سورہٴ مائدہ آیت نمبر 67 كا یہ حصہ نہایت غور طلب اور قابل تأمّل ہے۔ اس لئے كہ رسول اكرمﷺ اپنی (تیئیس23) سالہ تبلیغی زندگی میں رسالت الٰہیہ كے پہونچانے میں سخت ترین اوقات اور دشوار ترین زمانوں سے دچار ہوئے ہیں اور اپنی جان ہتھیلی پر ركھ كر دشمنوں كے درمیان مكہ اور طائف میں اور ہجرت كے بعد جنگوں میں دین الٰہی كی تبلیغ كو انجام دیا ہے۔ لیكن اب – جبكہ آنحضرتؐ ہزاروں مسلمانوں كے درمیان ہیں اور تقریباً پورا عرب كا جزیرہ اسلامی حكومت كے تحت آ چكا ہے۔ خداوند عالم آنحضرتؐ سے یہ وعدہ كرتا ہے كہ ‘‘ہم آپكو لوگوں كے شرسے محفوظ ركھیں گے!’’ لہٰذا اب یہ دیكھنا ہے كہ اس مطلب كا راز كیا ہے؟

اس كا جواب خود پیغمبر اكرمﷺ كی زبانی سنئے جسكو خطبہٴ غدیر كےآغاز میں فرمایا ہے:

خداوند عالم نے مجھے آگاہ كیا ہے كہ اگر میں اس چیز كو نہ پہونچاؤں جو علی كے حق میں مجھ پر نازل كیا گیا ہے تو گویا میں نے اسكی رسالت كو نہیں پہونچایا اور اس نے مجھے لوگوں كے شر سے بچانے كی ضمانت لی ہے۔ خدا كفایت كرنے والا اور كریم ہے۔

خداوند كریم نے مجھ پر اس طرح وحی فرمائی ہے:

اے پیغمبر! جو كچھ تمہارے پروردگار كی جانب سے تم پر نازل كیا گیا ہے اُسے پہونچاؤ اور اگر انجام نہ دیا تو گویا اسكی رسالت كو نہیں پہونچایا اور خدا تمہیں لوگوں كے شر سے محفوظ ركھے گا۔

اے لوگو! خداوند متعال نے جو كچھ مجھ پر نازل كیا اس كے پہونچانے میں میں نے كوتاہی نہیں كی ہے اب اس آیت كے نازل ہونے كا سبب تمہارے لئے بیان كر رہا ہوں:

جبرئیل () تین مرتبہ مجھ پر نازل ہوئے اورخداوند عالم كی طرف سے مجھے حكم دیا كہ میں اس مجمع میں كھڑے ہو كر تمام كالے اور گوروں كے درمیان یہ اعلان كروں كہ ‘‘علی بن ابی طالب  میرے بھائی ، میرے وصی اورمیری امت پر میرے جانشین و خلیفہ ہیں اور میرے بعد یہی امام ہیں۔ انكی نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون كو موسیٰ سے تھی صرف فرق یہ ہے كہ میرے بعد كوئی نبی نہیں ہے اور وہی اللہ اوراسكے رسول كی طرف سے تمہارے صاحب اختیار ہیں، اور خداوند عالم اس سلسلے میں ایك آیت اپنی كتاب (قرآن مجید) سے مجھ پر نازل كیا ہے:

تمہارا ولی (صاحب اختیار) خدا ہے اوراس كے رسول ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور نماز قائم كئے اور حالت ركوع میں زكات دیتے ہیں۔[1]؎

علی ابن ابی طالب () ہی وہ ہیں جس نے نماز قائم كی اور حالت ركوع میں زكات دی اور وہی ہرحال میں خدا وند عالم كو ملحوظ خاطر ركھتے ہیں۔

اے لوگو! میں نے جبرئیل سے عرض كیا كہ وہ خدا سے درخواست كریں كہ مجھے اس امر مہم كی تبلیغ سے معاف ركھے اسلئے كہ پارسا و متقی افراد كی كمی، منافقوں كی زیادتی، فساد پھیلانے والوں اور حیلہ گروں اور دین اسلام كا مذاق اڑانے والوں كی كثرت سے واقف ہوں۔ وہ لوگ كہ جن كے بارے میں خداوند متعال نے اپنی كتاب عزیز قرآن مجید میں انكی توصیف (انكے اوصاف) اس طرح بیان فرمائی ہے كہ وہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں بیان كرتے ہیں جو انكے دلوں میں نہیں ہے اور وہ اس كام كو بہت آسان شمار كرتے ہیں۔

