شیخ نجدی مختلف طریقوں سے پیغمبر اكرمﷺ كی تنقیض كیا كرتا تھا اور اسكا یہ خیال تھا كہ توحید كو محفوظ ركھنے كا یہی ایك طریقہ ہے۔ اس كی چند گستاخیاں درج ذیل ہیں:

(1)    شیخ نجدی پیغمبر اكرمﷺ كو ‘‘طارش’’ كہا كرتا تھا جو نجد كی لغت میں چٹھی رساں یا ایلچی كو كہتے ہیں۔

(2)    واقعہ حدیبہ كے بارے میں كہا كرتا تھا كہ اس میں بہت جھوٹ بولے گئے ہیں۔ چنانچہ جب اس كے تابعین اس طرح كی باتیں كرتے تھے تو وہ خوش ہوتا تھا۔

(3)    اس كے سامنے اس كے تابعین میں سے ایك شخص نے كہا میرا عصا محمد (ﷺ) سے بہتر ہے۔ كیوں كہ یہ سانپ وغیرہ مارنے میں كام آ سكتا ہے۔ اور محمد (ﷺ) فوت ہو چكے ہیں اور اب ان میں كوئی نفع باقی نہیں رہا۔ وہ محض ایك ایلچی تھے جو رخصت ہو گئے۔

(4)    محمد بن عبد الوہاب پیغمبر اكرمﷺ پر درود پڑھنے كو سخت ناپسند كرتا تھا۔ اور درود سننے سے اس كو تكلیف ہوتی تھی (مدینہ میں واقع جنت البقیع میں جب زائرین درود پڑھتے ہیں تو وہاں محمد بن عبد الوہاب سے منسوب وہابیوں كو آج بھی برا اور سخت گزرتا ہے۔)

(5)    جمعہ كی رات كو درود پڑھنے اور میناروں پر بلند آواز سے درود پڑھنے سے منع كرتا تھا اور جو ایسا كرتا تھا اسے سخت تكلیف اور اذیت دیتا تھا۔

(6)    كہا كرتاتھا كسی فاحشہ عورت كے كوٹھے میں ستار بجانے سے اس قدر گناہ نہیں ہے جس قدر گناہ مسجد كے میناروں میں حضور اكرمﷺ پر درود پڑھنا ہے۔ (اوراپنے ماننے والوں سے كہتا تھا اس سے توحید كی حفاظت ہوتی ہے۔)

(7)    اس نے كتاب دلائل الخیرات اور دوسری درود شریف پڑھنے والی كتابوں كو جلوا دیا۔

(8)    اس نے فقہ، تفسیر اورحدیث كی كتابوں كو جلوا دی تھیں۔

(9)    اپنے اصحاب كو قرآن كی اپنی رائےسے تفسیر كرنے كی اجازت دے ركھی تھی۔

(10) جو آیتیں منافقین و مشركین كے لئے نازل ہوئیں ہیں ان كو مسلمانوں پر منطبق كرتا تھا۔ (اور یہی طریقہ خوارج كا بھی تھا)

(11) محمد بن عبد الوہاب اپنے عمال كو لكھتا كہ تم خود اجتہاد كرو اور اپنے تدبر سے احكام جاری كرو اوران كتابوں كی طرف نہ دیكھو اس لئے كہ ان میں حق و باطل سبھی كچھ ہے۔ حالاں كہ اس كے تمام عمال جاہل تھے۔

(12) جن علماء صالحین اور مسلم عوام نے اس كے نوزائیدہ دین كو تسلیم نہیں كیا انہیں قتل كرا دیا۔

(13) (مسلمانوں كی لوٹ مار سے) جو مال حاصل ہوتا تھا اس كی زكوۃ اپنے ہوائے نفس سے تقسیم كیا كرتا تھا۔

(14) شیخ نجدی كے كارندے اپنے آپ كو كسی مذہب كا پابند نہیں مانتے تھے البتہ لوگوں كو دھوكہ دینے كے لئے حنبلی مذہب كی طرف نسبت دیتے ہیں۔

(15) شیخ نجدی نماز كے بعد دعا مانگنے سے منع كرتا تھا اور كہا كرتا تھا كیا تم اللہ تعالیٰ سے اس عبادت كی مذدوری مانگ رہے ہو۔

(سید احمد بن زینی دحلان مكی شافعی متوفی 1304؁ھ خلاصۃ الكلام فی بیان امراء البلاد المرام، ص 229-233)