خداوند عالم اور محمد بن عبد الوہاب كے درمیان یہ ایك فرضی مناظرہ ضرور ہے مگر مناظرہ میں موجود تمام حقائق اللہ تعالی كا كلام قرآن پاك سے اور محمد بن عبد الوہاب كے نظریات خود اس كے آراء و افكار اور آجكل كے وہابی عقائد سے مرتب كئے گئے ہیں:

خداوند عالم

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْآ اِلَّآ اِبْلِيْسَ، اَبٰى وَاسْتَكْبَرَ، وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِيْنَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو تو سب کے سب جھک گئے مگر شیطان نے انکار کیا۔ اور غرور میں آگیا۔ اور کافر ہوگیا۔[1]

محمد بن عبد الوہاب

اے اللہ! یہ تو شرك ہے،تو نے ملائكہ كو حكم دیا كہ آدم كو سجدہ كریں۔ آخر لوگوں كو آدم كے سجدہ كے لئے كیوں حكم دے رہا ہے؟

خداوند عالم

وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا، وَقَالَ يَآاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْ يٰى مِنْ قَبْلُ، قَدْ جَعَلَهَا رَبِّىْ حَقًّا…

(غرض پہنچ کر) یوسفؑ نے اپنے باپ ماں کوتخت پر بٹھایا اور یہ سب کے سب یوسفؑ کی تعظیم کے واسطے ان کے سامنے سجدہ میں گر پڑے (اس وقت) یوسفؑ نے کہا اے ابّا یہ تعبیر ہے میرے اس پہلے خواب کی کہ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا، ……[2]

محمد بن عبد الوہاب

اے اللہ! یعقوبؑ و یوسفؑ تو تیرے پیغمبر ہیں (پھر)وہ كیوں اس بات كی اجازت دے رہے ہیں كہ برادران یوسف ان كے سامنے سجدہ كریں۔(ارے) برادران یوسف مشرك ہو چكے ہیں وہ تو واجب القتل ہیں، یعقوب و یوسف كو تو انہیں قتل كر دینا چاہئے تھا۔

خداوند عالم

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا، وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاهٖمَ مُصَلًّى،

(اے رسول وہ وقت بھی یاد دلاوٴ) جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور پناہ کی جگہ قرار دی۔ او ر(حكم دیا) کہ ابراہیم کی (اس ) جگہ کو نماز کی جگہ بناوٴ……[3]

محمد بن عبد الوہاب

خدایا! یہ كیا ہو گیا۔ ایسا كیوں حكم دیا كہ تم لوگ مقام ابراہیم كو اپنے لئے محل عبادت قرار دو۔ اے اللہ! تو (ہمارے جیسے) ایك بشر كے مكان كو اپنی عبادت كا محل كیوں قرار دے رہا ہے؟ یہ شرك ہے (كفر ہے)۔ (كیا نہیں معلوم كہ) تیری عبادت میں كوئی بھی بشر كسی بھی طریقہ سے دخالت نہیں كر سكتا ہے۔ آخر كیوں كسی جنگل، صحرا، بیابان كو اپنی عبادت كے لئے مخصوص جگہ قرار نہیں دیا۔ جو انسان اور بشر سے بلكل الگ ہے اور انسان سے كوئی رشتہ نہیں ہے۔ (مگر تو نے) مقام ابراہیم كو محل عبادت قرار دیا ہے؟

اے اللہ! (یہ بڑی تشویشناك بات ہے) اس طرح لوگ گمراہ ہو جائیں گے صراط مستقیم سے بہك جائیں گے لوگ اسے دلیل بنا كر دیگر اولیاء كرام، انبیاء عظام جیسے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰﷺ اور علیوغیرہ، وغیرہ كی (قبروں) كو عبادت كی جگہ بنالیں گے۔ اور یہ سب شرك ہے۔

خداوند عالم

فِىْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُه، يُسَبِّحُ لَه فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ

اور خدا تو ہر چیز سے خوب واقف ہے (وہ قندیل) ان گھروں میں روشن ہے جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے جن میں صبح و شام وہ لوگ اس کی تسبیح كیا کرتے ہیں۔[4]

