تعلیمات اسلامی كی مستحكم اساس ولایت و برات ہے۔ یہیں سے ہم امر بہ معروف و نہی از منكر معنی و مطالب كو درك كرتے ہیں۔ یہی مقصد شہادت امام حسین ہے۔ دائرہ اسلام میں رہ كر جس Ù†Û’ ولایت و برائت ÙƒÛ’ مفہوم كو نہ سمجھا اور نہ اس پر عمل كیا اس سے بڒا بد نصیب كون ہوسكتا ہے۔

اسی مقصد كی تعقیب میں مسلمانوں Ú©Û’ درمیان ایک رسم جو صدیوں سے چلی آرہی ہے وہ ہے مخصوص تاریخ كی مناسبت سے جشن، اور محفلوں کا منعقد کرنا ہے۔ اس لئے كہ معصومین كی ولادت یا پیغمبر اكرمﷺ كی بعثت۔ یا معراج وغیرہ كی با بركت تاریخوں میں جشن اور محفولوں ÙƒÛ’ انعقاد سے عوام ÙƒÛ’ دینی جذبے سنورتے رہتے ہیں اور ان كی یادوں میں ان واقعات ÙƒÛ’ حالات اور ان كی كیفیات ÙƒÛ’ چرچے تازہ دم رہتے ہیں۔ چنانچہ ایسے جشن اور ایسی محفلیں بڒی افادیت اہمیت اور بركتوں كی حامل ہوتی ہیں۔یہ کام اپنی اہمیت، اور برکت Ú©Û’ لحاظ سے انجام دیا جاتا ہے اب چاہے امام کی ولادت ہو یا پیغمبرﷺ کی بعثت، معراج وغیرہ ہو۔

مسلمان مخصوص شب یا دن میں معصومین علیہم السلام سے فیض اور روحانی  و معنوی فائدہ حاصل کرنے Ú©Û’ لئے ان محفلوں اور جشن میں شرکت کرتے ہیں۔ اور انکی عنایتوں سے عظیم برکتیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس وھابی حضرات جب سے پیدا ہوئے ہیں وہ نہ صرف ان برکتوں اور ثواب سے محروم ہیں بلکہ دوسروں کو اس ثواب سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے طرح طرح Ú©Û’ حیلہ و بہانے، اور اعتراض سے اس کام کو روکنے کی سعئی کرتے رہتے ہیں، اور شاید جان بوجھ کر دشمنان اسلام کی خواہشات کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ کیونکہ دشمنان اسلام ہر گز نہیں چاہتے کہ مسلمان اپنے مقدسات کو زندہ رکھیں اور ہر سال تجدید عہد کرتے رہیں۔ اور نتیجۃً انکے جسم و جان میں روح اسلام گردش کرتی رہے۔

اس موضوع کی اہمیت Ú©Û’ مد نظر قارئین کی خدمت ان سے مربوط وھابیوں Ú©Û’ اعتراضات اور انکے جواب پر طائرانہ نظر ڈالیں Ú¯Û’Û”

وھابیوں Ú©Û’ فتوے:

Û±Û”       ابن تیمیہ کہتے ہیں:دوسری قسم، ’’ایام کی‘‘، وہ دن ہے جس میں کچھ حادثات رونما ہوئے ہیں جیسے ۱۸؍ ذی الحجۃ سبھی لوگ اس دن کو عید قرار دیتے ہیں جسکی کوئی اصل و بنیاد نہیں ہے کیونکہ سلف صالح اور اہل بیت (علیہم السلام) اور دوسرے لوگوں Ù†Û’ اس دن کو عید قرار نہیں دیا ہے، اور عید اس دن کو کہا جاتا ہے جس میں شریعت Ú©Û’ قانون کی پیروی کرنا چاہیئے۔ نہ کی بدعت گذاری، یہ عمل عیسائیوں Ú©Û’ عمل کی طرح ہے جو حضرت عیسی  سے متعلق حادثات کو عید Ú©Û’ طور پر مناتے ہیں۔ [1]؎