لہٰذا رسول خداﷺ منافقوں كے شر سے بہت زیادہ خوف زدہ و حراساں تھے اور یہ خوف آنحضرتؐ كی جان كا نہیں تھا بلكہ دین اسلام كا خوف تھا۔ یعنی پیغمبر اكرمﷺ منافقوں كی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مكّاریوں سے خوف زدہ تھے اس لئے كہ انكی تعداد زیادہ تھی اور حضرت علی كی خلافت و جانشینی كا مسئلہ انكے لئے ناقابل برداشت اورغیر قابل تحمل تھا۔

یہ لوگ ایسے تھے كہ امیر المومنین كی اعلان خلافت كے مقابل میں ممكن تھا كہ قوت تحمل اپنے ہاتھوں سے كھو بیٹھیں اور اپنے چہروں سے نفاق كی نقاب پلٹ دیں اور آنحضرتؐ كے مقابل میں اپنی بے یقینی اور نفاق كو آشكار كر دیں اور حضور كی رسالت اور امیر المومینن كی خلافت و جانشینی كا انكار كر بیٹھیں اور حالات كو بالكل درہم و برہم كر دیں۔

ملاحظہ فرمائیں كہ دین اسلام ابتدائی سالوں میں پورے جزیرہٴ عرب پر محیط ہو گیا تھا اور واقعاً اگر منافقین – جو پیغمبر اسلامﷺ كے صحابہ كے درمیان تھے – تمام چیزوں كا انكار كر دیتے تو دین اسلام كا كیا حشر ہوتا؟

جی ہاں! منافقوں سے یہی خوف رسول خداﷺ كے پورے وجود كو گھیرے ہوئے تھا اس لئے كہ رسول خداﷺ اس چیز كے اعلان كے لئے جس كا حكم خداوند عالم نے دیا تھا اس كا زینہ ہموار نہیں پا رہے تھے۔ لیكن وحی كا فرشتہ خدا كی جانب سے رسول خداﷺ كی حفاظت كا الٰہی وعدہ لے كر آیا اور اس طرح پروردگار كا ارادہ محقق ہوا۔

تاریخ اسلام بالخصوص رسول اكرمﷺ كی حیات طیبہ میں نفاق اور اسكی اہمیت كا مسئلہ بہت سے افراد پر مخفی و پوشیدہ ہے اور مزے كی بات تو یہ ہے كہ قرآن كریم نے تقریباً تین سو آیتوں میں اس مكّار و حیلہ گر اور منصوبہ ساز جماعت كے اوصاف، وضاحت كے ساتھ انكے خطرناك اور خفیہ اقدامات پر سے پردہ اٹھایا ہے۔

یہ گروہ اس حد تك قدرت ركھتا تھا كہ جنگ تبوك یعنی پیغمبر اسلامﷺ كی زندگی كی آخری جنگ میں رسول خداﷺ كے لشكر سے زیادہ اور آنحضرتؐ كے لشكر سے ہٹ كر تیس ہزار كا لشكر تشكیل دیا![2]؎ان لوگوں نے ایك مسجد بنائی اور آنحضرتؐ سے درخواست كی كہ تبوك كے راستے میں اس كا افتتاح كریں،لیكن خداوند عالم نے آیت بھیج كر (نازل كر كے) اسكو مسجد ضرار اور گمراہی و ضلالت اور اختلاف و انتشار اور دشمنان خدا كا مركز كہہ كر نام دیا۔ سورہٴ توبہ میں اس جماعت كے متعلق اس طرح بیان ہوا ہے:

یہ لوگ اپنی باتوں میں اللہ كی قسم كھاتے ہیں كہ ہم نے ایسا نہیں كہا ہے حالانكہ انہوں نے كفر آمیز باتیں كہی ہیں اور اسلام كے بعد كافر ہو گئے اور انہوں نے اس كام كا ارادہ كیا جو وہ انجام نہ دے سكے……[3]؎

شیعہ اور سنی مفسرین نے اس سلسلے میں لكھا كہ منافقین جو انجام دینا چاہ رہے تھے اور اس میں انہیں خاطر خواہ كامیابی حاصل نہ ہو سكی وہ پیغمبر اسلام كا قتل تھا۔[4]؎تاریخ كے واقعات میں ہے كہ آنحضرتؐ كے قتل كے پروگرام جسمیں یہ لوگ كامیاب نہ ہو سكے وہ غدیر خم سے مدینہ كے لئے واپسی پر ھرشی نام كے ایك پہاڑی میں یہ واقعہ پیش آیا……

قرآن مجید – اس وقت جب جنگ احد میں رسول اكرمﷺ كے قتل كی خبر پھیلی اور اكثر مسلمانوں نے راہ فرار اختیار كیا – ان لوگوں كی سرزنش و مذمت كر رہا ہے:

اور محمد () تو صرف ایك رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چكے ہیں كیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم الٹے پیروں زمانہٴ جاہلیت كی طرف پلٹ جاؤگے؟ جو بھی ایسا كرےگا وہ خدا كا كوئی نقصان نہیں كریگا۔[5]؎

ایك طرف قرآن مجید كا یہ انتباہ ہماری توجہ كو اس طرف جلب كر رہا ہے كہ كیا مسلمانوں كے لئے زمانہٴ جاہلیت كی طرف رجعت اور بازگشت كا امكان تھا؟!