محمد بن عبد الوہاب

اے خدا! آخر تو نے اس بات كی اجازت كیوں دے دی كہ گھروں كو محل عبادت قرار دے دیں؟ اس لئے كہ پھر لوگ اسی آیت كو بہانہ بنا كر رسول اللہﷺ كی قبر پر بھی نماز ادا كریں گے كیوں كہ قبر بھی رسول اللہﷺ كے گھر ہی میں شامل ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس آیت كی تفسیر میں فرمایا ہے كہ یہ گھر پیغمبر كے گھروں میں سے ہے اور علی و فاطمہ علیہما السلام كے گھر ان تمام گھروں سے افضل ہے۔ اب تو لوگ ان گھروں میں عبادت كے لئے آئیں گے۔ نماز و دعا میں مشغول رہیں گے۔ علی و فاطمہ علیہما السلام كے گھر كو بھی عبادت كی جگہ قرار دیں گے اس لئے كہ تیرا پیغمبر كہہ چكا ہے كہ ان كے گھروں كو بھی اجازت دی گئی ہے۔ لہٰذا لوگوں كو اب كوئی روك نہیں پائیگا، جبكہ یہ ساری چیزیں شرك اور بدعت ہیں۔

خداوند عالم

مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلاَّ مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ، ذٰلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ، اَفَلاَ تَذَكَّرُوْنَ.

(اس کے سامنے) کوئی (کسی کا) سفارشی نہیں (ہوسکتا) مگر اس کی اجازت کے بعد، وہی خدا تو تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو، تو کیا تم اب بھی غور نہیں کرتے۔[5]

وَكَمْ مِّنْ مَّلِكٍ فِىْ السَّمَاوَاتِ لاَ تُغْنِىْ شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا اِلاَّ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاذَنَ اللهُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَرْضٰى.

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی کام نہیں آتی مگر خدا جس کے لئے چاہے اجازت دے اور پسند کرے اسکے بعد (سفارش کرسکتے ہیں۔ [6]

وَ لاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلاَّ لـِمَنْ اَذِنَ لَهٗ

اور جس شخص کے لئے وہ اجازت عطا فرمائے اس کے سوا کسی کی سفارش اس کی بارگاہ میں کام نہ آئیگی۔[7]

محمد بن عبد الوہاب

تو نے اذن سے شفاعت كرنے والے كو الگ كیوں كر دیا؟ بلكہ اس طرح كہنا زیادہ مناسب ہوتا۔ كوئی بھی شخص كسی بھی طریقہ سے شفاعت نہیں كر سكتا ہے۔ اذن ملنے كے بعد شفاعت كرنے والے كا جو تذكرہ كیا ہے اس كی وجہ سے بعض لوگ پیغمبر اور تیرے ولی كے پاس آكر شفاعت كی خواہش كریں گے اور اسی كو شرك كہتے ہیں كہ لوگ غیر خدا سے شفاعت كی خواہش كرتے ہیں۔

خداوند عالم

قَالُوْا يَآاَبَانَا اسْتَغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خَاطِئِيْنَ. قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُلَكُمْ رَبِّىْ، اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ.

ان لوگوں نے عرض کی اے ابّا ہماری گناہوں کی مغفرت کی (خدا کی بارگاہ میں) ہمارے واسطے دعا مانگیے ہم بے شک از سرتا پا گنہگار ہیں۔یعقوبؑ نے کہا میں بہت جلد اپنے پروردگار سے تمہاری مغفرت کی دعا کرونگا، بیشک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔[8]

محمد بن عبد الوہاب

دیكھ لیا! آخر ہم یہی تو كہہ رہے تھے۔ ادھر اجازت ملی نہیں كہ اُدھر لوگ پہلی ہی فرصت میں طلب شفاعت كرنے لگیں گے اور وہی ہوا كہ برادران یوسف نے اپنے پدر بزرگوار كو شفیع قرار دیا اور تجھ سے طلب مغفرت كیا ہے۔ مسئلہ طلب مغفرت كا نہیں ہے مسئلہ شرك كا ہے۔ وہ مغفرت نہیں طلب كر رہے ہیں بلكہ شرك كر رہے ہیں۔

خداوند عالم

يَآاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا اللهَ وَابْتَغُوْآ اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِىْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ.

