ناصر الدین البانی كا عصر حاضر میں اہل سنت ÙƒÛ’ بزرگ علمائے دین میں شمار ہوتا ہے۔ متعدد كتابوں ÙƒÛ’ مصنف و مولف بھی ہیں۔ اور انہیں اس بات كا حد سے زیاہ احساس تھا كہ  احادیث میں كچھ ضعیف اور ناقابل اطمینان روایتیں پائی جاتی ہیں۔ اس بنیاد پر انہوں Ù†Û’ اپنے خیال میں غیر قابل اعتماد روایتوں سے الگ كر ÙƒÛ’ ‘‘سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ’’ ÙƒÛ’ نام سے موسوعہٴ احادیث ترتیب دیا ہے۔ یعنی اس میں تمام درج ہونے والی حدیثوں كو صحیح قرار دیا ہے۔

البانی كی تحقیق ÙƒÛ’ ساتھ ایك اور كتاب پائی جاتی ہے جس میں انہوں Ù†Û’ اس طرح وضاحت كی ہے:

حدیث غدیر ÙƒÛ’ بارے میں كہتے ہیں: ‘‘یہ حدیث صحیح حدیثوں میں ہے جو صحابہ كی ایك جماعت ÙƒÛ’ طریقہ سے نقل ہوئی ہے۔’’[1]؎

اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ میں اس ÙƒÛ’ بارے میں اس طرح نقل كیا ہے:

حدیث غدیر، زید بن ارقم، سعد بن ابی وقاص، بریدہ بن حصیب اور علی بن ابی طالب، ابو ایوب انصاری، برآء بن عازب، عبد اللہ بن عباس، انس بن مالك، ابو سعید اور ابو ہریرہ سے نقل ہوئی ہے۔

تفصیلات:

الف      زید بن ارقم سے یہ حدیث پانچ طریقوں سے نقل ہوئی ہے جو سب صحیح السند ہیں:

            1Û” ابو الطفیل Ù†Û’ زیدسے نقل كیا۔

            2Û” میمون ابو عبد اللہ Ù†Û’ زید سے

            3Û” ابو سلیمان مؤذن Ù†Û’ زید سے

            4Û” یحییٰ بن جعدہ Ù†Û’ زید سے

            5Û” عطیہٴ عوفی Ù†Û’ زید سے

ب:       اور سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث تین طریقوں سے روایت ہوئی ہے جو سبھی صحیح السند كا درجہ ركھتی ہیں:

            1Û” عبد الرحمٰن بن سابط Ù†Û’ سعد سے نقل كیا۔

            2Û” عبد الواحد بن ایمن Ù†Û’ سعدسے نقل كیا۔

            3Û” خیثمہ بن عبد الرحمٰن Ù†Û’ سعد سے نقل كیا۔

ج:        بریدہ بن حصیب سے حدیث غدیر تین طریقوں سے پہونچی ہے:

            1Û” ابن عباس Ù†Û’ بریدہ سے نقل كیا۔

            2Û” ابن بریدہ Ù†Û’ بریدہ سے۔

            3Û” طاؤس Ù†Û’ بریدہ سے نقل كیا۔

د:         اور حضرت علی بن ابی طالب سے حدیث غدیر نَو (9؍) طریقوں سے نقل ہوئی ہے جو سب صحیح السند ہیں:

            1۔عمرو بن سعید Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            2Û” زادان بن عمر Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            3Û” سعید بن وہب Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            4Û” زید بن یشیع Ù†Û’ حضرت علی  سے۔

            5Û” شریك Ù†Û’ حضرت علیسے۔

            6۔عبد الرحمن بن ابی یعلیٰ Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            7Û” ابو مریم Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            8۔حضرت علی ÙƒÛ’ ہم نشینوں میں ایك Ù†Û’ حضرت علی سے۔

            9Û” طلحہ بن مصرف Ù†Û’ حضرت علی سے۔

Ú¾:        اور حدیث ابو ایوب انصاری صرف ریاح بن حارث سے نقل ہوئی ہے جس ÙƒÛ’ تمام رجال ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

و:          براء بن عازب كی حدیث بھی صرف عدی بن ثابت سےنقل ہوئی ہے۔ جس ÙƒÛ’ تمام رجال سند ثقہ ہیں۔

ز:         اور حدیث ابن عباس عمر بن میمون سے روایت ہوئی ہے جسكی سند صحیح ہے۔

Ø­:        اور انس بن مالك ابو سعید اور ابو ہریرہ كی تینوں حدیثیں غمیرۃ بن سعد سے نقل ہوئی ہیں جو سبھی معتبر سند ہیں۔

ناصر الدین البانی حدیث غدیركی مختلف سندوں كو نقل كرنے اورانہیں صحیح قرار دینے ÙƒÛ’ بعد كہتے ہیں جو نہایت دقت آمیز اور قابل غور ہے۔

‘‘یہ بات معلوم ہونا چاہئے كہ حدیث غدیر ÙƒÛ’ بارے میں بطور تفصیل بحث كرنے كا مقصد اور انہیں صحیح قرار دینے كا ہدف یہ ہے كہ میں Ù†Û’ مشاہدہ كیا ہے كہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ Ù†Û’ حدیث غدیر ÙƒÛ’ پہلے حصہ كو ضعیف قرار دیا ہے اور دوسرے حصہ ÙƒÛ’ بارے میں گمان كیا ہے كہ باطل ہے…… اور میری نظرمیں شیخ الاسلام كی حدیث ÙƒÛ’ بارے میں یہ مبالغہ آرائی ہے اور حدیث غدیر ÙƒÛ’ تمام طریقوں اور سندوں كو یكجا كرنےاور اس ÙƒÛ’ بارے میں غور و فكر كرنے سے پہلے حدیث ÙƒÛ’ ضعیف ہونے كا فیصلہ كرنا جلد بازی ہے……’’[2]؎

تبصرہ

شیخ ناصر الدین البانی كا اعتراف اس جہت میں كہ صحیح حدیث جمع ہو جائے بڒی كد و كاوش كا نتیجہ ہے اور پھر یہ بات بھی روشن ہو گئی كہ حدیث غدیر میں كہیں سے كوئی جھوٹ نہیں ہے اب شیخ الاسلام ابن تیمیہ ÙƒÛ’ بارے میں یہ كہنا كہ وہ كہتے ہیں پہلا حصہ ضعیف ہے اور دوسرے حصہ پر گمان ہے كہ باطل ہے ‘‘یہ جلد بازی كا فیصلہ ہے جو انہیں نہیں كرنا چاہئے۔ ارے بھائی وہ تو اڒے بیٹھے ہیں كہ ہر قیمت پر سچ كو جھوٹ ثابت كرنا ہے تاكہ بے شمار نسلیں ان ÙƒÛ’ ساتھ ہو كر میدانِ محشر میں عذاب ÙƒÛ’ مستحق ہو جائیں۔ اور اس دنیا میں اس نئے اسلام كی آواز یہودیوں كی ہمنوا ہو جائے۔

 


[1]        السنْۃ ابن ابی عاصم با تحقیق البانی، ج 2، ص 566

[2]       سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ، حدیث 1750