اللہ تبارک تعالیٰ Ù†Û’ اولاد آدم کو اس دنیا میں ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے لیکن اپنی تمام نعمتوں میں سے ہر ایک نعمت پر اس زمین پر جس کو اپنا وارث قراردیا ہے۔اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے اور جس کو ولایت عطا فرمائی ہے اس سے اور اس کی محبت کی شرط لگادی ہے تا کہ ایک پرکھ ،ایک پہچان قائم ہوجائے۔اگر یہ احتیاطی اور اصولی تقویم اور تقدیم کی شرط نہ ہوئی تو وہ نعمتیں جو ظاہراً نعمت دکھائی دیتی ہیں لیکن بند گانِ خدا Ú©Û’ لئے بلا بردوش ہوتی ہیں اور وہ مصیبتیں جو نعمتوں کا ایک افلاکی اور نورانی سلسلہ قائم کرتی ہیں دونوں Ú©Û’ درمیان کوئی بیْن اور روشن فرق نہ نظر میں آتا اور نہ محسوس ہوتا اور اس طرح انسان کا ذہنی میلان ظاہر سے متاثر ہو کر گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا۔

جہاں تک عقل و شعور انسانی عرضہ جہاں بینی پر اپنی صلاحیت بھر اپنے انظادوافکار کو کھنگالتا ہے اور اسکا تجزیہ کرتا ہے وہ اسی نتیجہ پر گھوم پھر کر آجاتا ہے کہ تمام دنیا میں زمانہ قدیم سے Ù„Û’ کر عہد حاضر تک طاغوتی کاوشوں اور کارناموں Ú©Û’ تحت بے شمار تخلیقات اور ایجادات ایسی بکھری ہوئی ہیں جن کا محاسبہ نہیں کیا جاسکتا اور ہر ایک تخلیق پر سامری جادو کی مہر لگا کر دنیا Ú©Û’ سامنے نعمت الٰہی کی شکل میں انسان کو بہکانے Ú©Û’ لئے پیش كی جاتی ہے۔

امام والدالشفیق ہوتا ہے۔یہ قول امام پُر مَغْزمعنی و مطالب پر مبنی ہے لہٰذا ہم اس پر نہایت سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے افراد ملت کو اسکی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش کریں Ú¯Û’ کہ ان پر اس کےآثارو برکات کسطرح نازل ہوتے ہیں۔شفقت پدری Ú©Û’ دو پہلو ہیں ایک مجازی اور دوسرے معنوی۔ہم یہاں دونوں پہلوؤں پر غور کریں Ú¯Û’Û”

اول: شفقت پدری مجازی معنیٰ میں

ہر ہوشمند باپ اپنی اولاد Ú©Û’ لئے اپنی استطاعت بھر ابتدا سے اس کوشش اور جد وجہد میں لگا رہتا ہے کہ اسکا بیٹا ترقی کركے۔شہرت یافتہ ہو کنبہ پرور ہو۔سعادتمند ہو۔والدین کی ضعیف العمری میں خدمت گذار ہو اور سب سے بڒھ کر خردمندی کا سب سے شدید تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ بیٹا باپ کی آخرت کا بہترین ذخیرہ ثابت ہو۔اس نظریہ Ú©Û’ تحت ایک باپ دنیوی تعلیم سے بھی آراستہ کرتا ہے اور مذہبی اور دینی تعلیم کی وہ روشنی دینا چاہتا ہے جس کی تابناکی Ú©Û’ تحت وہ اپنی ارتقائی راہوں میں اپنی آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے اور جہاں دونوں میں تصادم کی صورت ہو تو وہ ہر قیمت پر اپنی دینی قدروں کی حفاظت کی صلاحیت رکھے۔