اے ایماندارو خدا سے ڈرتے رہو اور اس کے (تقرب کے ) ذریعہ کی جستجو میں رہو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاوٴ۔[9]

محمد بن عبد الوہاب

آیتوں میں بڑی اصلاح كی ضرورت ہے! ارے تونے یہ حكم كیوں دے دیا كہ مومنین تیری بارگاہ میں وسلیہ تلاش كریں۔ كیوں بطور مستقیم اور ڈائركٹ آنے كے لئے نہیں كہا۔ اس طرح تو لوگ كسی شفیع كے پاس جائیں گے اور اسے تیری بارگاہ میں تقرب حاصل كرنے كے لئے اسے بطور وسیلہ پیش كریں گے۔ بات اگر تقرب حاصل كرنے كی ہوتی تو برداشت كر لیتا مگر مسئلہ غیر خدا كو وسیلہ بنانا ہے ہم كسی غیر خدا كے وسیلہ كو برداشت نہیں كر سكتے اس لئے كہ یہ شرك ہے۔

خداوند عالم

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِىْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِىْ يَاتِ بَصِيْرًا، وَاْتُوْنِىْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ.

یہ میرا کرتہ لے جاوٴ اور اس کو ابّا جان کے چہرہ پر ڈال دینا کہ وہ پھر بینا ہوجائیں گے اور تم لوگ اپنے سب لڑکے بالوں کو لے کر میرے پاس چلے آوٴ۔[10]

فَلَمَّآ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ اَلْقَاهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا، قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ، اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ.

پھر (یوسفؑ کی) خوشخبری دینے والا آیا اور ان کے کرتے کوان کے چہرے پر ڈال دیا تو یعقوبؑ فوراً پھر دوبارہ آنکھ والے ہوگئے، (تب یعقوبؑ نے بیٹوں سے) کہا کیوں میں تم سے نہ کہتا تھا کہ جو باتیں خدا کی طرف سے میں جانتاہوں تم نہیں جانتے۔[11]

محمد بن عبد الوہاب

اے خدا! یہ تو عجیب وغریب آیت ہے۔ اسے كیوں نازل كر دیا۔ آخر كسی كرتہ یا پہراہن میں یہ اثر كیسے آ سكتا ہے؟ اس طرح كا اثر تو كبھی دیكھنے میں نہیں ملا اوراگر اس طرح كا كوئی كرتہ كسی نابینا كو روشنی عطا كر دےتو وہ كوئی جادو ہی ہو سكتا ہے یہ تو بالكل نا درست ہے۔ اس سے بھی بڑی گمراہیاں پھیلیں گی۔ پھر تو لوگ شفا حاصل كرنے كے لئے تیرے انبیاء و اولیاء كے مزاروں اور قبروں پر بھی اپنی اپنی آنكھیں ملیں گے اور ان سے طلب شفا كریں گے۔ اس لئے كہ یہ تو سب كی عقل میں آتی ہے كہ جب یوسف كے كرتے سے یعقوب كی آنكھوں كی روشنی پلٹ سكتی ہے تو افضل انبیاء رسول اللہﷺ كی ضریح سے بطریق اولیٰ شفا مل جائے گی۔ ہمیں شفا مل جانے پر اعتراض ہی نہیں ہے۔ اعتراض یہ ہے كہ غیر خدا سے شفا كی درخواست كیوں كی جا رہی ہے۔ لہٰذا اگر یہ آیت نازل نہ ہوتی تو ہماری بات كوئی كاٹ نہیں سكتا تھا۔ تونے غیر خدا سے طلب شفا كے جواز پر آیت ضرور نازل كی ہے مگر لوگ بہر حال اس سے مشرك بن رہے ہیں اور ہر مشرك كی سزا قتل ہے۔

خداوند عالم

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْآ اَنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لاَ رَيْبَ فِيْهَا، اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوْا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا، رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ، قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا.

