ Ù†Û’ اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو معین کرنے کا ارادہ فرمایا جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم Ù†Û’ نقل کیا ہے کہ آنحضرت Ù†Û’ فرمایا:لاؤ ایک نوشتہ لکھ دوں تا کہ میرے بعد تم لوگ گمراہ نہ ہو…………لیکن وہ لوگ اپنے لوگوں میں سے جسے امر خلافت سونپنا چاہتے تھے انھیں خلیفہ بنا دیتے ہیں اسی لئے آج تک امر خلافت میں اختلاف پایا جارہا ہے عہد پیغمبر میں اسلام انتہائی قوی اور متین تھا مگر پیغمبرﷺ کی رحلت Ú©Û’ بعد جاں سوز معرکے شروع ہو گئے۔[20]؎

تبصرہ

افسوس اس بات كا ہے كہ پیغمبر اسلامﷺ Ù†Û’ اپنی رحلت سے پہلے ایك نوشتہ لكھنے كا حكم صادر فرمایا جسكو عمل میں لانے نہیں دیا گیا۔ واقعہ ایك بڒا المیہ ثابت ہوا اور اسی تاریخی موڒ سے اسلام ÙƒÛ’ زوال كی پرچھائیاں نظر آنے لگیں۔ جو بعد میں خلفائےبنی امیہ اور بنی عباس ÙƒÛ’ بدكردار بادشاہوں Ù†Û’ ظلْ الٰہی ÙƒÛ’ نام سے ایساجال بچھایا كہ بڒے بڒے علما ان پرچھائیوں ÙƒÛ’ جھپیٹ میں آكر اپنا ایمان كھو بیٹھے اور اس طرح اصل اسلام ÙƒÛ’ سامنے گمراہیوں كا ایك بڒا پیش خیمہ مقابل میں Ø¢ گیا۔

10Û” جنت اور جہنم کا انکار:

ڈاکڒ علی سامی نشار لکھتے ہیں:جب عثمان بن عفان کو خلافت ملی تو ابو سفیان Ù†Û’ کہا:دیکھو قبیلۂ تیم وعدی Ú©Û’ بعد اب تمہیں حکومت ملی ہے تو اسے ایک گیند Ú©Û’ مانند اپنے ہی ہاتھوں میں گھماتے رہو اور اس کی جڒوں کو بنی امیہ میں قرار دو اس لئے کہ خلافت ایک بادشاہت ہے میں نہیں سمجھتا جنت یا جہنم جیسی کوئی چیز وجود رکھتی ہے۔[21]؎

تبصرہ

ابو سفیان مخاطب تھے عثمان بن عفان سے جو خلیفہ كی حیثیت سے سربراہ اسلام تھے۔ عثمان بنی امیہ كی نسل كا پہلا خلیفہ تھا۔ باہم سلوك ان دو افراد اس مزاج كا پتہ دے رہے تھے۔ بدر و حنین، خندق و خیبر میں اٹھا تھا اور جو صورت بد لیكر اسلام كی جڒ كو ہلانے كی كوشش میں مصروف تھے۔ ایك لفظ سے اسلام سے ابو سفیان كی دشمنی كا نہایت كڒوا زہر ٹپك رہا ہے۔ سچ ہے قوتِ فكر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے پھر كسی قوم كی عظمت پہ زوال آتا ہے۔

11Û” تاریخِ عالم کا سب سے بڒا حادثہ:

نص غدیر سے انکار کی بنیاد پر جتنی نام نہاد اسلامی حکومت یا خلافت اسلامی کا قیام ہوا ہے،وہ تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم Ú©Û’ لئے بہت بڒا حادثہ ہے جس Ú©Û’ مقابلہ میں کوئی اور حادثہ نہیں ہو سکتا ہے اسی سلسلہ میں عباس محمود عقْاد تحریر فرماتے ہیں:عصر خلافت Ú©Û’ بعد خاندانِ بنی امیہ کی حکومت کا قیام، تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں انتہائی خطرناک اور دردانگیز حادثہ تھا جو رونما ہوا ہے۔[22]؎