Û²Û”       شیخ عبد العزیز بن باز کہتے ہیں:پیغمبرؐ اور غیر پیغمبر Ú©Û’ لئے محفلیں اور جشن قائم كرنا جائز نہیں ہے اوریہ عمل اس دین میں بدعت ہے، کیونکہ پیغمبرؐ اور خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہٴ تابعین Ù†Û’ اس طرح کا کوئی کام انجام نہیں دیا ہے۔[2]؎

3۔     وہابی مفتیوں كی جماعت كہتی ہے:انبیاء اور صالحین Ú©Û’ سوگ میں اور انکی ولادت Ú©Û’ دن انہیں یا د كرنا زندہ كرنا، یا علم اٹھانا، چراغ، شمع جلانا انکی قبروں پر، یاجشن منانا قبروں Ú©Û’ نزدیک جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں ان بدعتوں میں سے ہے جو دین میں داخل كر دی گئی ہیں اور شرک کا مصداق ہیں، پیغمبر اکرم، انبیاء اور صالحین سلف صالح Ù†Û’ اس طرح Ú©Û’ کام کو انجام نہیں دیا ہے۔ صحابہ اور مسلمانوں Ú©Û’ اماموں میں سے کسی Ù†Û’ بھی تین صدیوں میں جو بہتر ین صدی کہلاتی ہے اس طرح کا کام انجام نہیں دیا ہے۔ [3]؎

Û´Û”      ابن فوزان کہتے ہیں؛اس زمانے میں بدعتیں بہت ہیں، من جملہ پیغمبرؐ کی ولادت Ú©Û’ دن 1۲؍ربیع الاول کو جشن منانا اور محفلیں منعقد کرنا ہے Û” [4]؎

ÛµÛ”      ابن عثیمین کہتے ہیں: بچوں Ú©Û’ لئے ان کی ولادت Ú©Û’ دن جشن منانا دشمنان خدا سے شباہت رکھتا ہے مسلمانوں کی عادت نہیں تھی بلکہ دوسروں سے مسلمانوں کی میراث میں آئی ہے، پیغمبر اکرم فرماتے ہیں:جو شخص کسی قوم سے مشابہ ہوگا انہیں Ú©Û’ زمرہ میں شمار ہو گا۔ [5]؎

محفلوں کا انعقاد، محبت و دشمنی کا مظہر

محبت اور دشمنی دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کی فطرت کی گہرائیوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ دونوں چیزیں نفس Ú©Û’ راغب ہونے اور نہ ہو Ù†Û’ سے عبارت ہے۔

محبت کا واجب ہونا

عقلی اور نقلی دلیلوں سے پتہ چلتا ہے کہ بعض افراد سے محبت کرنا انسان پر واجب و لازم ہے من جملہ :

(۱)اللہ تعالیٰ:

اللہ کی ذات وہ ذات ہے جس سے محبت کرنا ہر انسان کا اولین فرض ہے اور وہ بھی اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات و کمالات میں یکتا ہے تمام موجودات ذات باری سے وابسطہ ہیں لہٰذا خدا وند متعال قران مجید میں ارشاد فرماتا ہے :سورہٴ توبہ 24:

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَْ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَْهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهÙ- فَتَرَبَْصُوا حَتْٰى يَأْتِيَ اللَْهُ بِأَمْرِهÙ- ۖ وَاللَْهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ.