شفقت پدری معنوی معنیٰ میں

جس طرح مجازی باپ بچے کو اس کی تربیت Ú©Û’ دوران کوشاں رہتا ہے کہ بچہ لہو لعب Ú©Û’ بچھے جال سے بچتا رہے اور سعادت اُخروی اس Ú©Û’ پیشِ نظر رہے اسی طرح وہ ذات جو اس Ú©Û’ لئے علم Ú©Û’ باب کھولتا ہے۔سیروسلوک میں پیش رفتی کا سلیقہ دیتا ہے۔حقیقتوں Ú©Û’ دریچوں کو واکرتا ہے۔خدا Ú©Û’ بھیجے ہوئے انبیاء اولیاء اور اوصیا کی راہ پر چلنے کا حوصلہ ۔طریقہ ۔جذبہ اور اسلوب سکھاتا ہے ایسے معلم کی تلاش میں ہر مجازی باپ اپنی اولاد Ú©Û’ لئے سرگرداں رہتا ہے اور اسکی دستیابی Ú©Û’ بعد اس Ú©Û’ سامنے سر تسلیم خم کئے رہتا ہے یہ ایک سائکل ہے یا ایک دورہ ہے ۔ایک باپ جس بیٹے Ú©Û’ لئے اس زاویہ مذکور اور اس انداز سے سوچتا ہے بعینہ اسی زاویہ اسی انداز سے یہ بیٹا جب باپ بن جاتا ہے تو وہ اپنے باپ کی روش اور چلن کو اختیار کرتا ہے ۔لیکن معلم روحانی کی حیثیت دور تک نسلوں Ú©Û’ ہم سفر رہتی ہے اور اگر کوئی ایسا معلْم روحانی ہو جو معصوم ہو۔قدرت رکھنے والا ہو۔وقت پر حاوی ہو۔جو ہر لمحہ حضر اور سفر میں نظر رکھنے کا مدعی ہو جس کا جلال۔جمال ،کمال خالق کائنات کی طرف سے ودیعت ہوئی ہو جو صاحب منصب امامت ہو۔جو معنی دفتر امین و امانت ہو۔قسیم خزینۂ نورانیت ہو اور سلمواتسلیماً کا سرِ نہاں ہو اور یہ کہے ہم والدالشفیق ہیں۔ہم امام ہیں ۔ہم امانت دار ہیں۔ہم قسیم نورِ علم ہیں تسلیم و رضا Ú©Û’ سرِ نہاں ہیں۔تو پھر کون بدنصیب ہوگا جو ایسے شفیق باپ سے روگردانی کرے گا۔آئیے شفقت امام Ú©Û’ شئون کو انھیں عنوانات Ú©Û’ آئینہ میں دیکھیں ہم سب سے پہلے اس بات کو درک کرلیں كہ وہ امام جو والد الشفیق ہے كس حیثیت كا مالك ہے اور اللہ تعالیٰ Ù†Û’ اسے كس قدرت اور كس شان اور کس عظمت کا اہل قرار دیا ہے۔اور جب وہ ایسا قدرت رکھنے والا ہے تو اس کی شفقت کا ثمرہ حاصل کرنے Ù„Û’ لئے کردار، چلن، نشست و برخاست کا انداز سب کچھ اسکی پسند Ú©Û’ سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔یہی نہیں بلکہ یہ بھی جستجو کا تقاضہ ہے کہ یہ عہدہ جلیل جو سفقت پدری کا سرچشمہ ہے کب کہاں اور کن حالات میں اور کس پر ابتدا میں بشارت کی حیثیت سے نازل ہوا اور اسکا سلسلہ قیامت کی سرحد پر منتہی ہوتاہے۔ اسكی علامتیں۔ اس ÙƒÛ’ نقشہائے قدم اور سنگہائے میل بھی ہم پر روشن ہیں۔