اور اگر ایسا ہوا تو پھر تم کبھی کامیاب نہ ہوگے اور ہم نے یوں ان کی قوم کے لوگوں کی حالت پر اطلاع کرائی تاکہ وہ لوگ دیکھ لیں کہ خدا کا وعدہ یقینا سچا ہے اور یہ (بھی سمجھ لیں) کہ قیامت (کے آنے) میں کچھ بھی شبہہ نہیں اب (اطلاع ہونے کے بعد) ان کے بارے میں لوگ باہم جھگڑنے لگے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان (کے غلہ) پر (بطور یادگار) کوئی عمارت بنادو، انکا پروردگار تو ان کے حال سے خوب واقف ہے۔[12]

محمد بن عبد الوہاب

تاریخی واقعات كی تو كوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی، خدایا! تو نے اس داستان كو كیوں نقل كر دیا۔ اور اگر نقل كیا تھا تو اسے شدید طور سے رد كر دیتا۔ (ہم لوگ ایسا كارنامہ بہت انجام دیتے ہیں) یہ تو ہمارے بنیادی عقائد كے خلاف ہے۔قبر كے پاس مسجد كی تعمیر كی بات تھی۔ اور تو نے كوئی اعتراض نہیں كیا۔ جبكہ اس كے بعد والی آیت میں اصحاب كہف كی تعداد كے بارے میں بعد میں لوگ اختلاف كریں گے اور وہاں تو نے نقل داستان كے ضمن میں فرمایا: كہ بغیر دلیل كے ان كے بارے میں بات نہ كرو۔ یہاں تو تونے اختلاف كرنے والوں كی مذمت كی ہے مگر وہاں قبر پر مسجد تعمیر كرنے كی بات كرنے والے كی سرزنش نہیں كی۔ اے اللہ! اس سے لوگوں میں پیغام تو یہی جائیگا كہ كسی عظیم ہستی كی نشانی اور یاد كو زندہ ركھنا خدا كی نگاہ میں جائز ہے، شرك نہیں ہے۔ جبكہ میری نگاہ میں یہ شرك ہے۔ میں مردودِ بارگاہ ہونا پسند كرلوں گا مگر شرك نہیں برداشت كروں گا۔

خداوند عالم

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ، اُولٰۤئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ.

بے شک جولوگ ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے یہی لوگ بہترین خلائق ہیں۔[13]

محمد بن عبد الوہاب

اے خدا! جب تیرے نبیؐ نے كہہ دیا تھا كہ خیر البریّہ سے مراد علی اور ان كے شیعہ ہیں تو تجھے یہ آیت نازل ہی نہیں كرنا چاہئے تھا۔ اگر قرآن كی توسل، شفاعت، زیارت، قبر، وغیرہ…… كے سلسلہ كی آیتوں كو تھوڑی دیر كے لئے مان بھی لیں كہ انكا نازل كرنا تیری نگاہ میں درست تھا تو خیر البریّہ والی آیت تو كسی صورت میں نازل ہی نہیں كرنا چاہئے اس لئے كہ شیعہ لوگ كافر ہیں ، مشرك ہیں اور میری نگاہ میں وہ واجب القتل ہیں۔ جبكہ تو انہیں بہترین خلائق قرار دے رہا ہے۔



[1]          سورہ بقرہ، آیت 34

[2]          سورہ یوسف، آیت 100

[3]          سورہ بقرہ، آیت 125

[4]          سورہ نور، آیت 36

[5]          سورہ یونس ، آیت 3

[6]          سورہ نجم، آیت 26

[7]          سورہ سبا، آیت 23

[8]          سورہ یوسف، آیت 97-98

[9]          سورہ مائدہ، آیت 35

[10]         سورہ یوسف، آیت 93

[11]         سورہ یوسف، آیت 96

[12]         سورہ كہف، آیت 21

[13]         سورہ بینہ، آیت 7