اے رسول کہہ دیجیئے اے لوگو اگر تمہارے باپ دادا، تمہاری اولاد، براداران، عورتیں اپنے رشتہ داروں یا وہ اموال جو تم Ù†Û’ جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس Ú©Û’ نقصان کی طرف سے فکر مند رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہاری نگاہ میں اللہ، اسکے رسول اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار كرو یہاں تک کہ امر الٰہی آجائے اور اللہ فاسق قوم کی ھدایت نہیں کرتا ہے۔

(2)پیغمبر اكرمﷺ:

من جملہ ان لوگوں میں جنہیں اللہ Ú©Û’ لئے دوست رکھنا اور محبت کرنا چاہئے پیغمبر اکرم ï·º ہیں کیونکہ وہ تشریع اور تكوین میں واسطہٴ فیض ہیں اسی وجہ سے اوپر کی مذكورہ آیت میں پروردگار Ú©Û’ ساتھ پیغمبرﷺ كا بھی تذكرہ کیا گیا ہے اور انکی محبت کا Ø­Ú©Ù… دیا گیا ہے۔

پیغمبر اكرمﷺ فرماتے ہیں:

احبوا الله لما يغذوكم و احبوني بحبْ الله

خداوند متعال سے اس لئے محبت كرو كہ وہ تمہیں روزی دیتا ہے اور مجھ سے اللہ كی خاطر محبت كرو۔[6]؎

پیغمبر اكرمﷺ ÙƒÛ’ فضائل و كمالات ایسے ہیں جن كی وجہ سے ہر انصاف پسند انسان ان كی طرف جذب ہوتا ہے اور انكی محبت دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔

(3) اہل بیت علیہم السلام

من جملہ وہ افراد جن سے محبت كرنا واجب ہے، اہل بیت پیغمبر علیہم السلام ہیں۔ كیونكہ اس بات سے قطع نظر كہ یہ افراد فضائل و كمالات كا مجموعہ ہیں اور تشریع اور تكوین ÙƒÛ’ لئے واسطہٴ فیض ہیں۔ پیغمبر اكرمﷺ Ù†Û’ ان سے محبت كرنے كا حكم دیا ہےجیسا كہ مذكورہ حدیث ÙƒÛ’ ذیل میں پیغمبر اکرم ﷺفرماتے ہیں:واحبوااہل بیتی لِحُبِْیْ  اور میرے اہل بیتؒ كو میری محبت كی بنا پر دوست ركھو۔

آل رسولؒ سے محبت ÙƒÛ’ اسباب۔چونكہ پیغمبر اكرمﷺ كی محبت واجب ہے اور آپؐ كی آلِ كی محبت چند اسباب كی وجہ سے واجب ہے:(Û±)اہل بیت کی رسول سے نسبت (Û²)اہل بیت، محبوب خدا و رسول ہیں(Û³)اہل بیت سے محبت اجر رسالت ہÛ'(Û´)قیامت Ú©Û’ دن محبت اہل بیت Ú©Û’ بارے میں سوال کیا جائے گا(Ûµ)معصومینؒ ÙƒÛ’ ہم پلہ  قرآن ہیں(Û¶)محبت اہل بیت شرط ایمان ہÛ'(Û·)اہل بیت کشتی نجات ہیں(Û¸)محبت اہل بیت اعمال و عبادت کی قبولیت کی شرط ہے۔ (Û¹)اہل بیت زمین Ú©Û’ لیئے امان کا سبب ہیں۔

جتنے اسباب ذکر كئے گئے ہر ایک Ú©Û’ لئے مستند روایتیں موجود ہیں اختصار Ú©Û’ لئے ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ محبت ایك ایسی Ø´Û’ ہے جو معنی و الفاظ میں بیان نہیں كی جا سكتی ہے۔ چنانچہ شاعر سچ كہتا ہے:

محبت معنی و الفاظ میں لائی نہیں جاتی       یہ وہ نازك حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی

محبت جب خون ÙƒÛ’ ساتھ دوڒتی ہے تو محبت كرنیوالا محبوب كی راہ میں بے ساختہ چل پڒتا ہے۔ یہی محبت كی كیفیتِ جذب ہے۔