ابتدا صاحبانِ منصب امامت كی ایک قصۂ دیرینہ و پارینہ تھا ہزاروں سال قبل جب نمرود کی جلائی ہوئی Ø¢Ú¯ میں بابل کا شہر دہک رہا تھا اور Ø¢Ú¯ Ú©Û’ شعلہ حضرت ابراہیم  Ú©Û’ چاروں طرف فضا کی نرم روخنکی میں تبدیل ہوچکی تھی اور انگارے گلزار کی صورت میں اس طرح مہک رہے تھے کہ حق كی خوشبو شہرِ کلیداں Ú©Û’ فصیل تک بسی ہوئی تھی اسی خوشبو سے بسی فضامیں حضرت ابراہیم کو منصب امامت پر فائز ہونے کی بشارت آئی تھی اور خلیل خدا عالمِ انبساط میں عند اللہ متوجہ ہوکر مالک کون و مکاں سے مخاطب تھے۔مالک اور میری زریت اور جواب مضبوط اور مستحکم بنیاد دے کر آیا کہ یہ عہدہ ظالموں کو نہیں ملے گا عقل و شعور کی تکان سے چند عناصر سامنے آئے ہیں۔نمرود(بادشاہ)خدائی کا بالاعلان دعویدار سارا شہر اسکا مطیع و فرمانبردار

(Û²)نمرود کی جلائی ہوئی Ø¢Ú¯ سے دہکتا ہوا پورا شہر منجمیق جس سے حضرت ابراھیم کو Ø¢Ú¯ میں ڈالا گیا۔(Û³)حضرت ابراہیم بے خطر۔بے خوف۔تبسم ریز۔چہرہ پر ایک نور کا حالہ بت شکنی Ú©Û’ براھتے ہوئے ولولے۔توحید پرستی Ú©Û’ جذبوں کی بیدار تمنا۔پھر اطمینان قلب  – Ø¢Ú¯ میں آئے۔آگ Ù†Û’ امام وقت کا استقبال کیا۔کیسے؟انگارے گلزاربنے۔پھولوں کی مسند تیار ہو گئی۔پھول مہکے۔خوشبو اُڒی۔چاروں طرف پھیلی ۔اور کائنات Ú©Û’ ہر گوشہ میں پیام شفقت و محبت پدری کا اعلان کرتی ہوئی مظلوموں Ú©Û’ دل کا سہارا بن کر پھیل گئی۔شرط – توحید پرستی بت شکنی ۔ظلم Ú©Û’ خلاف قیام ۔صبرورضائے الٰہی ۔یقین میں بسی معرفت پھر كیا تھا۔توہم کی اسطرح جب کلائی ٹوٹی تو نمرود جیسے بادشاہ کا غرور ٹوٹ کر خاک میں اپنی جگہ ڈھونڈھ رہاتھا،کہتے ہیں کہ باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو۔پھر پسر لائقِ میراثِ پدر کیونکر ہو۔حضرت اسمٰعیل Ù†Û’ میراث پدر کو سنبھالا ۔آپ ہی معنی و مطالب امن و امانت ہیں۔ چشمہ فیض اینڈیوں Ú©Û’ رگڒنے سے جاری ہوا قبیلہ جرہم سے پوچھیئے۔تاریخ کہتی ہے قبیلہ والے مہربان ہوئے۔نہیں پیاسوں کو پانی و یا کس Ù†Û’ØŸ سرچشمۂ شفقت حضرت اسمٰعیل تھے۔شہر بساؤ اس زمین کو آباد كرو پانی تا قیامت اپنے فیض عام جاری رکھے گا یہ امانت ہے اس امتحان Ú©Û’ بدلے میں جو بے آب و گیاہ زمین میں پسیر امام Ù†Û’ ایڒیاں رگڒ کر دی تھیں یہ تقاضہ ولایت امامت تھا جو ایك مخفی راز تھا اور جو امتداد زمانہ ÙƒÛ’ ساتھ كھلتا گیا اور پھر ایك وہ وقت بھی آیا جب گویا راز بول رہا تھا کہ اے قبیلے والو میری شفقت کو یاد رکھنا۔میری طفلی کو یاد رکھنا۔میری ماں کی بے چینی اور تڒب کو یاد رکھنا تم مجھے یاد کرتے رہو میں تمہیں اس چشمۂ آب سے سیراب کرتا رہوں گا۔شفا کا باعث رہوں گا۔دیکھو کسی شفیق امام Ú©Û’ چھ مہینے Ú©Û’ بچے کو جسکا میں جدہوں بے رحمی Ú©Û’ ساتھ تیر ستم  سے شہید نہ ہو ورنہ آسمان خون Ú©Û’ آنسو روئے گا اور اگر ایسا ہوا تو تم اس Ú©Û’ باپ Ú©Û’ دل Ú©Û’ درد کو اپنے دل میں سمیٹ لینا اور اپنی نسلوں میں منتقل کرتے رہنا یاد رہے ہماری شفقتوں کا صلہ صرف ہم سے مودت کرتے رہناہے۔