مشہور مؤرخ طبری Ù†Û’ سعید بن سوید سے نقل کیا ہے کہ معاویہ Ù†Û’ ایک دن لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا:میں Ù†Û’ تم سے اس لئے جنگ نہیں کی کہ نماز Ù¾Ú’Ú¾Ùˆ روزہ رکھو حج اور زکواۃ ادا کرو۔بلکہ میں Ù†Û’ اس لئے جنگ کی تا کہ میں تم پر حکومت کروں۔[23]؎

تبصرہ

نص غدیر سے انكار Ù†Û’ سیاست و حكومت ÙƒÛ’ خود ساختہ ڈھانچے Ù†Û’ اسلام كا رنگ روپ بدل دیا ہے۔ قرآن مجید میں نئی نئی تفاسیر نئے نئے، تاویلات ÙƒÛ’ زاویہ۔ نئے نئے مطالب و معنیٰ ÙƒÛ’ Ú¯Ú’Ú¾Û’ ہوئے زاوئے سب كچھ ابھر ابھر كر سامنے آنے Ù„Ú¯Û’ لیكن جیسے جیسے زمانہ گذرتا گیا لوگوں كو اعلانِ غدیر، واقعہ قلم و قرطاس ذہن میں گھومنے لگا ہوگا۔ ورنہ سنی مورخین ÙƒÛ’ كفِ افسوس ملنے والی باتیں تاریخ میں كیوں كانٹے كی كھٹك دے رہی ہوتیں؟!

Û±Û²Û” نظامِ خلافت میں بدعتوں اور غیر شرعی امور كو اجتہاد كا نام دے دیا گیا:

اہلبیت علیہم السلام خصوصاً امیر المؤمنین  کی امامت و خلافت Ú©Û’ لئے پیغمبر اکرمﷺ کی جانب سے بیان کردہ احادیث و روایات سے انکار Ú©Û’ بعد جب عالم اسلام کو جدید اور نئے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہوا تو جس طرح مسلمانوں Ù†Û’ اہلبیت Ú©Û’ حق امامت کو غصب کیا اسی طرح مسلمانوں Ù†Û’ ان سے حق تبین دین اور تشریح احکام و قرآن کو بھی غصب کیا اور اس طرح اپنی رائے اور ہوائے نفس سے خود احکام نیز امر خلافت میں اجتہاد کا دروازہ کھل گیا اس بارے میں جارڈن(اردن)میں یرموك یونیورسٹی Ú©Û’ استاد ڈاکڒ محمد خالدی لکھتے ہیں:پیغمبر اکرمﷺ كی وفات Ú©Û’ بعد خلافت جدید اور نئے نظام کی شکل میں ظاہر ہوئی،جس کی وجہ سے اس میں اجتہاد کا راستہ کھل گیا طریقۂ خلافت کی بحث و گفتگو شروع ہوگئی اور عام مسلمانوں میں خلفاء Ú©Û’ اجتہاد و خطا کی بحث چھر گئی جس کی وجہ سے مختلف آراء ونظریات وجود میں آگئے دینی و سیاسی فرقوں اور جماعتوں کا وجود ہونے لگا اور بحث ہوئی کہ خلافت کی شکل کیسی ہو اور انتخاب خلیفہ کامعیار کیا ہو۔اس بحث سے خلافت Ú©Û’ مختلف نمونے وجود میں آئے۔[24]؎

Û±Û³Û” اختلاف خلافت Ú©Û’ ضمن میں گذشتہ و آئندہ Ú©Û’ تمام مظالم کا ذمہ دار قرار پانا:

امیر المؤمنین  Ú©Û’ حق امامت کو غضب کرنے Ú©Û’ نتیجہ میں جو مظالم ڈھائے گئے اور ڈھائے جاتے رہے كتنوں کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔نسل تباہ برباد کردی گئی علماء صالحین اولیائے خدا خاصانِ خدا کو ناحق قتل کیا گیا،کتنے جلیل القدر صحابہ اور حاملانِ قرآن اور حافظانِ قرآن کو تہہ تیغ کیا گیا اور سب سے بڒھ کر امیر المؤمنین علی بن ابی طالب  کی شہادت سے لیکر گیارہویں امام حسن عسکری  کی شہادت کی ذمہ داری اسی کی گردن پر آتی ہے جس Ù†Û’ خلیفہ بلافصل امیر المؤمنین  کی امامت و خلافت Ú©Û’ نص الٰہی سے انکار کیا اور ان Ú©Û’ مقابلے میں ہوائے نفس اور ہوس اقتدار میں الگ سے خلیفہ بنا ڈالا۔