دوسری طرف بہت ساری روایتیں شیعہ اور سنی كتابوں سے پیغمبر اسلامﷺ سے اسی مضمون میں نقل ہوئی ہیں:

اس خدا كی قسم جس نے مجھے مبعوث برسالت كیا! ہماری امت وہی راہ اختیار كریگی جو گذشتہ امتوں نے اختیار كیا تھا، یہاں تك كہ اگر بنی اسرائیل كے درمیان كوئی سانپ سوراخ میں داخل ہوا ہے تو اس امت میں بھی ایك سانپ سوراخ میں داخل ہوگا۔[6]؎

اس روایت میں اس بات كی طرف اشارہ ہے كہ یہ امت ، بنی اسرائیل كی روش كو اختیار كریگی اور انہیں كے نقش قدم پر چلے گی۔

(اے میری امت كے لوگو!) تم لوگ گذشتہ امتوں كی سنت كی پیروی كروگے اور ان لوگوں نے جو راستہ اختیار كیا تھا وہی راستہ تم بھی اختیار كروگے اور انہیں كے نقش قدم پر چلوگے……

لوگوں نے سوال كیا: جیسے یہود و نصاریٰ؟ آنحضرتؐ نے فرمایا:

اور كس كو كہہ رہا ہوں؟[7]؎

آئیے اب یہ معلوم كریں كہ یہود و نصاریٰ نے كیاكیا اور كون سی راہ اختیار كی؟

قرآن مجید كے واقعات، ان امتوں كے حالات سے ہمارے سوال كا جواب دیتا ہے، جیسے بنی اسرائیل كی پستی كا واقعہ مثلاً گوناگوں معجزات جیسے عصا كا اژدھا بننا اور دریائے نیل میں راستہ بننا، خود اپنے پیغمبر سے یہ معجزات دیكھے لیكن جب حضرت موسیٰ نے انہیں فرعون كے وحشت آور عذاب سے نجات دی اور كچھ دنوں بعد جب جناب موسیٰ نے ان سے كہا كہ تیس دن كے لئے مناجات كی خاطر خداوند عالم نے اجازت دی ہے اور ہمیں میقات پر جانا ہے اور جب یہ تیس دن چالیس روز میں تبدیل ہو گئے تو سب كا اتفاق ہے كہ انكی اكثر قوم گوسالہ پرست ہو گئی۔ اور یہ انحراف و گمراہی صرف ایك آدمی كی مكاری و دسیسہ كاری كی وجہ سے تھی جو خود حضرت موسیٰ كے حواشی و حواریین میں سے تھا یعنی سامری۔

اس واقعہ سے پتہ چلتاہے كہ لوگوں كا اپنے نبی كی مخالفت كرنا اور یہاں تك كہ كچھ لوگوں كا ایمان سے نكل كر كفر اختیار كرنا یہ كوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ سب اس وقت ہوا ہے كہ جب یہ لوگ انبیاء كے سامنے ہیں اور بے شمار معجزات مشاہدہ كر چكے ہیں۔ نتیجہ میں رسول اكرمﷺ كے بہت سے اصحاب بھی آنحضرتؐ كے بعد منافقوں كی مكاریوں اور ریشہ دوانیوں كا شكار ہو گئے اور حضرت امیر المومنین كی امامت سے اعراض و انحراف كیا اور حضرت كی خلافت و امامت كو قبول نہیں كیا۔



[1]      سورہٴ مائدہ(5)، آیت 55

[2]      سیرۃ ابن ہشام، ج 4، ص 162؛ تاریخ دمشق، ج 1، ص 411-410

[3]      سورہٴ توبہ (9)، آیت 74

[4]      تفسیر كشّاف،سورہٴ توبہ كی آیت 74 كے ذیل میں؛ بحار الانوار، ج 21، ص 223

[5]      سورہٴ آل عمران (3)، آیت 144

[6]      كمال الدین، ص 572؛ مجمع البیان، ج 10، ص 462

[7]      مسند احمد بن حنبل، 943/84؛ صحیح مسلم، ج 16، ص 219؛ صحیح بخاری، ج 2، ص 171