قسیم خرینہ نورانیت: خدا وند متعال Ù†Û’ ہر انسان کی خلقت میں ایک عنصرِ نور بھی رکھدیا اور انبیاء علیہم السلام كو بھیج کر اسے متنبہ بھی کیا۔بعثت انبیاء سے اس نور کی حفاظت Ú©Û’ لئے ہدایتی اشارے بھی دیتے ہیں۔زندگی بسر کرنے کا سلیقہ سکھایاہے۔عقل و شعور دے کر مختار بنایا۔پھر بھی اگر انسان سرکش رہے صرف اپنے اختیاری صلاحیتوں کی بنا پر تو خدا بھی اسکی آنکھوں پر لوہے Ú©Û’ پردے ڈال دیتا ہے۔اور جس Ù†Û’ چند رورہ حیات میں اپنی کامیاب زندگی بسر کی وہ آخرت کی ابدی زندگی كو کشف وکرامات کی جلوہ گری کا مرکز اپنی زندگی کو پائے گا۔دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حقدار ہوگا۔لیکن یہ سب وہی دے سکتا ہے جو سرچشمہ نور ہوگا۔فیاض ہوگا۔پدرِ شفیق کی طرح اپنے چاہنے والوں پر برستا رہے گا۔امام کی ولایت پر یقین رکھنے والوں پر امام کی شفقت جھوم اٹھتی ہے اور وہ اپنے چاہنے والوں کو دوطرفہ نعمتوں سے فیض یاب کرتے ہیں۔ایک مخفی ہے دوسرے جلی ہے۔مخفی نعمت وہ ہے جو انسان Ú©Û’ وجود کومضبوط ثابت قدم،اور قوی دل بناتی ہے۔خود میں ایک نور کی لہر تیرتی ہوئی محسوس کرتا ہے۔ایک سرور اسکی فطرت میں جاگتا ہے۔اور وہ اپنے ذہنی افق کی وسعتوں کو دیکھ کر اپنی کامیاب دینوی زندگی Ú©Û’ آئنہ میں آخرت کی ابدی زندگی کی جلوہ گری کو بھی دیکھ لیتا ہے۔اسکا یہ وجود خاکی غالب Ú©Û’ اس مصرع کا ترجمان ہوتا ہے چمن زنگار ہے آئنہ بادِ بہاری كادوسرا جلی جس ÙƒÛ’ لئےبس اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ امام کی چاہت سے ایسا نورانی ہوجاتا ہے کہ اسکی روش سے دوسرے اسے دیکھ کر کچھ سوچنے لگتے ہے۔ذرا کربلا Ú©Û’ میدان میں جون حبشی غلام جو سیاہ فام تھا کا سر امام حسین Ú©Û’ زانوپر ہے یہی سلوک امام حسین Ù†Û’ اپنے بیٹے علی اکبر جو شبیہ پیغمبر تھے Ú©Û’ ساتھ کیا تھا چہرہ اب سیاہ نہیں ہے۔اس پر نور برس رہا ہے۔اس Ú©Û’ جسم کی خوشبو سے رن کی زمین مہک اٹھی ہے۔کربلا کی زمین پر اٹھارہ بنی ہاشم شہید ہوئے ہیں ۔انیس رحمۃ اللہ الیہ فرماتے ہیں سب Ú©Û’ جبیں کا نور سپہر بریں پہ تھا۔اٹھارہ آفتاب كاغنچہ زمیں پہ تھا ۔حقیقت اس تخیل میں آشكار ہے۔