چنانچہ خلاصہٴ كلام یہ ہے كہ محفلیں منعقد کرنا، جشن رکھنا، محبوب کی محبت Ú©Û’ جلووں میں سے ایک جلوہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ لوگ محبت Ú©Û’ درجات میں ایک دوسرے سے الگ ہیں اور دوسری طرف محبت صرف دل میں امنگ و شوق سے عبارت ہے بلکہ محبت خود اپنا پتہ دیتی ہے اور انسان Ú©Û’ رفتار و گفتار میں مؤثر ہے مگر باہری اثر صرف اطاعت و پیروی تک ہی محدود نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ تصور کرتے ہیں۔ بلکہ محبت Ú©Û’ اور بہت سے اثرات اور جلوے ہیں جنہیں محبت کی مطلق دلیلیں شامل کرتی ہیں۔ آثارِمحبت کو مختصر الفاظ میں بالترتیب اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ (Û±)اطاعت و پیروی(Û²)محبوب کی زیارت(Û³)عزت و احترام محبوب(Û´)محبوب کی ضرورتوں کو پورا کرنا (Ûµ)محبوب کا دفاع کرنا(Û¶)محبوب Ú©Û’ فراق میں غم و اندوہ جیسے یوسف Ú©Û’ فراق میں یعقوب کا غم (Û·) محبوب Ú©Û’ آثار کی حفاظت (Û¸)محبوب کی نسل اور فرزندوں کا احترام(Û¹)محبوب سے منسوب چیزوں کا بوسہ لینا (Û±Û°)محبوب Ú©Û’ پیدائش Ú©Û’ دن محفل اور جشن رکھنا اور قصیدے خوانی کرنا۔

قرآن میں جشن و محفل کا تصور:

قرآن کی آیتوں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کسی کی یاد میں محفل اور مجلس منعقد کرنا قرآنی نظریہ ÙƒÛ’ لحاظ سے امر مستحسن ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی قرآن Ù†Û’ تائید کی ہے اور رغبت بھی دلائی ہے۔

(Û±)حج سے متعلق آیتوں سے بخوبی یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حج Ú©Û’ اکثر اعمال کا انبیاء کی یاد کو تازہ کرنا ہے دوسرے لفظوں میں حج کر Ú©Û’ انہیں یاد کرنا ہے بطور مثال :

(Û±)مقام ابراہیم :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی: مقام ابراہیم کو اللہ کی عبادت کی جگہ قرار دو۔

اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں ارشاد فرماتا ہے کہ مسلمان حضرت ابراہیم  Ú©Û’ پیر کی جگہ کو بابرکت سمجھتے ہوئے اس جگہ کو نماز Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ لیئے منتخب کریں۔ تاکہ حضرت ابراہیم اور کعبہ بنانے کی یاد تازہ ہو۔

بخاری اپنی کتاب صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ خانہٴ کعبہ کو تعمیر کرتے وقت Û” اسماعیل  پتھر لاتے اور جناب ابراہیم  خانہ خدا تعمیر کرتے تھے، یہاں تک کہ کعبہ کی دیوار یں بلند ہو گئیں۔ پھر ایک پتھرلایا گیا جناب ابراہیم اس پر Ú©Ú¾Ú’Û’ ہو کر خانہٴ كعبہ کی تعمیر کرتے رہے یہاں تک کہ خانہٴ خدا کی تعمیر مکمل ہو گئی Û”[7]؎

(2) صفا و مروہ

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

إِنَْ الصَْفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَْهِ فَمَنْ حَجَْ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَْوَْفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَْعَ خَيْرًا فَإِنَْ اللَْهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ

صفاء و مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں Û” بس جو شخص حج یا عمرہ کرے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ صفاء و مروہ Ú©Û’ درمیان سعی کرے Û”[8]؎

خدا وند متعال Ù†Û’ جناب ھاجرہ کی کوشش کی یاد کو تازہ رکھنے Ú©Û’ لئے صفاء مروہ Ú©Û’ درمیان سعی کرنے کو حج کا رکن قرار دیا Û”