محمد رشید رضا تفسیر المنار میں لکھتے ہیں:

بنی امیہ Ù†Û’ اسلامی حکومت کو تباہ و برباد کر دیا، اس Ú©Û’ اصول و ضوابط کو متزلزل کر دیا، اور مسلمانوں Ú©Û’ لئے شخصی و ابدی حکومت کی بنیاد قائم کر دی، تو اس سے خود اپنے عمل اور ہر اس شخص Ú©Û’ عمل کا قیامت تک جواب دہ ہوگا جو اس Ú©Û’ راہ و روش پر چلتا رہیگا۔[25]؎

یہ تمام مشکلات الٰہی نص اور فرمانِ رسولؐ سے انکار کی بنیاد پر پیدا ہوئی ہیں اگر مسلمان رسول اللہ ï·ºÚ©Û’ بعد ائمہ معصومین علیہم السلام Ú©Û’ لئے نص سے انکار نہ کرتے تو ہرگز ہرگز ان مصیبتوں میں گرفتار نہ ہوتے انکار Ú©Û’ نتیجہ میں یہ وہ برے اثرات تھے جنکا علماء اہلسنت Ù†Û’ اعتراف بھی کیا ہے اور شکوہ بھی ۔ہاں یہ وہ مشکلات ہیں جن سے اہلبیت علیہم السلام کی پیروی اور اطاعت Ú©Û’ نتیجہ میں شیعہ مکتب فکر آزاد ہے اور یہ انھیں کی پاکیزہ رہنمائی ہے جس سے آج سب نجات یافتہ اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں خدا یا ہمیں آخری دم تك امیر المومنین  اور ان كی پاكیزہ اولاد كی ولایت و محبت پر قائم فرما۔ آمین۔


[1] سورہ انفال، آیت ۲۴

[2] سورہ احزاب، آیہ ۳۶

[3] سورہ حشر، آیت 7

[4] نظریۃ الامامۃ لدی الشیعۃ الاثنی عشریہ، ص 501

[5] النظم الاسلامی نشأتہا و تطوْرہا، ص 267

[6] وہی مدرک ص۔۲۷۹

[7] رسائل جاحظ، ص۲۹۲-Û²Û¹Û· رسالۂ یازدھم

[8] الاختلاف فی اللفظ  و الرد علی الجہمیۃ و المشبہۃ، ص 47-49

[9] النزاع والتخاصم، ج۱۲،ص Û³Û±Ûµ-Û³Û±Û·

[10] جمہرۃ انساب العرب، ص 112

[11] المحلیٰ ج۱،ص۵۵

[12] سورۂ اسراء، آیت۶۰

[13] تفسیر آلوسی در ذیل آیت اسراء۶۰

[14] مراۃ الاسلام، ص۲۶۸-Û²Û·Û°

[15] مراۃ الاسلام، ص۲۷۲

[16] الفتنۃ الکبریٰ، ج۱،ص۱۵۲

[17] الفنۃ الکبریٰ، ج۲،ص۱۵

[18] مختصر تاریخ العرب والتمدن الاسلامی، ص۶۳

[19] روح الاسلام،ص۲۹۶

[20] یوم الاسلام، ص۴۱

[21] النزاع و التخاصم، ص۳۱

[22] معاویہ فی المیزان، ج۳،ص۵۴۳

[23] معاویہ فی المیزان، ج۳،ص۶۱۱نقل از طبری

[24] الاھول الفكریۃ للثقافۃ الاسلامیۃ، ج 3، ص 16

[25] تفسیر المنار، ج۵،ص Û±Û¸Û¸