یسلمو تسلیما ایك سر نہاں ہے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے بیشک اللہ تعالیٰ اور اس Ú©Û’ ملائکہ درود بھیجتے ہیں(اپنے)نبی پر اے میرے وہ بندے جو ایمان لائے تم سب اس پر درود بھیجو اور اس کی رضا Ú©Û’ سامنے بالکل تسلیم ہو جاؤ۔ایک طرف اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ملائکہ Ú©Û’ ساتھ ہے ۔ساری کائناتِ عالمین اس کی مشیت میں سمٹی ہوئی ہے۔ذرہ ذرہ گوش بر آواز ہے۔افلاک کی ہر شہ اپنے خالق Ú©Û’ سامنے سر بسجود ہے۔ملکوت و جبروت ولاہوت کی صفیں سجی ہوئی ہیں۔تسنیم و كوثرکی موجیں Ù…Ú†Ù„ رہی ہیں۔جنت Ú©Û’ تمام طبقات Ú©Û’ در Ú©Ú¾Ù„Û’ ہوئے ہیں۔جہنم کفرانِ نعمت کرنے والوں Ú©Û’ لئے منہ کھولے ہوئے ہے۔یہ سما ایک جانب کا اگر نظر میں ہے تو دوسری جانب اللہ تعالیٰ کی سب سے محبوب سب سے عزیز ترین مخلوق اسکا نبی ہے۔حبیب اور محبوب Ú©Û’ درمیان نور شفقت و محبت کا ایک حسین رابطہ ہے۔کتنے پیار سے رحمتٌ للعالمین کا رب ارشاد فرمارہا ہے۔ہم اور ہمارے ملائکہ اپنے نبی پر صلوٰت بھیج رہے ہیں۔آؤ اے ایمان والو۔اے وہ لوگ جو ہمارے نبی کو چاہتے ہیں ہم میں مل جاؤ اور ہمارے منتخب بندے جسکو میں Ù†Û’ مرسل اعظم بنا کر بھیجا ہے اس پر صلوٰت بھیجو اور اس کی رضا Ú©Û’ سامنے تسلیم ہو جاؤ۔یہ سلمو اتسلیما کا عجب فقرہ کلام بلاغت نظام میں وارد ہو اگر اسکا رازدار کوئی ہے توسامنے آئے سوائے ان معصوم اذوات Ú©Û’ جن کا تعارف اللہ تعالیٰ Ú©Û’ حبیب Ù†Û’ فرمایا ہے اور خوب وضا حت کردی ہے اور اپنی حجت تمام کردی ہے مرسلِ اعظم ہیں۔ غدیر خم کا میدان ہے حاجیوں کا ایک کثیر مجمع ہے۔ابھی ابھی اس پابندی پر عمل کرتے ہوئے آئے ہیں کہ حالت احرام میں ایک جوں تک کو نہیں مار سکتے۔اس مجمع میں مرسل اعظم ان حاجیوں سے اقرار Ù„Û’ رہے ہیں میں تم سب پر اولیٰ بالتصرف ہوں یا نہیں۔سب Ù†Û’ اقرار کیا۔اقرار باللسان اور اقرار بالقلب۔ٹھہر كر دوسری جانب بھی ایك نظرآج کی دہشت گردی پر جب جاتی ہے تو تعجب ہوتا ۔یہ وہی ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور بے گناہوں کا اتنا خون بہایا ہے کہ قبرستان میں اب قبر Ú©Û’ لئے جگہ نہیں رہ گئی ہے۔مرسلِ اعظم تو امام تھے شفقت کا پیغام Ù„Û’ کر آئے تھے اور غدیر خم میں اس نعمت Ú©Û’ تقسیم کرنے کا عہد حاجیوں سے Ù„Û’ کر مولائے کائنات کو اپنی وراثت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔اور حضرت علی Ù†Û’ اس ذمہ داری کو کس حد تک نبھایا ہے اسکا ثبوت تواس سے ملتا ہے۔کہ جب ابن ملجم سے پوچھا کہ اے عبد الرحمٰن ابن ملجم کیا میں تمہارا اچھا امام نہیں تھا تو اس Ù†Û’ جواب میں کہا تھاآپ سے اچھا شفیق امام کون ہو سکتا ہے ۔لیکن میں کیا کروں جب جہنم مجھے اپنی طرف کھینچ Ù„Û’ گئی۔تاج ولایت کا حقدار وہی ہوتا ہے جس کی شہادت کی خبر سن کر سائل بے نوانے اپنا سر پتھر پر پٹک کر جان بحق تسلیم ہوگیا ،جو رات کی تنہائیوں میں یتیموں Ú©Û’ گھرروٹیاں پہونچائے۔شفقت امام کو بیان کرنے Ú©Û’ لئے علم و حکمت اور وسعت نظری کی ضرورت ہے اس قلم کی کیا بساط۔مگر اتنا تو کہنے کا حق رکھتے ہیں محبت کا بدلا محبت ہے۔شفقت کا بدلا شفقت ہے۔اپنے شفیق امام کی شفقت Ú©Û’ بدلے میں صرف صلوٰت ہی نہ بھیجئے بلکہ سلموا تسلیما کی منزل کی طرف بھی قدم بڒھانے کی ضرورت ہے حبیب اور زہیر تونہیں بن سکتے سعید کا جگر تو پیدا کرنا مشکل ہے لیکن ان نفوس کی جرأتوں اور امام Ú©Û’ حضور میں خود سپردگی سے سبق تولے سکتے ہیں ۔اس راہ پر چلنے کی آمادگی تو پیدا کر سکتے ہیں۔