بخاری کہتے ہیں:ابراہیم  Ù†Û’ جب جناب ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو سرزمین مکہ میں Ú†Ú¾ÙˆÚ’ دیا اور پانی ختم ہوگیا اور جب دونوں کو شدید پیاس لگی اور بیٹا پیاس کی شدت سے تڒپنے لگا تو حاجرہ تڒپ کر صفا کی طرف پانی کی تلاش میں گئیں تا کہ کوئی مل جائے اور اس سے پانی کا سوال کریں لیکن صفا سے مایوس ہو کر اتریں اور تیزی سے مروہ کی طرف گئیں اور پہاڒ پر اس مقصد سے چڒھیں کہ کوئی نظر آجائے اور اس سے پانی کا سوال کریں لیکن پر بھی کوئی دکھائی نہیں دیا Û” اور یہ عمل سات بار انجام دیا Û” ابن عباس پیغمبرؐ سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ï·ºÙ†Û’ فرمایا :اس وجہ سے حاجی صفا و مروہ Ú©Û’ درمیان سات بار طواف کرتے ہیں۔ [9]؎

(۳)قربانی:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَبَشَْرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ. فَلَمَْا بَلَغَ مَعَهُ السَْعْيَ قَالَ يَا بُنَيَْ إِنِْي أَرىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِْي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ Û- سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَْهُ مِنَ الصَْابِرِينَ . فَلَمَْا أَسْلَمَا وَتَلَْهٖ لِلْجَبِينِ . وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ .قَدْ صَدَْقْتَ الرُْؤْيَا ۚ إِنَْا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ . إِنَْ هٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ . وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ.

پھر جب وہ فرزند ان Ú©Û’ ساتھ دوڒ دھوپ کرنے Ú©Û’ لائق ہوگیا تو انھوں Ù†Û’ کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں اب تم بتاوٴ کہ تمھارا کیا خیال ہے فرزند Ù†Û’ جواب دیا کہ بابا جو آپ کو Ø­Ú©Ù… دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشاء اللہ اپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں Ú¯Û’Û” پھر جب دونوں Ù†Û’ سر تسلیم خم کر دیا اور باپ Ù†Û’ بیٹے کو پیشانی Ú©Û’ بل لٹا دیا اور ہم Ù†Û’ آواز دی کہ اے ابراہیم تم Ù†Û’ اپنا خواب پھر کر دکھا یا ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیتے ہیں بے Ø´Ú© یہ بڒا کھلا ہوا امتحان ہے اور ہم Ù†Û’ اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دیا ہے۔

خدا وند عالم Ù†Û’ اس فدا کاری کی قدر دانی Ú©Û’ لئے حاجیوں کو Ø­Ú©Ù… دیا ہے کہ منیٰ میں حضرت ابراہیم کی پیروی کریں اور عظیم عمل اور امتحان کو یاد کریں اور منیٰ میں قربانی پیش کریں۔

انہیں چند آیتوں پر اکتفا کرتے ہوئے حدیثوں کی طرف رخ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ حدیثیں اس سلسلے میں کیا کہتی ہیں۔

محفل، جشن كا انعقاد حدیثوں کی روشنی میں:

جب ہم حدیثوں کی طرف رخ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حدیثوں میں بھی اسکے جائز اور مستحسن ہونے كی وضاحت پائی جاتی ہے۔ چند حدیثیں ملاحظہ ہوں:

(Û±)صحیح مسلم میں ابن قتادہ سے نقل ہے:دوشنبہ Ú©Û’ دن Ú©Û’ روزہ Ú©Û’ بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا گیا تو رسول اللہ Ù†Û’ فرمایا: ذلک یوم ولدت فیہ و فیہ انزل علی اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اس روز پیدا ہوا اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہوا۔ [10]؎

(2)بیہقی انس سے نقل کرتے ہیں:

پیغمبر اکرم ï·º منصب نبوت پر فائز ہونے Ú©Û’ بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا جبکہ روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبرﷺ Ú©Û’ جد امجد حضرت عبد المطلب Ù†Û’ پیغمبر ﷺکی ولادت Ú©Û’ ساتویں دن آنحضرتؐ کا عقیقہ کیا Û”

سیوطی کہتے ہیں: عقیقہ کبھی بھی دووبار نہیں کیا جاتاہے۔ لہٰذا پیغمبر ï·ºÚ©Û’ اس عمل کو اس بات پر حمل کرنا چاہئے کہ پیغمبر ï·ºÙ†Û’ شکریہ Ú©Û’ طور پر اس بات Ú©Û’ لئے کہ اللہ تعالیٰ Ù†Û’ انہیں پیدا کیا اور عالمین Ú©Û’ لئے رحمت قرار دیا، عقیقہ کیا Û” بلکہ اس طرح جیسے پیغمبر اپنے اوپر درد و پڒھتے ہیں اور اس وجہ سے مستحب ہے کہ ہم بھی اللہ کا شکر یہ ادا کرنے Ú©Û’ لئے پیغمبر کی ولادت Ú©Û’ دن یکجا ہوں اور لوگوں کو کھانے کھلانے اور اس طرح Ú©Û’ لئے ایسے کام  انجام دیں جس میں اللہ سے قربت کا پہلو پایا جاتا ہو اور اللہ Ú©Û’ شکریہ کا اظہار کرے۔ [11]؎

(3)حافظ بن ناصر الدین دمشقی کہتے ہیں :

قَدْ صَحَْ اَنَْ اَبَا لَهَبٍ يَخِفُْ عَنْهُ الْعَذَابَ فِيْ مِثْلِ يَوْمِ الْاِثْنَيْنِ لِاِعْتَاقِهِ نُوَيْبَةَ سُرُوْرًا بِمِيْلَادِ النَْبِيْ.

صحیح طریقہ سے منقول ہوا ہے کہ دوشنبہ Ú©Û’ دن ابو لہب Ú©Û’ عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے کیونکہ پیغمبر کی ولادت Ú©Û’ دن اس Ù†Û’ اپنی کنیز نویبۃ کو ولادت کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا

اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب ایک کافر کو پیغمبرﷺ كی حمایت كےاتنے عمل سے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے تو ایک مومن کا محفل و جشن منعقد کرنے میں کتنا ثواب اور رتبہ حاصل ہوگا Û”

میلاد اہل سنت Ú©Û’ نزدیک :

علماء اہل سنت Ù†Û’ پیغمبر ﷺکی ولادت پر جشن منانے کی تعریف کی ہے اور اسکو نیک کاموں میں شمار کیا ہے اور مستحب قرار دیا ہے۔ ان میں سے چند کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(Û±)قسطلانی:مواھب الدنیۃ میں Ù„Ú©Ú¾Ù†Û’ ہیں:طول تاریخ میں، مسلمان پیغمبر کی ولادت Ú©Û’ مہینہ میں جشن برپا کرتے ہیں اور لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ طرح طرح Ú©Û’ صدقات دیتے ہیں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور قصیدہ Ù¾Ú’Ú¾ کر اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں…… خدا وند عالم رحمت نازل کرے ان لوگوں پر جو اسطرح Ú©Û’ عظیم کام انجام دیتے ہیں Û”[12]؎

سیوطی کہتے ہیں: ربیع الاول Ú©Û’ مہینے میں قصیدہ و نعت Ù¾Ú’Ú¾Ù†Û’ Ú©Û’ بارے میں مجھ سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ کام شریعت Ú©Û’ نظرمیں پسند یدہ ہے یا مذموم ہے!ایا کوئی اس کام کو انجام دیتا ہے تو کیا اسکو ثواب ملے گا یا نہیں ہے؟