یہی وہ جلوہ گاہ ہے جہاں سلموا تسلیما کا راز دروں نور کی کرنوں Ú©Û’ ساتھ چھن چھن کر آتا ہے۔اور یہیں ان مقدس ہستیوں Ú©Û’ قدموں Ú©Û’ نشان ملتے ہیں جو اپنے شفیق امام کی ولایت سے فیض یاب ہوئے ہیں۔اور تاریخ میں ایسی مثال قائم کردی ہے جن کا کوئی مثل پیدا نہیں ہوا ہے۔سرچشمہ ولایت و امامت کی شفقتِ پدری سے بڒے بڒےاوج اور کمال کی منزلوں پر فائز ہونے والوں کی ایک فہرست ہے ان Ú©Û’ اسوہٴ حیات ضیاپاش ہیں ہمیں آگہی دے رہے ہیں۔تزکیہ نفس Ú©Û’ بعد علم و حکمت Ú©Û’ اسباق کی تعلیم دے رہے ہیں۔

کتنا صادق قول تھا ہمارا بنی آخر الزماں۔آپ صلعم Ù†Û’ حضرت علی کے سرپر ولایت کا تاج رکھ کر اپنے بارہ جانشین ہستیوں کا اعلان کیا اور فرمایا ان میں سے اول امیرالمؤمنین علی ابنِ ابیطالب  ہیں اور آخر وہ ہوگا جس کا نام میرا نام ہوگا اور جسکی کنیت میری کنیت ہوگی اور پھر ایک وہ وقت آیا جب آپ Ù†Û’ فرمایا اس بارہ اسماءِ گرامی کی فہرست میں اول بھی محمدؐ ہے اوسط بھی محمدؐ ہے اور آخر بھی محمدؐ ہے اور سب Ú©Û’ سب محمدؐ ہیں۔علامہ اقبال Ú©Û’ پیش نظر یہ حدیث رہی ہوگی اس لئے کہ ایک فلسفی شاعر کی نظر عمیق ہوتی ہے اور وہ اپنے مطالب کو بیان کرنے Ú©Û’ لئے تخیل کا سہارا لیتا ہے اگر سب محمدؐ ہیں تو ہر ایک سے پیمانِ وفا بھی لازم ہے۔اور ہر مومن کایہ فریضہ ہے کہ اس پیمانِ وفا پر قائم رہے۔چنانچہ علامہ اقبال Ù†Û’ اس پیمانِ وفا پر قائم رہنے والوں کی جزاء جو سفقت نعمت اور برکت ہے کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ کی زبان میں یوں ارشاد فرمایا ہے :

کی محمد سے وفا تو Ù†Û’ تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