اسکا جواب یہ ہے کہ نعت اور قصیدہ خوانی اور جشن مولود کیا جاتا ہے کہ لوگ اکٹھا ہوں اور کچھ آیتوں کی قرائت اور پیغمبر ﷺکی شان میں حدیثیں پڒھتے ہیں اور آخر میں کھانے Ú©Û’ ظروف لائے جاتے ہیں اور لوگوں Ú©Û’ درمیان تقسیم کیا جاتا ہے، یہ نیک کام ہے شرکت کرنے والا اور بانی دونوں کو ثواب ملے گا اور اجر دیا جائے گا۔ کیونکہ اس عمل سے، پیغمبر ï·ºÚ©Û’ رتبہ اور منزلت کی تعظیم ہوتی ہے۔ اور حضرت کی ولادت Ú©Û’ دن خوشی کا اظہارکرتے ہیں۔ [13]؎

(Û³)شیخ عبد اللہ ھروی معروف بہ حبشی کہتے ہیں: پیغمبر ﷺکی یاد میں جلسہ منعقد کرنا پسندیدہ کام ہے اور اسکے انکار پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ مناسب یہ ہیکہ ہم سنت حسنہ کا اسکو نام دیں۔ [14]؎

اسکے علاوہ بے شمار علماء اور بزرگوں Ù†Û’ محفل و جشن Ú©Û’ مستحب ہونے پر متعدد دلیلیں پیش کی ہے ہم اختصار Ú©Û’ نظر اس سے صرف نظر کرتے ہیں Û” اور اب ان اشکال و اعتراض کی طرف نظر كرتے ہیں جو وھابی حضرات تمام مسلمانوں ÙƒÛ’ سامنے پیش کرتے ہیں۔

(Û±)کسی کی یاد میں محفل قائم كرنا ایک قسم کی غیر خدا کی عبادت ہے؟

جواب: یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ عبادت کا جذبہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی الوہیت و ربوبیت Ú©Û’ اعتقاد Ú©Û’ ساتھ کسی کی تعظیم و تکریم کی جائے Û” اب اگر تعظیم و تکریم میں یہ عنصر نہ پایا جاتا ہو تو، اصطلاحاً اسکو عبادت نہیں کہا جاتا ہے۔

(Û²)اس طرح Ú©Û’ جلسہ اور جشن عام طور سے حرام کام Ú©Û’ بغیر نہیں ہوتا ہے جیسے عورتوں، اور مردوں کا مخلوط اجتماع، موسیقی و غنا؟

جواب:گناہ کسی جگہ اور کسی وقت بھی انجام دیا جائے حرام ہے، خواہ جشن و محفل جیسے امور میں انجام پائے یا كسی اور جگہ ہم ان پسندیدہ امور كو ان گناہوں كی بنا پر حرام یا ناجائز كا فتویٰ نہیں دے سكتے ہیں۔[15]؎

(Û³)پیغمبر ï·ºÙ†Û’ فرمایا: اپنے گھروں کو قبر اور میری قبر کو عید قرار نہ دو Û” ابن قیم Ù†Û’ اس حدیث سے مراسم اور جشن منانے کی حرمت پر دلیل قائم کیا ہے۔

جواب(Û±) پہلے تودلیل مدعا سے اخص ہے، کیونکہ روایت میں صرف پیغمبر ﷺکی قبر کا ذکر ہے، نہ کہ دوسری جگہوں کا ذکر ہے۔

دوسرےیہ کہ انسان کو چاہیئے کہ پیغمبر Ú©Û’ حضور میں خضوع اور خشوع سے رہے اور پیغمبر ﷺکی قبر Ú©Û’ نزدیک اس طرح کی خوشی Ú©Û’ اظہار کا کوئی موقع نہیں ہے۔ لیکن اسمیں کوئی حرج نہیں کہ دوسری جگہ اس طرح Ú©Û’ مراسم انجام دیئے جائیں۔

سبکی کہتے ہیں:یہ احتمال بھی ہے کہ حدیث کا معنی یہ ہو کہ :میری قبر کو عید Ú©Û’ دن کی طرح قرار نہ دو بلکہ میری قبر Ú©Û’ کنارےزیارت، سلام اور دعا Ù¾Ú’Ú¾ÙˆÛ”

(Û³)سلف صالح Ù†Û’ اس کام کو انجام نہیں دیا ہے؟

جواب: (1)اصول میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معصوم کا کسی کام کو انجام نہ دینا حرمت کی دلیل اور معصوم کا کسی کام کو انجام دینا واجب کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ معصوم کا کسی فعل کو انجام نہ دینا واجب نہ ہونے اور معصوم کا کسی کام کو انجام دینا حرام نہ ہونے کی دلیل ہے، بس صرف انجام نہ دینا، حرام ہونے اور جائز نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

(Û²)سیرت اور مسلمانوں کا عمل ابن تیمیہ Ú©Û’ زمانے تک، ان مراسم کا انجام دینا تھا اور اہل سنت Ú©Û’ علماء Ù†Û’ صراحت Ú©Û’ ساتھ کہا ہے کہ اجماع حجت ہے۔

(Û³)یہ بات جو ابن تیمیہ Ú©Û’ کلام میں پائی جاتی ہے کہ:‘‘سلف صالح پیغمبر اکرم ﷺسے زیادہ محبت کرتے تھے اور اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ ضرور بالضرور انجام دیتے یہ بات پیغمبر ﷺکی حدیثوں Ú©Û’ خلاف ہے، کیونکہ پیغمبر ﷺکی ایک حدیث میں اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ بہت جلد ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو مجھے تم سے زیادہ دوست رکھیں گی اور محبت کریں گی۔[16]؎

(Ûµ)خوشی Ú©Û’ اظہار ÙƒÛ’ لئے کسی خاص دن کو جشن کا دن قرار دینا بدعت ہے؟

ج۔ (Û±)یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کچھ جگہیں اپنے مظروف Ú©Û’ لحاظ سے شرف کی حامل ہوجاتی ہیں اسی طرح کچھ زمانہ اور وقت بھی کسی خاص عمل کی وجہ سے جو اسمیں انجام دیا جاتا ہے قدر و قیمت کی حامل ہو جاتا ہے جیسے شب قدر و غیرہ۔

پس اگر جشن کسی خاص دن جیسے غدیر Ú©Û’ دن یا پیغمبر ﷺکی ولادت Ú©Û’ دن انجام پاتا ہے تو یہ بھی اس لحاظ سے ہے کہ وہ وقت مبارک اور مسعود ہے۔

آخر میں خدا وند عالم کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ اللہ ہمیں اس طرح Ú©Û’ شبہات سے دور رکھے اور آقا امام زمانہ Ú©Û’ ظہور میں تعجیل فرمائے۔ آمین۔


[1]        اقتضاء الصراط المستقیم، ص Û³Û¹Û²-Û³Û¹Ûµ

[2]       مجموع قضاوی و مقالات متنوعۃ، ج ۱، ص Û±Û¸Û³

[3]       اللجنۃ الدائمۃ من الفتور، رقم Û±Û·Û´

[4]       البدعہ، ابن فوزان، ص ۲۵ وص ۲۷

[5]       فتوی منار الاسلام، ج۱، ص Û´Û³

[6]       مستدرك حاكم، ج 3، ص 149

[7]       صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، ج ۶، ص ۱۵۸

[8]       سورہ بقرہ، آیت 158

[9]        صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، ج ۲، ص ۱۵۸

[10]     مسلم، ج۲، ص Û¸Û±Û¹

[11]      صحیح ترمذی، ص۴۶۱

[12]     مواھب اللذنیۃ، ج ۱، ص128

[13]     الحادی للفتاوی، ج۱، ص ۴۸۶، ص ۱۹۷

[14]     الروائج الزکیۃ، ص ۳۳

[15]     الحادی للفتاوی، سیوطی، ج ۱، ص ۸۹

[16]      مجمع الزاوئد، ج 1، ص 66